(رسول پاکﷺ کے بعد سب سے افضل صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ہیں (دوسری قسط

in Tahaffuz, May 2014, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

(دوسری قسط)
(اصل الشیعہ واصولہا صفحہ 115 تذکرہ صرف القوم الخلافتہ عن علی مطبوعہ قاہرہ طبع جدید)
ترجمہ: جب دیکھا حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ اور عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کلمہ توحید کی نشرواشاعت میں اور لشکروں کی تیاری میں پوری پوری کوشش کی اور انہوں نے اپنی ذات کو کسی معاملے میں ترجیح نہ دی اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ان سے مصالحت کرتے ہوئے ان کی بیعت کرلی اور اپنے حق سے چشم پوشی کی۔ کیونکہ اس میں اسلام کے متفرق ہونے سے حفاظت تھی تاکہ لوگ پہلی جہالت کی طرف نہ لوٹ جائیں اور باقی شیعہ کمزوری کی وجہ سے آپ کے زیر دست رہے۔ آپ کے چراغ سے روشنی حاصل کرتے رہے اور شیعہ اور ان کے مذہب کے لئے ان ایام میں ظہور کی مجال نہیں تھی۔ کیونکہ اسلام مضبوط طریقے پر چل رہا تھا۔ یہاں تک حق باطل سے اور ہدایت گمراہی سے جدا ہوچکی تھی اور معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بیعت سے انکار کیا اور صفین میں ان سے جنگ کی تو اس وقت جتنے صحابہ کرام موجود تھے انہوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دیا حتی کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے جھنڈے کے نیچے اکثر صحابہ کرام شہید ہوئے اور آپ کے ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے 80 وہی صحابہ تھے جو کل کے کل بدری تھے۔ مثلاً عمار یاسر اور حضرت خزیمہ جن کی شہادت دو شہادتوں کے برابر تھی اور ابو ایوب انصاری اور اسی مدینے کے اور صحابہ اور پھر جب حضرت علی شہید ہوئے اور امرِ خلافت امیر معاویہ کی طرف لوٹا تو اس کے ساتھ خلفاء راشدین کا دور ختم ہوا اور امیر معاویہ نے مسلمانوں میں جبارین دین کی سیرت کو اپنایا۔
مذکورہ عبارت سے مندرجہ ذیل امور صراحتاً ثابت ہوئے
1:

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا مقصود خلافت حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ کلمہ توحید کی نشرواشاعت اور لشکروں کی تیاری کے ساتھ فتوحات میں توسیع دینا تھا۔ اسی لئے جب انہوں نے دیکھا کہ جو اسلام کے مقاصد تھے وہ سب کے سب شیخین نے پورے کردیئے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے رضامندی کے ساتھ یکے بعد دیگرے ان کی بیعت کرلی۔
2:

شیخین کے زمانہ میں شیعہ اور ان کے مذہب کا اس لئے ظہور نہیں ہوا کہ اسلام اپنے صحیح اور مضبوط طریقے پر چل رہا تھا۔ یہاں تک کہ حق باطل سے اور ہدایت گمراہی سے جدا ہوچکی تھی۔
3: جنگ صفین کے زمانہ تک بدری صحابی موجود تھے جو 80 کی تعداد میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہوئے۔
4: خلفاء ثلاثہ خلفاء راشدین تھے نہ کہ ظالم فاسق اور فاجر
5: نبی پاکﷺ کے وصال پر صحابہ کرام کے ارتداد کا مسئلہ (معاذ اﷲ) شیعہ حضرات کا خود ساختہ ہے کیونکہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے زمانہ تک بدری صحابہ موجود تھے جوکہ قطعی جنتی تھے جوکہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
خلفائے راشدین کی خلافت حقہ پر دلیل دہم
فرمان علی رضی اﷲ عنہ: اﷲ تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے بعد لوگوں کے لئے بہترین شخص کا انتخاب فرمایا۔

ان فی الخبر المروی عن امیرالمومنین علیہ السلام لماقیل لہ الا توصی فقال مااوصیٰ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فاوصی ولٰکن ان اراد اﷲ بالناس خیرا استجمعھم علی خیرہم کما جمعہم بعد نبیہم علی خیرہم قتضمن لما یکاد یعلم بطلانہ مندورۃ لان فیہ التصدیح القوی بفضل ابی بکر علیہ وانہ خیر منہ والظاہر من

