سرور کونین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہنیں

in Articles, Tahaffuz, June 2011, متفرقا ت

حضرت ام حکیم رضی اﷲ عنہا بنت زبیر بن عبدالمطلب حضورﷺ کی چچا زاد بہن تھیں۔ آپ کا نام صفیہ تھا۔ کنیت ایک روایت میں ام حکیم رضی اﷲ عنہا بھی ہے۔ حضرت ام حکیم رضی اﷲ عنہا (یاام حکم رضی اﷲ عنہا) کے والد حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ مکہ کے متمول تاجروں میں سے تھے اور زمانہ جاہلیت میں بھی بڑے دلیر اور جوانمرد مشہور تھے۔ بے سہارا، غریبوں اور مظلوم لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر ان کا دل بھر آتا تھا۔ حلف الفضول کے محرک اور داعی آپ ہی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد بھی حضورﷺ انہیں برابر یاد کرتے اور ان کے سلوک کا ذکر فرماتے۔ حضورﷺ آپ کے بھائیوں اور بیٹوں کے ساتھ ہمیشہ صلح رحمی کا سلوک کرتے اور انہیں خیبر کی جائیداد سے وافر مقدار میں حصہ دیا۔ حضورﷺ آپ کی بیوی، عاتکہ رضی اﷲ عنہا بن زبیر کو دیکھ کر ’’میری ماں کے بیٹے‘‘ فرمایا کرتے۔

حضرت ام حکیم رضی اﷲ عنہا کا نکاح ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب سے ہوا تھا۔ ربیعہ بن حارث حضورﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور اپنے چچا عباس رضی اﷲ عنہ سے چند برس بڑے تھے۔ انہی کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا تھا ’’آگاہ رہو کہ زمانہ جاہلیت میں جس قدر خون ہوئے یا جو فخر و غرور کی باتیں ہوئیں وہ سب میرے قدم کے نیچے ہیں یعنی میں ان کو معاف کرتا ہوں۔ سب سے پہلے خون جس کو میں معاف کرتا ہوں، وہ ربیعہ بن حارث کا خون ہے‘‘ کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ربیعہ کا ایک بیٹا قتل ہوگیا تھا۔ ربیعہ تجارت کرتے تھے اور تجارت میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے شریک تھے۔

فضل بن حسن بن عمرو بن امیہ ضمری سے روایت ہے کہ زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹی ضباعہ رضی اﷲ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اﷲﷺ کے پاس کچھ جنگی قیدی آئے تو ہم دونوں بہنیں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا کے پاس گئیں اور انہیں ساتھ لے کر حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور اپنے حصے کی گزارش کی۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’بدر کے یتامی تم پر سبقت لے گئے ہیں لیکن میں کیوں نہ تمہیں اس سے بہتر چیز بتادوں۔ تم ہر نماز کے بعد 34 بار اﷲ اکبر، 33 بار سبحان اﷲ اور 33 بار الحمدﷲ ولاالہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شئی قدیر پڑھا کرو‘‘

حضرت ام حکیم رضی اﷲ عنہا کے تین بیٹے تھے۔ محمد، عبداﷲ اور عباس۔ یہ تینوں بیٹے صاحب اولاد تھے۔

حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا

حضرت ام حکیم رضی اﷲ عنہا کی بہن تھیں۔ ان کے والد زبیر حضور اکرمﷺ کی سگی دادی فاطمہ بنت عمرو کے بیٹھے تھے جو حضرت عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کی چھ بیویوں میں سے تھیں۔

