اسلامی آئین کا انکاری اور توہین رسالت کا مجرم

in Tahaffuz, April 2014, سید رفیق شاہ

تحریک طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز المعروف برقع پوش مولوی نے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی جانب سے آئین پاکستان میں رہتے ہوئے مذاکرات کرنے اور نظام شریعت کے مطالبے کو اولین مطالبات میں شامل نہ کرنے پر لال مسجد میں اسلحہ برداروں کے سائے میں پریس کانفرنس میں قرآن مجید کو بے توقیری کے انداز میں ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی قانون قبول نہیں ہوگا۔
ان کے اس عمل سے میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوچکا ہے کہ آئین پاکستان جو قرآن و سنت کا پابند آئین ہے اس پر بحث و مباحثہ کسی طور پر دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ قرآن از خود آئین نہیں ہے بلکہ کلام اﷲ ہے جو قانون سازی میں معاون ومددگار اور بنیادی ماخذ ہے اس سلسلے کا ایک پروگرام ڈان نیوز پر نشر ہوا جس میں مولوی عبدالعزیز، طاہر اشرفی اور میزبان مہر عباسی شامل تھے، دوران گفتگو مولوی عبدالعزیز نے کہا کہ قانون سازی کا اختیار خدا کے سوا کسی کونہیں۔ رسول اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی نہیں۔ ان کے یہ جملے عاشقان مصطفیﷺ کے دلوں پر تیر کی طرح پیوست ہوئے۔ اس موقع پر اس کے فرقہ سے وابستہ طاہر اشرفی نے مولوی صاحب کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی مگر مولوی صاحب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے کیونکہ ان کے عقل پر بھی برقع پڑچکا ہے۔ طاہر اشرفی کو یہ کہنا پڑا کہ مولوی کا دماغ کام نہیں کررہا۔ اگر رسول خدا کو قانون سازی کا اختیار نہیں ہوگا تو پھر کس کو ہوگا؟ قرآن میں احکامات کی تشریح ہمیں کس نے سمجھائی؟ توہین رسالت کے مرتکب اور قرآن و سنت کو سپریم لاء کہنے والا آئین پاکستان کے منکر مولوی عبدالعزیز کے خلاف عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے۔ توہین رسالت پر عاشقان مصطفی کا احتجاجی سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ وہی آئین پاکستان پر دلائل کا سلسلہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ معروف کالم نگار ڈاکٹر حسین احمد پراچہ اپنے کالم حکم اذان میں رقم طراز ہیں۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے رویّے پر ہو رہی ہے۔مولانا کے تیروں کا ہی نہیں اْن کی توپوں کا رخ بھی آئین پاکستان کی طرف ہے۔وہ بڑی گھن گرج کے ساتھ آئین پاکستان پر برس رہے ہیں۔ہم نہایت احترام کے ساتھ مولاناکو یاد دلاتے ہیں سارے عالم اسلام میں صدیوں کی ملوکیت ،بدترین آمریت اور استعماریت کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں قرآن وسنت کوملک کاسپریم قانون تسلیم کیا گیا ہے اور واضح طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ رب ذوالجلال کی ہو گی۔مولانا عبدالعزیز ہمیں بتائیں کہ اْن کے بقول جس اسلامی ملک میں شریعت نافذ ہے کیا وہاں کا کوئی عام شہری عدالت سے رجوع کرکے یہ مقدمہ دائر کر سکتا ہے کہ ملکی قانون کی فلاں شق خلاف اسلام ہے۔کیا کوئی شہری کسی قاضی کی عدالت میں کھڑا ہو کر پوچھ سکتا ہے کہ ہمارے فلاں حکمران کا طرزِ عمل خلاف شریعت ہے اور اس کا تدارک کیا جائے۔وہاں کسی کو ایسا سوال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایک عام شہری کو خلاف اسلام کسی قانون یا کسی حاکم کے رویّے کو چیلنج کرنے کا حق سارے عالم اسلام میں صرف اور صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور دیتا ہے۔ اگر اسلامی دستور یا اسلامی شریعت کے نفاذ میں حکمران جس سست روی یا ٹال مٹول کے رویّے سے کام لے رہے ہیں اس کے خلاف علمائے کرام کو مشترکہ اور متفقہ جدوجہد کرنی چاہئے۔جو کچھ مولانا عبدالعزیز سے کہہ رہے ہیں یا اْن سے کہلوایا جا رہا ہے وہ دراصل وہی کچھ ہے جس کے لئے اس ملک کا مٹھی بھر سیکولر طبقہ روز اوّل سے تڑپ رہا ہے۔ پاکستان کا اسلامی دستور اْن کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتاہے۔ ایک بار پاکستان کی سرزمین بے آئین ہو گئی تو پھر یہاں انارکی اور لاقانونیت ہی کا راج ہو گا پھر کیسی شریعت اورکیسا نفاذ اسلام 1973ء کے متفقہ آئین پر مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمدنورانی، پروفیسر غفور، مولاناظفر احمدانصاری اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے دستخط ثبت کئے تھے۔ اگرچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی آئین کے بارے میں یہ ساری بحث اس لئے غیر ضروری ہے کہ آئین کے بارے میں طالبان نے کوئی اعتراض کیا ہے اور نہ کوئی سوال اٹھایا ہے تاہم فتنہ انکار آئین کی سرکوبی کے لئے ہمیں مولانا عبدالعزیز کو یہ سارے حقائق اور دلائل یاد دلانے پڑے ہیں۔
دیوبند طبقے کے سب سے بڑے سیاسی لیڈر مولانا فضل الرحمن نے جیو کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عبدالعزیز کی کیا حیثیت ہے۔ اس کا ماضی کیا ہے؟ اس کا بیگ گرائونڈ کیا ہے؟ لال مسجد کے واقعہ کا ذمہ دار یہی شخص ہے۔ طالبان مسئلہ پر اس کا کردار بنتا ہی نہیں تھا۔ میڈیا نے انہیں بلاوجہ اہمیت دی ہے۔ لال مسجد کے برقع پوش مولوی کا کردار بے نقاب ہوچکا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے بھیانک کردار تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
مگر قوم کی بدقسمتی کہ اسے تاریخ یاد نہیں رہتی۔ اب اسے کتنا یاد رکھتے ہیں؟ یہ وقت بتائے گا…!!!