احوال امیر المومنین علیہ السلام والمشہور من اقوالہ واحوالہ جملۃ وتفصیلاً یقتصی انہ کان یصدم نفسہ علی ابی بکروغیرہ

(تلخیص الشافی تالیف شیخ الطائفہ ابی جعفر طوسی جلد دوم ص 237، دلیل آخر علی امامتہ علیہ السلام مطبوعہ قم طبع جدید)

ترجمہ: امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ سے کہاگیا کہ آپ وصیت کیوں نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا کیا حضورﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میں وصیت کروں لیکن اگر اﷲ تعالیٰ نے لوگوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا تو ان کو ان میں سے بہترین شخص پر جمع کردے گا جیسا کہ اس نے نبی پاکﷺ کے بعد انہیں بہترین شخص پر جمع کیا۔ یہ اس چیز کو متضمن ہے کہ قریب ہے کہ اس کا بطلان بدایۃً معلوم ہوجائے کیونکہ اس میں ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی فضیلت حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر تصریح قوی ہے اور یہ کہ ابوبکر رضی اﷲ عنہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے بہتر ہیں۔ لیکن امیرالمومنین کے احوال اور ان کے اقوال و احوال سے اجمالاً اور تفصیلاً جو ظاہرا اور مشہور ہے اس کا متقضی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ وغیرہ پر مقدم جانتے ہیں۔
الحاصل
مذکورہ عبارت سے دو اہم مسائل ثابت ہوئے:
نبی پاکﷺ نے اپنے بعد کسی کو وصی نہیں بنایا۔
نبی پاکﷺ کے بعد اﷲ تعالیٰ نے امت کے سب سے بہترین شخص کو خلافت کے لئے منتخب فرمایا جیسا کہ اس نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے بعد امت کے بہترین شخص حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو امت کے لئے منتخب فرمایا۔
خلفائے راشدین کی خلافت حصہ پر دلیل یادہم
نبی پاکﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے متعلق اپنے بعد خلیفہ اور جنتی ہونے کی پیش گوئی فرمائی۔
تلخیص الشافی
روی عن انس ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم امرہ عند اقبال ابی بکر ان یسبشرہ بالجنۃ وبالخلافۃ بعدہ وان یستبشرہ عم بالجنۃ وبالخلافہ بعد النبی بکر و روی عن جبیربن مطعم ان امراۃ اتت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ فکلمتہ فی شیٔ فامر بہا ان ترجع الیہ فقالت یارسول اﷲ ارایت ان رجعت فلم اجدک (یعنی الموت) قال ان لم تجدنبی فات ابابکر
(تلخیص الشافی جلد سوم ص 39، فصل فی ابطال قول من حالت فی امامۃ امیر المومنین بعد النبی علیہما السلام بلا فصل مطبوعہ قم، طبع جدید)
ترجمہ: حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے مجلس میں آنے کے وقت ارشاد فرمایا کہ انہیں (ابوبکر صدیق) کو جنت اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری سنادو اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جنت اور ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بعد خلافت کی بشارت دو اور حضرت جبیربن مطعم رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں ایک عورت آئی اور کسی معاملہ میں آپ سے بات چیت کی۔ حضور ﷺنے اسے حکم دیا کہ پھر میرے پاس آنا، عورت نے عرض کی کہ اگر میں دوبارہ آئوں اور آپ کو نہ پائوں تو؟ (یعنی اس وقت تک اگر آپ وصال کرجائیں تو پھر کیا کروں؟) آپﷺ نے فرمایا اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس چلی جانا (اور ان سے اپنا مسئلہ حل کروالینا)
الحاصل