حضور اکرمﷺ نے ان کا نکاح حضرت مقداد رضی اﷲ عنہ بن اسد سے کیا تھا۔ ابن حجران کے نکاح کے بارے میں ایک دلچسپ روایات بیان کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں … ایک بار حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے حضرت مقداد رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ مقداد رضی اﷲ عنہ بہت سادہ اور صاف گو شخص تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ اپنی بیٹی کا بیاہ مجھ سے کردیں۔ یہ بات سن کر حضرت عبدالرحمن رضی اﷲ عنہ نے انہیں سخت سست کہا۔ حضرت مقداد رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر ان کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’اگر کسی کو تمہیں اپنی بیٹی دینے سے انکار ہے تو ہونے دو، میں تمہیں اپنے چچا کی بیٹی سے بیاہوں گا‘‘ اور حضورﷺ نے ان کا نکاح اپنے چچا زبیر کی بیٹی ضباعہ رضی اﷲ عنہا سے کردیا۔

حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا بعض اوقات حضورﷺ کی خدمت اقدس میں کوئی تحفہ یا کھانا وغیرہ بھجوایا کرتی تھیں۔ حضورﷺ تک حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا کا تحفہ یا کھانا ان کی کنیز حضرت سدرہ رضی اﷲ عنہا لے جانے کی سعادت حاصل کرتیں۔

حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا کے بہن بھائیوں کے بارے میں پوری معلومات نہیں ملتیں کیونکہ حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ کی اولاد کے بارے میں سیرت نگاروں کی مختلف آراء ہیں۔ عبدالرحمن ابن جوزی اور عبدالمقتدر کے نزدیک انہوں نے صرف ایک بیٹا عبداﷲ اور دو بیٹیاں ضباعہ رضی اﷲ عنہا اور ام حکیم رضی اﷲ عنہا یادگار چھوڑیں۔

حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا کی اولاد کے بارے میں طالب ہاشمی لکھتے ہیں کہ ان کی ایک بیٹی کریمہ رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں اور وہ بھی صحابیہ تھیں۔ ابن اثیر ان کی اولاد میں عبداﷲ اور کریمہ کا نام لکھتے ہیں۔ حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا کے بیٹے عبداﷲ جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ تھے اور اس میں شہید ہوئے۔

روایت ہے کہ حضورﷺ حضرت ضباعہ رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں حج کرنے کو کہا۔ ضباعہ رضی اﷲ عنہا نے کہا کہ میں کافی جسیم عورت ہوں۔ ایسے موقع پر میرا دم گھٹ جاتا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’آپ اس شرط پرحج کریں کہ جب آپ کا دم گھٹنے لگے تو آپ اپنا احرام کھول دیں‘‘ ابن مندہ اور ابو نعیم نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔

حضرت درہ رضی اﷲ عنہا

حضرت درہ رضی اﷲ عنہا ابو لہب بن عبدالمطلب کی بیٹی تھی۔ اس رشتہ سے یہ حضورﷺ کی چچا زاد بہن تھیں مگر ان کے نامراد باپ نے ہمیشہ اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے ساتھ دشمنی کی تاہم خدا تعالیٰ نے حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کو اسلام قبول کرنے کی سعادت بخشی۔

حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح حضور اکرمﷺ کے چچا زاد بھائی نوفل بن حارث کے بیٹے حارث سے ہوا۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کرکے ہجرت کی۔ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کے شوہر اور سسر نے غزوۂ خندق سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا۔ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کے سسر حضرت نوفل رضی اﷲ عنہ نے ہجرت کا شرف بھی حاصل کیا مگر شوہر اس سعادت سے محروم رہے۔ البتہ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا نے ہجرت کی۔

حضرت درہ رضی اﷲ عنہا جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تو رافع بن معلی زرقی کے گھر اتریں۔ وہاں بنو زریق کی عورتیں ان سے ملنے کے لئے آئیں اور کہنے لگیں ’’تم کو ہجرت کا کیا ثواب ملے گا کیونکہ تمہارے باپ ابولہب کے بارے میں سورہ تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تھی اور تم اسی کی بیٹی ہو‘‘ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کو یہ سن کر صدمہ ہوا اور آپ اسی پیشانی کے عالم میں حضورﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور اپنی فریاد سنائی۔ حضورﷺ نے انہیں تسلی دی اور بٹھایا۔ لوگوں کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی اور تھوڑی دیر بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا ’’لوگو! مجھ کو میرے خاندان کے بارے میں تکلیف دیتے ہو، حالانکہ قسم ہے خدا کی! میرے اقرباء کو میری شفاعت ضرور پہنچے گی۔ یہاں تک کہ صد، حکم اور سلہب بھی اس سے مستفید ہوں گے‘‘ اور فرمایا کہ ’’میرے قرابت داروں پر طعن و تشنیع سے مجھے نہ ستایا جائے‘‘

