لاعلمی کا اعتراف بھی ایک علم ہے

in Tahaffuz, April 2014

ہمارا مذہب علم و معرفت کی شمع روشن کرکے جہالت کے اندھیرے دور بھگانے کی دعوت دیتا ہے وہ اپنے ماننے والوں پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
طلب العلم فریضہ علیٰ کل مسلم
علم کی تلاش و جستجو ہر مسلمان پر فرض ہے۔
اسی لئے وہ علم والوں اور بے علموں کو ایک درجے میں رکھنے کا قائل نہیں۔ ارشاد ربانی ہے۔
ہل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون (الزمر ۳۹، آیت ۹)
کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں، یعنی دونوں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔
اس مذہب مہذب میں عالم کو غیر عالم پر کھلی ہوئی فضیلتاور برتری حاصل ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
ان فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلۃ البدر علی سائر الکواکب
یقینا عالم کو عابد پر وہی فضیلت و برتری حاصل ہے جو چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر۔
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا ذکر ہوا: ایک عبادت گزار اور دوسرا عالم تو سرکار اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا۔
فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔
ہمارے مذہب میں علم کی تلاش و جستجو اور اس کو حاصل کرنے کا یہ مقام و مرتبہ ہے کہ جو طلب علم کے لئے سفر کرے، وہ جنت کے راستے پر چلنے والا قرار پاتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء رضی اﷲ عنہ کے حوالے سے سرکار اقدسﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے۔
من سلک طریقاً یطلب فیہ علماً سلک اﷲ بہ طریقاً من طرق الجنۃ
جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے کسی راستے پر چلائے گا۔
مذہب اسلام میں علم کی یہ اہمیت ہے کہ رات میں تھوڑی دیر علمی مذاکرہ کرنا، اسے پڑھنا پڑھانا پوری رات نفلی عبادت کرنے سے بہتر ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔
تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائھا
رات میں تھوڑی دیر علم کا پڑھنا پڑھانا، پوری رات (نفلی) عبادت کرنے سے بہتر ہے
دوسری جانب ہمارے لئے یہ حکم بھی ہے کہ ہم پوری محنت اور کوشش سے علم حاصل کرنے کے باوجود اپنے اندر ’’ہمہ دانی‘‘ کا احساس ہرگز پیدا نہ ہونے دیں اور وہ اپنے ذہن و دماغ میں ہر وقت یہ خیال بسائے رکھیں کہ ہمارا علم خواہ کتنا بھی ہو، وہ قلیل اور تھوڑا ہی ہے، مکمل اور پورا ہرگز نہیں۔
قرآن کریم میں ہے۔
وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً (الاسرا، ۱۷، آیت ۸۵)
اور تمہیں تھوڑا ہی علم دیا گیا
اس ربانی ارشاد کو سننے کے بعد کسی بھی بندۂ مومن کے ذہن میں یہ خیال ہرگز نہیں آسکتا کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر علم کے کوئی بات بتانا ہمارے مذہب میں سنگین جرم اور گناہ کا کام ہے اور اگر اس بات کا تعلق قرآن کریم اور حدیث نبوی سے ہو، تو اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
من قال فی القرآن برایہ فلیتبواً مقعدہ من النار و فی روایۃ من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار (رواہ الترمذی
جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے تو اسے اپنا ٹھکانا جہنم کو سمجھنا چاہئے، اور ایک روایت میں یوں ہے۔ جو شخص قرآن میں بغیر علم کے کچھ کہے اسے اپنا ٹھکانا جہنم سمجھنا چاہئے۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
اتقوا الحدیث عنی الا ما علمتم فمن کذب علی متعمداً فلیتبوا مقعدہ من النار
میری حدیث روایت کرنے سے بچو، سوائے ان حدیثوں کے جن کا تمہیں علم ہے کہ جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔
