حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, May 2014, خان آصف

’’اے اﷲ! نظام الدین محمد تجھ سے جو کچھ مانگے اسے عطا فرمادے کہ تیرے سوا کوئی دینے والا نہیں ہے‘‘
پھر جب حضرت محبوب الہیٰ علیہ الرحمہ اجودھن سے رخصت ہونے لگے تو حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’نظام الدین محمد! اپنا یہ خلافت نامہ ہانسی میں مولانا جمال الدین اور دہلی میں قاضی منتجب الدین کو دکھا دینا‘‘
قاضی منتجب الدین علیہ الرحمہ، حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے عظیم المرتبت خلیفہ تھے۔ اس وقت قاضی صاحب، پیر ومرشد کے حکم سے دہلی میں مقیم تھے اور بندگان خدا میں علم ظاہری و باطنی کی دولت تقسیم کررہے تھے۔
مولانا جمال الدین سے مراد حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب امام اعظم حضرت ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے ملتا ہے۔ حضرت شیخ جمال علیہ الرحمہ سے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ اس قدر محبت کرتے تھے کہ ان جذبات کو الفاظ میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت شیخ جمال علیہ الرحمہ کی خاطر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے بارہ سال تک ہانسی میں قیام کیا تھا۔ اپنے محبوب مرید کے بارے میں آپ فرمایا کرتے تھے۔
’’جمال ، جمال ماست‘‘ (جمال، ہمارا جمال ہے)
حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ جب اپنے کسی مرید کو خلافت نامہ عطا کرتے تو اس شخص کو تاکید فرمادیتے کہ ہانسی جاکر شیخ جمال الدین علیہ الرحمہ سے مہر لگوالینا۔ اگر حضرت شیخ جمال ہانسوی علیہ الرحمہ خلافت پر مہر لگادیتے تو وہ مستند سمجھا جاتا… اور اگر شیخ جمال علیہ الرحمہ مہر نہ لگاتے تو حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ بھی اس خلافت نامے کو قبول نہ فرماتے اور صاف صاف کہہ دیتے۔
’’جمال کے چاک کئے ہوئے کو ہم سی نہیں سکتے‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے یہ الفاظ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جب حضرت شیخ جمال علیہ الرحمہ نے آپ کے ایک مرید کا خلافت نامہ اس کی بے ادبی اور غرور کے سبب چاک کردیا تھا اور پھر اس شخص نے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر شیخ جمال علیہ الرحمہ کی شکایت کی تھی۔ جواباً حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے تمام اہل مجلس کے سامنے فرمایا تھا ’’جسے ہمارا جمال چاک کردے، ہم اسے نہیں سی سکتے‘‘
الغرض دولت عظیم سے سرفراز ہونے کے بعد حضرت نظام الدین علیہ الرحمہ پیر ومرشد کی دعائوں کے سائے میں اجودھن سے دہلی رخصت ہوئے۔ حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ کا انتقال 659ھ میں ہوا۔ اس تاریخی پس منظر کی روشنی میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ657ھ یا 658ھ میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو خلافت عطا ہوئی۔ بعض روایتوں میں خلافت نامہ تحریر کئے جانے کی تاریخ 669ھ درج ہے۔ اس وقت تو خود حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ بھی وصال فرماچکے تھے۔ آپ 664ھ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں بہت سے تاریخی اختلافات موجود ہیں مگر ہم نے ان ہی تاریخوں پر انحصار کیا ہے جو زیادہ قرین قیاس ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی سے روانہ ہوکر اجودھن تشریف لائے اور حضرت جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ کو اپنا خلافت نامہ دکھایا۔ شیخ جمال علیہ الرحمہ بہت خوش ہوئے اور نہایت والہانہ انداز میں یہ شعر پڑھا:
خدائے جہاں را ہزاراں سپاس
کہ گوہر سپردہ بہ گوہر شناس
(تمام جہانوں کے مالک کے لئے ہزار شکر ہے کہ گوہر اس شخص کے حوالے کردیا گیا جو گوہر شناس ہے)
