حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, April 2014, خان آصف

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک بار میں بدایوں سے دہلی آرہا تھا۔ راستے میں مجھے ایک شخص ملا۔ وہ سیاہ گدڑی پہنے ہوئے تھا اور ایک میلی سی پگڑی اس کے سر پر بندھی ہوئی تھی۔ اپنے ظاہری حلیے سے وہ کوئی مست معلوم ہوتا تھا۔ اس نے مجھے سلام کیا اور بڑے والہانہ انداز میں بغل گیر ہوگیا۔ کچھ دیر تک میرے سینے سے سینہ ملائے کھڑا رہا۔ پھر الگ ہوا اور میرے دل پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا۔
’’یہاں سے بوئے مسلمانی آتی ہے‘‘
اس کے بعد وہ چلا گیا مگر میں اس کی حیثیت کو نہ پہچان سکا۔
دوسری بار میں نے اسے اس وقت دیکھا جبکہ جماعت خانہ میں ’’کندوری‘‘ کا کھانا تیار تھا اور دستر خوان بچھا ہوا تھا (کندوری اس کھانے کو کہتے ہیں جس پر حضرت فاطمہ رضے اﷲ تعالیٰ عنہا کی فاتحہ ہوتی ہے) اچانک وہی شخص جو مجھے بدایوں میں ملا تھا، جماعت خانے میں داخل ہوا اور سلام کرکے دستر خوان پر بیٹھ گیا۔ کھانے کے بعد میں نے اسے تلاش کیا مگر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ حاضرین نے پوچھا کہ اس درویش نے کچھ کھایا بھی یا نہیں؟ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ جب کھانا شروع ہوا تھا تو اس درویش نے چار روٹیاں اور کچھ شوربا ایک لکڑی کے پیالے میں ڈالا اور خانقاہ کے سامنے والے ٹیلے پر بیٹھ کر کھانے لگا۔ پھر کسی طرف چلا گیا۔ اس وقت تنگی کے سبب ہم پر تیسرا فاقہ تھا۔ پھر کہیں جاکر اس فاتحہ کا اہتمام ہوا تھا۔
تیسری بار وہ شخص مولانا عمر علیہ الرحمہ کو راستے میں ملا’ کیلوکھڑی‘‘ سے کچھ عقیدت مندغیاث پور آرہے تھے اور ان میں مولانا عمر علیہ الرحمہ بھی شامل تھے۔ اچانک وہ شخص کسی طرف سے نمودار ہوا اور مولانا عمر علیہ الرحمہ سے پوچھنے لگا۔
’’تم لوگ کہاں جارہے ہو؟‘‘
’’شیخ نظام الدین سے ملاقات کے لئے جارہے ہیں‘‘ مولانا عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’اس مسکین کے پاس کیا رکھا ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا اور اپنے پیرہن کی جیب سے بارہ جیتل نکالے ’’یہ میری طرف سے نظام الدین کو دے دینا‘‘ اتنا کہہ کر وہ غائب ہوگیا۔
اس کے بعد سے خانقاہ میں فتوحات (نذرات) آنا شروع ہوگئیں۔ اس دن مجھ پر یہ راز فاش ہوا کہ وہ مردان غیب سے میں سے تھا مگر اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتا تھا۔
اہل نظر ان تمام واقعات سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے کس غربت میں اپنی زندگی بسر کی تھی اور راہ سلوک میں کس طرح ثابت قدم رہے تھے جو دنیا دار لوگ ظاہری کرامت کو ولایت کی نشانی سمجھتے ہیں، انہیں حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ آپ کی پوری زندگی ایک کرامت مسلسل تھی۔
٭…٭…٭
غذا کی کمیابی کے ساتھ جسمانی زیبائش کا بھی عجیب حال تھا۔ سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے، جب حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک ہی جوڑا تھا۔ کثرت استعمال سے وہ بوسیدہ بھی ہوگیا تھا اور میلا بھی۔ لباس پر میل کچیل جم جانے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ صابن خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ کی اہلیہ بی بی رانی نے یہ حال دیکھا تو عرض کیا۔
’’برادر عزیزو! تمہارے کپڑے پھٹ بھی گئے ہیں اور میلے بھی ہوگئے ہیں۔ اگر تم کچھ دیر کے لئے اپنا یہ لباس مجھے دے دو تو میں اسے دھو کر صاف بھی کردوں اور اس میں پیوند بھی لگادوں‘‘ واضح رہے کہ بی بی رانی عمر میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے بڑی تھیں۔
’’بی بی! مجھے فرصت نہیں مل رہی ہے۔ ایک آدھ روز میں یہ کام بھی ہوجائے گا۔ تم فکر مند نہ ہو۔‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے نہایت لطیف انداز میں معذرت کی۔
بی بی رانی نے آپ کا یہ عذر قبول نہیں کیا اور اپنی چادر پیش کرتے ہوئے عرض کیا ’’بھائی! اسے باندھ لو۔ میں اتنی دیر میں تمہارے کپڑے دھو دوں گی‘‘
