میڈیا سے چند گزارشات

in Tahaffuz, April 2014

الحمدﷲ! ہمارا میڈیا آزاد ہے اور دعا ہے کہ آزاد رہے، لیکن بہت زیادہ آزاد ہے، البتہ جہاں آزاد میڈیا کے بھی پرجلتے ہیں، وہ نازک اورحساس مقامات انہیں بھی معلوم ہیں اور ہمیں بھی، تاہم ہر آزادی کی بھی حدود ہوتی ہیں اور سب سے بہتر شعار یہ ہے کہ ذمہ دار لوگ اپنی حدود کا خود تعین کریں۔ لہٰذا کوئی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے۔ آزاد الیکٹرانک میڈیا کی رونقیں اگرچہ ان کے پروگراموں کے میزبان حضرات، ڈائریکٹر، پروڈیوسر، ہیڈ آفس اور میدان عمل میں موجود ان کے کارکنان کی محنتوں کا ثمر ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال ان کی باگ دوڑ بھی کسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ان کی اولین ترجیح کاروباری مسابقت ہے کہ یہ ایک پھیلتا ہوا کاروبار بنے۔ میڈیا کے پاس ایک طرح کی Nuisance Value یعنی صلاحیت انتشار یا پریشانی میں مبتلا کرنے یا سکون سلب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس لئے کوئی طبقہ خواہ وہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو، میڈیا سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا اور نہ ہی میڈیا سے جھگڑا مول لیتاہے، سوائے اس کے کہ اس کے لئے گریز کا کوئی راستہ نہ رہے۔ اس طرح کی بے قابو آزادی ایک افتخار بھی ہے اور امتحان بھی۔ امتحان صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی طبقہ یا فرد اپنے آپ کو قوم و ملک اور دین و ملت کے حوالے سے بعض اصولوں، نظریات اور اقدار کا پابند سمجھے۔ یہ پابندی ایک طرح سے خود عائد کردہ Self Imposed ہوتی ہے۔ اور اس کی پابندی کرتے ہوئے انسان ایک روحانی راحت و مسرت بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی دینی، قومی اور ملی ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہوا۔ ہر قوم کی طرح ہماری کچھ تہذیبی ثقافتی اور معاشرتی اقدار بھی ہیں لہذا ان کی پاسداری بھی لازم ہے۔
بلاشبہ یہ کھلے پن کا دور ہے اور حقائق کو چھپانا کسی کے لئے عملاً ممکن نہیں رہا۔ لیکن ہمارے میڈیا کو باہم مل کر ایک تہذیبی اور اخلاقی معیار ضرور وضع کرنا چاہئے اور اسے ملحوظ بھی رکھنا چاہئے۔ ہماری نوجوان نسل کو ہیڈ لائن یا ترجیحی خبر کے طور پر کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ انڈیا کی فلاں فلم کا ٹائٹل گیت ہٹ ہوگیا ہے، انڈین اداکاروںکی برسی اور سالگرہ، وزن کی کمی بیشی اور مقبولیت کے گراف کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ خبریں دینا کیا ضروری ہیں؟ اسی طرح بے حیائی کے ایسا مناظر دکھانا جن میں اخلاقیات کی ساری حدیں پامال ہوجائیں، کیا ضروری ہیں؟
اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
بے شک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی کی بات پھیلے، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور (تمہارے افعال کا انجام) اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (النور ۱۹)
اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے ان کاموں پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ہمیں اﷲ نے ان کاموں کا حکم دیا ہے۔ آپ کے لئے بے شک اﷲ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اﷲ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو، جن کا تمہیں علم نہیں ہے (الاعراف: ۲۸)
رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے
’’حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘ (بخاری ۹)
(۲) جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرتے پھرو (کیونکہ حیا ہی نفس انسانی کا ایسا وصف ہے، جو اخلاقیات کی حدوں کو پامال کرنے سے روکتا ہے) (بخاری : ۶۱۲۰)
(۳) حیا اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، فحش کلامی اور کثرت نفاق کی دو شاخیں ہیں (ترمذی : ۲۰۲۷)
(۴) نبی کریمﷺ گالی دینے والے، فحش کلامی کرنے والے، لعنت کرنے والے اور فحاشی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے (سنن دارمی)
