الحمدﷲ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ
اما بعد: استاذ العلماء شیخ طریقت مولانا پیر محمد عصمت اﷲ شاہ صاحب قادری عباسی علیہ الرحمہ 23 جمادی الاولیٰ بمطابق 25 مارچ سہ شنبہ کو خدائے رحمن کی صفت تکوین کی بحث پڑھاتے پڑھاتے اپنے قلب میں تکلیف محسوس ہونے کے سبب اپنی مسند سے اٹھے اور اپنے ایک خادم خاص کے بازوئوں میں ’’یاحی یاقیوم برحمتک نستغیث اشہد ان اﷲ لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد عبدہ و رسولہ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے واصل بحق ہوگئے۔
فقیر قادری گدائے رضوی غفرلہ اپنی آنکھوں میں اور کانوں میں وہ روحانی قوت نہیں رکھتا کہ جو مشاہدات کا کمال رکھتی ہو، البتہ حسن ظن ہے کہ ان کی وفات حسرت آیات اپنی وابستہ قوم کو ہی نہیں بلکہ مدرس دینیہ سنیہ کے در و دیوار کو بھی رلا گئی ہوگی۔ ان کی مسند جس پر زندگی کے کم و بیش پچاس برس تدریس کا سلسلہ جاری رہا، وہ بھی چیخیں مار مار کر اور بلک بلک کر روتی ہوگی۔فرشتوں نے بھی من ربک من نبیک اور مادینک پوچھا ہوگا، تو وہی جواب ملا ہوگا کہ تکوین کا مالک حقیقی میرا رب ہے۔ مجازاً کن کی کنجی رکھنے والے میرے نبی ہیں اور زندگی کے پچاس برس جو میں پڑھاتا رہا، وہ دین حق ہے اور کیا بعید یہ بھی فرمادیا ہو نکیرین جس نے پچاس برس لوگوں کو سوال قبر کے جوابات سکھائے ہوں، اسی سے پوچھتے ہو تیرا رب کون ہے؟ نبی کون ہے؟ دین کیا ہے؟
حضرت منصور بن عمار کے بارے میں نہیں جانتے۔ انہوں نے تمہیں کہہ دیا تھا کہ میں بیس برس کی عمر سے توحید و رسالت کا درس دیتا آرہا ہوں اور ستر سال تک یہی کام کیا ہے۔ اب مجھی سے پوچھتے ہو تیرا رب اور تیرا رسول کون ہے؟ تم دونوں نے بارگاہ خداوندی میں جاکر عرض کی تھی تو کشف والے بتاتے ہیں جواب ملا تھا میرا بندہ ٹھیک کہتا ہے۔
شاہ صاحب علیہ الرحمہ یہ گفتگو کردیں تو نکیرین کیونکر رد کرسکیں گے کہ واقعی تو انہوں نے بھی تقریبا پچاس برس توحید و رسالت کے ڈنکے بجائے ہیں پھر یہ کہ آخری دن فجر باجماعت پڑھائی۔ اسباق کا سلسلہ شروع ہوا تو اتفاق دیکھئے اس دن دینیات ہی دینیات ہے، منقولات ہی منقولات ہیں۔ ایسے فنون جوخدام کی حیثیت رکھتے ہیں، آج سبق میں شامل نہ ہوسکے۔ سردار کو ایسے علوم کے سر دور ہی پڑھانے تھے، شاہ صاحب نے بیضاوی شریف (تفسیر) پڑھائی، عصر مشکوٰۃ شریف (حدیث پاک) کا درس دیا، اس کے بعد تازہ وضو کیا۔ اب جو زینت مسند تدریس ہوئے، تو فقہ حنفی کی مایہ ناز شاہکار ہدایہ شریف کا درس دیا۔ اب لیجئے علم الکلام شرح عقائد … کا درس شروع ہوگیا۔ اسی دوران دودھ پینے کی خواہش ہوئی، تیار کیا جارہا ہے مگر وہ تو جنت میں پینا ہے، دنیا میں رہ گیا، رب العزت کی صفت تکوین پر بحث جاری ہے۔ اٹھے یاحیی یا قیوم پڑھتے کلمہ شہادت کا ورد کرتے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی اور وہ تمنائے موت کے مدینہ کی موت سے محروم رہوں تو مولا! اسی مسند پر موت دینا پوری ہوئی۔و اقعی پوری ہوئی اور قابل رشک طور پر پوری ہوئی۔ ورطہ حیرت میں ڈوبی ہوئی ہے دنیا یہ کیا ہوا؟
