تعصب ایک خطرناک بیماری

in Tahaffuz, April 2014

ایک اچھے اسلامی معاشرے کی سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ عصبیت سے پاک ہو۔ عصبیت ایک ایسی بیماری ہے جو اچھی بھلی سوچ و عقل کے انسان کو انتشار کا شکار بنادیتی ہے کہ وہ حق بات بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا یا یوں کہیے کہ اس کے اندر باطنی طور پر ایسی ٹوٹ پھوٹ ہوچکی ہوتی ہے جس سے اس کا دل و دماغ اپنی منصفانہ اور تسلیم حق کی صفت کو کھو دیتا ہے۔
اسلام نے قرآن مجید اور سنت رسول کے ذریعہ انسانوں کو اس بیماری سے بچنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ مرض روحانی و اخلاقی کئی امراض کا پیش خیمہ ہے اس کے سبب لوگوں میں کئی مہلک امراض روحانی لاحق ہوجاتے ہیں جو پاکیزہ نفس کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ جیسے حسد، بغض، کسی پر بلاوجہ نظر حقارت ڈالنا، بہتان طرازی، سخت کلامی، حق تلفی، اہانت اور زور کلامی کے ساتھ دروغ گوئی کی آمیزش اور تجسس وغیرہ۔ یہ وہ گناہ کبائر ہیں جو ہر زمانہ اور ہر امت کے لئے ممنوع قرار دیئے جاتے رہے ہیں۔ اس امت مسلمہ کے لئے بھی قرآن و احادیث اور اقوال صحابہ و بزرگان دین کی تعلیمات کی روشنی میں اس مہلک مرض سے بچنے کی سخت تاکیدیں وارد ہیں۔ ایک مومن کے لئے یہ نہایت خطرناک اخلاقی بیماریاں ہیں اور اس کے انار صدہا صغائر گناہ پوشیدہ ہیں اور یہ سب امراض جیسا کہ عرض کیا گیا ایک گناہ عظیم یعنی تعصب کے گرد گھومتے ہیں اور اسی کے سبب سے یہ تمام اخلاقی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ تعصب میں سب سے پہلے بغض و حسد اور بے اعتنائی پیدا ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ان کی ممانعت آئی ہے۔
چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔
ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال لاتباغضوا ولا تفاسدوا ولا تدابروا۔ و کونوا عباداﷲ اخوانا ولا یعل لمسلم ان یہجر اخاہ فوق ثلاثۃ ایام (بخاری و مسلم)
رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے بے اعتنائی کا اظہار نہ کرو بلکہ اﷲ کے مخلص بندے ہوکر آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی مسلمان کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق ختم کرے۔
اور بدکلامی جو تعصب کی وجہ سے بہت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے اس کے متعلق ارشاد رسولﷺ ہے۔
عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما قال لم یکن النبیﷺ فاحشا ولا متفحشا وکان یقول ان من خیارکم احسنکم اخلاقا (بخاری و مسلم)
حضرت عبداﷲ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبیﷺ بدکلامی سے کوسوں دور تھے۔ آپ نے بدکلامی کبھی نہیں فرمائی۔ آپ فرمایا کرتے تھے ہم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے زیادہ بہتر ہیں‘‘
شیطان جب کسی قوم سے بڑے مظالم اور گناہ کرانا چاہتا ہے تو اس کے اندر دوسرے افراد کے حق میں تعصب و حسد کے جذبات بھڑکا دیتا ہے۔ یہی اس کی تحریک ہزار ہا برائی کی جڑ ثابت ہوتی ہے اور تعصب میں انسان اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے جہاں بڑا سے بڑا گناہ اسے گناہ نہیں دکھائی دیتا۔ بظاہر اسباب کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر اصل سبب تعصب ہی ہوتا ہے۔ اسی کے اندر مندرجہ بالا برائیاں پنہاں ہوتی ہیں۔ مثلا قرآن کریم میں واقعہ ہابیل و قابیل (المائدہ ۲۶ تا ۳۰) کا ذکر ہے۔ قابیل نے ہابیل کا قتل کیا۔ یہ بنی نوع انسان کا پہلا قتل تھا جو حسد و بغض، حق تلفی اور تعصب کی بنیاد پر ہوا۔
اس میں سبب ظاہری اقلیما کا حسن تھا جو قابیل کی حقیقی بہن تھی یعنی قابیل و اقلیما ایک حمل سے پیدا ہوئے اور ہابیل ولیود ایک حمل سے (لیودا کم خوب صورت تھی) حضرت آدم علیہ السلام کو حکم الٰہی تھا کہ ایک ہی حمل کے دو بچوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اقلیما ہابیل سے منسوب ہوئیں۔ یہ بات قابیل کو اچھی نہیں لگی اور اسے ہابیل سے حسد و تعصب ہوا اور اس نے ہابیل کو قتل کردیا۔ یہ قابیل کی اپنی خباثت اور اخلاقی بیماری تھی اس میں اقلیما یا اس کے حسن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ قابیل کا تعصب ہی تھا جس نے اس کی آنکھوں میں ایسی پٹی باندھ دی تھی جس کی وجہ سے اس کو دوسرے (ہابیل) کا حق دکھائی نہیں دیا۔ تعصب کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ وہ انسان کے اندر سے حق شناسی اور تسلیم حق کی صلاحیت ختم کردیتا ہے۔ چنانچہ قوم مصر (قبطی) جو فراعنہ مصر کی قوم تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل پر تعصب کی بنیاد پر بے پناہ ظلم ڈھاتے تھے اور حضرت موسیٰ کے دین کو حق مانتے تھے۔
