اداریہ… دست بستہ… از قلم : علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

in Tahaffuz, May 2014, ا د ا ر یے, علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

٭ نیا مینڈیٹ لے کر نئی حکومت آئی۔ ’’انہیں برسوں کے انتظار کے بعد پھر اقتدار ملا ہے۔ یہ ضرور کچھ کریں گے، ملک میں بہتری ہوگی‘‘ ایسی ہی آوازوں کی گونج تھی۔ چند ہفتوں میں چار مرتبہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر مایوسی پھیلانے والی حکومت نے حج جیسے مقدس سفر کو بھی ٹیکس سے خالی نہیں رہنے دیا۔ بلاشبہ حج وعمرہ حکمرانوں اور تاجروں کے لئے مکمل کاروبار ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ مسلمان کہلانے والے ہی حج اور عمرہ کے سفر کو مہنگا کرتے ہیں جبکہ غیر مسلم اس حوالے سے مسلمانوں کو رعایت دیتے ہیں۔ غیر مسلم اپنے مذہبی تہوار مناتے ہوئے رعایت اور آسانی اپناتے ہیں جبکہ مسلمان کہلانے والے ایسے مواقعوں پر مالی منفعت کو اہمیت دیتے اور نرخ بڑھاتے ہیں۔ اس حکومت نے تاحال اپنی کارکردگی سے عام آدمی کوکوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ انسانی زندگی کی قدروقیمت اس دور میں بھی کچھ نہیں۔ کچھ واقعات کے سوا دادرسی اور اشک شوئی کی کوئی مثال نہیں۔ قوم کے ایک مجرم (سابق فوجی صدر) کی حفاظت پر بے دریغ خرچ ہورہا ہے، لیکن عام آدمی اب بھی سسک رہا ہے۔ بلک رہا ہے۔ سوئس حکومت کو گزشتہ حکومت نے سابق صدر کے حوالے سے خط لکھنے کا جو ڈرامہ کیا، وہ بے نقاب ہوا۔ کیا اس ڈرامے کی پاداش کسی نے بھگتی؟ قومی خزانہ لوٹنے کو جب جرم سمجھا ہی نہیں جاتا پھر یہ واویلا کیوں؟ جہاں تھانے بکتے ہوں، 83 کروڑ روپے یومیہ بھتا کے ٹینکرز… بجلی چوری، چالیس روپے یومیہ ٹیکسی رکشا، جہاں یہ سب حقائق ہوں، اور ’’بڑوں‘‘ کی سرپرستی اور آشیرباد سے ہوں، وہاں سب سے بڑا تمسخر ’’قانون‘‘ ہے جس کی کوئی عمل داری نہیں۔ امن وامان کے خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہوں جب پوجا ہی دھن دولت کی ہوتی ہو؟ سبھی جانتے ہیں کہ ’’پل کی خبر نہیں‘‘ پھر بھی سامان سو برس ہی کا کررہے ہیں۔ حدیث شریف ہے: دنیا مردار ہے اور اس کے طالب ’’کتے‘‘ ہیں۔
٭ملک شام (Syria) اہل اسلام کے نزدیک کیا مقام و مرتبت رکھتا ہے؟ متعدد احادیث گواہ ہیں۔ انبیاء اولیاء کی سرزمین کو وہاں کے موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے جن احوال کا سامنا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہیں۔ شاہ زاری رسول حضرت سیدہ زینب اور صحابی رسول حضرت سیدنا خالد رضی اﷲ عنہما کے مزارات پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ احتجاجی مظاہرے ہوئے، نعرے لگے اور قصہ پارینہ ہوگیا۔ آج بھی اس سرزمین پر خون کی ہولی جاری ہے۔ برسوں ہوگئے بیت المقدس اور فلسطین کو آزادی نہ مل سکی۔ عراق ایران جنگ نے لاکھوں جانیں تلف کروائیں، افغانستان آج بھی مقتل بنا ہوا ہے۔ مصر، لیبیا… کس کس ملک کا نام لیں۔ کیا وجہ ہے کہ صرف مسلم ممالک ہی تاراج ہورہے ہیں؟ ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان کہلانے والے قیادت سے محروم ہیں یا خواب غفلت میں ہیں؟ مسلم ممالک کی تنظیمیں اپنے حقوق کے لئے، مسلمانوںکے تحفظ کے لئے، دوسرے مسلمان ملک کے لئے ہم آواز کیوں نہیں ہوتیں، مسلم ممالک کو تنہا کیوں کیا جاتا ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیموں کو خون مسلم کی یہ ارزانی کیوں نظر نہیں آتی؟ کشمیر کیوں ابھی تک لاینحل مسئلہ ہے؟ کرائمیا کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا گیا مگر فلسطین اور کشمیر کے لئے یہ تیزی اور پھرتی کیوں نہیں دکھائی جاتی؟ انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے اصل مرتکب کیوں معتوب نہیں؟ ٹوین ٹاورز کیا ڈھائے گئے، دنیا سے امن کی فاختہ رخصت ہوگئی۔ آج ہر کسی کا زیادہ خرچ ’’سیکورٹی‘‘ پر ہورہا ہے۔ انسان خود انسان سے خوفزدہ ہے۔ اس انسان سے انسانیت گم ہوگئی ہے اور مسلمان کو اپنا تشخص یاد نہیں رہا یا پسند نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے وعدوں پر اس مسلمان کا ایمان کیوں نہیں؟ اس مسلمان کی اﷲ تعالیٰ کے دشمنوں سے امیدیں وابستہ کیوں ہوگئیں؟ مسلم ممالک کو مسلمانوں کے حقوق کیوں عزیز نہیں؟ اسلامی ملکوں کے سربراہان کو تعیشات اور ’’شہوات‘‘ ہی کیوں مرغوب ہیں؟ عہدے اور منصب صرف لوٹ کھسوٹ ہی کے لئے کیوں ہوکر رہ گئے؟
مسلمان کے پاس تو انسانی قوانین سے بہت زیادہ بہتر خدائی فرامین کا مجموعہ موجود ہے، رحمت للعالمین خاتم النبیینﷺ کا دین ہے، پھر وہ کیوں بھٹک رہا ہے، اسی دین کی پابندی سے کیوں گریزاں ہے جو اس کی فوز و فلاح کا ضامن ہے۔ غیروں کو یہی خدشہ ہے کہ مسلمان اپنے دین کا پابند نہ ہوجائے اسی لئے وہ اسے بہکانے بھٹکانے کو ہمہ دم مشغول ہیں۔ کاش کہ یہ مسلمان بیدار ہوجائے اور اسے اپنی پہچان ہوجائے۔
٭ اس ملک میں یہ انوکھا واقعہ بھی پیش آیا اور تاریخ کا حصہ ہوگیا کہ ’’طالبان‘‘ سے مذاکرات ہوئے۔ دیوبندی وہابی مسلک کے سرکردہ ’’علمائ‘‘ نے اپنے ان طالبان کو کبھی ’’دہشت گرد، انتہا پسند اور ظالم‘‘ نہیں کہا جبکہ دنیا بھر اور ملک کے حکمران اور سیاست کار انہیں برسوں سے انہی عنوانات سے یاد کرتے ہیں۔ نامعلوم جنہیں کہا جاتا رہا، جو ہلاکتوں اور دھماکوں کی علی الاعلان ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں، جو آئین کو تسلیم نہیں کرتے، جو ہتھیار بردار ہیں، ان کے علماء نے ان سے جو اپیل کی وہ بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ لوگ اور اس کا متن بھی کبھی ضرور موضوع بنیں گے (انہی کے بڑوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی) لال مسجد کے برقع پوش ملا کو اور کچھ نہیں سوجھا تو ’’مختار کائنات‘‘ نبی اکرمﷺ ہی کی شان اور ان کے اختیار کا انکار کردیا۔ اس نادہندہ کو میڈیا نے کوریج دی تو یہ شاید خود کو اسلام کا ٹھیکے دار سمجھ بیٹھا، سبھی نے دیکھا کہ اسلام کا چہرہ کن لوگوں نے بگاڑ کر دنیا کو دکھایا، وہ کون ہیں جو دین کے نام پر قتل و غارت اور فتنہ و فساد کرتے کراتے ہیں؟ امن و سلامتی کا تصور عدل و انصاف، احسان اور بھلائی سے وابستہ ہے، دھماکوں اور خون ریزی سے نہیں۔ یہ مذاکرات کیا واقعی امن قائم کرسکیں گے؟ یہ لوگ کیوں ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں؟ حکمرانوں کی پالیسیاں دین اور وطن کے مفاد میں کیوں نہیں؟ اس ملک کو اپنے قیام ہی سے خود مختاری حاصل نہیں رہی۔ یہاں بیش تر حکمرانوں نے غیروں ہی کی پالیسی کو انہی کی خوشنودی کے لئے انہی کا آلہ کار بن کر اپنانے میں بسر کی ہے۔