بلکہ جو شخص بغیر علم کے اپنے اندازہ سے کوئی بات بتائے اور اتفاقا وہ بات صحیح بھی ثابت ہوجائے تب بھی ہمارا مذہب اسے مجرم اور خطاکار قرار دیتا ہے، کیونکہ اس نے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔
حضرت جندب بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے۔
من قال فی القرآن برایہ فاصاب فقد اخطاً رواہ الترمذی وابو دائود
جس شخص نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ بیان کیا اور وہ صحیح نکلا تب بھی اس نے غلط کام کیا۔
بلکہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے۔
حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کی یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔
ان اﷲ لایقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد، ولکن یقبض العلم بقبض العلمآء حتی اذا لم یبق عالماً اتخذ الناس رووساً جہالاً فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا (متفق علیہ)
بے شک اﷲ تعالیٰ اس طرح علم نہ اٹھائے گا کہ اسے بندوں سے کھینچ لے،بلکہ علماء کو اٹھا کر اسے اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب (زمین پر) کسی عالم کو باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ جاہل بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو خود گم راہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گم راہ کریں گے۔
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’پیشوا سے مراد قاضی، مفتی، امام اور شیخ ہیں، جن کے ذمہ دینی کام ہوتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ دینی عہدے جاہل سنبھالیں گے اور وہ اپنی جاہلیت کا اظہار ناپسند کریں گے، مسئلہ پوچھنے پر یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں خبر نہیں، بلکہ بغیر علم کے من گھڑت غلط مسئلے بتائیں گے، اس کا انجام ظاہر ہے، بے علم طبیب مریض کی جان لیتا ہے اور جاہل مفتی اور خطیب ایمان برباد کرتے ہیں۔
اوپر کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی شخص کو تمام چیزوں کا علم نہیں اور جن باتوں کا صحیح علم نہ ہو تو ان کے بارے میں صرف اندازہ سے کسی کو کچھ نہیں بتانا چاہئے۔ بلکہ اس کے لئے علم یہ ہے کہ ’’ہمہ دانی‘‘ کا خیال اپنے ذہن و دماغ سے نکال کر سائل کے سامنے صاف لفظوں میں اپنی بے علمی کا اعتراف کرلے، اس لئے کہا گیا ہے کہ ’’لاادری نصف العلم‘‘ (اپنی لاعلمی کا اعتراف بھی آدھا علم ہے)
مشہور صحابی رسول حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔
یاایھا الناس من علم شیئاً فلیقل بہ و من لم یقلم فلیقل: اﷲ اعلم، فان من العلم ان تقول لما لاتعلم، اﷲ اعلم
لوگو! جو شخص کسی چیز کو جانتا ہو تو اسے بیان کرے، اور نہ جانتا ہو وہ کہے: اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (مجھے اس کی جانکاری نہیں) کیونکہ یہ بھی ایک طرح کا جاننا ہی ہے کہ تم جس بات کو نہیں جانتے اس کے بارے میں (صاف) کہہ دو کہ اﷲ خوب جانتا ہے۔
اسلاف کرام کی مقدس زندگی پر ایک نظر
ہمارے مقدس اسلاف، اسلام کی اس پاکیزہ تعلیم پر پوری طرح عامل تھے۔ اس لئے جب بھی ان کی بارگاہ میں کسی ایسی چیز سے متعلق سوال ہوا، جس کے بارے میں انہیں صحیح جانکاری نہیں تھی، تو انہوں نے کسی تکلف اور تصنع سے کام نہ لیا بلکہ اپنی حیثیت عرفی کی پرواہ کئے بغیر پوری وضاحت اور صفائی کے ساتھ اپنی لاعلمی کا اعتراف کرلیا۔
ذیل میں چند اسلاف کرام کی مبارک زندگی سے اس کے روشن نمونے نذر قارئین ہیں۔
