عہد حاضر میں فکر رضا کی معنونیت

in Tahaffuz, March 2014

یورپی یونین نے پاکستان پر عائد تجارتی پابندیوں کو ختم کردیا جس پر پاکستان کے تاجروں نے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ جس دن یہ خبر الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز بنی، حکومتی حلقوں نے اسے وزیراعظم نواز شریف کی بڑی کامیابی قرار دیا اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی کوششوں کو اس میں بنیادی کردار بتایا گیا کیونکہ سرور صاحب گورنر پنجاب بننے سے قبل برطانوی شہرت کے حامل تھے اور وہاں کی سیاست میں بھی فعال تھے۔ اہل یورپ ان کی صلاحیتوں سے واقف تھے۔ اسی رات دنیا نیوز پر معروف صحافی و کالم نویس رئوف کلاسرا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور بالخصوص گورنر پنجاب کو جو کریڈٹ دیا جارہا ہے، حقیقت میں یہ کام زرداری صاحب نے شروع کیا، جو اب جاکر فائنل ہوا۔ تصویر کا ایک رخ آپ نے دیکھ لیا۔ اب آیئے تصویر کے دوسرے رخ کی جانب کہ یورپی یونین ہم پر مہربان کیوں ہوئی؟
پاکستان میں توہین ناموس رسالت کے قانون295C اور سزائے موت کے قانون میں تبدیلی اور خاتمے میں ناکامی کے بعد سامراجی طاقتوں اور یورپی یونین نے تجارت کی آڑ میں سزائے موت کے قانون کی غیر اعلانیہ منسوخی کی یقین دہانی حاصل کی اور عدالتوں میں سے سزا پانے والے مجرموں کی سزا پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔ زرداری صاحب کے پورے پانچ سال میں سزائے موت کے ایک بھی مجرم کواس جرم کی پاداش میں عدالتوں میں سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہیں کیا گیاجس میں انتہائی خطرناک مجرم پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے والے بھارتی جاسوس، بم دھماکوں اور اعلیٰ سویلین افسران و فوجی جرنیلوں کے قتل میں ملوث مجرموں کی سزا پر بھی عملدرآمد نہیں ہونے دیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی و لاقانونیت میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔ 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف کی حکومت آئی تو امید ہوچلی تھی کہ مجرموں کوکیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔ ممنون حسین کے صدر منتخب ہوجانے کے بعد میاں صاحب وطن دشمنوں کے خلاف عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے کوئی پابندی و مشکلات میں نہیں تھیں کہ اچانک طالبان و کالعدم تنظیموں کے خطرناک مجرموں کے دبائو کے نام پر مجرموں کی پھانسی پر عملدرآمد کے احکامات روک دیئے گئے۔ درحقیقت یہ کسی مقامی دبائو کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یورپی یونین کا تجارتی لولی پاپ تھا۔ جس میں پاکستانی تاجروں کی یورپ کی منڈیوں میں مشروط رسائی تھی کہ قانون ناموس رسالت کو منسوخ نہیں کرسکتے تو سزائے موت کے عمومی قانون کو منسوخ کردیا جائے۔ میاں صاحب کی حکومت نے زرداری صاحب کی تقلید میں غیر اعلانیہ یورپ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ سزائے موت اور ناموس رسالت کے قانون پر عملدرآمد نہیں کریں گے۔