خود اﷲ کے سچے رسول حضرت محمد رسول اﷲﷺ کے زمانہ کے یہود اور منافقین مدینہ باطنی طور پر آپ کو سچا نبی جانتے اور پہچانتے تھے لیکن تعصب کی وجہ سے آپ پر اخلاص کے ساتھ ایمان نہ لاتے تھے۔ قرآن نے ان کی اس باطنی متعصبانہ روش کا یوں پردہ چاک کیا ہے۔
الذین اٰتینٰہم الکتٰب یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ہم الذین خسروا انفسہم فہم لایومنون (انعام: آیت ۲۰)
ترجمہ: جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس نبی (محمدﷺ) کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی تو وہ ایمان نہیں لایا۔
اسی طرح مشرکین مکہ کے بعض سردار اسلام اور پیغمبر اسلام کو باطنی طور پر حق جانتے تھے لیکن اسلام لانے میں اس لئے دیر کررہے تھے کہ بنی ہاشم ہم سے ہر لحاظ سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔ اس لئے حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اﷲ عنہ نے مکہ کی فتح کے وقت تک جنگ جاری رکھی۔
تعصب کی وجہ سے حق قبول نہ کرنے کے واقعات تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں بھرے پڑے ہیں۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے زمانہ میں قوم یمامہ کے ایک شخص مسیلمہ بن کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اور اس کی قوم اس کی حمایت میں تعصب کی وجہ سے کھڑی ہوگئی اور اہل یمامہ کہتے تھے کہ مضر کا نبی سچا ہے (یعنی محمد رسول اﷲﷺ) لیکن مضر کے سچے نبی سے ہم کو اپنے قبیلے کا جھوٹا نبی پیارا ہے (معاذ اﷲ) (تاریخ اسلام معین الدن ندوی، ج ۲)
یہ ہے تعصب کا کمال کہ اتنی بڑی سچائی کو جانتے ہوئے بھی حق بات تسلیم نہ کرنا۔ یہ سراسر محرومی ہے اور ہر انسان دین و ملت اور معاشرہ کے لئے بہت خطرناک بات ہے۔ آج مسلمانوں میں فرقہ بندی اور طبقاتی و علاقائی تعصب جڑ پکڑ گیا ہے۔ اس نے ایک دوسرے کی اچھی خصوصیات کو بھی تسلیم کرنے سے روک دیا ہے اور معاشرتی طور پر بھی مل بیٹھ کر مفاہمت کے ساتھ کسی قضیہ اور مسئلہ کے حل کے سارے دروازے بند کررکھے ہیں۔
آج اگر ہم اقوام عالم خاص طور پر یورپ و امریکہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح متحد ہورہے ہیں۔ نیٹو یورپی یونین وغیرہ بلاک بنا رہے ہیں۔ یہودی و نصاریٰ اور دنیا کی دیگر غیر مسلم قومیں کس طرح متحد ہوکر اور اشتراکی حیثیت سے گروپ کی شکل میں دنیا پر خاص طور پر مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ یہ وہی قومیں ہیں جنہوں نے کبھی آپس میں عالمگیر جنگیں لڑی تھیں۔ ملک کے ملک تباہ کئے تھے جن کے اندر عصبیت کے اتنے رنگ تھے انگریز، فرانسیسی، جرمن، آرین، غیر آرین Semitic reces Non sametic کالے اور گورے کا فرق، ایشین اور غیر ایشین کا فرق، آج یہ ساری اقوام ایک ہورہی ہیں اور جس کے رسول و پیغمبر علیہ السلام نے کالے اور گورے کا فرق، عربی و عجمی کا فرق، امیر و غریب کا فرق سب ختم کردیا ہو، اس قوم میں آج تعصب کا مرض دل سے نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی برادریاں خود ایک دوسرے کو ذات او رپیشہ کا نام لے لے کر ذلیل کرتی رہتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اسلام کی وجہ سے برابر عزت حاصل ہے۔ العزۃ للمسلمین… یہ سب دل کی اخلاقی اور روحانی بیماری ہے ہم کو اس سے بچنا ہوگا اور اپنے دل کو علاقائی ذات پات ہر تعصب سے بچانا ہوگا۔ دنیاوی اعتبار اور آخرت کی رو سے بھی ایسا کرنا ہم پر لازم ہے۔ اﷲ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا قسدت فسدا لجسد کلہ الا وہی القلب (بخاری و مسلم)
خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اور اگر وہ سلامت ہے تو سارا جسم سلامت ہے لیکن جب وہ مریض ہوجاتا ہے تو سارا جسم مرض (گناہ) کا شکار ہوجاتا ہے۔ یاد رہے جسم میں گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو تعصب کی خطرناک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین