فہم القرآن

in Tahaffuz, April 2014

تفسیر سورۃ الزلزال
وقال الانسان مالہا
ارشاد ہوا ’’اورآدمی کہے، اسے کیا ہوا‘‘ مفسرین فرماتے ہیں، یہاں انسان سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کے وقت زمین پر موجود ہوں گے، وہ تعجب اور حیرانی سے بول اٹھیں گے، زمین کو کیا ہوگیا ہے؟
انسان کے اس قول پر غور کیجئے۔ اس میں خوف بھی ہے، اضطراب بھی، بے چینی بھی ہے، پریشانی بھی۔ کیونکہ زمین پوری شدت سے تھرتھرا رہی ہے، اس کے خزانے باہر پڑے ہوئے ہیں، کوئی لینے والا نہیں ہے، پورا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔
اس دن کی منظر کشی ایک اور مقام پر یوں کی گئی ہے۔
اذا الشمس کورت……… بای ذنب قتلت (التکویر: ۱۔۹)
’’جب دھوپ لپيٹي جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں، اور جب پہاڑ چلائے جائیں اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں چھوٹی پھریں اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں اور جب سمندر سلگائے جائیں، اور جب جانوں کے جوڑ بنیں اور جب زندہ دبائی ہوئی (لڑکی) سے پوچھا جائے، کس خطا پر ماری گئی‘‘۔
پہلی مرتبہ صور پھونکے جانے اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان دونوں صور پھونکنے کی درمیانی مدت میں رب تعالیٰ کافروں پر سے عذاب اٹھالے گا۔
پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور تمام مردے زندہ کئے جائیں گے اس وقت انسان کہے گا، زمین کو کیا ہوگیا؟ یہاں انسان سے مراد کافر ہیں جو قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر چیخ اٹھیں گے اور…
قالو یٰویلنا من بعثنا من مرقدنا (یٰس: ۵۲)
’’کہیں گے، ہائے ہماری خرابی!کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا‘‘
جبکہ اہل ایمان جب مردوں کو قبروں سے نکلتا دیکھیں گے تو ان کا علم الیقین ترقی پاکر عین الیقین کی منزل پر پہنچ جائے گا اور وہ کہیں گے۔
ہذا ماوعد الرحمن وصدق المرسلون (یٰس ۵۲)
’’یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا تھا‘‘
یومئذ تحد ث اخبارہا
پھر ارشاد ہوا۔ ’’اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی‘‘ (کنزالایمان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو کہ زمین کیا خبریں دے گی؟ صحابہ نے عرض کی، اﷲ اور اس کا رسولﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر مرد و عورت کے بارے میں گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر فلاں فلاں دن یہ یہ کام کئے، یہی اس کی خبریں ہیں (ترمذی ابواب التفسیر)
ایک اور حدیث شریف میںارشاد ہوا: زمین پر محتاط رہو۔ یہ تمہاری ماں ہے، اس پر جس نے بھی اچھا یا برا عمل کیا، یہ اس کے بارے میں ضرور خبر دے گی (در منثور)
رب تعالیٰ اگر چاہے تو محض اپنے علم ہی کی بنیاد پر نیکوں کو جزا اور بروں کو سزا دے دے لیکن وہ انسانی سوچ کے لحاظ سے عدل و انصاف کے ظاہری تقاضے پورے فرمائے گا۔ فرد جرم کے طور پر ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ پھر اس پر گواہیاں پیش کی جائیں گی اور یہ گويا ہر قسم کے ہوں گے۔ انسان کے ہاتھ اور پائوں، اﷲ تعالیٰ کے حکم سے بولنا شروع کردیں گے۔
الیوم نختم علی افواہهم وتکلمنا ایدیھم وتشہد ارجلہم بما کانوا یکسبون (یٰس: ۶۵ کنزالایمان)
’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے (کہ وہ بول نہ سکیں) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پائوں ان کے کئے کی گواہی دیں گے‘‘
انسان کے کان، آنکھ اور اس کی کھال بھی اس کے خلاف گواہی دے گی۔ ارشاد ہوا
شہد علیہم سمعہم وابصارہم وجلودھم بما کانو ایعملون o وقالوا لجلودھم لم شہدتم علینا قالوا انطقنا ﷲ الذی انطق کل شی ٔ (حم السجدہ: ۱۹۔۲۱)
’’ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔ اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے ، تم نے ہم پر کیوں گواہی دی؟ ہمیں اﷲ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی‘‘