مذکورہ دونوں حدیثوں سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ نبی پاکﷺ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ برحق ہیں اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور دوسرا یہ جنتی بھی ہیں اور یہ بات ثابت ہوئی کہ نبی پاکﷺ نے مذکورہ عورت کو اسی لئے اپنے بعد ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی وصیت فرمائی کیونکہ آپ من جانب اﷲ جانتے تھے کہ میرے بعد ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوں گے۔
کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے (معاذ اﷲ) دشمنوں کے غلبہ کی وجہ سے بطور تقیہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی؟
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف اس بات کو منسوب کرنا ان کی شان کے خلاف ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ تو ایسے بہادر تھے جوپورے پورے لشکر کو اکیلے شکست دے دیتے تھے۔ خیبر کے موقع پر چالیس آدمیوں کا کام اکیلے مولا علی شیر خدا رضی اﷲ عنہ نے کیا۔
پہلی دلیل:کیا وہ شیر خدا کسی کے دبائو میں آسکتا ہے؟ کیا اﷲ تعالیٰ کا شیر حق بات کہنے سے (معاذ اﷲ) ڈر جائے، یہ ناممکن ہے۔
دوسری دلیل… جس شیر خدا کے بیٹے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے خون میں لہولہان ہوکر، اپنے گھرانے کو لٹا کر ایک ظالم کی بیعت نہ کی۔
کیا ان کے والد شیر خدا (معاذ اﷲ) بزدل تھے۔ کیا انہوں نے (معاذ اﷲ) ڈر اور خوف کی وجہ سے بیعت کرلی۔
نہیں بلکہ وہ جانتے تھے کہ جسے حضورﷺ نے چن لیا۔ اس کی بیعت کرنا ہمارا ایمان ہے۔
شیعہ حضرات کی معتبر کتاب سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنا ثابت ہے:
دلیل… حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز ادا فرمائی (شیعہ حضرات کی کتاب: جلاء العیون ص 150)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بیعت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی کتاب نہج البلاغۃ سے ثابت کرتے ہیں:
نہج البلاغۃ میں لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ جن لوگوں نے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کی بیعت کی۔ انہیں لوگوں نے میری بیعت کی ہے۔ اب کسی حاضر یا غائب کویہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کی مخالفت کرے۔ بے شک شوری مہاجرین و انصار کا حق ہے اور جس شخص پر جمع ہوکر یہ لوگ اپنا امام بنالیں، اﷲ تعالیٰ کی رضامندی اسی میں ہے (کتاب نہج البلاغۃ، دوسری جلد، ص 8، مطبوعہ مصر)
اب کسی شک کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ حضرت ابوبکر و عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راضی تھے۔ اب لوگ کچھ بھی کہیں۔ چار یاروں کی آپس میں ایسی محبت تھی۔ جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔
شیعہ حضرات کی کتاب سے حضرت علی کی بیعت کاثبوت:
شیعہ حضرات کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی میں شیعہ عالم علامہ طبرسی لکھتا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر و صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی۔ (بحوالہ احتجاج طبرسی، ص 54)
اگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ بطور تقیہ بیعت کرتے تو علامہ طبرسی جوکہ مشہور شیعہ عالم ہیں، وہ اپنی کتاب میں تقیہ کا ذکر ضرورکرتے مگر انہوں نے تقیہ کا کوئی ذکر نہیں کیابلکہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی۔
حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں‘‘ اس کا جواب دیں؟
جواب: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس حدیث شریف پر ہمارا بھی ایمان ہے تبھی تو ہم اہلسنت و جماعت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مولا علی شیر خدا کہتے ہیں۔
دلیل… اس حدیث میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شان مولائی بیان کی گئی ہے اور مولا کا مطلب مددگار کے ہوتا ہے۔اس حدیث میں خلافت کا کہیں ذکر واضح نہیں۔