اسی طرح موت کے مناظر کو کس حد تک دکھانا چاہئے اور اگر میت کی ہیئت بم دھماکے یا آگ میں جل جانے کی وجہ سے مسخ ہوگئی ہے، تو شریعت کا حکم میت کے عیوب پر پردہ ڈالنا ہے اسی طرح اگر ڈاکٹرنے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھ دیا ہے کہ سر، سینے اور جسم کی ساری ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں اور محض کسی ایک جزو بدن سے اسے پہچانا گیا۔ کیا یہ تمام تفصیلات بتانا ضروری ہیں اور کیا اس سے میت کے لواحقین اور متعلقین کے ذہنوں میں یہ خدشات پیدا نہیں ہوں گے کہ تابوت میں کیا ہے، ہم نے کس کا جنازہ پڑھا اور کس کی تدفین کی؟ لہذا دوسروں کے انسانی جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ایک مخبوط الحواس شخص سکندر حیات کے ڈراموں کو مسابقت کی فضا میں گھنٹوں دکھایا گیا تو کوئی بھی پہلو ناظرین کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو، کیا بیس کروڑ پاکستانی اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نبض کو اتنے عرصے تک ساکت و جامد رکھنا ضروری تھا…؟
امریکہ اور مغربی ممالک جہاں سے ہم نے میڈیا اور صحافت کی آزادی کی روایات لیں، وہاں اکا دکا دہشت گردی کے واقعات ہوجاتے ہیں لیکن گھنٹوں اوردنوں تک سانسیں روک کر اس طرح کی کوریج نہیں کی جاتی، انہیں اپنی قومی ترجیحات بھی معلوم ہیں اور آزادی کی حدود بھی، لیکن شاید ہمیں اس فکر پختگی تک پہنچنے میں یقینا کچھ وقت لے گا۔
طنز و مزاح ہمارے بلکہ دنیا کے ہر ادب کی ایک مقبول صنف ہے اور اب الیکٹرانک میڈیا اسے بہت مہارت کے ساتھ استعمال کررہا ہے، شخصیات کے تھری ڈی کارٹون بھی عجلت میں بن جاتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہیں کہ تحقیر، تذلیل، اہانت اور طنز و مزاح میں فرق ملحوظ رکھا جائے۔ رسول اﷲﷺ نے چند مواقع پر مزاح فرمایا لیکن نہایت لطیف اور حسین پیرایہ اظہار میں۔ مثلا
1… ایک بوڑھی خاتون نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا یارسول اﷲﷺ! اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمایئے کہ مجھے جنت میں داخل فرمادے۔ آپﷺ نے (اس خاتون کا نام لیکر ) فرمایا اے ام فلاں! جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہیں ہوگی، راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر خاتون روتے ہوئے لوٹنے لگیں تو آپﷺ نے فرمایا: اسے بتائو ’’ہم نے ان عورتوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ کنواریاں ہی رہتی ہیں‘‘ (الواقعہ ۳۵ تا ۳۷) شمائل ترمذی ۲۴۶)
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اﷲ عزوجل نے مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا حقارت آمیز انداز تمسخر اڑانے، ایک دوسرے کی عیب جوئی کرنے، ایک دوسرے کو توہین آمیز ناموں سے پکارنے ، ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنے، دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے اور غیبت کرنے سے منع فرمایا اور غیبت کے گھنائونے پن کو ایک عبرتناک مثال کے ذریعے بیان فرمایا۔ اسی طرح دوسروں کی (صورت و سیرت کے بارے میں الفاظ، ارشادات و کنایات تحریر کے ذریعے) عیب جوئی اور طعن و تشنیع کرنے والوں کی سخت وعید فرمائی۔
لہذا میڈیا سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر باہمی اتفاق رائے سے کوئی نہ کوئی حدود مقرر کرے جو قانونی بندھن کے ذریعے نافذ نہ ہوں بلکہ اخلاقی بندھن کے ذریعے نافذ ہوں، یعنی سربراہ اپنے آپ کو قانون کے سامنے جوابدہ سمجھنے کے بجائے اپنے ضمیر اور اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دہ سمجھے، کیونکہ ہم آئے دن کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ چھوٹے اور بڑے کے لئے، غریب اور امیر کے لئے باوسائل اور بے وسیلہ کے قانون کی تنقید کے معیارات بدل جاتے ہیں۔ قانون کو فریب دیا جاسکتا ہے، قانون کو خریدا جاسکتا ہے، دولت جبر، رسوخ، دہشت اور اقتدار کی طاقت سے قانون کو بے بس بنایا جاسکتا ہے ، مگر اﷲ تعالیٰ کی ذات قادر مطلق ہے، اس پر کسی کا زور اور فریب نہیں چلتا۔