(۱) خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بے شمار فضائل و کمالات کے مالک ہیں۔ مختصر یہ کہ آپ افضل الخلق بعد الانبیاء (نبیوں کے بعد ساری مخلوق سے افضل) ہیں۔ آپ نے رسول اکرمﷺ سے خوب خوب فیض صحبت پایا۔ سفر و حضر میں سرکار کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ ہجرت کے جاں گداز اور مشقت خیز سفر میں آپ کو سرکار اقدسﷺ کے ہم رکاب رہنے کا موقع نصیب ہوا۔ آپ قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے خوب خوب واقف و آگاہ تھے۔
ان سب کے باوجود آپ سے سورۂ عبس کی آیت: وفآکہۃ واباً میں ’’آباً‘‘ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔
ایی سماء تظلنی وای ارض تقلنی اذا قلت فی کتاب اﷲ مالا علم لی بہ
کون سا آسمان مجھ پر سایہ فگن ہوگا اور کون سی زمین میرا بوجھ اٹھائے گی جب میں کتاب اﷲ کے بارے میں ایسی بات کہوں گا جس کا مجھے علم نہیں۔
یعنی اس لفظ کے بارے میں مجھے یقینی طور پرمعلوم نہیں۔ اس لئے میں اس کے تعلق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر بغیر جانے ہوئے کچھ کہوں تو میں اس زمین کے اوپر اور آسمان کے سایے میں رہنے کے لائق نہیں۔
(۲) حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ
آپ خلیفہ دوئم سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے صاحب زادے ہیں۔ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا آپ کی حقیقی بہن تھیں۔ آپ کے فضائل و مناقب بہت ہیں۔
شیخ ولی الدین محمد بن عبداﷲ خطیب تبریزی لکھتے ہیں
کان من اہل الورع والعلم والزہد، شدید التحری والاحتیاط، قال جابر بن عبداﷲ، مامنا احدً الا مالت بہ الدنیا ومال بہا ماخلا عمر وابنہ عبداﷲ، وقال میمون بن مہران، مارأیت اورع من ابن عمر
آپ صاحب تقویٰ، صاحب علم، صاحب زہد ورع اور محتاط بزرگ تھے۔ حضرت جابر بن عبداﷲ کا بیان ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو دنیا نے اپنی طرف مائل کیا اور اس کی طرف کچھ نہ کچھ جھکائو ہوا۔ سوائے حضرت عمر اور ان کے صاحبزادے عبداﷲ کے۔ میمون بن مہران کا بیان ہے: میں نے ابن عمر سے زیادہ پرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا۔
آپ ہمیشہ حق پر قائم رہے۔ حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ آپ بھی ان بزرگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے یزید کی بیعت نہیں کی۔
ان سب فضائل و کمالات کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کو جن باتوں کا صحیح علم نہ ہوتا انہیں بیان نہ فرماتے تھے۔
امام شمس الدین ذہبی نے، حضرت قاسم بن محمد رضی اﷲ عنہ کا یہ قول اپنی کتاب ’’سیرالعلام النبلائ‘‘ میں اس طرح نقل فرمایا۔
’’حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ میری خوب نشست و برخاست رہی تو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے یہاں تقویٰ اور احتیاط کے ساتھ علم کی کثرت اور فراوانی دیکھی، اور یہ دیکھا کہ جن باتوں کا انہیں علم نہ ہوتا، ان کو بیان کرنے سے گریز کرتے تھے
(۳) حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہم
آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پوتے، اور حضرت محمد بن ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے صاحبزادے تھے۔ آپ کی صاحبزادی ام فروہ، حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ کی والدہ تھیں۔ جب ۳۸ھ میں آپ کے والد گرامی حضرت محمد بن ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو مصر میں شہید کردیا گیا تو اس وقت آپ کم سن تھے ۔ اس لئے آپ کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت یتیمی کی حالت میں آپ کی پھوپھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے یہاں ہوئی اور آپ حضرت ام المومنین کے علمی فیضان سے خوب بہرور ہوئے۔ آپ سے دو سو حدیثیں مروی ہیں