ہانسی میں چند روزہ قیام کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے بھر آپ کو ایک ہی خیال پریشان کرتا رہا کہ حضرت شیخ نے خلافت عطا کرتے وقت قاضی منتجب الدین علیہ الرحمہ کے ساتھ حضرت شیخ نجیب ادلین متوکل علیہ الرحمہ کا نام کیوں نہیں لیا؟ حالانکہ وہ آپ کے چھوٹے بھائی بھی تھے اور خلیفہ بھی۔ اس مسئلہ میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا ذہن الجھ کر رہ گیا۔ عقلی طور پر اس واقعہ کی ایک ہی توجیہ سمجھ میں آئی تھی کہ شاید پیرومرشد حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ سے ناراض ہیں… اور یہ خیال حضرت محبوب الٰہی کے لئے نہایت تکلیف دہ تھا۔ کیونکہ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کی دعائوں اور صحبتوں کے طفیل ہی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کو حضرت بابا فرید کا آستانہ عالیہ میسر آیا تھا۔
غرض اسی ذہنی کشمکش میں سفر تمام ہوا اور ایک جانگداز خبر آپ کی منتظر تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اجودھن اور ہانسی کے درمیان میں تھے کہ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا۔ یہ خبر سن کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ ایک طویل رفاقت تھی جو ختم ہوگئی ایک رشتہ خاص تھا جو ٹوٹ گیا… ایک شہر علم تھا جو اجڑ گیا… اور ایک درس گاہ محبت تھی جو خالی ہوگئی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ایصال ثواب کے لئے حضرت شیخ نجیب ادلین متوکل علیہ الرحمہ کی قبر پر حاضر ہوئے۔ پھر اہل خانہ سے تعزیت کی۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کو یاد کرکے اکثر آبدیدہ ہوجاتے تھے اور پھر نہایت رقت آمیز لہجے میں فرمایا کرتے تھے۔
’’اس شہر میں وہی اپنے محسن بھی تھے اور دوست بھی… وہی غمگسار بھی تھے اور رہنما بھی… علم و آگہی کا ایک روشن پیکر تھا جو موت کے گردوغبار میں گم ہوگیا۔ زہد و تقویٰ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا جو دست قضا نے ہم سے چھین لیا۔ اﷲ حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی قبر کو نور سے بھردے کہ وہ ہم دھوپ میں جلنے والوں کے لئے محبت کا ایک مضبوط سائبان تھے‘‘
پھر جب رنج والم کی شدت کچھ کم ہوئی تو حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی سمجھ میں یہ راز آیا کہ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت نامہ عطا کرتے ہوئے یہ کیوں نہیں فرمایا تھا کہ ’’اسے نجیب الدین متوکل علیہ الرحمہ کو بھی دکھالینا‘‘ یہ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے نور باطن کی عجیب مثال تھا۔
٭…٭…٭
روز وشب کا قافلہ اپنی مقررہ رفتار سے آگے بڑھتا رہا اور حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ساری دنیا سے بے نیاز ہوکر ایک ویران علاقے ’’غیاث پور‘‘ میں اپنے مالک کی رضا تلاش کرتے رہے۔ یہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اور ان کے ساتھیوں کے افلاس کا وہ زمانہ تھا کہ وہ تین تین دن روٹی کا ایک لقمہ بھی میسر نہیں آیا تھا۔ اگر کبھی غیب سے کچھ حاصل ہوجاتا تو آپ پہلے اپنے خدمت گاروں کو کھلاتے۔ خدام عرض کرتے کہ پیرومرشد بھوکے ہیں تو ہم کس طرح اس غذا کو اپنے حلق سے اتار سکتے ہیں… مگر آپ کمال صبر کے ساتھ اس مشکل وقت کو گزار دیتے اور خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلاتے۔
کبھی آپ فرماتے کہ یہ میرا حکم ہے اور خدمت گار مجبوراً کھانا کھانے لگتے۔ کبھی آپ فرماتے کہ میں بھی تمہارے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا ہوں۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟ ایک بار تو ایساہوا کہ آپ نے روٹی کا پہلا نوالہ توڑا اور اسے شوربے میں ڈبونے کے لئے دست مبارک بڑھایا۔ پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آخری وقت تک آپ کے ہاتھ میں سالن کے پیالے میں رہا مگر آپ نے غذا کا لقمہ نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ تمام درویش کھانے سے فارغ ہوگئے۔ پھر آپ نے وہ لقمہ کھایا اور دسترخوان سے اٹھ گئے۔
٭…٭…٭
سلطان غیاث الدین بلبن، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے استاد گرامی مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ کا بہت معتقد تھا مگر حیرت کی بات ہے کہ اپنے طویل دور اقتدار میں وہ ایک بار بھی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دارالحکومت سے دور غیاث پور جیسے ویران علاقے میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)