مذہب شیعہ کا تفصیلی تعارف (تیسری قسط)

in Articles, Tahaffuz, June 2011, دیگر مذاہب, محمد علی اعظمی

مذہب شیعہ کا تفصیلی تعارف

(تیسری قسط)

گزشتہ سے پیوستہ

امام تمام عیوب سے پاک

آٹھویں امام حضرت موسیٰ رضا کی طرف منسوب ایک روایت آئمہ کے فضائل و خصائص بیان کرتے ہیں:

الامام المطہر من الزنوب والمبئرمن العیوب: یعنی امام ہر طرح کے گناہوں اور عیوب سے مبراء و پاک ہوتا ہے۔ آگے فرماتے ہیں۔

فہو معصوم موید موفق، مسدد، قدامن، من الخطاء والذلل والعشاریخصہ اﷲ بذالک لیکون حجۃ علی عبادہ وشاہد علی خلقہ

(اصول کافی ص 123)

خلاصہ: امام معصوم ہوتا ہے۔ اﷲ کی تائید و توفیق اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس کو سیدھا رکھتا ہے۔ وہ غلطی لغزش اور بھول چوک سے محفوظ و مامون ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ معصومیت کی اس نعمت کے ساتھ اس کو مخصوص کرتا ہے تاکہ وہ اس کے بندوںپر اس کی حجت اور اس کی مخلوق پر گواہ ہو۔

کتاب مذکورہ کے صفحہ 113 پر رقم طراز ہیں:

ان اﷲ تبارک و تعالیٰ طہرنا و عصمنا وجعلتا شہداء علی خلقہ و حجۃ فی ارضہ                               

بے شک اﷲ تعالیٰ نے ہم آئمہ کو پاک بنایا اور معصوم بنایا ہے اور اپنی مخلوق پر گواہ اور اپنی زمین میں حجت قرار دیا ہے

آئمہ کے پاس ملائکہ کی آمد

امام غائب کی مصدقہ کتاب اصول کافی ص 137 پر دیکھئے۔

وان عندنا علم النوراۃ والانجیل والزبور وتبیان مافی الالوح

اسی کتاب کے صفحہ 135 پر

عن  الشجرۃ الانبوۃ وبیت الرحمۃ ومفاتیح الحکمۃ ومعدن العلم وموضع الرسالۃ ومختلف الملائکۃ

بے شک ہمارے آئمہ کے پاس تورات، انجیل اور زبور کا علم ہے اور الواح میں جو کچھ تھا اس کا واضح بیان ہے۔ ہم آئمہ نبوۃ کے درخت ہیں اور رحمت کے گھر ہیں اور حکمت کی کنجیاں ہیں اور علم کا خزانہ ہیں اور رسالت کی جگہ ہیں اور ہمارے آئمہ کے پاس ’’ملائکہ کی آمدورفت‘‘ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

توضیح

مذکورہ عبارات سے یقینا آپ اندازہ کرچکے ہوں گے کہ عقیدہ شیعہ کے مطابق آئمہ کا مرتبہ و مقام کسی طرح انبیاء علیہم السلام سے کم نہیں بلکہ بعض خصوصیات میں تو وہ انبیاء سے برتر و بالاہی معلوم ہوتے ہیں۔

مثلا بوقت پیدائش ماں کے پیٹ سے خلاف فطرت مخصوص انداز سے باہر آنا، حمل کا ماں کے رحم کے بجائے پہلو میں قرار پانا، غسل جنابت کی ضرورت نہ ہونا فطری طریقے سے نہیں بلکہ ماں کی ران سے باہر آنا وغیرہ بلکہ ایرانی انقلاب کے بانی خمینی تو لکھتے ہیں:

وان من ضروریات مذہبنا ان الائتمنا معاما لایبلغہ ملک مقرباب ولا نبی مرسل، الحکومیۃ الاسلامیہ (ص 52)

ہمارے مذہب شیعہ کے ضروری اور بنیادی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہمارے آئمہ کو وہ مقام و مرتبہ حاصل ہے جو کسی مقرب فرشتے اور نبی مرسل کو بھی نہ ملا۔

