پیکر علم و عمل مبلغ اسلام مولانا بشیر احمد جملوی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, May 2014, ریاض احمد جمالوی

اس حقیقت میں کسی قسم کی گنجائش نہیں کہ جس شخص کو دین کا فہم حاصل ہوجائے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ اﷲ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی بصیرت عطا فرما دیتا ہے۔ پھر اس کے ساتھ اگر تقویٰ و پرہیزگاری، دیانت و امانت صدق و اخلاص، رشد و ہدایت، درس و تدریس، اشاعت دین، عشق رسولﷺ اور اعلاء کلمہ حق جیسے اوصاف بھی جمع ہوجائیں تو سونے پر سہاگہ۔
مبلغ اسلام سرمایہ اہلسنت حضرت مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ بن استاذ العلماء مولانا فیض اﷲ خان جمالوی علیہ الرحمہ بن مولانا دوست محمد جمالوی علیہ الرحمہ بن مولانا کریم داد جمالوی علیہ الرحمہ بن مولانا باز جمالوی علیہ الرحمہ ایسی ہی جامع الصفات اور نادر روزگار شخصیت تھے جن کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں اور علوم و فنون سے نوازا تھا۔ آپ کے والد بزرگوار استاذ العلماء حضرت مولانا فیض اﷲ خان جمالوی علیہ الرحمہ اپنے دور کے ممتاز عالم دین تھے۔ انہوں نے فتح پوری جامع مسجد دہلی (عظیم علمی درس گاہ) میں تعلیم حاصل کی تھی اور پھر پاک و ہند کے عظیم محدثین اور محققین حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ محدث الوری علیہ الرحمہ اور شیخ الحدیث مفتی اعظم علامہ سید ابوالبرکات احمد قادری علیہ الرحمہ اور علامہ سید ابوالحسنات قادری علیہ الرحمہ سے اکتساب فیض کیا۔ واضح رہے کہ سید دیدار علی شاہ، محدث الوری علیہ الرحمہ اپنے عہد کے بلند پایہ محدث تھے۔ وہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمہ کے واسطوں سے حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے شاگرد تھے۔ علامہ سید دیدار علی شاہ قادری محدث الوری علیہ الرحمہ اور علامہ سید ابوالبرکات قادری علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ کے خلفاء میں سے بھی تھے۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ اور ان کے والد بزرگوار مولانا فیض اﷲ خان جمالوی علیہ الرحمہ کو اس عظیم درجہ بالا نسبت کی وجہ سے ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کے تمام آبائو اجداد سلسلہ تصوف میں غوث زمان پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ سے نسبت و تعلق رکھتے تھے۔ ان نسبتوں نے انہیں ہر لحاظ سے ایک بلند مقام عطا کیا تھا۔
مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گائوں وانڈہ جمال میں 1937ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے درس نظامی تک تعلیم اپنے والد بزرگوار استاذ العلماء حضرت مولانا فیض اﷲ خان جمالوی علیہ الرحمہ اور اپنے سسر حضرت علامہ فیض محمد اغفر خیلوی علیہ الرحمہ (شاگرد رشید سید دیدار علی شاہ محدث الوری علیہ الرحمہ، سید ابوالبرکات قادری علیہ الرحمہ) سے اپنے گھر پر حاصل کی۔ واضح رہے کہ اس وقت آپ کے والد بزرگوار کی درس گاہ میں دور دراز کے طلباء علم دین حاصل کیا کرتے تھے۔ گویا وانڈہ جمال علمی مرکز تھا۔ بعد ازاں آپ کی قابلیت اور استعداد کے پیش نظر آپ کو اہلسنت کی عظیم علمی درس گاہ جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد میں داخل کرایا گیا۔ جید علماء اور محدثین خصوصا جامع المنقول و معقول حضرت مولانا نصر اﷲ افغانی علیہ الرحمہ، شیخ القرآن حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی علیہ الرحمہ اور شیخ المحدثین حضرت مولانا غلام رسول رضوی علیہ الرحمہ نے آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔
ان محدثین کی محنت شاقہ نے مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کو علم و عمل کا پیکر بنادیا۔ جامعہ رضویہ سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ نے تنظیم المدارس کا امتحان بھی امتیازی پوزیشن میں پاس کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار علوم و فنون میں مہارت عطا کی تھی۔ اوائل میں آپ نے مرکزی جامع مسجد اہلسنت وانڈہ مدت میں امامت اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور مرکزی جامع مسجد تاج ڈیرہ اسماعیل خان میں خطبہ جمعہ و عیدین دیتے رہے۔ اس دور میں مسلک اہلسنت کی ترویج و اشاعت کوئی آسان کام نہ تھا۔ آپ بلا خوف و خطر اپنا دینی فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ اس دشوار گزار راہ میں مشکلیں آئیں۔ تکلیفیں برداشت کیں، قیدوبند کے مراحل آئے، لیکن آپ کی ہمت اور جرأت میں کمی نہ آسکی اور ہر میدان میں نہایت استقامت اور جواں مردی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ ایک سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ آپ کی تقریر و تحریر عشق رسولﷺ پر مبنی ہوتی تھی۔ آپ کا خطاب اس قدر پراثر اور دلنشین ہوتا کہ عوام الناس کے علاوہ علماء اور مشائخ بھی آپ کا خطاب بڑے غور سے سنتے تھے۔ حق گوئی اور بے باکی میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ نے عربی، فارسی، اردو اور پشتو زبان میں بے شمار نعتیں لکھی ہیں۔ آپ نے نعتوں کے ذریعے امت مسلمہ کو عشق رسولﷺ کا شمع فروزاں کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اپ کی لکھی ہوئی نعتیں مختلف کتب و رسائل اور جرائد میں بھی شائع ہوتی رہیں۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ شریعت کی پابندی اور پاسداری فرض عین سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی ساری زندگی اس مشن کے لئے وقف کررکھی تھی۔ خود بھی شریعت کے پابند رہے اور اس کی پابندی کی تلقین فرماتے۔
آپ اہلسنت کی تمام تنظیمات کے معاون و مددگار تھے۔ رضائے الٰہی کی خاطر ہر ایک سے شفقت اور محبت کا برتائو کرتے، آپ کو سادی بہت پسند تھی۔ سادہ زندگی گزارتے رہے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ کو جو جاہ و حشمت عطا فرمائی تھی، اسے دیکھ کر ہر ایک پر آپ بھاری نظر آتے۔
مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کا شمار پاکستان کے ممتاز علماء میں ہوتا تھا۔ بناء بریں آپ عرصہ راز تک جے یوپی کے مرکزی ممبر شوریٰ رہے۔ اس دور میں تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی زوروں پر تھی۔ آپ نے اپنے علماء اور مشائخ کے ساتھ مل کر اس میں اپنا کردار ادا کیا اور ماہنامہ افق کراچی و دیگر رسائل اہلسنت میں آپ کی کارکردگی کا تذکرہ شائع ہوتا رہا۔ آپ پاکستان مسلم لیگ علماء و مشائخ ونگ کے صوبائی نائب صدر بھی رہے۔ اور ہر پلیٹ فارم پر اسلام کی خدمت اور مسلک اہلسنت کی ترویج واشاعت کرتے رہے۔ جس سے ہر خاص و عام واقف ہے۔
مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کی بے مثال کارکردگی کے پیش نظر حکومت پاکستان نے آپ کو رویت ہلال کمیٹی کا مرکزی ممبر منتخب فرمایا۔ واضح رہے کہ اس وقت مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن بھی اس کمیٹی کے ممبر تھے۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کی تحقیق سے بہت متاثر ہوئے اور بعض اوقات آپ کی اہم نکات اور تحقیق اپنے پاس محفوظ کرلیتے۔ تقریبا 10 سال تک آپ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ممبر رہے۔ اس وقت ان تمام ممبران کی کاوش سے اکثر سارے پاکستان کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھتے اور تمام پاکستانیوں کا عید بھی ایک ہی دن ہوتا، جوکہ نہایت خوش آئند بات تھی۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کو بزرگان دین سے بڑی محبت و عقیدت تھی۔ آپ حضرت خواجہ حضرت حافظ سدیدالدین تونسوی علیہ الرحمہ کے مرید خاص تھے۔ ان کی نگاہ کرم نے آپ کو تمام علماء اور مشائخ کا منظور نظر بنادیا۔ بعد ازاں حضرت خواجہ خان محمد تونسوی علیہ الرحمہ نے آپ کی ایسی روحانی تربیت فرمائی، آپ کی سیرت و کردار کو ایسا نکھارا کہ عوام و خواص کے لئے آپ مقبول و محبوب بن گئے۔ پاکستان کے تمام درباروں کے مشائخ اور تمام مدارس اہلسنت کے علماء اور طلباء ان کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ اسلاف کے نمونہ تھے۔ بدن وجہ بزرگان دین سے محبت کرنے والے لوگ آپ سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ مخلوق خدا کی خدمت آپ کا شیوہ تھا۔ ہر پلیٹ فارم پر حقوق اہلسنت کی بات کرتے تھے۔ میلاد کانفرنسز، مذہبی اجتماعات اور بزرگان دین کے عرسوں میں آپ کا ولولہ انگیز خطاب ایمانی جذبے کو تازگی بخشتا تھا۔ ایک بار ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کانفرنس جس کی صدارت شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ فرما رہے تھے، جس میں پاکستان کے نامور مشائخ اور علماء شریک تھے۔ عوام کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ مخالفین نے اس کانفرنس کو ناکام بنانے کی ایری چوٹی کا زور لگایا، شرکاء پر مخالفین کی جانب سے کنکر اور پتھر برسنے لگے۔ علامہ احمد سعید شاہ کاظمی علیہ الرحمہ کے خطاب کے بعد مولانا بشیر احمد جماولی علیہ الرحمہ نے ایسا باطل شکن خطاب فرمایا جس سے مخالفین کے منصوبے خاک میں مل گئے اور عوام اہلسنت میں ایک نیا جوش و جذبہ اور ولولہ پیدا ہوگیا اور کانفرنس نہایت کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ ایک سچے عاشق رسولﷺ تھے۔ تنگ دستی اور ناداری کے باوجود آپ نے گیارہ بار حرمین شریفین کی حاضری کا شرف حاصل کیا۔ وہاں آپ کی کیفیت عجیب سی رہتی تھی۔ بس خوف خدا اور عشق رسولﷺ میں آنسو بہانا آپ کا شیوہ بن جاتا تھا۔ دیار حبیبﷺ میں بھی لوگ آپ کے پاس مسائل پوچھنے کے لئے آتے تھے اور آپ ان کی راہ نمائی فرمایا کرتے تھے۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کی دینی و مذہبی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آخر وقت تک حق و صداقت کا پیغام عام کرتے رہے۔ مرکزی جامع مسجد تاج ڈیرہ اسماعیل خان کے سرپرست اعلیٰ رہے۔ تاج مسجد میں 28 سال تک خطابت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آپ کی پرخلوص محنت کا نتیجہ ہے کہ آج یہ مسجد اہلسنت کا عظیم مرکز ہے۔ آپ کے صاحبزادہ مولانا ریاض احمد جمالوی خطیب و صدر مرکزی جامع مسجد تاج اور کمیٹی کے تمام اراکین مسجد اور مدرسہ کو مزید ترقی دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ کا چونکہ سارا خاندان علماء کا خاندان ہے، آپ کی خواہش تھی کہ ہمارے خاندان کے بچے اور بچیاں علم دین سے آراستہ ہوں۔ آپ کی کوششوں سے آپ کے خاندان کے اکثر بچے اور بچیاں مدارس اہلسنت میں زیر تعلیم ہیں اور بعض تو فارغ التحصیل ہوجانے کے بعد مختلف مساجد اور مدارس میں تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ سلسلہ تاقیامت چلتا رہا۔ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ پر صوفیانہ رنگ غالب تھا۔ تقریر و تحریر فتویٰ نویسی سے فراغت کے بعد اکثر اوقات آپ ذکر و اذکار اور وظائف میں گزرتے۔ قرآن پاک کی تلاوت ذکر خدا اور ذکر مصطفیﷺ آپ کی زندگی کا معمول تھا۔ کوئی لمحہ بھی آپ ذکر سے غافل نہ رہتے۔ نماز تہجد کی پابندی آپ کی زندگی کا معمول رہا جس وقت آپ پر فالج کا حملہ ہوا، اس وقت بھی آپ نماز تہجد ادا فرما رہے تھے۔ دو دن اسپتال میں علاج کے دوران بھی ذکر خدا اور ذکر رسول اﷲﷺ سے آپ کی زبان تر رہی۔ بروز بدھ 5 صفر المظفر 1434ھ بمطابق 19 دسمبر 2012ء کو جب عصر کی اذان کی صدا اﷲ اکبر آپ نے سنی تو آپ نے بھی اﷲ اکبر کی صدا بلند کی اور اسی وقت اﷲ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تقریبا 75 برس تھی۔ وفات کے بعد آپ کا چہرہ نور ایمان سے چمک رہا تھا۔ جس کو دیکھ کر لوگ یہ گواہی دینے لگے کہ مولانا بشیر احمد جمالوی علیہ الرحمہ ایک سچے عاشق رسولﷺ اور دین کے ایک مخلص ترین عالم دین تھے۔ دوسرے دن پہاڑ پور گرائونڈ میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں مقتدر مشائخ علمائ، سیاستدانوں، وکلائ، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ آپ کا جنازہ پہاڑ پوڑ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ ازاں بعد آپ کو پیر اصحاب رضی اﷲ عنہ کے قبرستان پہاڑ پور میں صحابی رسولﷺ کے مزار کے پہلو میں دفن کیا گیا اور یوں مسلک اہلسنت کا ایک درخشندہ ستارہ اور علم و عمل کا پیکر ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگیا۔ آپ کے صاحبزادگان بھی آپ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ آپ کا مزار زیارت گاہ خاص و عام ہے۔
خدا رحمت کند ہر عاشقان پاک طنیت را