موت نے بتادیا کہ اہل حق یوں جاتے ہیں پھر جنازے کے پرکیف مناظر، پھر تدفین کے لمحات، ان دونوں کے مابین چوبیس گھنٹے چہرے پر بڑھتی ہوئی رونق، مخصوص مسکراہٹ لبوں پر جاری رہنا، اکابر علماء و مشائخ کی حاضری سلطان الاولیاء پر سلطان محمود صاحب مدظلہ العالی کا باوجود بانوے سال کی معمری کے تشریف لاکر جنازہ پڑھانا اور یہ فرمانا ’’شاہ صاحب کے بڑے باراتی آئے ہیں‘‘ کہیں ایسا تو نہیں اہل حق و اہل باطل میں اصل فرق موت ہی ہو، اس جہاں میں پروقار تو بسا اوقات اہل باطل کے بھی بہت
ہوتے ہیں، ان کے چرچے بھی بڑے ہوتے ہیں اور اہل حق بسا اوقات گمنام بلکہ بظاہر بدنام رہتے ہیں مگر اچھی موت اور بری موت فرق کردیتی ہے، مابعد الموت چہرے چمکنے اور چہرے مرجھا جانے فرق واضح کردیتے ہیں۔ اسی لئے تو بھکاری چمک مانگتے ہیں۔
بھلے دنیا میں گمنامی ہی کیوں نہ رہے اور کوئی کچھ بھی کیوں نہ تبصرے کرتا رہے اور سادگی کیسی ہی کیوں نہ ہو، آخر موت چھپے بھید خواہ اچھے ہوں خواہ برے کھول دیتی ہے۔
انہی منصوربن عمار کو جنت میں کسی نے وعظ کرتے دیکھ کر عرض کی حضور والا! دنیا وعظ کا مقام ہے عقبیٰ اور جنت میں تو وعظ و نصیحت کی حاجت نہیں۔ جنت تو نیکو کاروں کا مقام ہے۔ یہاں وعظ و توبہ ونصیحت کی کیا ضرورت ہے۔ فرمانے لگے میرے رب نے کرم فرمادیا ایسی مخلوق میرا وعظ سنانے بھیج دی اور مجھے وعظ کا حکم ہوگیا، کیا بعید ہے، اپنی پھٹی (مسند تدریس) سے والہانہ لگائو رکھنے والے ہمارے سید و سردار سے بھی فرمادیا جائے شاہ جی! اس نورانی مخلوق کو درس دے کر تسکین قلب کرلیجئے اور آپ اپنے مرحوم تلامذہ کو ان کے جنتی مقامات سے بلوا بلوا کر درس دینا شروع کردیں۔
اپنے انداز پر منظوم تاثرات پیش کرتا ہوں۔ اگرچہ مرثیہ کی صلاحیت نہ رکھنے اور نہ ہی مجھے دعویٰ شاعری ہے۔ محض میرے جذبات کی عکاسی ہے
آہ! میرے دل پر غم کی بدلی چھائی ہے
میرا استاد، شیخ من ہمارا شاہ جاتا رہا
ہائے کیا بتائوں آج کیا جاتا رہا
عباسیت کا مہر و ماہ جاتا رہا
تھی جس کے دم قدم سے زینت تدریس
درس و بیان کا وہ شہنشاہ جاتا رہا
زبان و قلم کو میری تھا جس پر بھروسہ
میرے جذبات کا سہارا کوہ ہمالہ جاتا رہا
آباد والوں اب ڈھونڈو شاہ جی
مہربان مخلصل استاد پیارا جاتا رہا
انور روضہ، محمود و صدیق کا بھرم ٹوٹا
افسوس استاد ماشیخ ہمارا جاتا رہا
اپنی ذات کو محمود حضر بہت پردوں میں چھپایا
تئیسویں جمادی اُولیٰ وہ پردہ جاتا رہا
٭٭٭