ذرا سوچئے تو سہی! وہ کیسا منظر ہوگا جب انسان کے ہاتھ پائوں اس کے کئے کی گواہی دے رہے ہوں گے، اس کے کان اور آنکھیں اور اس کی کھال اس کے خلاف بول رہی ہوگی۔ پھر زمین بھی بولنا شروع کردے گی اس شخص نے میرے فلاں حصے پر فلاں وقت پر یہ گناہ کئے۔ غرض یہ کہ کوئی بات ایسی نہ رہے گی جس پر وہ اپنی گواہی پیش نہ کرے۔
سابقہ زمانے کے لوگ تو شاید زمین کی اس طرح خبریں بیان کرنے پر تعجب کرتے ہوں گے مگر اس جدید دور کے انسان کو اس پر قطعاً حیران نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ اپنی آنکھيں سے ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈ، ویڈیو اور الیکٹرانکس کے نت نئے آلات دیکھ رہا ہے۔ اور تو اور کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی چپ (Chip) میں اور موبائل فون کی حقیر سی سم (Sim) میں ہزاروں لاکھوں صفحات محفوظ کئے جاسکتے ہیں۔
تو پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کے اعضاء اور کھال میں اور زمین کے ذرات میں ایسی صلاحیت رکھ دی ہو کہ انسان کے تمام اعمال اس میں محفوظ کئے جارہے ہوں، اس کی آوازیں فضا میں محفوظ ہورہی ہوں اور اس کے اعمال زمین پر ثبت ہورہے ہوں۔ پھر قیامت کے دن یہ سب کچھ ایک متحرک منظر کی طرح انسان کے سامنے آجائے اور زمین ساری خبریں بیان کردے۔
بان ربک اوحیٰ لہا
اسی لئے فرمایا گیا کہ زمین اس دن اپنی ساری خبریں اس لئے بتائے گی کیونکہ تمہارے رب نے اسے یہ حکم دیا ہوگا۔
سابقہ آیت کریمہ کے تحت مذکورہ آیات مبارکہ اور اس آیت مقدسہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے اعضاء بولنے لگیں گے اور اسی کے حکم سے زمین بھی کلام کرے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ جو چیز بھی کلام کرتی ہے وہ رب تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے ہی کلام کرتی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو زبان بھی تو گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے لیکن گوشت کے دیگر ٹکڑے تو ساکت رہتے ہیں مگر زبان بولتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تمام تر کوشش کے باوجود اس کا یہی جواب ملے گا کہ ایک قادر مطلق ہستی نے اسے ناطق بنادیا ہے۔
حق یہی ہے کہ وہ چاہے تو گوشت کے ایک ٹکڑے کو بولنے کی طاقت بخش دے۔ وہ چاہے تو ایک نرم ہڈی یعنی کان میں سننے کی صلاحیت رکھ دے، وہ چاہے تو چکنائی کے ایک ٹکڑے یعنی آنکھ میں دیکھنے کی قوت پیدا فرمادے تو اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمادے۔ آج رب تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ زمین خاموش رہے لیکن قیامت کے دن اس کی مرضی یہ ہوگی کہ زمین ناطق ہوجائے تو زمین اس کے حکم سے بولنا شروع کردے گی۔
یومئذ یصدر الناس
ارشاد ہوا ’’اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر، تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں‘‘ (کنزالایمان)
ایک مفہوم یہ ہے کہ اس دن لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو بارگاہ الٰہی میں الگ الگ آئیں گے، کوئی کسی کا ساتھی نہ ہوگا، اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ حساب ہوگا۔
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ مختلف اعمال کی بناء پر لوگوں کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ جیسے نمازیوں کا گروہ، شہیدوں کا گروہ، چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ہر شخص اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے انجام کوپہنچے گا۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا لیروا اعمالہمکا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کی جزا دیکھیں گے یعنی وہ حساب کی جگہ سے پلٹیں گے تاکہ جنت یا جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچیں (تفسیر مظہری)
)باقي آئنده شمارے ميں ملاحظه فرمائيں)