دلیل… مولا کے کئی معنی ہیں۔ لغت کی مشہور کتاب قاموس کی جلد چوتھی ص 302 پر تحریر ہے کہ ’’المولیٰ، المالک والعبد والصاحب، والناصر، والمحب، والتابع، والعصر‘‘ مولا کے معنی مالک، غلام، محب، صاحب، مددگار، تابع اور قریبی رشتہ دار کے ہیں۔
القرآن … فان اﷲ ہو مولہ وجبریل و صالح المومنین والملٰئکۃ بعد ذالک ظہیرا (سورۂ تحریم، آیت 4، پارہ 28)
ترجمہ: بے شک اﷲ، جبریل، نیک مومنین اور تمام فرشتے مددگار ہیں۔
اس آیت میں مولا کا لفظ مددگار کے لئے بیان کیا گیا ہے۔
القرآن: انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین (سورۂ بقرہ، آیت 286، پارہ 3)
ترجمہ: اے اﷲ تو مددگار ہے، ہمیں کافروں پر مدد و نصرت فرما۔
اس آیت میں بھی مولا کا لفظ مددگار کے لئے بیان کیا گیا ہے۔ تو ’’من کنت مولاہ فعلی مولا‘‘ کا معنی یہی معتبر ہوگا کہ جس کا میں والی، مددگار اور دوست ہوں، حضرت علی رضی اﷲ عنہ بھی اس کے والی، مددگار اور دوست ہیں۔
دلیل… حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت پر سینکڑوں احادیث واضح موجود ہیں جس میں خلافت کا ذکر ہے مگر مولا والی حدیث میں کہیں بھی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا واضح ذکر نہیں ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ تم مجھ سے بمنزلہ ہارون کے ہو، لہٰذا جس طرح ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے، اسی طرح حضرت علی رضی اﷲ عنہ بھی حضورﷺ کے خلیفہ ہیں؟
جواب: بخاری شریف کی حدیث شریف ملاحظہ ہو۔
الحدیث… اما ترضیٰ ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی
ترجمہ (سرکار اعظمﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ) تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تو مجھ سے بمنزلہ ہارون کے ہو موسیٰ علیہ السلام، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے (بخاری شریف، مسلم شریف)
دلیل… اس حدیث پاک میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگر ہے تو صرف یہ کہ سرکار اعظمﷺ نے انہیں اہل بیت کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا تھا تو اس کا سبب ایک تو قرابت و رشتہ داری تھا اور دوسرا یہ کہ اہلبیت کی حفاظت و نگہبانی کا اہم فریضہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ ہی ادا کرسکتے ہیں۔
دلیل… حضرت ہارون رضی اﷲ عنہ کی خلافت تو عارضی تھی کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہی وصال فرما چکے تھے پھر اگر خلافت مولا علی رضی اﷲ عنہ کو خلافت ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی جائے تو کسی صورت بھی درست نہیں ہے۔
دلیل… سرکار اعظمﷺ کا یہ فرمانا کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام تھے، اس سے مراد یہ ہے کہ جس طرح دین حق کو پھیلانے میں حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی، اسی طرح تم نے بھی اسلام کی تبلیغ میں میری مدد کی ہے۔
حضرت مولا علی رضی اﷲ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنا
1… شیعہ حضرات کے علامہ طبرسی تحریر کرتے ہیںکہ ’’ثم قام و تھیأ للصلوٰۃ و حضر المسجد و صلی خلف ابی بکر‘‘ پھر (حضرت علی) اٹھے اور نماز کا ارادہ فرمایا اور مسجد میں تشریف لائے پھر حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز ادا فرمائی (الاحتجاج طبرسی جلد اول، ص 126، سطر 4 مطبوعہ ایران)
2… ملا باقر مجلسی نے بھی حضرت علی کا حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز پڑھنا لکھا ہے۔ جلاء العیون مترجم کی عبارت ملاحظہ ہو۔ جناب امیر (علیہ السلام) نے وضو کیا اور مسجد میں تشریف لائے۔ خالد بن ولید بھی پہلو میں آکھڑا ہوا۔ اس وقت ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے (جلاء العیون اردو جلد اول، ص 213، سطر 21-20، مطبوعہ لاہور)
