خطیب اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, May 2014, مولانا محمد عبدالمنان

جن شخصیتوں کا علمی تبحر، خداداد ذکاوت و ذہانت، طبع کی جودت، مطالعہ کی وسعت، زور خطابت، بے لوث عقیدت، کلام کی پختگی و لطافت، چاشنی و ظرافت،دور اندیش و تاریخ ساز ہمت، اپنے مذہب و ملت سے بے پناہ محبت، اپنی لائق و فائق ذات، مدلل و قابل قدر محررات اور تاریخی کارناموں کے ذریعہ آج سنی دنیا اپنی سچائی اور پختگی کا بہار دکھا رہی ہے۔ انہی میں ہماری علمی دنیا کی بڑی قد آور شخصیت جید عالم دین، موثر مبلغ اسلام، ان تھک مجاہد اور عظیم رہنما ’’ستارہ امتیاز‘‘ علامہ محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کی پرنور شخصیت کا ذکر سطر اول میں آتا ہے۔ ان کی روشن زندگی میں ہمارے لئے بہت سے سبق و رہنمائی ہے۔
علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ 1929ء میں مشرقی پنجاب، بھارت میں پیدا ہوئے اور 1984ء میں 55 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔ پوری زندگی حبیب خداﷺ کی ثنا خوانی میں گزا رکر گل زار حبیب کراچی میں آرام فرما ہیں، اﷲ پاک ان کی تربت پرنور پر ہمیشہ اپنی رحمت برسائے۔ آمین
علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ اپنی ابتدائی عمر میں قرآن کریم کا حفظ کیا اور عربی، فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھ کر درس نظامی کا باقاعدہ تحصیل مشاہیر و ماہرین زمانہ علماء سے کی پھر شیخ القرآن حضرت مولانا غلام علی اشرفی اوکاڑوی اور غزالی زماں علامہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کا شرف تلمذ حاصل کرکے درس حدیث کی تکمیل فرماکر سند فراغت حاصل کی اور علمی دنیا میں بڑی مہارت و شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد شبانہ روز تقاریر اور امامت و خطابت کے فرائض انجام دینے لگے، بالاخر اہل کراچی کے اصرار پر مستقل طور پر کراچی تشریف لے آئے اور وہاں سے دین و مذہب کی نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔ علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ نے ’’ذکر حبیب‘‘ کے چرچے کو اپنی زندگی کا اہم فریضہ قرار دیا تھا، ان کی خطابت اور سحر بیانی سے پاکستان کے گوشے گوشے، ایشیائی ممالک، بلکہ یورپ اور افریقہ کی فضائیں گونج اٹھیں۔ انہوں نے دلوں میں محبت رسول پیدا کرکے دلوں کو زندہ کیا، اس بارے میں علامہ احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’آپ کی تقریر علمی استعداد، ذکاوت، ذہانت، جودت طبع اور وسعت مطالعہ کا آئینہ دار ہوتی ہے، انداز بیان نہایت سلجھا ہوا، کلام میں پختگی، لطافت اور بسا اوقات ظرافت کی چاشنی پائی جاتی ہے، جو سامعین کے لئے نہایت دلچسپی ہوتی ہے‘‘
36 سال میں علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ نے جم غفیر اجتماعات میں سیکڑوں موضوعات پر 18 ہزار سے زائد خطاب کئے، جو اب تک ایک ریکارڈ ہے۔ دین و مسلک کی تبلیغ کے لئے علامہ نے شرق اوسط، خلیج کی ریاستوں، بھارت جنوبی افریقہ اور ماریشس اور دوسرے ممالک کے دورے کئے، صرف جنوبی افریقہ میں 1980ء تک مولانا کی تقریروںکے ساٹھ ہزار کیسٹیں فروخت ہوچکی تھیں۔ دوسرے ممالک میں فروخت ہونے والے کیسٹوں کی تعداد بھی کم نہیں، اب مولانا کے ویڈیو کیسٹیں بھی پھیل رہی ہیں، تین ہزار سے زائد لوگ ان کے ہاتھوں پر مسلمان ہوئے۔ علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ کی تنظیمی اور تحریکی خدمات بھی قابل ذکر ہیں۔