آپ سے کئی حدیثیں مروی ہیں۔ ان کے راویوں میں عبداﷲ رضی اﷲ عنہ بن عمیرہ اور حضرت علی المرتضی رضی اﷲ عنہ وغیرہ ہیں۔ آپ سے مروی احادیث میں دو مشہور احادیث ہیں۔

1: ایک دفعہ کسی نے رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں میں بہتر کون ہے تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’جس میں تقویٰ زیادہ ہو، جو لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم کرتا ہو، برے کاموں سے روکتا ہو اور صلہ رحمی کرتا ہو‘‘

2: حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’کسی مردہ کے افعال کے بدلے کسی زندہ کو اذیت نہیں دی جاسکتی‘‘

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں حضرت درہ رضی اﷲ عنہا بنت ابولہب نہایت فیاض تھیں اور مسلمانوں کو کھانا کھلایا کرتی تھیں۔ حضرت درہ رضی اﷲ عنہا کے تین بیٹے عتبہ، ولید اور ابو مسلم پیدا ہوئے۔

حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا

حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا حضورﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ بن عبدالمطلب کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بنت محمیہ بن جزء النربیدی تھا۔ حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا کے سگے بہن بھائیوں کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا مگر ان کے سوتیلے بہن بھائیوں میں حضرت عباس رضی اﷲ عنہا کی دوسری تمام اولاد شامل ہے۔

حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا کا پہلا نکاح حضرت حسن رضی اﷲ عنہ بن علی رضی اﷲ عنہ سے ہوا اور ان سے دو بیٹے محمد بن حسن اور جعفر بن حسن پیدا ہوئے۔ بعد میں حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا اور حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ میں علیحدگی ہوگئی اور ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سے ان کا نکاح کرلیا اور ان سے موسیٰ نامی بیٹا پیدا ہوا۔ حضرت ابو موسیٰ کی وفات کے بعد انہوں نے عمران بن طلحہ سے نکاح کیا مگر ان سے نباہ نہ ہوسکا۔ یوں آپ رضی اﷲ عنہا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے گھر چلی گئیں۔ وہیں فوت ہوئیں اور کوفہ کے باہر دفن ہوئیں۔

درادردی نے یزید بن ہاد سے انہوں نے محمد بن ابراہیم سے اور انہوں نے ام کلثوم رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص کے رونگٹے خدا کے ڈر سے کھڑے ہوجاتے ہیں تو ان کے گناہ خشک پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔ ابن مندہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔

حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا

حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا حضور اکرمﷺ کی چچا زاد بہن تھیں۔ ان کی والدہ کا نام ام الفضل رضی اﷲ عنہا ہے۔ آپ کے سگے بھائی فضل، عبداﷲ، عبیداﷲ، عبدالرحمن، قثم اور معبد ہیں جو سب حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں۔

حضور اکرمﷺ اپنے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی نہایت تعظیم و توقیر فرمایا کرتے تھے اور ان کی معمولی تکلیف سے بھی آپﷺ کو تکلیف ہوتی تھی۔ ایک بار حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ قریش جب آپس میں ملتے ہیں تو ان کے چہروں سے تازگی وشگفتگی برستی ہے مگر جب ہم سے ملتے ہیں تو برہمی کے آثار ان کے چہرے سے نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ سن کر حضور اکرمﷺ غضبناک ہوگئے اور فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو شخص خدا اور رسول خداﷺ کے لئے تم لوگوں سے محبت نہ کرے گا، اس کے دل میں نور ایمان نہ ہوگا۔ چچا باپ کے قائم مقام ہے‘‘

حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضور اکرمﷺ نے حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا کو ان کے بچپن میں دیکھا۔ جب وہ گھٹنوں کے بل چلتی تھیں۔ حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا کے بچپن ہی میں حضور اکرمﷺ کا وصال ہوگیا۔ حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا کا نکاح اسود بن سفیان بن عبداﷲ مخزومی سے ہوا۔ اسود بن سفیان سے رزق اور لبابہ پیدا ہوئے۔ حضرت ام حبیب رضی اﷲ عنہا نے اپنی والدہ لبابہ یعنی ام الفضل رضی اﷲ عنہا کے نام پر اپنی بیٹی کا نام ام الفضل لبابہ رکھا۔

حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا

حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا حضور اکرمﷺ کے محبوب چچا جناب ابوطالب کی بیٹی تھیں۔

حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا کے متعلق بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ قاضی سلیمان منصور پوری لکھتے ہیں کہ جناب ابو طالب کی اولاد میں جمانہ رضی اﷲ عنہا کا نام بھی ملتا ہے مگر ان کے حالات سے کوئی آگاہی نہیں ہوتی۔ ابن اسحاق امام اہل السیر نے لکھا ہے کہ حضورﷺ نے پیداوار خیبر میں سے تیس وسق خرما جمانہ رضی اﷲ عنہا دختر ابی طالب کے لئے مقرر فرمائے تھے۔ اسی فقرے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلعت اسلام سے مشرف تھیں اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ فتح خیبر تک حیات تھیں۔

حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا حضورﷺ کے ان مہربان چچا کی بیٹی تھیں جنہوں نے حضورﷺ کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک قوت پہنچائی، اپنی حمایت کا سایہ دراز رکھا اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک آقائے نامدار حضورﷺ کے ہمدرد اور غمگسار رہے۔ حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت اسد حضورﷺ کی پرورش و خدمت اور محبت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی رہیں۔ ان کی پرورش و خدمت کی گواہی خود حضورﷺ نے دی۔ جب حضورﷺ نے دعوت حق کا آغاز کیا تو فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت اسد نے اس دعوت پر اسلام قبول کیا۔

حضرت جمانہ رضی اﷲ عنہا کے بہن بھائیوں سے حضورﷺ بہت پیار کرتے تھے۔ حبشہ سے جب حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ طیار خیبر کے مقام پر پہنچے تو انہیں دیکھ کرآقائے نامدار حضورﷺ نے فرمایا تھا ’’میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر رضی اﷲ عنہ کے آنے کی‘‘

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا بنت ابو طالب کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ آپ کا نام ہند فاختہ اور فاطمہ کہا جاتا ہے مگر آپ اپنی کنیت، ام ہانی سے مشہور ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت اسد ہے اور آپ حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اﷲ عنہ، طالب رضی اﷲ عنہ، عقیل رضی اﷲ عنہ اور جمانہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں۔

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے قبول اسلام کے بارے میں بعض کہتے ہیں۔ آپ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائیں اور بعض کے مطابق انہوں نے اپنا اسلام چھپایا ہوا تھا ویسے قدیم الاسلام تھیں بہرحال انہوں نے اسلام قبول کیا۔

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا حضورﷺ سے بہت محبت اور عقیدت رکھتی تھیں۔ ایک بار حضورﷺ ان کے گھر تشریف لائے، شربت نوش فرمایا اور اس کے بعد آپ کو دے دیا۔ آپ اس وقت روزے سے تھے مگر واپس کرنا پسند نہ کیا اور پی لیا۔ پینے کے بعد عرض کیا ’’یارسول اﷲﷺ میں روزے سے ہوں مگر میں نے آپ کا چھوڑا ہوا شربت پی لیا ہے‘‘ آقائے نامدار حضورﷺ نے فرمایا ’’اگر روزہ رمضان کی قضا ہے تو کسی دوسرے دن رکھ لینا اور اگر محض نفل ہے تو تمہیں اس کی قضا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے‘‘