کیا پیغمبر علیہ السلام جناب علی (رضی اﷲ عنہ) کی خلافت تحریر فرمانا چاہتے تھے، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے کاغذ، قلم و دوات طلب فرمائی تو انہوں نے نہ دی بلکہ یہ کہا کہ رسول پاکﷺ ہذیان کہتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔ یہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بڑی غلطی کی؟
جواب: جھوٹوں پر خدا کی لعنت، آپ کی پہل ہی غلط ہے ۔اہل اسلام کی کتب میں اس کے برعکس لکھا ہے کہ پیغمبر علیہ السلام اپنے مرض الموت میں جناب ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت تحریر فرما گئے تھے۔ جیسا کہ مشکوٰۃ شریف ص 555 پر واضح الفاظ موجود ہیں نیز اس طعن کرنے سے اتنا پتہ چل گیا کہ غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ مقرر نہیں ہوئے تھے اور عید غدیر مناکر شیعہ لوگ خواہ مخواہ بدنام ہورہے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ پیغمبر علیہ السلام نے کاغذ، قلم، دوات حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے طلب فرمائی تو یہ بھی جھوٹ ہے بلکہ آپ نے جمیع حاضرین سے (جن میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت عباس رضی اﷲ عنہ اور گھر کی خواتین وغیرہ بھی شامل ہیں) کاغذ، قلم، دوات طلب فرمایا۔ جیسا کہ بخاری شریف کتاب الجزیۃ باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، ص 426، رقم الحدیث 2932 میں ہے)
فقال ائتونی بکتف اکتب لکم کتاباً
یعنی حضرت اکرمﷺ نے فرمایا کہ کتف لائو تاکہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم راہ حق کو نہ گم کرو۔
غور فرمایئے۔ حدیث میں ’’ائتونی‘‘ صیغہ جمع مذکر مخاطب بول کر پیغمبر علیہ السلام جمیع حاضرین سے کتف طلب فرما رہے ہیں، نہ کہ فقط حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے اور ان سے طلب ہی کیوں فرماتے جبکہ وہ ان کا گھر ہی نہ تھا کہ جس میں قلم دوات طلب کی گئی بلکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا حجرہ تھا۔ جیسا کہ بخاری شریف جلد 1ص 382 پر ہے اور پھر اگر قریب تھا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا گھر لہذا اگر خاص طور پر فرماتے تو ان سے کہ جن کا گھر قریب تھا۔ (تمام شیعہ متفق ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا گھر مدینہ شریف کے آخری کونہ پر تھا) بہرحال نقل و عقل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے پیغمبر علیہ السلام نے قلم، دوات طلب نہیں فرمائی۔
2… آپ اس کا کیا جواب دیں گے کہ حضور اکرمﷺ اس واقعہ کے تین دن بعد تک حیات رہے لیکن حضرت علی رضی اﷲ عنہ اس کے باوجود بھی ان کی تعمیل حکم نہ کرسکے اور بقول شیعہ خلافت بھی اُنہی کی تحریر ہونی تھی اور ادھر حکم رسول بھی تھا۔ لہذا اگر باقی سب صحابہ مخالف تھے تو ان پر لازم تھا کہ چھپے یا ظاہر ضرور لکھوا لیتے تاکہ بعد میں یہی تحریر پیش کرکے خلیفہ بلا فصل بن جاتے مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ تو تحریر ہی سرے سے ضروری نہ تھی بلکہ ایک امتحانی پرچہ تھا کہ جس میں حضورﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی رائے سے اتفاق فرمایا ورنہ آپ پرحق اور وحی چھپانے کا الزام عائد ہوگا، حالانکہ جماعت انبیاء اس سے بالاتر ہے۔
3… اگر یہ ضروری تحریر تھی یا وحی الٰہی تھی اور کاغذ دوات نہ لانے والا خواہ مخواہ ہی مجرم ہوا تو اس جرم کے اولاً مرتکب اہل بیت قرار پاتے۔ اس لئے کہ وہ ہروقت گھر میں رہتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ جن کا گھر باقی صحابہ کی نسبت قریب تھا اور اگر وہ مجرم نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بھی مجرم نہیں۔ لہذا شیعوں کا یہ کہنا کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے کاغذ اور دوات حضورﷺ نے طلب فرمائی، باطل ہوا۔
