آہ شہید اسید الحق قادری بدایوانی

in Tahaffuz, April 2014, سید رفیق شاہ

خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی صاحب سے ملاقات کی غرض سے 4 مارچ کو نماز عشاء میں گلزار حبیب مسجد سولجر بازار میں حاضر ہوا۔ سلام و مصافحہ کے بعد خطیب ملت نے انتہائی افسردگی کے عالم میں مجھ سے سوالیہ انداز میں مخاطب ہوکر کہا کہ علامہ اسید الحق قادری بدایونی کو جانتے ہو، میں نے عرض کی کہ آپ نے تعارف کروایاتھا۔ راقم جن دنوں 1857ء اور ملت کے پاسبان کے عنوان سے جہاد آزادی 1857ء کی شخصیات و کردار کو جمع کررہا تھا، تو ان سے فون پر دہلی میں بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے مفید مشوروں سے رہنمائی فرمائی تھی پھر گزشتہ سالوں ان کی اپنی تصنیف امام حریت علامہ فضل حق خیر آبادی کی شخصیت کردار علمی خدمات پر خیر آبادیات شائع ہوکر آئی تو محترم توفیق قادری جونا گڑھی کے توسط سے مجھے حاصل ہوئی تھی۔ خطیب ملت نے کہا کہ خبر آئی ہے کہ انہیں بغداد میں شہید کردیا گیا ہے مگر مستند ذرائع سے تصدیق نہیں ہورہی۔ اس لئے بغیر تصدیق کے میں کسی سے بات نہیں کرسکتا۔ میں نے عرض کی کہ علامہ خوشتر نورانی (جام نور) سے انڈیا رابطہ کریں۔ جواباً عرض کیا کہ میں نے صاحبزادہ خوشتر نورانی کو ایس ایم ایس کردیا ہے۔ الغرض کچھ دیر تصدیقی عمل مکمل ہوگیا۔ علامہ اسید الحق قادری بدایونی غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ نگاہ بلند اور سخن دلنواز کے پیکر تھے۔ دل موہ لینے والی گفتگو سے مالا مال انتہائی نفیس انسان گفتار و کردار میں اسلاف کی پیروی ان کی سیرت میں جھلکتی تھی۔ اردو کے ساتھ عربی، فارسی زبان پر بھی کمال عبور رکھتے تھے۔ عصر حاضر کے مسائل پر ان کی نظر ہوتی۔ آپ کے جد امجد علامہ عبدالقادر بدایونی اور علامہ شاہ فضل رسول قادری بدایونی جہاد آزادی 1857ء میں امام حریت علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ رحمت اﷲ کیرانوی، علامہ احمد اﷲ مدراسی، مفتی کفایت علی کافی و دیگر مجاہدین آزادی کے ہمراہ صف اول میں شامل تھے۔ آپ کی تصنیف خیر آبادیات میں آپ کے تعارف میں تحریر ہے کہ آپ 6 مئی 1976ء میں یوپی بدایونی کے علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ حفظ قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کے ساتھ ایم اے علوم اسلامیہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے کیا۔ اس کے علاوہ جامعہ الازہر مصر سے شعبہ تفسیر و علوم قرآن میں العالیہ میں سند حاصل کی جبکہ فتاویٰ نویسی میں مہارت بھی جامعہ الازہر مصر سے حاصل کی۔ آپ کے پچاس سے زائد علمی مقالات و مضامین پاک و ہند کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔ جبکہ دس تصانیف شائع ہوچکی ہے جس میں:
1… حدیث افتراق امت تحقیقی مطالعہ کی روشنی میں
2… قرآن کریم کی سائنسی تفسیر ایک تنقیدی مطالعہ
3… احادیث قدسیہ (اردو، ہندی، گجراتی، انگلش)
4… اسلام، جہاد اور دہشت گردی
5… اسلام اور خدمت خلق
6… جدید عربی محاورات و تعبیرات
7… تحقیق و تفہیم مجموعہ مقالات
8… خاصہ تلاش تنقیدی مضامین
9… اسلام ایک تعارف
10… خیر آبادیات
اس کے علاوہ تقریبا کتابوں کی ترتیب و تقدیم فرمائی ۔ اس کے علاوہ عربی اور فارسی کتابوں پر تخریج و تحقیق فرمائی جبکہ اپنے اکابرین کی تین کتابوں کی تسہیل و تخریج کی۔ الغرض آپ کے علمی کارناموں کا احاطہ کرنا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے۔ آپ بغداد شریف کے زیارتی مطالعاتی دورے پر تھے کہ 4 مارچ کی شام دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہوگئے۔ آپ کے ہمراہ آپ کے والد شیخ عبدالحمید محمد سالم قادری بدایونی اور چھوٹے بیٹے بھی تھے جوکہ اس سانحہ میں زخمی ہوئے۔
آپ کی اچانک شہادت سے دنیائے اہل سنت ایک عظیم مبلغ، مفکر مفتی مصنف محقق سے محروم ہوگئی مگر آپ کی تصانیف و علمی کارنامے آپ کی شخصیت کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
آپ کے والد محترم، صاحبزادگان جملہ مریدین و عقیدت مندوں اور شاگردوں کو اظہار تعزیت پیش کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ برادر ذی وقار حضرت علامہ مولانا مفتی اسید الحق قادری بدایونی شہید کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آپ کے والد محترم شیخ عبدالحمید محمد سالم قادری بدایونی اور آپ کے صاحبزادے کو صحت عطا فرمائے۔ آمین