بھارت سے دو جنگیں ہوئیں لیکن ملک کے اندر ہونے والی جنگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور سلسلہ جاری ہے۔ لسانی اور علاقائی نفرتیں اور تعصبات کی جنگیں بھی یہاں مسلمان کہلانے والوںکا شعار ہوگئی ہیں۔ کھلم کھلا دین کے خلاف اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ کچھ ہوا ہے جو اس طرح شاید ہی کہیں ہوا ہوگا۔ قرآن و حدیث کے خلاف دریدہ دہنی کی ’’بیگمات‘‘ کو کھلی آزادی دی گئی۔ فحاشی، عریانی اور بے حیائی و بے غیرتی یہاں یوں کی گئی جیسے وہ زندگی کے لئے لازمی ہو۔ بڑے بڑے نام منشیات اور اسمگلنگ اور بڑے بڑے جرائم کے حوالے سے زبان زدعام ہیں۔ مذہب کے نام پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو یہاں حکمرانوں اور سیاست کار طبقے نے اپنے مفادات کے لئے خوب بھڑکایا اور برتا اور فضا کو نفرت آلود کیا۔ سرکاری سرپرستی میں وہ سب کچھ ہوا، جو آج معاشرے کے لئے ناسور بن چکا ہے۔ چند حکمرانوں کے غلط فیصلوں نے اس ملک سے اس کی بہاریں لوٹ لیں۔ طالبان یا اس کے ہم نوا خود انہی حکمرانوں کی پیداوار ہیں، عسکریت پسند طبقے یونہی نہیں دندناتے رہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ فوجی اور سول ادارے اور افراد کو نشانہ بنانے والے یہ لوگ ملک کے حکمرانوں کے لئے چیلنج تھے پھر ان سے مذاکرات کا کیا جواز تھا؟ جدید ترین اسلحہ اور سہولیات سے لیس یہ لوگ کس کے پروردہ ہیں؟ یہ ملک تو جوہری توانائی رکھتا ہے۔ خود اس ملک کا تحفظ ہی دائو پر لگ گیا۔ کہا گیا کہ کلمہ گو لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے پر فوج میں اختلاف رائے ہے، جتنے منہ اتنی باتیں۔ یہ سب کیا ہے؟ خدا و رسول کا واسطہ جنہیں دیا گیا ان سے کبھی پوچھا کہ وہ کچھ کررہے ہیں۔ کیا خدا و رسول نے ایسا ہی کرنے کو فرمایا ہے؟ کیا یہ لوگ خود وہی کچھ کرتے اور کررہے ہیں جو خدا و رسول کا فرمان ہے؟ ملک میں دین کے عملی نفاذ یا اصلاح معاشرہ کی کوشش کیں، اسی طرح ہونی اور کرنی چاہئیں؟ طالبان کا تعارف کیا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ کیا سچ کبھی آشکار ہوگا؟
٭ اہل سنت و جماعت یا عام لوگوں میں اہل سنت والجماعت کے الفاظ والقاب شروع ہی سے صرف سنی بریلوی لوگوں کے لئے سنے جاتے تھے لیکن اب دیوبندی وہابی گروہ ’’اہل سنت و الجماعت‘‘ نام سے اپنا تعارف چاہ رہے ہیں اور انہوں نے گویا کوئی ’’تنظیم‘‘ بھی اس نام سے بنالی ہے۔ اگر یہ نام ’’رجسٹرڈ‘‘ ہوا ہے تو کیسے ہوگیا؟ رجسٹریشن والے تو کوئی اخبار، رسالے، جریدے اور ادارے کا نام الفاظ کے واضح فرق کے بغیر منظور نہیں کرتے پھر انہوں نے کسی تنظیم کے نام کو واضح فرق کے بغیر کیسے منظور کرلیا؟ اسے بے احتیاطی، غیر ذمہ داری نہیں یقینا سازش اور شرارت ہی کہا جائے گا۔ میڈیا پر اس ’’تنظیم‘‘ کی بالجبر کوریج نے اس تنظیم کا اصلی تعارف تو کرواہی دیا ہے اور عوام کی اکثریت نے انہیں پہچان بھی لیا ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف اس سازش کو کیوں قبول کیا گیا؟ صحیح العقیدہ اہل سنت وجماعت نے اس پر ابھی تک ضروری قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی؟
