فہم القرآن، تفسیر سورۃ الزلزال

in Tahaffuz, May 2014, حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری

فمن یعمل مثقال ذرۃ
ابتداء میں لوگوں کا خیال تھا کہ بہت تھوڑی چیز صدقہ دی تو انہیں کوئی اجر نہیں ملے گا اور بعض کی رائے یہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ارشاد ہوا ’’تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے، اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے، اسے دیکھے گا‘‘
ان آیات کو حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ فیصلہ کن آیات قرار دیتے تھے۔ ان آیات میں چھوٹی نیکیوں کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اور چھوٹے گناہوں کو ہلکا سمجھنے سے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نیز یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ انسان کا کوئی عمل معمولی سمجھ کر ضائع نہیں کیا جاتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
یوم یبعثہم اﷲ جمیعاً فینبئہم بماعملوا احصٰہ اﷲ ونسوہ واﷲ علی کل شیٔ شہید (المجالۃ 6)
’’جس دن اﷲ سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے اعمال جتادے گا۔ اﷲ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے ، اور ہر چیز اﷲ کے سامنے ہے‘‘
آقاو مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے ’’کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو۔ اگرچہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہو‘‘ (مسلم)
سرکار دوعالمﷺ نے یہ بھی فرمایا ’’جس نے پاکیزہ رزق سے کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ پاکیزہ رزق کو قبول فرماتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس رزق کو اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے جیسے تم بچھڑے کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ وہ صدقہ ایک پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے‘‘ (بخاری)
کسی صغیرہ گناہ کو یہ سمجھ کر نہ کیا جائے کہ یہ چھوٹا گناہ ہے۔ کیونکہ جب بندہ صغیرہ گناہوں کا عادی ہوجائے تو اس کا کبیرہ گناہوں کے وبال میں گرفتار ہوجانا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک (یعنی بہت معمولی) ہیں، ہم حضورﷺ کے زمانے میں انہیں ہلاک کردینے والے اعمال خیال کرتے تھے (بخاری)
حقیقت بھی یہی ہے کہ آگ کی ایک معمولی سی چنگاری ساری دنیا کو جلانے کے لئے کافی ہے۔ اسی لئے چھوٹے گناہ کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔
غیب جاننے والے آقاﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے، چھوٹے گناہوں سے بھی بچو کیونکہ ان کے بارے میں بھی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے پوچھا جائے گا (ابن ماجہ)
یعنی عمل چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اس کے متعلق حساب ضرور دینا پڑے گا۔ رب تعالیٰ کا میزان ایسا ہے کہ اس پر رائی کے برابر عمل بھی تولا جائے گا۔ ارشاد ہوا:
ونضع الموازین القسط لیوم القیمٰۃ فلا تظلم نفس شیئاً وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بہا و کفیٰ بنا حٰسبین
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن، تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائے کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو‘‘ (الانبیائ: 47، کنزالایمان)
کافر کی نیکی برباد
آخر میں ایک شبہ کا جواب دینا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ کافر اگر دنیا میں نیک کام کریں تو کیا وہ بھی اجر پائیں گے؟ چند آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
’’اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی‘‘ (بنی اسرائیل 19)
’’اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے۔ ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں‘‘(الفرقان 23)
یہ ہیں وہ جن کے لئے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے‘‘ (سورۂ ہود 16)
مفسرین کرام کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ’’کافر جو بھی نیک کام کرے گا اس کو اس بھلائی کا اجر دنیا ہی میں دے دیا جائے گا۔ آخرت میں اس کے لئے کوئی اجر نہیں۔ اور اگر کافر کوئی برا کام کرے گا تو آخرت میں اسے کفر کی سزا کے علاوہ اس برائی کی بھی سزا دی جائے گی‘‘ (تفسیر قرطبی)
دوسرا قول یہ ہے کہ کافر کے کفر کے عذاب میں تو یقینا کوئی کمی نہیں ہوگی البتہ یہ ممکن ہے کہ کافر کے بعض نیکیوں کی وجہ سے اس کے دیگر گناہوں کے عذاب میں تخفیف ہوجائے۔ علامہ محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
حدیث بخاری میں ہے کہ ابولہب کے عذاب میں محض اس بناء پر تخفیف ہوتی ہے کہ اس نے حضور اکرمﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی منائی تھی اور حضورﷺ کی پیدائش کی خوشخبری سنانے کی وجہ سے اپنے لونڈی ثویبہ کو آزاد کردیا تھا‘‘