بات بالکل صاف ستھری ہے کہ آئمہ انبیاء سے افضل ہیں۔ ہم اس بات کی وضاحت سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقصد انتشار کرنا نہیں بلکہ ہم جماعت اہلسنت ایک پرامن اور بھائی چارے کی فضا کے خواہ ہیں۔ ہمارا پیغام ہے امن اور سلامتی۔ ہم کسی کے عقائد پر تنقید کرنا نہیں چاہتے بلکہ صرف منظر عام پر لانا ہے جہاں اہلسنت کو ایسے عقائد سے دور رکھنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے وہاں عوام شیعہ کو بھی آئینہ دکھانا مقصود ہے کیونکہ شیعہ ملنگوں نے اپنی عوام کو کتابی عقیدہ سے دور رکھا ہوا ہے صرف مجلس تک محدود ہیں۔

آئمہ پر کتاب کا نزول

انبیاء علیہم السلام پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک کتاب نازل ہوتی رہی ہے۔ لیکن شیعہ دوستوں کے آئمہ پر ہر سال اﷲ کی طرف سے کتاب نازل ہوتی ہے۔ دیکھئے اصول کافی ص 153 امام باقر فرماتے ہیں۔

ولقد قضی ان یکون فی کل سنۃ لیلۃ یہبط فیہا بتفسیرالا مورالی مثلہا من السنۃ اعقبلۃ

اور یہ بات اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوچکی ہے کہ ہر سال میں ایک رات ہوگی جس میں اگلے سال کی اسی رات تک کے سارے معاملات کی وضاحت اور تفصیل نازل کی جائے گی۔

اس اجمال و حدیث کی پوری وضاحت شارح اصول کافی علامہ قزوینی ایرانی شرح اصول جلد دوم ص 229 پر لکھتے ہیں۔

برائے ہر سال کتاب علیحدہ است مداد کتاب است کہ دراں تفسیر احکام حوادث کہ محتاج الیہ امام است تاسال دیگر نازل شند بآں کتاب ملائکہ و روح در شب قدر بر امام زمان: خلاصہ

ہر سال کے لئے ایک علیحدہ کتاب ہوتی ہے۔اس سے مراد وہ کتاب ہے جن میں ان احکام و حوادث کی تفسیر ہوتی ہے جن کی ضرورت امام وقت کو آئندہ سال تک ہوگی۔ اس کتاب کو لیکر ملائکہ اور روح ہر شب قدر میں امام زماں پر نازل ہوتے ہیں۔

توضیح: مذکورہ عبارت سے بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر شب قدر میں ایک نئی کتاب نازل ہوتی ہے جو امام وقت کے لئے پورے سال کا لائحہ عمل ہوتا ہے جو اہل تشیع کو تعلم دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ صحیفہ صرف امام کے لئے مخصوص ہے بلکہ امام وقت پر بھی نازل ہوتا ہے۔ یقینا خمینی صاحب پر بھی نازل ہوتا ہوگا۔

شاید اسی میں قوانین ایران نافذ ہوتے ہوں گے جس میں جنگ و جدال سنیوں کا قتل عام، دس لاکھ سنی مسلمانوں کو شہید کرنے والے خمینی صاحب ہیں جنہوں نے غداری کا بہانہ بناکر کتے اور بلیوں کی طرح شہید کیا۔ سنی علماء کو اقتدار پر آتے ہی پھانسی دے دیں یا ان کو تاحیات جیل میں بند کردیا۔

اہلسنت کی تبلیغ پرپابندی لگادی۔ کوئی پریس اہلسنت کی کتاب شائع نہیں کرسکتی۔ کوئی سنی مولوی تفسیر نہیں لکھ سکتا۔ کوئی سنی کلیدی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ کوئی سنی ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا۔ تہران میں ایک لاکھ سنی مسلمان ہیں وہاں ان کے لئے ایک مسجد بھی نہیں۔ تہران جوکہ دارالخلافہ ہے وہاں سنی مسلمان جمعہ شریف سفارت خانہ میں جاکر ادا کرتے ہیں۔ اہلسنت کے تمام مداس اور جامع مساجد کو اقتدار پر آتے ہی شہید کردیا گیا۔ فافہم و تدبر

