ہمیں اپنی طاقت خود بننا ہوگی

in Tahaffuz, April 2014, سید رفیق شاہ

افریقی ملک انگولا میں اسلام پر سرکاری طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تمام مساجد، مدارس و مزارات کو شہید کیا جارہا ہے مسلمانوں کی بحیثیت ریاستی فرد کے بھی حقوق چھین لئے گئے۔ انہیں قتل ان کی عورتوں کی عصمت دری اور بچوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک عام ہے۔ انگولا کی 95 فیصد آبادی مختلف عیسائی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی 3 فیصد ہے۔ انگولا کی کل 18ملین آبادی ہے ساری دنیا کی طرح یہاں بھی اسلامی سرگرمیوں میں اضافہ اور مختلف شہروں میں مساجد اور اسلامک سینٹرز قائم ہوئے۔ مسلمانوں کے اپنے تہذیبی اور اعلیٰ اسلامی اقدار کے سبب مقامی آبادی میں اسلام کی جانب رغبت پیدا ہورہی تھی کہ بعض بدگمانیاں پیدا ہوئی چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بیرون انگولا سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی۔ 2013ء میں انگولا کے دارالحکومت لوانڈا کے گورنر نے ریڈیو پر مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ لوانڈا میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ مذہبی امور انسانی حقوق کے وزیر نے مساجد کو بند کرنے کا ریاستی اعلان جاری کیا۔ انگولا کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے ملک میں اسلام کے حوالے سے یہ حتمی فیصلہ ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
اکتوبر 2013ء سے اب تک سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ مساجد، مدارس کو منہدم کردیا گیا۔ انگولا کی تاریخ کا بدترین ریاستی ظلم و جبر کیا گیا جس طرح سوات میں طالبان نے علماء و مشائخ اور مسلمانوں کو قتل کرکے درختوں پر لٹکایا تھا۔ مساجد و مزارات کو بموں سے تباہ کیا تھا۔ وہی تاریخ عیسائی جنگجوئوں نے انگولا میں دہرائی۔ ریاستی جبر و دہشت گردی پرپوری دنیا خاموش تماشائی ہے۔ یہ عناصر جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی حمایت میں کوئی ایک مسلم ملک میں بھی آواز نہیں اٹھائے گا اور نہ ہی ان کی امداد کو آئے گا۔ کیونکہ پوری مسلم دنیا کو سامراجی قوتوں نے اپنے مفادات و مقاصد کی تکمیل کے لئے میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ مسلم دنیا غیر اعلانیہ تیسری عالمی جنگ میں مبتلا ہے۔ پاکستان، مصر، شام، افغانستان، عراق و دیگر ممالک ان سامراجیوں کے لے پالکوں کی وجہ سے داخلی انتشار کا شکار ہے۔ اسی طرح برما، میانمار ایک چھوٹا سا ایشیائی ملک ہے جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ سینکڑوں مساجد کو بند کردیا گیا۔ ریاستی طور پر نئی مساجد کی تعمیر، اسپیکر پر اذان و قرآن مجید کی تلاوت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مسلمان بچوں پر ریاستی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تقریبا ایک لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ چار لاکھ کے قریب مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان کی شہریت پر پابندی لگادی گئی۔ اقوام متحدہ کی اپیل کے باوجود برما کی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے انسانی و ریاستی حقوق دینے سے انکار کردیا ہے۔ برما میں ظلم و ستم دنیا کے سب سے زیادہ امن پسند کہلوانے والے بدھ مذہب کے پیروکار کررہے ہیں۔
بات سادہ اور واضح ہے اور وہ یہ کہ دنیائے کفر ایک ہے۔ اہل یہود اس وقت عیسائیوں اور دیگر ادیان سے وابستہ لوگوں کے ذریعہ مسلمانوں پر ظلم اور جبر کروا رہے ہیں اور عیسائیت کے خلاف بھی سازشوں میں مصروف ہے۔ اقوام متحدہ کے ذریعے عیسائی پادریوں کے بچوں کے ساتھ جنسی اسکینڈل لے کر پوری دنیا میں پادریوں کی شہرت کو چیلنج کرچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ذریعہ پادریوں کے سیاہ کرتوتوں پر مبنی رپورٹ کی عالمی سطح پر تشہیر کی گئی۔ جس میں 2011, 2012, 2013 میں پادریوں کے جنسی اسکینڈل ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ اہل کلیسیامسلمانوں سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اسلام مخالف پروپیگنڈے کے باوجود اسلام کا تیزی سے فروغ پانا ہے۔ عیسائیت کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد مذہب کے ماننے والوں کی آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے عیسائیت سے وابستہ چرچ جانے والوں کی تعداد ایک سروے کے مطابق 2 فیصد ہے۔ باقی سب رسماً عیسائی ہیں۔ انہیں حقیقی سکون اسلام میں مل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے
باقی صفحہ 39 پر ملاحظہ فرمائیں