احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (تیسری قسط)

in Articles, Tahaffuz, June 2011, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, نماز

آیئے قارئین! اس قسط میں سب سے پہلے اس موضوع کو زیر بحث لاتے ہیں کہ احناف قیام میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے کیوں باندھتے ہیں۔ اس سلسلے میں احادیث کریمہ کی روشنی میں ہمیں کیادرس ملتا ہے۔ اصل قیام تو خود دلیل قطعی نصِقرآن عظیم سے ثابت ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

وقومو اﷲ قانتین…

اور اﷲ کے حضور عاجزی سے کھڑے ہوجائو (البقرہ آیت 238)

اب مسئلہ یہ ہے کہ مطلق قیام تو امر الٰہی کے تحت فرض ہوا مگر اس میں دونوں ہاتھوں کی پوزیشن واضح نہ ہوئی کہ آیا دونوں کھلے رکھیں یا باندھیں۔ داہنا اوپر ہو یا بایاں ہاتھ اوپر ہو۔ سینے پر باندھیں یا ناف پر، یا دونوںکے بیچ میں پیٹ پر یا ناف کے نیچے تک لے جائیں۔ احوط ہمارے نزدیک زیر ناف ہاتھوںکاباندھنا ہے۔ اس طرح کے بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں ہاتھ اس کے اوپر ہو۔ احادیث کریمہ اسی کی تائید کرتی ہیں۔ دیگر روایات جن میں اس کے خلاف طریقے بیان ہوئے ہیں ان کی فنی حیثیت ان روایات سے کم ہے جو وضع الیدین تحت السرۃ کی موید ہیں۔ چنانچہ امام بخاری کے استاد الاستاذ امام عبداﷲ بن محمد بن ابی شیبہ علیہ الرحمہ اپنی ’’مصنف‘‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان میں یوں رقم طراز ہیں۔

حدثنا وکیع عن موسیٰ بن عمیر عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن ابیہ قال رأیت النبیﷺ وضع یمینہ علیٰ شمالہ فی الصلوٰۃ تحت السرۃ

امام ابن ابی شیبہ سے حضرت وکیع از موسیٰ ابن عمیر از علقمہبن وائل بن حجر روایت بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ (وائل بن حجر) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک، صاحبِ لولاکﷺ کو اپنی نماز میں دایاں دست اقدس بائیں دست اقدس پر رکھتے ہوئے دیکھا۔

اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے محشیٔ کتاب الآثار یوں رقم طراز ہیں:

قال الحافظ قاسم بن قطلوبنا اسنادہ جید (کتاب الاثآر جلد 7 ص 34)

امام حافظ الحدیث بن قطلوبنا فرماتے ہیں۔ اس حدیث کی راویوں کی کڑی بڑی عمدہ ہے۔

امام الاولیائ، مولائے کائنات، علی المرتضیٰ، شیر خدا کرم اﷲ وجہ للاسنیٰ اس ہاتھ باندھنے کی کیفیت کے بارے میں واضح ترین لفظوں میں ارشاد فرماتے ہیں۔

ان من سنۃ الصلوٰۃ وضع الیمین علی الشمال تحت السرۃ

یعنی نماز کی سنتوں میں سے یہ بھی کہ داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر زیر ناف رکھنا(ناف کے نیچے رکھنا)

احناف کے مشہور محدث شارح بخاری علامہ بدر الدین محمود العینی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف لطیف عمدۃ القاری بشرح صحیح بخاری میں یوں رقم طراز ہیں:

وقول علی ان من السنۃ ہذا اللفظ یدخل فی المرفوع عندہم وقال ابو عمر فی المنتقی واعلم ان الصحابی اذا اطلق اسم السنۃ فالمراد بہ سنۃ النبیﷺ

یعنی حضرت علی پاک کا یہ کہنا کہ ہاتھ زیر ناف رکھنا سنت ہے، اس سے یہ حدیث مرفوع بن جاتی ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں جب صحابی کسی بات پر سنت کا اطلاق کرے تو اس سے مراد سنت نبوی ہوتی ہے۔

ائمہ شوافع میں سے شارع صحیح مسلم امام نووی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

واما اذا قال الصحابی امرنا بکذا اونبینا عن کذا اومن السنۃ کذا فکلہ مرفوع علی المذہب الصحیح الذی قال الجمہور من اصحاب الفنون (مقدمہ شرح صحیح مسلم مطبوعہ کراچی ص 17)

اور جب صحابی یہ فرمائے کہ ہمیں فلاں چیز کا حکم دیا گیا یا ہمارے نبی کریمﷺ سے یہ بات ثابت ہے یا فلاں چیز سنت ہے تو سب مذہب صحیح پر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ اصحاب فنون کی تحقیق یہی ہے۔