آئمہ کا اختیار

یاد رہے کہ شیعہ دوستوں کی اصول کافی کتاب کوئی معمولی نہیں بلکہ امام زمانہ کے پاس علامہ یعقوب کلینی مولف اصول کافی غار میں لے گئے۔ امام صاحب جو ماکان ومایکون کا علم رکھتا ہے۔ فرمایا ہذا کاف لشیعتنا یہ کتاب ہمارے شیعہ کے لئے کافی ہے۔ اس کتاب میں 16 ہزار سے زائد روایات ہیں۔ پانچ فیصد احادیث باقی آئمہ کے ارشادات ہیں۔

اس کتاب کے صفحہ 259 پر لکھتے ہیں۔

اما علمت ان الدنیا والاخرۃ لامام یضعھا حیث شاء وید فعھا الی مایشاء

امام جعفر صادق کی طرف منسوب روایت: کیا تم کو یہ بات معلوم نہیں کہ دنیا و آخرت سب امام کی ملکیت ہے وہ جس کو چاہیں دے دیں اور عطاء کردیں۔

امام غائب ظاہر ہوکر

خمینی صاحب کے ممدوح قابل تعریف مورخ علامہ باقر مجلسی نے امام کے بارے میں بہت کچھ اپنی مختلف کتب میں لکھا ہے۔ تاہم انتہائی اختصار کے ساتھ قارئین تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔

وقتیکہ قائم علیہ السلام ظاہر می شود پیش از کفار، ابتدا بہ سنیان خواہد کرد باعلما ایشاں و ایشان را خواید کشت، حق الیقین ص 139

جس وقت امام قائم ظاہر ہوں گے تو وہ کافروں سے پہلے سنیوں اور عالموں سے اپنا کام شروع کریں گے اور ان سب کو قتل کر ڈالیں گے۔

توضیح

خمینی صاحب نے امام غائب کی بات کو مان کر خوب عمل کیا اور اب بھی ان کے نائبین عمل کررہے ہیں۔

جگر پر ہاتھ رکھ کر پڑھیئے

امام غائب کا ایک کارنامہ تو آپ پڑھ چکے کہ سنیوں عوام و علماء کو قتل کرے گا۔ دوسرا کارنامہ پڑھیئے۔ باقر مجلسی لکھتا ہے۔

چوں قائم ظاہر شود عائشہ را زندہ کند تا براد حد بزند انتقام فاطمہ از اوبکشد (حق الیقین ص 139، طبع ایران)

جب ہمارے امام ظاہر ہوں گے تو وہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو زندہ کرکے سزا دیں گے اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہاکا انتقام لیں گے (العیاذ باﷲ)

اور سنئے

اسی حق الیقین کے صفحہ 135 پر باقر مجلسی ایرانی لکھتا ہے (صرف ترجمہ)

امام غائب حاضر ہوکر سرکارﷺ کے روضہ انور کے قریب کھڑے ہوں گے اور حاضرین سے حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے مزارات اور ان کے حالات متعلق معلومات کریں گے اور پھر تین دن بعد قبروں کوکھدوا کر دونوں کے مقدس جسموں کو نکالنے کا حکم دیں گے۔ یہ جسم تازہ ہوں گے صوف کا کفن ہوگا جس میں دفن کئے گئے تھے۔ امام غائب کے حکم سے کفن اتروا کر لاشوں کو برہنہ کرایا جائے گا اور ایک سوکھے درخت پر لٹکا دیاجائے گا۔ وہ درخت ان کی برکت سے سرسبزوشاداب ہوکر ان پر سایہ کرے گا۔ یہ خبر پورے مدینہ شہر میں پھیل جائے گی۔ لوگ جمع ہوجائیں گے۔ امام کے حکم سے ایک کالی آندھی آئے گی جس سے ابوبکر و عمر کی عظمت کرنے والی (سنی) تباہ ہوجائیں گے۔ ان دونوں حضرات کو زندہ کرکے سخت ترین سزائیں دی جائیں گی پھر امام کے حکم سے ایک آگ آئے گی جو درخت اور ان حضرات کو جلاکر خاک کردے گی۔ امام ہوا کو حکم دیں گے جو اس راکھ کو تمام دریائوں پر چھڑک دے گی۔

نوٹ: اس پر تبصرے سے قلم اور جگر ساتھ نہیں دے رہے۔ اس لئے قارئین پر چھوڑ رہا ہوں۔ لعنۃ اﷲ علی الکٰذبین

(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)