بی بی رانی بھی حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی مرید تھیں اس لئے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ان کی اس خواہش پر مجبور ہوگئے۔ آپ نے چادر باندھی اور ایک کتاب لے کر مطالعے میں مشغول ہوگئے۔ پھر جب کپڑے دھل کر خشک ہوگئے تو بی بی رانی نے اپنے شوہر سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ کی چھٹی پگڑی دھوئی اور اسے کاٹ کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے کرتے میں جو گریبان کے پاس پھٹ گیا تھا پیوند لگائے۔ پھر وہ کپڑے بڑے ادب سے آپ کی خدمت میں پیش کئے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے نہایت معذرت اور شکریے کے ساتھ وہ کپڑے پہنے۔ سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ کہتے ہیں’’بظاہر یہ معمولی سی بات تھی مگر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اس واقعہ کو ہمیشہ یاد رکھا۔ اکثر اس واقعہ کا ذکر فرماتے۔ یہاں تک کہ میں شرم سے سر جھکا لیتا۔ مجھ پر بھی مہربان رہے اور میری اولاد پر بھی۔ میں نے اور میرے خاندان نے جو کچھ برکتیں اور نعمتیں حاصل کیں، وہ سب محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی دعائوں کا صدقہ تھیں‘‘
٭…٭…٭
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دوسری بار پیر ومرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو سلسلہ چشتیہ کی خلافت سے سرفراز کیا گیا۔
خلافت نامہ عطا کرنے کے بعد خانقاہ میں موجود تمام درویشوں کے سامنے حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے باآواز بلند فرمایا۔
’’ہم نے خلافت کے ساتھ نظام الدین محمد علیہ الرحمہ کو ہندوستان کی ولایت بھی دی۔‘‘
حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی علیہ الرحمہ، حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے محبوب ترین خلیفہ تھے مگر ہندوستان کی ولایت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا مقدر ٹھہری۔
جیسے ہی حضرت بابا فریدعلیہ الرحمہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے۔ محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے پیرومرشد کی دست بوسی کی۔ پھر اس طرح کھڑے رہے کہ آپ کا سر نیاز حضرت شیخ کی بارگاہ جلال میں جھکا ہوا تھا۔
’’مولانا نظام الدین! سر اٹھائو‘‘ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے فرمایا۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے پیرومرشد کے حکم کی تعمیل کی تو ایک اور نعمت عظیم آپ کی منتظر تھی۔ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کبھی کبھی ایک خاص دستار باندھتے تھے اور یہ دستار وہ تھی جو آپ کے پیرومرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ نے آپ کو عطا کی تھی۔ بعض روایات کے مطابق یہ دستار حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کو اپنے شیخ حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ سے عطا ہوئی تھی۔ اس طرح اس دستار کو پیران چشت کے تبرکات میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ جب محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے حکم شیخ پر سر اٹھایا تو حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ اس دستار کو کھول رہے تھے۔ پھر اہل دل کے لئے وہ منظر بڑا عجیب تھا، جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کو عطا … حضرت قطب علیہ الرحمہ کی بخشش… اور حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کی عنایت، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے سر کی زینت بن گئی۔ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے خود اپنے دست مبارک سے وہ دستار ولایت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے سر پر آراستہ کی۔
اس کے بعد حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے اپنا عصا حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو مرحمت کیا اور پھر فرمایا۔ ’’نظام الدین محمد! دو رکعت نماز ادا کرو‘‘
محبوب الٰہی! فورا حکم شیخ پر عمل پیرا ہوئے۔ پھر جب آپ نماز ادا کرچکے تو حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف اشارہ کیا ’’فرزند! میں تمہیں اﷲ کے سپرد کرتا ہوں‘‘
پھر حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے تمام درویشوں کے سامنے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)