رسول اﷲﷺ نماز کیسے ادا فرماتے تھے

in Tahaffuz, May 2014, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

سرور کائناتﷺ قوم کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر نورحق کی طرف لائے اور اسلام جیسا پاکیزہ اور پیارا مذہب عطا فرمایا جس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔ قرآن مجید میں ہر چیز کا علم پوشیدہ ہے، مگر ہماری ایسی بصیرت نہیں کہ ہم اس میں سے علم کے خزانے تلاش کرسکیں لہذا ہم قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے احادیث مصطفیٰﷺ کے محتاج ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی علوم کے خزانے موجود ہیں مگر احادیث کو سمجھنے کے لئے ہم فقہ کے محتاج ہیں۔ فقہ کے ذریعے احادیث کو سمجھنا نہایت ہی آسان ہے کیونکہ قرآن مجید اور احادیث کو مدنظر رکھ کر جن مسائل کا آسان حل تلاش کیا گیا ہے، اسے فقہ کہتے ہیں۔
ائمہ مجتہدین اور محدثین نے اپنی ساری زندگی صَرف کرکے قرآن و حدیث سے مسائل کا حل پیش کرکے اسے اُمّت مسلمہ پر بہت بڑا احسان فرمایا۔ ائمہ مجتہدین اور محدثین اسلام نے نہایت ہی دیانت داری سے اپنی خواہش اور رائے کو پس پشت ڈال کر قرآن وحدیث کے مطابق لاکھوں شرعی مسائل کا آسان حل پیش کرکے مسلمانوں کو گمراہی اور بے دینی سے بچالیا۔
موجودہ دور میں جہاں مختلف فتنے مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، وہاں ایک فتنہ حنفی طریقۂ نماز پر اعتراض کرتا ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں شیطانی وسوسے پیدا کرتا ہے لہذا آپ کے سامنے حنفی طریقۂ نماز احادیث کی روشنی میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں تاکہ آپ کے ایمان میں تازگی پیدا ہو۔
تقلید کے معنی
تقلید کا اصل مطلب پیروی ہے جیسا کہ ہم مسلمان امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کی تقلید یعنی پیروی کرتے ہیں۔ علماء ربانین کی پیروی کا ہمیں اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے۔
القرآن (ترجمہ) اے ایمان والو! حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں صاحبِ امر ہیں (سورۂ نساء آیت 59)
اس آیت میں ہمیں اﷲ تعالیٰ، رسول پاکﷺ اور صاحبِ امر یعنی علماء ربانین کی اطاعت یعنی پیروی کا حکم دیا جارہا ہے۔
دوسری مقام پر سورۂ لقمان میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
القرآن (ترجمہ) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (سورۂ لقمان آیت 15، پارہ 21)
اس آیت میں واضح حکم دیا جارہا ہے کہ اس کی پیروی کر جو تیرا رابطہ رب کریم سے کرادے۔
تیسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔
القرآن (ترجمہ) اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (سورۂ انبیاء آیت 7)
ان تمام آیات سے تقلید کا ثبوت ملتا ہے۔
کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے غیر نبی کی تقلید کی؟
صحابہ کرام علیہم الرضوان براہ راست سرور کونینﷺ سے دین سیکھا کرتے تھے۔ اس لئے انہیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر رسول پاکﷺ کے ظاہری وصال کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی اپنے درمیان موجود زیادہ صاحب علم صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تقلید یعنی پیروی کیا کرتے۔ یہ ان کو سرور کونینﷺ کی تلقین تھی۔
حدیث شریف: حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ میرے بعد میرے صحابہ کرام علیہم الرضوان، ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہما کی پیروی کرنا، حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کا طریقہ اختیار کرنا اور عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے عہد کو لازم پکڑنا (بحوالہ: ترمذی، عربی، ابواب المناقب، حدیث 3805، ص 863، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)
تقلید اسلام کی حفاظت کی وہ شمع ہے جس کی روشنی سے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے فیض حاصل کیا، صحابہ کرام سے تابعین منور ہوئے اور تابعین سے تبع تابعین نے دین کو دیکھا اور آج تک اُمّت مسلمہ ان ائمہ کی تقلید (پیروی) کررہی ہے۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کہاں تک اٹھایا جائے
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو کاندھے تک نہیں بلکہ کانوں کی لو تک اٹھانا چاہئے۔
1: حدیث شریف= حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاکﷺ جب نماز شروع کرنے کے لئے تکبیر فرماتے تھے تو ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپﷺ کے دونوں انگوٹھے کانوں کی لو تک ہوتے (ابو دائود، جلد اول، کتاب الصلوٰۃ، حدیث 720، ص 294، مطبوعہ فرید بک لاہور)
2: حدیث شریف= حضرت مالک بن حویرث رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سرور کائناتﷺ جب تکبیر فرماتے تو ہاتھ بلند فرماتے، یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کانوں تک پہنچ جاتے (مسلم، جلد اول، کتاب الصلوٰۃ، حدیث 770، ص 325، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں
نماز میں مرد کے لئے اپنی دائیں ہاتھ کی ہتھیلی، بائیں ہاتھ کے پشت پر ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے۔ جبکہ عورت سینے پر ہاتھ باندھے۔
1: حدیث شریف= حضرت ابو حجیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ نماز میں ایک ہتھیلی کا دوسری پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے (ابو دائود، عربی، کتاب الصلوٰۃ، حدیث 756، ص 118، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)
صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھایا جائے
1: حدیث شریف= حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ میں تمہاری موجودگی میں اﷲ تعالیٰ کے رسولﷺ کی طرح نماز پڑھتا ہوں۔ پھر جب آپ رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھی تو ہاتھ صرف ایک بار (تکبیر تحریمہ کے وقت) اٹھائے (سنن نسائی، عربی، کتاب الصلوٰۃ، حدیث 1059، ص 146، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)
حدیث شریف= حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیںرسول اﷲﷺ والی نماز نہ پڑھائوں؟ راوی کا بیان ہے کہ انہوں نے نماز پڑھائی اور ایک دفعہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے (ابو دائود، عربی، کتاب الصلوٰۃ، باب فی لم یذکر الرفع عندالرکوع، حدیث 748، ص 117، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں ہاتھ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی ہاتھ اٹھائے جائیں۔
رفیع یدین منسوخ ہوگیا
حدیث شریف= حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ رسول اﷲﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ زہیر نے فرمایا۔ میرے خیال میں نماز کے اندر، حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ اپنے ہاتھ ایسے اٹھائے ہوئے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں، نماز میں سکون اختیار کیا کرو (ابو دائود، عربی، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 1000، ص 152، مطبوعہ دارالسلام ریاض سعودی عرب)
ف= رفع یدین (نماز کے دوران بار بار اپنے ہاتھوں کو اٹھانا) ابتدائے اسلام میں تھا۔ بعد میں منسوخ ہوگیا۔
امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے
1: حدیث شریف= حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا۔ امام اس لئے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور جب امام سمع اﷲ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو (سنن نسائی، عربی، جلد اول، حدیث 934، ص 290، مطبوعہ فرید بک لاہور)
2: حدیث شریف= حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ امام اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو (سنن نسائی، عربی، جلد اول، حدیث 935، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے لہذا جب امام قرأت کرے، چاہے وہ جہری نماز ہو یا سری نماز ہو یعنی آہستہ قرأت ہو یا بلند آواز سے قرأت ہو، دونوں صورتوں میں مقتدی کو خاموش رہنے کا حکم ہے۔ سورۂ فاتحہ بھی قرأت ہے لہذا مقتدی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے بلکہ خاموش رہے۔
امام اور مقتدیوںکو آہستہ آمین کہنا سنت ہے
1: حدیث شریف= حضرت علقمہ بن وائل رضی اﷲ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے جب ’غیر المغضوب علیہم ولاالضالین‘‘ پڑھا تو آپ نے آہستہ آواز میں آمین کہی (جامع ترمذی، جلد اول، باب ماجاء فی التامین، حدیث 236، ص 188، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
2: حدیث شریف= حضرت ابو وائل رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی رضی اﷲعنہ تسمیہ (بسم اﷲ الرحمن الرحیم) اور آمین بلند آواز سے نہ کہتے تھے (بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری)
معلوم ہوا کہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے اختتام پر آمین آہستہ کہنی چاہئے۔ یہی سنت رسول اور سنت صحابہ ہے۔
وتر کی تین رکعتیں ہیں
1: حدیث شریف= حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول پاکﷺ نے تین مرتبہ دو دو رکعت کرکے چھ رکعت (تہجد) پڑھی اور اس کے بعد آپﷺ نے تین رکعت وتر ادا کئے (مسلم شریف، جلد اول، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا، حدیث 1620، ص 573، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
2: حدیث شریف= حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کونینﷺ نماز وترکی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے اور تینوں رکعتوں کے آخر میں سلام پھیرتے تھے (سنن نسائی، جلد اول، کتاب قیام اللیل وتطوع النہار، حدیث 1702، ص 540، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
3: حدیث شریف= حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ نے کہا اہل علم صحابہ کرام و تابعین کا یہی مذہب ہے (جامع ترمذی، جلد اول، ابواب الوتر، حدیث 448، ص 283، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
تراویح کی بیس رکعتیں ہیں
بیس رکعت تراویح رسول اﷲﷺ، حضرت عمررضی اﷲ عنہ اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے عمل سے ثابت ہیں چنانچہ اس ضمن میں احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔
1: سرکار دوعالمﷺ رمضان شریف میں بیس رکعت اور وتر ادا فرماتے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 2،ص 394)
2: رسول اﷲﷺ رمضان شریف میں بیس رکعت اور تین وتر ادا فرماتے تھے (مجمع الزوائد جلد 3،ص 172)
3: رسول اﷲﷺ رمضان شریف میں بیس رکعت اور تین وتر ادا فرماتے تھے (کشف الغمہ، جلد ،ص 116)
4: رسول اﷲﷺ رمضان شریف میں بیس رکعت اور تین وتر ادا فرماتے تھے (کتاب الترغیب للرازی)
5: رسول اﷲﷺ رمضان شریف میں بیس رکعت اور تین وتر ادا فرماتے تھے (معجم طبرانی، کبیر جلد 11،ص 393)
6: حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں بیس تراویح پڑھائی جاتی تھی، قاری مئین پڑھتے تھے (بیہقی شریف، جلد 2،ص 496)
7: حضرت علی رضی اﷲ عنہ بیس رکعت اورتین وتر پڑھاتے اور اس میں مضبوطی ہے (بیہقی شریف جلد 2ص 496)
باقی صفحہ 23 پر ملاحظہ فرمائیں