آپ نے زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ 1947ء میں تقسیم کے بعد اوکاڑہ ہجرت کرکے آگئے تھے۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں حصہ لیا، اور حکومت نے ان کو قید کرلیا تھا، اسی دوران میں آپ کے دو بیٹے منیر احمد اور تنویر احمد فوت ہوگئے، ان پریشانیوں کی حالت میں علامہ نے حسینی جذبہ کا مظاہرہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر نے ان کو رہا کردینے کی شرط پیش کی کہ آپ معافی نامہ میں دستخط کردیں، لیکن انہوں نے جواب دیا تھا کہ میں نے عزت و ناموس مصطفیﷺ کے لئے کام کیا۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضور اکرمﷺ آخری نبی ہیں، لہذا معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میرے بچے اﷲ کو پیارے ہوگئے۔ میری جان بھی چلی جائے تب بھی اپنے عقیدے پر قائم رہوں گا اور معافی نہیں مانگوں گا، اس سے حکومت نے برہم ہوکر مزید سختی کی، مگر علامہ نے تمام صعوبتیں برداشت کیں۔ 17 اکتوبر 1962ء میں دوران تقریر اہل سنت کے مخالفوں نے مولانا پر شدید قاتلانہ حملہ کیا جس سے آپ کی گردن، کندھے، سر اور پشت پر پانچ نہایت گہرے زخم آئے، تاہم انہوں نے پولیس کو بیان دیا، وہ نہایت قابل غور ہے۔ انہوں نے فرمایا ’’میں کوئی مجرم نہیں ہوں، کوئی جرم ہے تو یہ ہے کہ میں سید عالم محسن انسانیتﷺ کی تعریف کرتا ہوں۔ انہوں نے میرا خون ناحق بہایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور میری نجات کا ذریعہ بنائے۔ میں نے حملہ آوروں کو معاف کردیا، باقی آپ لوگ بقائے امن کے لئے جو مناسب سمجھیں کرلیں‘‘ جنگ آزادی کے موقع پر اور مختلف مقامات میں مظلوموں کی امداد کے لئے ولولہ انگیز تقاریر کیں، امدادی فنڈ جمع کئے اور اداروں کے ساتھ دورے کرکے مصیبت زدوں کے پاس پہنچ گئے تھے۔ تام آخر ایک مخلص، محب وطن، سچے اور پکے مسلمان بلکہ ہر مسلمان کے معزز قائد و امام رہے۔ صدر مملکت ضیاء الحق نے انہیں مجلس شوریٰ کا معزز رکن نامزد کیا اور قوانین اسلامی کے ترتیب دینے اور ان کی تشکیل و تنفیذ کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ اہل سنت کے عقیدے پر مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے کوشش کی، چنانچہ حکومت کی طرف سے انہیں ’’ستارہ امتیاز‘‘ کا اعزاز عطا کیا گیا۔
یہی کارنامے ہی علامہ اوکاڑوی علیہ الرحمہ کو تا قیامت زندہ رکھیں گے ان شاء اﷲ۔ صرف یہی نہیںبلکہ مولانا محترم نے علم و عقائد اور تربیت اسلامیہ کے لئے چند نہایت مفید وموثر ادارے بھی قائم کئے جن میں جامعہ حنفیہ اشرف المدارس، دارالعلوم حنفیہ غوثیہ اور گل زار حبیب ٹرسٹ نہایت قابل ذکر ہیں۔ اسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامع مسجد گل زار حبیب اور جامعہ اسلامیہ گل زار حبیب زیر تعمیر ہیں، اسی کے پہلو میں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔
٭٭٭