دعویٰ نبوت اور ملعون اصغر علی

in Tahaffuz, April 2014, سید رفیق شاہ

پاکستانی نژاد برطانوی شہری اصغر علی کو سیشن کورٹ راولپنڈی کی عدالت نے جھوٹا دعویٰ نبوت کا مرتکب ہونے پر 23 جنوری 2014ء کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ ساڑھے تین سال تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں عدالت اور مدعی پر برطانوی حکومت اور اس کی این جی اوز کا بھی سخت دبائو رہا۔ تفصیلات کے مطابق ستمبر 2010ء میں راولپنڈی ایئرپورٹ ہائوسنگ سوسائٹی کا رہائشی برطانوی شہری اصغر علی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا جس پر راولپنڈی کے ملک محمد حفیظ اعوان نے اس جھوٹے دعویدار کا پردہ چاک کیا۔ علماء و مشائخ کی مدد سے اور مجرم کے دوستوں کے نام خطوط اور وزیٹنگ کارڈ کی روشنی میں تھانہ صادق آباد ایئرپورٹ سوسائٹی میں 10 گواہوں کے ساتھ مقدمہ توہین رسالت درج کیا گیا۔ پولیس نے مجرم کو گرفتار کرکے سوال و جواب اور ابتدائی تفتیش اور اقراری بیان جس میں بغیر کسی بحث و تکرار کے اپنے آپ کو نبی اور اﷲ کا رسول کہا اور یہ بھی اپنے بیان میں کہا کہ گوجر خان سے راولپنڈی تک سڑکوں پر لگے یارسول اﷲﷺ کے بورڈ اس کو مخاطب کرکے اﷲ نے لگوائے ہیں (نعوذ باﷲ) پولیس نے اس تفتیش کی ویڈیو بھی بنائی کیونکہ اکثر ایسے کیسوں میں مجرم عدالت میں اپنے جرم سے انکاری ہوجاتا ہے۔ مجرم کے اقراری بیان کے بعد پولیس نے چالان بناکر اسے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کردیا۔ اس وقت کے گورنر پنجاب عبداللطیف کھوسہ اس کیس پر اثر انداز ہوتے رہے اور مقدمے میں تاخیر ساڑھے تین سال کی یہ بھی گورنر پنجاب کی وجہ سے ہوئی۔ تاریخوں کے موقع پر ججز تبدیل کروادیتے جس کی وجہ سے مقدمے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔ مقدمے کی ابتداء میں مجرم کے اقرار جرم کی ویڈیو سی ڈی بھی عدالتی ریکارڈ سے غائب کروائی گئی۔ بعد ازاں اسے حاصل کرلیا گیا۔ دوران سماعت برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے عدالت میں موجود ہوتے یہاں تک کہ برطانوی ہائی کمیشن نے تمام سفارتی آداب و قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 23 نومبر 2012ء کو ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کے نام خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مجرم برطانوی شہری اور دماغی طور پر بیمار ہے لہذا اس کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔ مذکورہ جج نے اس خط کو مقدمہ کی فائل کا حصہ بنادیا۔ مدعی کے عدم اطمینان پر یہ مقدمہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز کو منتقل کردیا گیا جہاں تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے سیشن جج کو سماعت جاری رکھنے کا حکم دیا۔ سیشن جج نے تمام شواہد، مجرم کا اقرار جرم کے پیش نظر مقدمہ کا فیصلہ 23 جنوری 2014ء کو 295-C کے تحت سنایا۔ اصغر علی جو آخر تک خود کو نبی ہی کہتا رہا، سزا کے خلاف برطانیہ اور مغربی دنیا سے مدد طلب کی ہے۔ ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے سزائے موت سنائے جانے پر اپنے تحفظات و افسوس کا اظہار کیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمرون نے برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اصغر علی کی سزائے موت پر حکومت پاکستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ اصغر گزشتہ 40 سال برطانیہ میں مقیم رہا اور اس کا خاندان بھی برطانیہ میں مقیم ہے۔ مجرم کو ذہنی بیمار پیش کرکے رہا کرنے اور برطانیہ منتقل کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں جبکہ دوران سماعت عدالت کے روبرو اس کا کوئی عمل ایسا نہیں تھا جس کی بنیاد پر اسے ذہنی مریض قرار دیا جاسکے اور وہ انتہائی اطمینان کے ساتھ خود کو جھوٹا نبی قرار دیتا رہا۔
یہ حقیقت ہے کہ توہین رسالت کا مجرم تو ہر لحاظ سے بیمار ہی ہوتا ہے، اسے ایسا کام کرنے کی قیمت دینی ہے۔ ماضی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی دعویٰ نبوت برطانیہ کی سرپرستی میں کیا تھا جبکہ ریاض احمد گوہر شاہی نامی شخص جس نے دعویٰ امام مہدی کیا تھا، وہ بھی برطانیہ میں ہی رہا۔ برصغیر پاک و ہند میں فتنہ پروری و فرقہ واریت کا بیج برطانوی عہد حکومت میں پروان چڑھے۔ بحیثیت مسلمان ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اغیار کی سازشوں کو سمجھیں۔ پاکستان میں خارجی گروہ جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رہے ہیں، انہیں افغان جہاد کے نام پر امریکہ اور برطانیہ نے ہی متعارف کروایا تھا۔ اپنے اندر قومی وحدت پیدا کریں۔ اپنے علماء و مشائخ کی جانب دیکھیں۔ منفی پروپیگنڈے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اسی میں ہمارے عقیدے، ایمان، تہذیب، ثقافت اور ملک کی بقاء ہے۔