کیا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے (العیاذ باﷲ) حضور اکرمﷺ کی طرف ہذیان کی نسبت کی؟
جواب: یہ بھی جھوٹ اور افتراء ہے بلکہ بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب، ، ص 426، رقم الحدیث 2932 پر یوں موجود ہے۔
فقالوا مالہ اہجر استفہموہ
یعنی حاضرین نے کہا کہ حضورﷺ کا کیا حال ہے۔ کیا آپﷺ دنیا سے ہجرت فرمانے لگے ہیں۔ آپ سے دریافت تو کرلو۔
اور عبارت میں ’’قالوا‘‘ بصیغہ جمع مذکر غائب موجود ہے لہذا پہلی جہالت تو شیعوں کی یہ ہوئی کہ صیغہ جمع سے ایک شخص واحد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مراد لے لیا۔ دوسری جہالت یہ کہ ’’ہجر‘‘ کا معنی برخلاف عربیت بلکہ برخلاف سباق و سیاق ہذیان لکھ مارا حالانکہ ’’ہجر‘‘ بمعنی ہذیان کیا جائے تو آگے ’’استفہموہ‘‘ کا کوئی مطلب نہیں ہوسکتا کیونکہ شیعوںکے ماسویٰ کوئی عقلمند بھی نہیں ملے گا کہ پہلے کسی کو مخبوط الحواس اور مجنون سمجھ لے اور پھر اس سے اس کے ہذیان کا مطلب پوچھنے لگے، بہرحال صیغہ ’’استفہموہ‘‘ نے بتادیا کہ ’’اہجر‘‘ کے معنی وہی دار دنیا سے جدا ہونے کا ہی ہے، نہ کچھ اور…
2… اگر ’’ہجر‘‘ بمعنی ہذیان بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی مفید نہیں کیونکہ ’’اہجر‘‘ میں ہمزہ استفہام انکاری موجود ہے کہ جس سے نفی ہذیان مفہوم ہورہا ہے معنی یہ ہوگا کہ کیا حضورﷺ کوئی ہذیان فرما رہے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہوش سے فرما رہے ہیں ذرا دریافت تو کرلو بہرکیف حضرت عمر رضی اﷲ عنہ تو ویسے ہی اس مقولہ کے قائل نہ تھے، باقی رہے قائلین تو چونکہ ’’ہجر‘‘ بمعنی ہذیان ثابت نہیں ہوا۔ اگر ہوا تو بوجہ ہمزہ استفہام منفی ہوگیا لہذا وہ بھی اس سے بری ہوگئے۔
اگر یہی بات ہے تو پھر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے
’’حسبنا کتاب اﷲ‘‘ کیوں کہا؟
جواب: اول تو اکثر روایات میں حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا یہ مقولہ ہی نہیں شمار ہوا۔
2…حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بخوبی جانتے تھے کہ اﷲ کا دین اور قرآن پاک کا نزول مکمل ہوچکا ہے کہ جس پر ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ شاہد ہے پس آپ نے گمان کیا کہ حضورﷺ کا یہ حکم وحی الٰہی کی وجہ سے نہیں اور وجوب نہیں بلکہ بطور مشورہ ہے تو آپ نے بطور مصلحت اور مشورہ عرض کردیا کہ یارسول اﷲﷺ آپ تحریر قرطاس کی تکلیف نہ فرمائیں۔ کتاب اﷲ کو ہمارے لئے کافی سمجھیں جس پر حضورﷺ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے موافقت ظاہر فرمائی اور تحریر قرطاس پر زور دینے والوں کو ڈانٹ دیا۔ چنانچہ بخاری شریف کتاب الجہاد والسیر، باب ہل یستشفع الی اہل الذمۃ ومعاملتہم، جلد 10، ص 268، رقم الحدیث 2825 پر ہے۔ دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعونی الیہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے کلام میں قرآن کو مسلمان کے لئے کافی ہونا کا بیان کیاہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا نہج البلاغہ جلد 3ص 57 پر ہے ’’واﷲ واﷲ فی القرآن‘‘ نیز کتاب مذکور جلد 2ص 27 پر ہے ’’فاوصیک بالاعتصام بحبلہ‘‘ اور جلد 2 ص22 پر ہے ’’ومن اتخذ قولہ دلیلا ہدی‘‘ دیکھئے حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ہدایت کے لئے قرآن کو کافی قرار دیا۔ لہذا ااگر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے قول سے انکار بالسنۃ لازم نہیں آتا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے قول سے لازم کیوں آئے گا؟ اگر بربنائے نیتی و مصلحت مشورہ دینا رسول اﷲﷺ کی نافرمانی ہرگز نہیں ہے ۔