آپ کبار تابعین اور مدینہ طیبہ کے سات مشہور فقہاء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ حافظ شمس الدین ذہبی نے ان الفاظ میں آپ کے علمی مقام و مرتبہ کا اظہار کیا ہے۔
الامام، الحافظ، الحجۃ، عالم وقتہ بالمدینۃ مع سالم و عکرمۃ
آپ امام و مقتدائ، حافظ، حجت اور حضرت سالم اور عکرمہ کے ساتھ ہی اپنے وقت میں مدینہ منورہ کے عالم و فقیہ تھے۔
حضرت یحییٰ بن سعید انصاری کہتے ہیں۔
ماادرکنا بالمدینۃ احداً نفضلہ علی القاسم
ہمیں مدینہ منورہ میں کوئی ایسا شخص نہ ملا جسے قاسم بن محمد پر فوقیت دیں۔
امام مالک کے استاذ حضرت ابوالزناد کہتے ہیں۔
مارایتہ احدا اعلم بالسنۃ من القاسم بن محمد، وماکان الرجل یعد رجلاً حتی یعرف السنۃ وما رایت احدً ذہناً من القاسم
میں نے قاسم بن محمد سے بڑھ کر حدیث کا عالم کوئی شخص نہیں دیکھا۔ جبکہ اس وقت کسی آدمی کو آدمی نہیں شمار کیا جاتا تھا جب تک وہ حدیث کا علم نہ رکھتا ہو اور میں نے قاسم بن محمد سے زیادہ ذہین آدمی نہیں دیکھا۔
مگر اس جلالت علمی کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ سوالوں کے جواب دینے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے اور جواب معلوم نہ ہونے کی صورت میں صاف صاف اپنی لاعلمی کا اظہار فرمادیتے، یا خاموش رہتے تھے۔
حضرت امام مالک سے منقول ہے کہ مدینہ کا ایک حاکم حضرت قاسم کے پاس حاضر ہوا اور ان سے کوئی بات پوچھی، تو انہوں نے فرمایا۔
ان من اکرام المرء نفسہ ان لا یقول الا ما احاط بہ علمہ
انسان کو جو معلوم ہو وہی بتائے تو وہ خود اپنی عزت افزائی کرتا ہے۔
حضرت یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
لان یعیش الرجل جاہلاً بعد ان یعرف حق اﷲ علیہ، خیرلہ من ان یقول مالا یعلم
انسان فرائض و واجبات سے آگاہ ہونے کے بعد (دیگر چیزوں سے) بے علم رہ کر زندگی گزارے۔ یہ اس کے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ ایسی بات بیان کرے جس کا اسے علم نہ ہو۔
حضرت ابو الزناد فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد صرف اسی چیز کا جواب دیتے تھے جو ان کے نزدیک ظاہر اور عیاں ہوتی
(۴) حضرت امام مالک بن انس رضی اﷲ عنہ
آپ ان چار ائمہ مجتہدین میں سے ہیں جن کے مقلدین اورپیروکار آج بھی بڑی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کی ولادت ۹۵ھ اور وفات ۱۷۹ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہیں کے قبرستان جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔
آپ شہر رسول ’’مدینہ منورہ‘‘ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ آپ کی سوانح نگاروں کا بیان ہے کہ بڑھاپے کی عمر میں جب آپ بہت ضعیف اور کم زور ہوگئے تھے۔ اس کے باوجود کبھی مدینہ منورہ میں سواری پر سوار نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے:
لاارکب فی مدینۃ فیہا جثۃ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدفونۃ
میں اس شہر میں سواری نہیں کروں گا جس میں رسول اﷲﷺ کا جسم اطہر مدفون ہے۔
آپ شہر رسول ہی کی طرح حدیث رسول کا بھی حد درجہ احترام کرتے تھے۔ جب حدیث بیان کرنا ہوتا تو پہلے وضو کرتے، داڑھی میں کنگھا کرتے اور پورے وقار کے ساتھ مسند نشیں ہوتے، پھر حدیث بیان کرتے، لوگوں نے جب آپ سے اس قدر احتیاط اور اہتمام کا سبب دریافت کیا تو فرمایا۔
احب ان اعظم حدیث رسول اﷲﷺ ولا احدث بہ الا علیٰ طہارۃ متمکنا
مجھے رسول اﷲﷺ کی حدیث کی تعظیم و تکریم محبوب ہے اور (اسی لئے) میں بیٹھ کر باوضو حدیث بیان کرتا ہوں۔
ان کے علمی تبحر کا اندازہ اس سے لگایئے کہ حدیث نبوی میں ان کے بارے میں پیشین گوئی آئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
