سعودی حکومت کا یوٹرن

in Tahaffuz, April 2014

سعودی ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز نے دورہ پاکستان کے دوران علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک سعودی تعلقات کو مستحکم اور مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب ان دنوں عرب دنیا میں جاری بیداری کی تحریکوں سے خوف زدہ ہے اور بالخصوص شام کے معاملے میں امریکہ، روس، برطانیہ کے عدم تعاون سے سعودی عرب کی داخلی خود مختاری بھی متاثر ہورہی ہے کہ کہیں جمہوری آزادی کے نام پر سعودی بادشاہت کو بھی چیلنج نہ کردیا جائے۔ پاکستان نے سعودی حکومت کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی، وہیں براہ راست بعض دینی جماعتوں و گروہوں کی سعودی امداد سے پاکستان کی داخلی خود مختاری اور فرقہ وارانہ تصادم پرِ اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس کے جواب میں سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ پاکستان میں مدارس اور دینی تعلیمی اداروں کو براہ راست کوئی امداد نہیں دی جائے گی۔ یہ امداد صرف حکومت پاکستان کے توسط سے دی جائے گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی حکومت نے یہ فیصلہ پاکستان کی طرف سے پیغام ملنے کے بعد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مختلف مدارس کو دی جانے والی امداد کا بڑا حصہ قبائلی علاقوں میں مختلف ذرائع سے دہشت گردوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح سعودی امداد سے چلنے والے دینی مدارس ان دہشت گردوں کو افرادی قوت بھی مہیا کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان میں امن وامان کی صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔ سعودی حکومت کے علاوہ قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران سمیت کئی ممالک پاکستان میں اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے مدارس کو براہ راست امداد فراہم کرتے ہیں جس کے سبب ملک میں فرقہ واریت کے علاوہ انتہ پسندی اور دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے، ادھر پاکستانی حکومت نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ کوئی مدرسہ سعودی عرب سمیت کسی بھی دوسرے ملک سے اپنے اخراجات چلانے کے لئے براہ راست مالی امداد حاصل نہیں کرسکے گا جبکہ انہیں غیر ملکی امداد کے حصول کے لئے این او سی حاصل کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ تجزیہ کار سعودی حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں موجود ایک خاص مکتبہ فکر کی مالی امداد کرتا ہے جس میں غیر مقلد وہابیہ یعنی اہل حدیث، جماعۃ الدعوہ وغیرہ ماضی کے حوالے سے کسی حد تک درست ہے۔ سعودی حکومت نے پاکستان میں ایسے گروہوں کی مالی و اخلاقی امداد کی جو خطے میں اس کے مفادات کا تحفظ کرتے۔ اس کے علاوہ جب روس افغانستان پر قابض ہونے کے منصوبے بنا رہاتھا۔ سعودی عرب ہی کی جانب سے پاکستان میں جہادیوں کے لئے بنائے گئے کیمپوں میں امدادی رقم کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ پھر سعودی عرب کے اہم اداروں کی جانب سے جہاد کے حوالے سے فتوے جاری کئے گئے۔ اسامہ بن لادن کو جہاد پر جمہور کرنے میں بھی سعودی اور امریکی ایجنسیوں کا کردار تھا جب اسامہ بن لادن افغانستان میں ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرے۔ تب بھی سعودی عرب سے آنے والے مجاہدین کو ہر طرح کی مدد حاصل رہی۔ یہ کھیل تھا تو امریکی لیکن سعودی حکومت نے اپنے مفادات کے پیش نظر اس میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کے لئے عرب شیوخ کی بھی مالی امداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ عرب شیوخ چاہتے ہیں کہ عرب جنگجو و مجاہدین افغانستان و پاکستان میں مصروف رہیں تاکہ عرب دنیا کی بادشاہت یونہی قائم رہے۔ بدلتے حالات میں سعودی حکومت کا یہ اقدام کہ آئندہ پاکستان میں مدارس اور دینی تعلیمی اداروں کو براہ راست امداد نہیں دی جائے گی، قابل تعریف شمار کیا جائے گا۔ اس سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی آئے گی۔ اس ملک کی غالب اکثریت پر خود ساختہ نظریات مسلط کرنے کے عمل میں بھی کمی آئے گی۔ اب اس ملک کی غالب اکثریت اہلسنت کے علماء و مشائخ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات پر گہری نظر رکھیں کیونکہ ان کا ایک طویل عرصہ سے مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ نفرتیں سعودی ریال کے بل بوتے پر ہورہی ہیں۔ لہذا سعودی عرب سمیت تمام غیر ملکی امداد پر پابندی ہونی چاہئے۔
٭٭٭