قانون تحفظ ناموس رسالت 295-C اور امریکی ایجنڈ

in Tahaffuz, May 2014, سید رفیق شاہ

سامراجی قوتوں نے پاکستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ اور توہین مذہب و ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کا منفی پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر غیر محفوظ، غیر ذمہ دار اور ناکام ریاست کے طور پر متعارف کرکے قانون تحفظ ناموس رسالت 295-C اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے والے قانون کو ختم یا منسوخ کرنے کا امریکی ایجنڈا تیار ہوچکا ہے۔ گزشتہ مہینوں مسیحی عبادت گاہوں پر حملے اور حالیہ دنوں ہندوئوں کے مندروں پر حملے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ آئی جی سندھ نے مندروں پر حملوں کی ابتدائی رپورٹ میں سندھ حکومت کو آگاہ کیا کہ مندروں پر حملوں میں تیسری قوت ملوث ہے۔ ہندوئوں کے ترجمان نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ مندروں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر تیسری قوت ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ کمیشن ہے امریکہ کا سرکاری ادارہ یونائیٹڈ اسٹیٹ کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی، ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق یہ کمیشن امریکی صدر، وزارت خارجہ اور کانگریس کی دونوں جماعتوں کے اتفاق رائے سے امریکی صدر نامزد کرتا ہے اور یہی کمیشن صدر، وزارت خارجہ اور کانگریس کے لئے سفارشات تیار کرتا ہے۔ اس کمیشن کی ایک رپورٹ ماہ مارچ میں ذرائع ابلاغ کا حصہ بنی۔اس کے مطابق پاکستان میں توہین ناموس رسالت کے قانون کی منسوخی اور قادیانیوں کو مسلم قرار دینے کی سفارشات پر مبنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے قانون کی دیکھا دیکھی دیگر مسلم ممالک بھی توہین مذہب و توہین رسالت پر قانون سازی کررہے ہیں اور گرفتاریاں بھی شروع ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے میں انڈونیشیا، مصر اور بنگلہ دیش کی مثال دی گئی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی سطح پر توہین رسالت کے خلاف قانون کا مطالبہ کرچکا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قادیانی گروہ اور امریکی حکومت کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ قادیانی گروہ امریکی حکومت سے مل کر توہین رسالت کے قانون کے خلاف کام کررہا ہے۔ قادیانی فتنہ جس کی بنیاد و آبیاری برطانیہ نے کی تھی، جسے اسرائیل کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ قانون 295-C تحفظ ناموس رسالت کے خلاف میدان میں آچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے دو مسلم دشمن یہودی نمائندوں جیکی پیسٹر (ڈیمو کریٹس) اور فرینک وولف (ری پبلکن) نے قادیانیوں کی حمایت کے لئے ایک کاکس قائم کیا جس میں قادیانی نمائندہ نسیم مہدی بھی موجود تھا۔ اس کاکس نے افتتاحی تقریب میں اس بات کا عزم کیا کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے قانون کو ختم کرکے دم لیں گے۔ اس کے علاوہ بارہ غیر ملکی این جی اوز کو اس کام کے لئے خصوصی اہداف دیئے گئے ہیں۔ ان این جی اوز میں امریکہ کا سب سے بڑا ادارہ US-AID بھی شامل ہے۔ یہ پاکستان میں زیادہ فعال اور مشہور ہے۔ پاکستان کے مختلف فلاحی ادارے اور این جی اوز ان سے براہ راست فوائد حاصل کررہے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں اور رہنے کو گھر نہیں تھے۔ آج عالی شان محلات نما مکانوں میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کام US-AID کی مدد سے ایئرکنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر بھوک، افلاس اور غربت سے تنگ افراد کا نوحہ پڑھنا اور زیادتی کا شکار بچیوں اور عورتوں کا بین الاقوامی سطح پر پرچار کرنا ہے۔ ان کی داد رسی، تحفظ، خوراک کے عملی اقدامات کئے۔ ان کے پاس نہ ٹائم، نہ وسائل، سارے وسائل پبلسٹی مہم کے لئے وقف ہوتے ہیں۔ اگر کسی طرح ان کی خواتین میںسے کوئی خاتون خواتین کی نمائندگی کی بنیاد پر اسمبلیوں میں پہنچ جائے تو مکمل خاموشی اختیار کرنا اور خلاف قانون ہر اقدام اسلام چھوڑنا ان کا وطیرہ ہوتا ہے۔

الغرض اول تو قیامت تک نہ یہ قانون ختم ہوسکتا ہے اور نہ ہی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون تبدیل ہوسکتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں قانون تحفظ ناموس رسالت کے لئے حکمت و دانائی کے ساتھ اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔ یہ سامراجی قوتیں چاہتی ہیں  کہ مسلمان جذبات و اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرکے اپنی ہی املاک و عوام کو نقصان پہنچائیں۔ ان اشتعال انگیزی میں ان کے بھی زرخرید کارندے شامل ہوجاتے ہیں پھر لاقانونیت کو بنیاد بناکر پاکستان کو غیر محفوظ، غیر ذمہ دار اور ناکام ریاست کا واویلا مچا کر بین الاقوامی پابندیوں پر بلیک میل کرکے اپنا مقصد حاصل کرے۔ یہ محض ان کا خواب ہے۔ پاکستان کے مسلمان بھوک، افلاس، غربت اور جان و مال کی قربانی سب کچھ قربان کرسکتے ہیں مگر ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرسکتے۔