آزادیٔ اظہار اور مغرب کا دوہرا معیار

in Tahaffuz, May 2014, سید رفیق شاہ

امریکہ کی ایک عدالت 9 ویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے گوگل کو اپنی یو ٹیوب ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ سے بدنام زمانہ اسلام مخالف توہین آمیز گستاخانہ فلم مسلمانوں کی مظلومیت کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ یہ گستاخانہ فلم 100 یہودیوں کے سرمائے سے بنائی گئی تھی۔ 2012ء میں انگلش سے عربی زبان میں ڈبنگ کرکے مصر کے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل الناس پر 40 منٹ کا ٹیلر نشر ہونے پر عالم اسلام میں تاریخ کا سخت ترین احتجاج ہوا۔ ایشیاء سے افریقہ، عرب و عجم دنیا کے ہر خطے میں فداک ابی امی یارسول اﷲ، لبیک یارسول اﷲ کی صدائوں میں مسلمانان عالم نے اپنے جذبہ ایمانی کا اظہار کیا تھا۔ مسلم اسکالرز علماء اور مسلم حکمرانوں نے گوگل سے یوٹیوب سے توہین آمیز فلم ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا جسے گوگل نے آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دے کر مسلمانوں کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔ جواباً مسلم دنیا میں یوٹیوب پر پابندی عائد کردی گئی۔ 26 فروری 2014ء کو امریکی عدالت نے گوگل کا یہ موقف مسترد کردیا کہ توہین آمیز فلم کی نمائش روک دینا آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔ اسی گوگل نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1710 مرتبہ ہولوکاسٹ اور یہودیوں کے خلاف ویڈیوز 24 گھنٹے کے اندر اندر ہٹادی گئی تھی۔ امریکی عدالت نے یہ فیصلہ مسلمانوں کے جذبات کے احترام میں نہیں سنایا بلکہ اس کیس کی مدعیہ اداکارہ سنڈی لی گارشیا نے یہ معلوم ہونے کے بعد کہ اس کی ایک اور فلم کاسین اس قابل اعتراض فلم میں شامل کرلیا گیا ہے، فلم کی نمائش بند کی جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اداکارہ سنڈی لی گاڑشیا نے ثابت کیا کہ اس کی درخواست جائز ہے۔ گارشیا سے ایک کردار ادا کرنے کو کہا گیا تھا جس کے بارے میں اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسے یوں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گارشیا کو ایک دوسری فلم ڈیزرٹ واریز میں ایک معمولی کردار 500 ڈالر کے عوض دیا گیا تھا لیکن وہ فلم وجود میں نہ آسکی، قابل اعتراض فلمی منظر ایک مسلم دشمن فلم میں استعمال کیاگیا۔ اگر ایک اداکارہ سے دھوکہ دہی اور غلط بیانی کی بناء پر توہین آمیز فلم پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے تو کروڑوں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو مجروح کرنے اور انہیں ٹھیس پہنچانے پر پابندی کیوں عائد نہیں کی جاسکتی۔
زیر بحث مقدمہ اور عدالتی فیصلے سے تو یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نشر کی جانے والی فلم کا اصل مقصد مذہبی منافرت پھیلانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مغربی دنیا کے شرپسند اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے خلاف اہانت آمیز تحریریں، کارٹون اور فلمیں بنانے کی ضرورت نہ کریں تو لازم ہے کہ ہم اپنے طرز عمل سے دنیا کو ثابت کریں کہ ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں توہین انبیاء و مذہب کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مغرب جو سب سے مہذب اور انسانی حقوق کا چمپئن ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، اسے مسلمانوں کے جذبات کا بھی احساس کرنا ہوگا۔ عالمی سطح پر موثر انداز میں توہین انبیاء اور توہین مذہب کے قانون کو منظور کروا کر پوری دنیا میں لاگو کروانا ہوگا جس طرح یہودیوں کے ہولوکاسٹ پر اعتراض کرنا یا اسے غیر مصدقہ قرار دینا یا اس کا تمسخر اڑانا قابل سزا جرم ہے۔ اسی طرح توہین مذاہب عالم اور توہین انبیاء کے خلاف بھی قانون ہوں اور اس کے لئے مسلم حکمران اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں اپنا مقدمہ پیش کرے۔ مسلم عوام پر بھی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو بیدار کرنے کے لئے عالمی سطح پر منظم و مربوط انداز میں تحفظ ناموس رسالت کی مہم چلائیں۔ آغاز ہمیں اپنے وطن پاکستان سے کرنا ہوگا۔