حضورﷺ حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کا بہت لحاظ اور خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک بار فتح مکہ کے موقع پر حارث بن ہشام مخزومی اور زہیر بن امیہ مخزومی نے حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے گھر پناہ حاصل کی۔ یہ دونوں حضرات واجب القتل تھے۔ جب حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خبر ہوئی کہ یہ دونوں حضرات ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے گھر پناہ گزیں ہیں تو فورا وہاں پہنچے اور ان دونوں کو قتل کرنا چاہا۔ حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا نے اپنے بھائی سے کہا ’’انہوں نے میرے ہاں پناہ لی ہے، اس لئے میں ان کو ہرگز قتل نہیں ہونے دوں گی‘‘ وہ پھر دونوں کو لے کر آقائے نامدار حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ’’یارسول اﷲﷺ میں نے ان دونوں کو پناہ دی ہے مگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں‘‘ حضورﷺ نے فرمایا ’’جس کو تم نے پناہ یا امان دی اس کو ہم نے بھی دی‘‘ اس واقعہ کے بعد حارث بن ہشام اور زہیر بن امیہ دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔

واقعہ معراج کے موقع پر جب حضرت جبریل علیہ السلام، حضورﷺ کو لینے آئے تو اس وقت حضورﷺ حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے گھر سو رہے تھے۔ پیر کا دن تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام براق لے کر خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور اکرمﷺ کو اس کو سوار کروا کر پہلے بیت المقدس پھر آسمانوں پر لے گئے۔ آپﷺ نے وہاں کے عجائب و غرائب ملاحظہ فرمائے اور اﷲ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوئے۔

علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ جب معراج کا واقعہ حضورﷺ نے حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کو سنایا تو انہوں نے بڑھ کر حضور اکرمﷺ کی چادر تھام لی اور عرض کیا ’’آپﷺ یہ بات قریش کے سامنے نہ کریں کیونکہ وہ آپ کی تکذیب کریں گے‘‘ مگر حضور اکرمﷺ نے چادر چھڑائی اور باہر چلے گئے۔ حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا نے فورا اپنی کنیز سے کہا ’’تیرا بھلا ہو! آقائے نامدار حضورﷺ کے پیچھے جا اور غور سے سن کہ آپﷺ لوگوں سے کیا فرما رہے ہیں‘‘

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا نے حضور اکرمﷺ سے 46 حدیثیں روایت کیں جو صحاح ستہ و دیگر کتب احادیث میں مذکور ہیں۔

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا حضورﷺ سے اکثر مسائل دریافت کیا کرتی تھیں۔ جس سے ان کی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے۔ ایک بار انہوں نے عرض کیا ’’اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور چلنے پھرنے سے ضعف معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے میں بیٹھے بیٹھے انجام دے سکوں‘‘ حضورﷺ نے فرمایا ’’سبحان اﷲ، الحمدﷲ، اﷲ اکبر اور لاالہ الا اﷲ ایک ایک سو بار پڑھ لیا کرو‘‘

عبدالرحمن بن ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے علاوہ کسی اور آدمی کو نہیں دیکھا جس نے حضور اکرمﷺ کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا ہو۔ ان سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن حضورﷺ حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لائے، غسل فرمایا اور آٹھ رکعت نماز ادا کی اور ام ہانی رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں ’’میں نے کبھی حضورﷺ کو اس طرح جلدی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، البتہ رکوع، سجود باقاعدہ ادا فرمائے‘‘

حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا کثیر الاولاد تھیں۔ ان کے بیٹوں میں عمرو، ہانی، یوسف اور جعدہ مشہور ہیں۔ مولانا سعید انصاری لکھتے ہیں کہ ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد مدت تک آپ زندہ رہیں اور تہذیب میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔

حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا

حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ بن عبدالمطلب کی بیٹی ہونے کی وجہ سے حضور اکرمﷺ کی چچا زاد بہن ہیں مگر آپ کو حضورﷺ نے اپنی بیٹی بنایا تھا۔ اس لئے آپ چچا زاد بہن کے علاوہ منہ بولی بیٹی بھی ہیں۔

حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ انہیں امامہ، عمارہ اور فاطمہ کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت کے بارے میں بھی اختلاف ہے، ام ورقہ اور ام الفضل کنیت بیان کی گئی ہے۔ آپ کی والدہ کا نام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا بنت عمیس تھا۔

جنگ احد میں آپ کے والد حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ شہید ہوگئے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد جب مجاہد مسلمان مدینہ منورہ میں داخل ہورہے تھے تو آپ بھی اپنے والد حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے آئیں۔ انہیں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا علم نہ تھا۔ اپنے باپ کی بھوک اور پیاس کے خیال سے شیرخرما لائی تھیں۔ حضورﷺ کا لشکر جوق در جوق آرہا تھا اور یہ ادھر ادھر نگاہیں دوڑا کر اپنے والد کو تلاش کررہی تھیں۔

جب باپ کہیں نظر نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر ان سے پوچھنے لگیں ’’میرے والد کہاں ہیں، وہ ان لشکریوں میں کیوں نظر نہیں آتے‘‘ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جب بتانے کی ہمت نہ ہوئی تو کہنے لگے کہ حضورﷺ آنے ہی والے ہیں۔ حضور اکرمﷺ کو تشریف لاتے دیکھ کر آپ بھاگیں اور آگے بڑھ کر حضورﷺ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر پوچھا ’’یارسول اﷲﷺ میرے والد کہاں ہیں؟‘‘ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’میں تیرا باپ ہوں‘‘ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کہنے لگیں کہ اس بات سے خون کی بو آرہی ہے اور رونے لگیں۔ ان کو روتا دیکھ کر تمام صحابہ رضی اﷲ عنہم بھی رونے لگے۔ اس وقت حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’میں نے فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت حمزہ رضی اﷲ عنہ کو اپنی فرزندی میں لے لیا ہے‘‘

ابن حجر لکھتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو ریشم کا حلہ ہدیہ میں دیا اور فرمایا کہ اس کو فواطم میں تقسیم کردو۔ اس پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اس کپڑے کے چار دو پٹے بنائے۔ پہلا دوپٹہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا، بنت رسول اﷲﷺ کے لئے، دوسرا فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت اسد کے لئے، تیسرا فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت حمزہ رضی اﷲ عنہ کے لئے اور چوتھا ایک اور فاطمہ کے لئے جس کا نام راوی نے نہیں لیا مگر یہاں ابن حجر لکھتے ہیں کہ شاید یہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا حضرت عقیل رضی اﷲ عنہ کی بیوی تھیں۔

حضور اکرمﷺ عمرۃ القضا کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ صلح نامہ حدیبیہ کی شرط کے مطابق جب آپﷺ تین دن کے قیام کے بعد مکہ سے چلنے لگے تو حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اﷲ عنہا جو اپنی والدہ سلمیٰ رضی اﷲ عنہا بنت عمیس کے ہمراہ مکے آگئی تھیں ’’چچا، چچا‘‘ پکارتی ہوئی حضور ﷺ کے پاس آگئیں۔ اس موقع پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت زید بن حارث رضی اﷲ عنہ اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ میں جھگڑا ہوگیا۔ وہ تینوں اس بات پر بضد تھے کہ وہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی پرورش کریں گے، تینوں نے اپنا اپنا حق جتانا شروع کیا۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کہا ’’یہ سب سے پہلے میرے پاس آئی ہے اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے‘‘ حضرت زید رضی اﷲ عنہ بن حارثہ نے اپنا دعویٰ یوں پیش کیا’’حمزہ رضی اﷲ عنہ میرے دینی بھائی تھے، اس لئے میں بھی اس کا چچا ہوں‘‘ حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ نے اپنا حق یوں جتایا ’’حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ تو میرے بھی دینی بھائی تھے اور اس یتیمہ کی خالہ میری بیوی ہے‘‘ حضور اکرمﷺ نے تینوں کے دعوے کو برابر کا درجہ دیا اور فرمایا ’’خالہ ماں کے برابر ہوتی ہے‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا بنت عمیس کے حوالے کردیا۔

حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت حمزہ رضی اﷲ عنہ سن شعور کو پہنچیں تو حضور اکرمﷺ نے ان کا نکاح حضرت سلمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو سلمہ سے کردیا جو ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے اور حضور اکرمﷺ کے ربیب (سوتیلے بیٹے) تھے۔

حضور اکرمﷺ نے نکاح کے موقع پر حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا ’’کیا تمہیں سلمہ پسند ہے جس کی والدہ میری زوجہ ہے اور وہ میرا ربیب ہے‘‘ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا بنت حمزہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سلمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو سلمہ کے نکاح کے موقع پر حضورﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر دریافت فرمایا ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نے ان کی مکافات کردی؟‘‘ حضرت سلمہ رضی اﷲ عنہ اپنے بھائی عمرو رضی اﷲ عنہ بن ابو سلمہ سے بڑے تھے۔ عبدالملک بن مروان کے زمانے تک زندہ رہے۔ آپ سے کوئی روایت معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ کی اولاد ہے۔

حضرت اروی رضی اﷲ عنہا

حضرت اروی رضی اﷲ عنہا بنت کریز حضور اکرمﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی والدہ تھیں۔ آقائے نامدار حضورﷺ کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی بیویاں بنیں۔ اس لئے یہ حضورﷺ کی سمدھن بھی ہیں۔

حضرت اروی رضی اﷲ عنہا کریز کا خاندان بنو عبد شمس سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ام حکیم بضاء ہے جو حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔

حضرت اروی رضی اﷲ عنہا کے بھائی عامر بن کریز رضی اﷲ عنہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے۔ حضرت اروی رضی اﷲ عنہا کی بہن سعدی بنت کریز کا ذکر بھی صحابیات میں ملتا ہے مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سعدیٰ کی والدہ ام حکیم بیضا ہی تھیں یا کوئی اور تھی۔ سعدیٰ زمانہ جاہلیت میں کہانت سے شغف رکھتی تھیں اور اس کی بڑی ماہر تھیں۔ بعض روایات کے مطابق حضرت اروی رضی اﷲ عنہا ابتدا ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے ہی سب سے پہلے اپنے بیٹے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی طرف راغب کیا تھا۔ شعر وشاعری میں بھی ادراک رکھتی تھیں۔

حضرت اروی رضی اﷲ عنہا کا پہلا نکاح عفان بن ابی العاص سے ہوا۔ عفان سے ایک بیٹے عثمان رضی اﷲ عنہ بن عفان اور ایک بیٹی آمنہ پیدا ہوئیں۔ عفان کی وفات کے بعد حضرت اروی رضی اﷲ عنہا کا دوسرا نکاح عقبہ بن ابی معیط سے ہوا۔ عقبہ قریش کے ممتاز آدمیوں میں سے تھا۔ عقبہ سے حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں۔ عقبہ اسلام کا دشمن تھا، غزوۂ بدر میں حضرت عاصم بن ثابت کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

جب حضورﷺ نے دعوت حق کا آغاز کیاتو عقبہ ابی معیط حضورﷺ کا جانی دشمن ہوگیا اور اس نے آپﷺ کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی مگر اس کے باوجود عقبہ کی بیوی حضرت اروی رضی اﷲ عنہا اور بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس پر قائم رہیں اور مخالفت کی پرواہ نہ کی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت اروی رضی اﷲ عنہا نے ابتدائی تین برسوں میں اسلام قبول کرلیا تھا۔