ہمیں اس موقع پر صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت کے ہر فرد سے ہی کہنا ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوکر اپنی ایمانی مسلکی ذمہ داری کا احساس کرے اور دھڑے بندیوں کو ختم کرکے جماعت اہل سنت کو مضبوط اور منظم کرنے میں فعال ہو۔ ہر سنی کو سنیوں کے لئے ’’محتسب‘‘ دیکھا جارہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ اپنے اپنے مزاج اور رویوں کی وجہ سے ہر سنی یونہی دوسروں سے نالاں رہے۔ اہل سنت یوں ہی بکھرے رہے تو غیروں کی یلغار کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے، عقائد میں تصلب ضروری ہے۔ دیگر کمزوریوں کی اصلاح کا سامان کیا جائے، لیکن احوال دگرگوں ہیں۔ جعلی پیروں اور غلط باتوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ہر سنی کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ علماء و مشائخ میں وہ لوگ جو بے جا بحثوں میں الجھ رہے ہیں۔ انہیں اپنی اس روش کو ترک کردینا چاہئے۔ اﷲ تعالیٰ کے آخری اور سب سے پیارے نبیﷺ باعث تخلیق کائنات ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں ساری کائنات سے پہلے اپنے نور سے بنایا، وہ اس وقت بھی نبی تھے۔ رسول اﷲﷺ کے لئے اعلان نبوت سے قبل بالقوۃ اور بالفعل نبوت کی بحث لاحاصل اور فضول ہے۔ ان پر مہر نبوت پیدا ہوتے ہی لگائی گئی تھی، اعلان نبوت کے بعد نہیں۔ خلیفۂ رسول سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اﷲ عنہ بلاشبہ نبیوں رسولوں کے بعد افضل البشر ہیں۔ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ بلاشبہ صحابی رسول ہیں۔ حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ بلاشبہ اولیاء کے سردار ہیں اور ان کا قدم مبارک تمام اولیاء کی گردن پر ہے۔ اگر آج کوئی ایک یا چند علماء و مشائخ ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتے تو ان سے یہی عرض ہے کہ وہ اپنے تحقیق اور اپنے دلائل کو ’’حرف آخر‘‘ نہ سمجھیں۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے ‘‘وفوق کل ذی علم علیم‘‘ (یوسف: 76) اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے۔ اور یہ لوگ اجماع کے خلاف باتیں کرکے امت کو پریشان نہ کریں، ایسے لوگ اپنی ایسی تحقیق سے اپنی علمی دھاک بٹھانے یا کوئی مرتبہ و مقام پانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ان لوگوں کی ایسی تحقیق سے اپنی علمی دھاک بٹھانے یا کوئی مرتبہ و مقام پانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ان لوگوں کی ایسی تحقیق خودان لوگوں اور امت کے لئے کسی نفع و ثواب کا موجب نہیں، نہ ہی اُمّت کو ایسی تحقیق کی کوئی ضرورت ہے۔
٭٭٭