جنگ حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ نے فرمایا۔ اے علی اسے مٹایئے (لفظ ’’رسول اﷲ‘‘ کے بارے میں) توحضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پیغمبر علیہ السلام کو صاف جواب دیا کہ میں اسے ہرگز نہیں مٹائوں گا۔ جب رسول اﷲﷺ نے وہ الفاظ اپنے ہاتھ مبارک سے مٹادیئے۔ اگر اس واقعہ میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو نافرمان نہیں کہا جاسکتا تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی نہ کہا جائے کیونکہ بربنائے مصلحت و حکمت حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حکم نبوی کی خلاف ورزی کی ہے تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں نہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے خلاف ورزی کی ہے، نہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بلکہ وہی ہوا جو رسول اﷲﷺ چاہتے تھے۔
فضائل عمر از لسان حیدر رضی اﷲ عنہ
شیعہ صاحبان خواہ مخواہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی کتابوں میں مذکورہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے مناقب بیان فرمائے۔ جب خلیفہ ثانی عمر رضی اﷲ عنہ نے روم پر چڑھائی کی اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا کہ نواحی اسلام کو غلبہ دین سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اﷲ ہی کفیل ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی جب ان کی تعداد نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پاسکتے تھے۔ انہیں اس وقت مغلوب ہونے سے روک رہا ہے جب یہ کسی طرح روکے نہیں جاسکتے اور وہ خداوند عالم حی لایموت ہے۔ اب اگر تو خود دشمن کی طرح کوچ کرے اور تکلیف اٹھائے تو پھر یہ سمجھ لے کہ مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلائو تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد کوئی ایسا مرجع نہ ہوگا جس کی طرف وہ رجوع کریں لہذا تو دشمن کی طرف اس شخص کو بھیج جو کار آزمودہ ہو اس کے ماتحت ان لوگوں کو روا نہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اور اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں۔ اب اگر خدا غلبہ نصیب کرے گا تب تو وہ چیز ہے جسے تو دوست رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو موجود ہے
(نیرنگ فصاحت، ص 19)
ہم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے عربی کلام کا ترجمہ شیعہ حضرات کی کتاب ’’نیرنگ فصاحت‘‘ سے لیا ہے تاکہ ان کو یہ عذر نہ ہو کہ ترجمہ میں دست اندازی کی گئی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے اس کلام سے حسب ذیل امور ثابت ہوئے ہیں۔
1… حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر پورا اعتماد تھا۔ ہر معاملہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا ورنہ یہ مُسلّم ہے کہ کوئی شخص اپنے دشمن سے اس طرح کا مشورہ ہرگز نہیں لیا کرتا۔
2… حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا ملجا و ماوا سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اس مہم میں بذات خود معرکہ کارزار میں جائیں۔ اگر خدانخواستہ باہمی کدورت ہوتی تو یہ مشورہ دیتے کہ آپ خود لڑائی میں جائیں تاکہ ان کا کام تمام ہو اور آپ کے لئے جگہ خالی ہو۔ اس بات سے ظاہر ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے صادق دوست تھے۔
3… حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی کامیابی کو کامیابیٔ اسلام تصور کرتے تھے۔ اس لئے ان کو تسلی دی کہ اﷲ تعالیٰ تمہارااور مسلمانوں کا خود حامی و ناصر ہے۔ جب مسلمان تھوڑے تھے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور اب تو بفضل خدا مسلمانوں کی تعداد کثیر ہے۔ پھر اس کی تائید و نصرت پر کیوں نہ بھروسہ کیا جائے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے کلام سے یار لوگوں کی اس من گھڑت بات کی بھی تردید ہوتی ہے کہ بعد از وصال رسول اﷲﷺ صرف تین چار مسلمان ہی رہ گئے تھے۔ ایسا ہوتا تو آپ یوں فرماتے۔ پہلے مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی، اب گنتی کے چند آدمی رہ گئے ہیں۔ ان کی اس مہم پربھیجو تو فتح ہوگی ورنہ شکست۔
حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اﷲ عنہما، حضورﷺ کے وصال کے وقت حضورﷺ کے جسم مبارک کو چھوڑ کر خلافت کے چکر میں پڑگئے تھے جس سے تدفین میں تین دن تاخیر ہوئی؟
جواب: جب حضورﷺ کا وصال ہوا تو نفاق نے سر اٹھایا، عرب کے کچھ لوگ مرتد ہوگئے۔ منکرین زکوٰۃ کا مسئلہ درپیش آگیا اور انصار نے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔ اتنی مشکلیں جمع ہوگئیں کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی جگہ پہاڑ پر بھی پڑتیں تو وہ بھی اس وزن کو برداشت نہ کرسکتا۔ لیکن اﷲ اکبر، حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکمت عملی سے ہر ایک مشکل کا مقابلہ کیا۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ جو صحابہ کرام علیہم الرضوان ایک لمحہ بھی حضورﷺ سے جدا نہیں رہ سکتے تھے۔ آج وہ غم سے نڈھال ہیں۔ ان سب کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حوصلہ دیا۔ اسی وجہ سے حضورﷺ کی تدفین میں تاخیرہوئی۔
٭ …حضور اقدسﷺ کا جنازہ انور اگر قیامت تک کھلا رہتا تو اصلاً کوئی خلل واقع نہ ہوتا کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام طاہرہ بگڑتے نہیں۔ قرآن گواہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام انتقال کے بعد کھڑے رہے۔ سال بعد دفن ہوگئے مگر نورانیت میں فرق نہ آیا تو جو رسول، حضرت سلیمان علیہ السلام کے بھی امام ہوں، ان کا جسم مبارک کیسے بگڑ سکتا ہے۔
٭… حضورﷺ کا جنازہ انور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے حجرہ مبارک میں تھا۔ جہاں اب مزارمبارک ہے۔ اس سے باہر لے جانا نہ تھا۔ چھوٹا سا حجرہ اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس صلوٰۃ و سلام سے مشرف ہونا تھا۔ ایک جماعت آتی اور درود وسلام پڑھتی اور باہر چلی جاتی۔ پھر دوسری جماعت آتی یوں یہ سلسلہ تیسرے دن ختم ہوا۔ اگر تین برس میں یہ سلسلہ ختم ہوتا تو جنازہ مبارک یوں ہی نور سے جگمگاتا رہتا۔ اسی صلوٰۃ و سلام کی وجہ سے تاخیر ضروری تھی۔
٭ … اگر کسی بدباطن کے نزدیک یہ تاخیر لالچ کے سبب تھی تو سب سے بڑا الزام تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر ہے۔ وہ تو لالچی نہ تھے اور کفن دفن کا کام تو ویسے ہی گھر والوں کے ذمے ہوتا ہے۔ یہ کیوں تین دن بیٹھے رہے، یہ تدفین فرما دیتے۔ معلوم ہوا کہ یہ الزام غلط ہے کیونکہ جنازہ انور کی تدفین میں تاخیر دینی مصلحت تھی۔ جس پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اتفاق تھا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی رسول پاکﷺ کے جنازہ میں شرکت
شیعہ حضرات الزام لگاتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے رسول پاکﷺ کے جنازہ میں شرکت نہیں کی جبکہ ان کی اپنی ہی کتاب ’’الاحتجاج طبرسی‘‘ میں ہے:
لم یبق من المہاجرین والانصار الاّ صلی علیہ
مہاجرین اور انصار میں کوئی باقی نہ رہا جس نے رسول اﷲﷺ کے جنازہ میں شرکت نہ کی ہو (الاحتجاج طبرسی، جلد اول، ص 106، سطر 7-6، مطبوعہ ایران)
محترم حضرات! حضرت ابوبکر وعمر و عثمان رضی اﷲ عنہم مہاجرین میں سے تھے لہذا شیعہ حضرات کی کتاب سے سرور کونینﷺ کے جنازے میں ان کی شرکت ثابت ہوگئی۔