امام عینی و نووی علیہما الرحمہ کے علاوہ دیگر محققین کی بھی یہی تحقیق ہے کہ صحابی رسولﷺ جب کسی معاملے کوسنت کہے اس سے مراد سنت نبوی ہوتی ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہ بھی یہی رائے رکھتے تھے اور جمہور محدثین کی تصنیفات اس امر کی تحقیق سے مالا مال ہیں اور یہ طے شدہ امر ہے کہ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں بلکہ سبھی کا اتفاق ہے اور ایسی سنت نبوی جس پر دوای  عمل ثابت ہو اور ترک نہ کیا گیا ہو، اور نہ ہی ترک کا حکم دیا گیا ہو، اس پر عمل کرنا امت کے لئے بھلائی ہی بھلائی اور برکت ہی برکت ہے۔

امام محمد بن حسن شیبانی محرر مذہب حنیفہ کتاب الآثار ص 34 مطبوعہ بیروت پر رقم طراز ہیں:

قال اخبرنا الربیع عن ابی معشر عن ابراہیم (النخعی) انہ کان یضع ہدۃ الیمنی علی یدہ الیسریٰ تحت السرۃ

امام محمد از ربیع از ابو معشر از ابراہیم نخفی بیان کرتے ہیں کہ امام ابراہیم نخعی (امام اعظم کے استاذ الاستاذم نماز میں بحالت قیام دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھتے تھے)

امام نخعی کے امام اعظم، فقیہ اضخم سیدنا نعمان بن ثابت کوفی رضی اﷲ عنہ کے استاذ الاستاذ اور اس امت کے جلیل القدر رہنما، افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الراشدہ سیدنا عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے تلمیذ ہیں۔ اور ابن مسعود ان کے استادتھے، ان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے تھے۔

مااخذ شیئاً و ما اعلم شیئاً الا وعقلمۃ یقرہ ویعلمہ

(تذکرہ الحفاظ ص 48)

یعنی جو کچھ میں پڑھتا اور جانتا ہوں اسے علقمہ بھی پڑھتے اور جاتنے ہیں۔

ابراہیم نخعی حضرت علقمہ کے بھانجے اور لائق ترین شاگرد ہیں۔ انہیں افقہ الصحابہ کا خصوصی فیضان بواسطہ علقمہ حاصل ہے۔ ان کا عمل یقینی طور پر عمل علقمہ اور عمل علقمہ یقینی طور پر عمل ابن مسعود ہے اور ابن مسعود کا عمل یقینی طور پر عمل نبوی کی پیروی ہوگا۔

امام اعظم کی مسند کے مقدمہ میں ہے :

رضیت لامتی مارضی ابن ام عبد وکرہت الامتی ماکرہ ابن ام عبد

یعنی حضور سرور عالمﷺ فرماتے ہیں۔ میں اپنی امت کے حق میں ہر اس بات کو پسند کرتا ہوں جسے عبداﷲ ابن مسعود پسند کرے اور ہر اس بات کو ناپسند جانتا ہوں جسے ابن مسعود ناپسند جانے۔

اسی حدیث کو امام ترمذی جیسے جلیل القدر محدث نے بھی بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابن مسعود کا عمل نبی پاکﷺ کا پسند فرمودہ ہے۔ اور ان کے تلمیذ التلمیذ کا عمل دونوں ہاتھ ناف کے نیچے اس طور پر باندھنا کہ داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہوتا تھا۔

ابو مجلز سے حالت قیام میں ہاتھوںکو باندھنے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس طرح ارشاد فرمایا:

قال یضمع باطن کف یمینہ علی ظاہر کف شمالہ و یجعلہا اسفل من السرۃ

دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے ظاہر پر ناف کے نیچے باندھے

(مصنف ابن شیبہ)

تہذیب التہذیب ج 12ص 227 پر ابو مجلزکو ابن عباس جیسے جلیل القدر صحابی رسول کے روایوں میں شمار کیا گیا ہے۔

علامہ علائو الدین علی بن عثمان متوفی 745ھ الجوہر النقی علی البیہقی ج 2ص 31 پر یوں رقم طراز ہیں:

قال ابن حزم وروینا عن ابی ہریرۃ وقال وضع الکف فی الصلوٰۃ تحت السرہ

ارشاد فرمایا ابن حزم نے کہ ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھا جائے۔

اسی مذکورہ کتاب میں مرقوم ہے

عن انس قال ثلاث من اخلاق النبوۃ تعجیل الافطار و تاخیر السحور وضع الید المینی علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ تحت السرہ

انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ تین چیزیں اخلاق نبوت میں سے ہیں۔ افطار میں جلدی کرنا، سحری دیر سے کرنا اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا۔

الحاصل دلائل مذکورہ سے ثابت ہوا کہ آنحضورﷺ، آپ کے اجداء صحابہ اور اجداء کرامت کے نزدیک نمازی کو بحالت قیام اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے اور اسی پر عمل سنت کریمہ ہے۔ اس کے برعکس دیگر طریقے مسنون نہیں ہیں۔ اس لئے حنفیوں کا عمل اس مسنون طریقے پر جاری و ساری ہے۔

٭٭٭