پیر سید صبغت اﷲ شاہ راشدی سوریہ بادشاہ

in Tahaffuz, March 2014

براعظم پاک و ہند کی آزادی اور حصول پاکستان کی طویل جہد مسلسل لاکھوں قربانیوں، ہزار علماء و مشائخ کی شہادتوں و جلا وطنی، قید و بند کی صعوبتوں کے نتیجے میں ہے۔ ان میں ایک نام 20 ویں صدی عیسوی کے مجاہد اعظم ہمت، جرأت اور استقامت کے پیکر پیر سید صبغت اﷲ شاہ راشدی ثانی المعروف سوریہ بادشاہ ہے۔ آپ 13 صفر 1327ھ بمطابق 6 مارچ 1909ء میں درگاہ راشدیہ پیر جو گوٹھ ضلع خیرپور میں خاندان سادات کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و روحانی تربیت والد صاحب کی نگرانی میں خانقاہ میں ہی حاصل کی۔ 1921ء میں والد محترم پیر سید مردان شاہ راشدی کی وفات کے بعد 12 سال کی عمر میں سجادہ نشین ہوئے۔ آپ کی چھٹے پیر پگارو کی حیثیت سے دستار بندی کی گئی۔ آپ نسبی طور پر حسینی سید اور طریقت میں حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی سے سلسلہ قادریہ میں وابستہ تھے۔ آپ بچپن سے ہی انتہائی نڈر، جرات مند جفاکش، محکم ارادے اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ جس وقت آپ نے پیر پگارو کی ذمہ داری سنبھالی۔ سندھ پر انگریز سامراج کا اقتدار عروج پر تھا۔ سوریہ بادشاہ کو یہ احساس بھی تھا کہ ان کے آبائو اجداد نے برطانوی سامراج کو للکارا تھا۔ 1928ء میں آپ نے حصول آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1895, 1890, 1829 میں آپ کے اسلاف نے فرنگیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔
آپ کی رگوں میں ان ہی مردان خدا کا خون موجزن تھا۔ آپ نے وطن یا کفن آزادی یا موت کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ سوریہ بادشاہ برطانوی سامراج سے کشیدگی بڑھنے لگی۔ 1930ء میں آپ کے خلاف بغیر لائسنس کے اسلحہ رکھنے کاجھوٹا مقدمہ درج کرکے گرفتاری عمل میں لای گئی۔ سکھر میں آپ کے خلاف انگریز عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کو وکیل صفائی کے لئے بلایا گیا۔ قائداعظم نے عدالت میں تمام الزامات کو جھوٹا ثابت کردیا۔ مگر انگریز ججز کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کے پیش نظر احتجاجاً مقدمے سے علیحدہ ہوگئے۔ آپ کو 8 سال سزا سنائی گئی۔ سندھ چیف کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی گئی۔ لیکن فیصلہ تبدیل نہ ہوا۔ ہزاروں میل دور رتنا گری، مدنا پور، علی پور جیلوں میں قید رہے۔ دوران قید آپ مریدوں اور حریت پسندوں سے رابطے میں رہے۔
اپ کے مکتوبات تنبیہ الفقراء کے نام سے کتابی شکل میں دستیاب ہے۔ اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے جس میں آپ نے مریدوں کی اخلاقی، روحانی و فکری تربیت کے لئے سنہری اصول قرآن، حدیث اور اقوال بزرگان دین سے بیان کئے ہیں۔ 25 نومبر 1936ء میں اعلیٰ اخلاق و کردار کی بنیاد پر سزا میں کمی کے بعد تقریبا 6 سال بعد رہا ہوکر آپ سندھ میں ایک فاتح کی حیثیت سے تشریف لائے۔ آپ نے آتے ہی حروں کو منظم کرنا اور غازی تحریک کی بنیاد رکھی۔ قابض انگریزوں کے خلاف جہاد آزادی کا حکم وطن یا کفن، آزادی یا موت کے نعرے میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ ساتھ ہی مریدوں کی اصلاح و روحانی تربیت پر خاص توجہ دی۔ 1937ء میں حج بیت اﷲ اور زیارت مدینہ و روضہ رسولﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے بعد سندھ لوٹے تو انگریز حکومت کی جانب سے آپ کی جاسوسی اور سرگرمیوں کی نگرانی کی جارہی تھی۔ 1940ء میں وطن دشمن عناصر سے تعلقات کے الزامات عائد کرکے کراچی بلوا کر یہیں قیام پر مجبور کیا گیا۔ ایک طرح سے آپ کو نظر بند کردیا گیا۔ مگر کچھ عرصہ قیام کے بعد گڑنگ بنگلہ سانگھڑ تشریف لے آئے مگر یہاں بھی نقص امن کے تحت گرفتار کرکے پولیس کی نگرانی میں نظر بند کردیئے گئے۔ ان ریاستی اقدامات سے حر مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف کارروائی تیز کردی۔ انگریز حکومت سخت سے سخت اقدامات کرنے لگی۔ حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔ وطن کی آزادی کی تحریک کو مسلح بغاوت کا نام دے کر حروں اور عقیدت مندوں کے خلاف جبر و تشدد کی انتہا کردی گئی۔ سانگھڑ میںواقع بنگلے کو بمباری کرکے تباہ کردیا گیا۔ حروں کے خلاف حکومت کی جانب سے فوجی ایکشن کیا گیا۔ 8 مئی 1948ء کو محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کئے گئے احکامات میں سوریہ بادشاہ کو امن دشمن قرار دیتے ہوئے کراچی میں فیملی کے ساتھ تاحکم ثانی قید کردیا ۔
جنوری 1943ء کو آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا جس کے بعد آپ کو سزائے موت کا حکم دیا گیا۔بالآخر 23 مارچ 1943ء میں حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی اور پھر نامعلوم مقام پر آپ کی خفیہ تدفین کی گئی جس پر عقیدت مند آج بھی لاعلم ہیں۔ تن سال تک حروں آبادیوں پر کرفیو لگایا گیا۔ تاریخ انسانی مں برطانوی عہد حکمرانی کا سیاہ ترین عمل میں ایک بھیانک عمل ہے۔ آج ہم سوریہ بادشاہ کی یاد منا رہے ہیں اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہمارے اس عمل سے سوریہ بادشاہ سے ہماری عقیدت و محبت کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہے گا جب تک ہم ان کے کردار و عمل کے پاسبان نہ بن جائیں ۔ظالم و جابر کے آگے کلمہ حق بلند نہ کریں، ہماری عقیدت محض لفظوں تک محدود رہے گی۔