یوشک ان یضرب الناس اکباد الابل یطلبون العلم فلا یجدون احداً اعلم من عالم المدینۃ (رواہ الترمذی) (۲۱)
لوگ علم کی تلاش و جستجو کرتے ہوئے اونٹوں کو دوڑاتے پھریں گے تو عالم مدینہ سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں ’’لولامالک وابن عیینۃ لذب علم الحجاز‘‘
اگر امام مالک اور حضرت سفیان عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہوجاتا۔
امام شافعی سے یہ بھی منقول ہے
اذا ذکر العلماء فمالک النجم
جب علماء کا تذکرہ ہو تو امام مالک ثریا ستارہ کی طرح ہیں۔
مگر اس عالمانہ، فقیہانہ اور محدثانہ جلالت شان کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کو جن باتوں کا یقینی علم نہ ہوتا ان کے بارے میں صاف فرمادیتے کہ یہ بات مجھے معلوم نہیں۔
حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں:
ان مالکاً سئل عن اربعین مسئلۃ فاجاب عن اربعۃ، وقال فی ست وثلاثین: لأ ادری
امام مالک سے (ایک مجلس میں) چالیس مسئلے پوچھے گئے تو آپ نے صرف چار کا جواب دیا اور چھتیس مسائل کے بارے میں فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
(۵) حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی رضی اﷲ عنہ چار مشہور ائمہ مجتہدین میں نمایاں اور ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔ آپ رسول اکرمﷺ کی بشارت ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت سے رسول اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔
لوکان العلم بالثریا لتناولہ اناس من ابتاء فارس
اگر علم اوج ثریا پر (معلق) ہو تو وہ بھی اسے اہل فارس سے چند لوگ حاصل کرلیں گے۔
امام جلال الدین سیوطی نے تبییض الصحیفہ (ص ۳) پر علامہ ابن حجر مکی نے ’’الخیرات الحسان‘‘ (ص ۱۴) پر اور علامہ ابن عابدین شامی نے ردالمحتار (ج ۱، ص ۳۷) پر صراحت کے ساتھ لکھا کہ اس سے مراد امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ ہیں۔
چاروں ائمہ مجتہدین میں سے صرف امام اعظم رضی اﷲ عنہ ہی تابعی ہیں، آپ علم حدیث و فقہ میں اکابر صحابہ و تابعین کے وارث ہیں۔ سارے ممتاز محدثین کے بلاواسطہ یا بالواسطہ استاد ہیں۔ آپ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے بھی بالواسطہ شیخ ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں چالیس ایسی باکمال عالم و فقیہ ہیں جو منصب اجتہاد پر فائز ہیں۔
فقہ و اجتہاد اور علمی و دینی فضل و کمال میں آپ ایسی مسلم الثبوت شخصیت کے مالک ہیں کہ بڑے بڑے محدثین اور ائمہ مجتہدین نے کھلے الفاظ میں آپ کی اس حیثیت کا اعتراف کیا ہے۔
امام شافعی علیہ الرحمہ والرضوان سے روایت ہے کہ امام مالک سے پوچھا گیا: کیا آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
نعم، رایت رجلاً لوکلمک فی ہذہ الساریۃ ان یجعلہا ذہبا لقام بحجتہ
ہاں، میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے اگر وہ تم سے اس ستون کے سونا ہونے کا دعویٰ کریں تو دلیل سے اسے ثابت کردیں۔
یہی امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
من اراد ان یتبحر فی الفقہ فہو عیال علی ابی حنیفۃ
میں نے حضرت مسعر بن کدام کو امام ابو حنیفہ کے حلقہ درس میں ان سے سوالات کرتے اور استفادہ کرتے دیکھا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔
حضرت معمر فرماتے ہیں:
’’میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو لغت میں اچھی طرح گفتگو کرسکتا ہو، قیاس بھی کرسکتا ہو، حدیث کی توضیح وتشریح بھی کرسکتا ہو اور ان امور میں امام ابو حنیفہ سے زیادہ علم رکھتا ہو‘‘
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں:
’’ہم لوگ امام ابو حنیفہ کے سامنے اس طرح تھے جیسے با زکے سامنے چڑیا ہوں ، ابو حنیفہ علماء کے سردار ہیں‘‘
٭٭٭