پاکستان میں جب سے توہین ناموس رسالت کا قانون بنا ہے، مغربی ممالک اسے ختم کرانے یا کم از کم غیر موثر اور ناقابل نفاذ بنانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں اور ان کی یہ کوششیں اعلانیہ ہیں، خفیہ نہیں۔ مغربی دبائو کے پیش نظر حکمران اسے غیر موثر بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ توہین رسالت کا مسئلہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی عالمی مہم بن چکا ہے۔ امریکہ اور یورپ اس قانون کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ ظالمانہ اور کالا قانون قرار دیتے ہوئے اسے ختم یا غیر موثر کرنے یا بنانے کے لئے مسلمانوں میں دین فروش و بے ضمیر افراد کی خدمات بھی حاصل کررہے ہیں۔ ماضی میں جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی، اسماعیل دہلوی، سلمان رشدی جیسے نام نہاد علماء و مفکر کے لبادے میں گستاخ نبی مل جاتے ہیں، فی زمانہ انہیں جاوید احمد غامدی جیسا خود ساختہ مفکر اسلام مل گیا ہے۔ اس کی ابتداء جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کی شاگردوں سے ہوئی مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود بزعم خویش سب سے بڑا مفکر اسلام بن بیٹھا ہے اور مغربی تہذیب و خیالات کے مطابق اسلام کی تشریح کررہا ہے اور اپنے فکر و خیالات کی ترویج کے لئے ایک گروہ بھی تیار کررہا ہے جو خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے غامدی فکر کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان میں خورشید ندیم، عمار ناصر، ڈاکٹر خالد ظہیر رفیع مفتی طالب محسن، ڈاکٹر شہزاد سلیم اور میاں عامر محمود (دنیا نیوز) جنہوں نے اپنی یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب (UCP) کا شعبہ اسلامیات ان کے سپرد کیا ہوا ہے تاکہ غامدی فکر کے مطابق اسلامی علوم کے ماہرین تیار کئے جاسکیں۔ غامدی صاحب اور ان کے فکری شاگرد وارث گستاخ رسول کے قانون میں ترمیم کرنے اور اس کے خلاف اپنا خود ساختہ نظریہ رکھتے ہیں۔ اجتماع امت کے برخلاف اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ گستاخ نبی کی سزا سزائے موت پر مغربی و سامراجی قوتوں کی رائے کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان سازشوں کو سمجھتے ہوئے ان کا دلائل اور عملی انداز میں مقابلہ کریں اور تحفظ ناموس رسالت سے لمحہ بھر کے لئے غافل نہ ہوں۔ ہم سے تجارت کی آڑ میں قانون تحفظ ناموس رسالت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہ ہوگا۔
اے طاہر لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
تاریخی فتح
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بھارت کے تین روزہ دورے کے آخر میں 2 فروری 2013ء کو بھارتی پنجاب امرتسر جلیانوالہ باغ میں 1919ء کے شہداء اور مقتولین کی یادگار پر پھول چڑھائے اور سیاہ سوٹ میں ملبوس برطانوی وزیراعظم نے سر جھکا کر خاموش خراج عقیدت پیش کیا۔ تعزیتی کتاب میں 13 اپریل 1919ء کی درندگی کو برطانوی تاریخ کا شرمناک واقعہ قرار دیا۔ ہمارے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے اسے شہ سرخیوں کے ساتھ نشر و شائع کیا۔ کوئی پاکستانی نوجوان و طالب علم یا اخبار پڑھنے والا سوال کرسکتا ہے کہ سانحہ جلیانوالہ باغ سے ہمارا کیا تعلق جس پر پاکستانی پرنٹ میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ خبریں و مضامین شائع کئے گئے۔ یہ سوال ہماری اپنی تاریخ سے عدم دلچسپی اور عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ متحدہ ہندوستان پر مسلمانوں کی ایک ہزار سال حکومت رہی، جہاں برطانوی سامراج نے تجارتی کمپنی ایسٹ انڈیا کی آڑ میں ہندوستان پر قبضہ کیا۔ 1757ء میں بنگال میں نواب سراج الدولہ اور 1797ء میں ٹیپو سلطان کی سازشی شہادت کے بعد انگریزوں کی آزادانہ حکومت (تسلط) ہندوستان پر ہونے لگی۔ 1857ء کی جنگ آزادی جس میں 25000 علماء و مشائخ کی شہادتیں اور ہزاروں ہندوستانیوں کا قتل عام سینکڑوںمدارس، خانقاہوں اور کتب خانوں کی بربادی کے بعد مسلمانان ہند اور عام ہندوستانی کے دل میں آزادی کی تڑپ شعلہ نوائی بنی ہوئی تھی کہ جنگ آزادی 1857ء کے اکتالیس سال بعد 1897ء میں پٹنہ میں آزادی کو منظم اور مربوط کرنے کے لئے فتاویٰ جہاد آزادی اور جہدوجہد آزادی کے محرک امام حریت علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ہم عصر رفقاء مولانا رحمت اﷲ کیرانوی، مولانا احمد اﷲ مدارسی ، مفتی کفایت علی کافی، مولانا رضا علی خان و دیگر علماء و مشائخ کے علمی وارثوں نے آل انڈیا یا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کا ایک نئے جذبے و ولولے سے آغاز کیا۔ بات جلیانوالہ باغ کی ہورہی تھی جو 13 اپریل 1919ء کو امرتسر میں پیش آیا تھا۔ ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج نے جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدنام زمانہ روہٹ ایکٹ مجریہ 21 مارچ 1919 تھا۔ برطانوی حکومت نے ایک کمیٹی برطانوی جج مسٹر رولٹ کی سربراہی میں قائم کی جس کا کام تھا کہ احتجاجی تحریک سے نبرد آزما (نمٹنے) کے لئے قانون تیار کریں۔ فروری 1919ء میں دو مسودات قانون امپیریل بجلیو کونسل میں رولت کمیٹی کی سفارشات کو عمل میں لانے کے لئے پیش کئے گئے۔ اس کے خلاف عوام نے سخت احتجاج کیا۔ اس وقت برطانوی جنرل ڈائر نے عہد کیا کہ وہ برطانوی شہنشاہیت کے شاہی وقار کو ہرحال میں بلند رکھے گا۔ 13 اپریل کو جلیانوالہ باغ میں ہزاروں شہری پرامن احتجاج کے لئے جمع تھے کہ طاقت کے نشے میں چور فوجی جنرل ڈائر نے ظلم و جبر کی داستان رقم کی جس پر انسانیت آج بھی شرمندہ ہے۔ اس واقعہ میں تقریبا 400 لوگ شہید و قتل ہوئے۔ اس خونی واقعہ کے بعد پنجاب میں دو ماہ کے لئے مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔ یہ سانحہ برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ 28 سال بعد برطانوی سامراج کو یہ سرزمین چھوڑکر جانا پڑا۔ بعد ازاں جنرل ڈائر جسے برطانیہ میں قتل کردیا جاتا ہے، اس قتل کی تفصیلات کو بھی تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ جلیانوالہ باغ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے ایک سکھ کی بیوہ نے اپنے شوہر کا انتقام لینے کا ارادہ کرلیا اور اپنے بیٹے کو اس مقصد کے لئے تیار کیا۔ اسے تعلیم اور بدلہ لینے کے لئے برطانیہ بھیجا۔ بعد میں اس سکھ کے بیٹے کو برطانیہ میں برطانوی پارلیمنٹ میں سیکورٹی گارڈ کی ملازمت مل گئی۔ اس دوران جنرل ڈائر بحیثیت وزیر پارلیمنٹ میں آتا جاتا رہا۔ اسی دوران سکھ نوجوان نے کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ موقع پاکر جنرل ڈائر کو جلیانوالہ باغ کے انتقام میں قتل کردیا۔ بعد ازاں سکھ نوجوان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا جس نے ہندوستان میں دہشت کی علامت جنرل ڈائر کو ختم کرکے 1919ء کے شہداء اور مقتولین کا انتقام لیا۔نوم چومسکی کا تاریخی جملہ ہے کہ طاقت ور کے نزدیک جرم وہی ہے جو کسی اور سے سرزد ہوا ہو۔ خود چاہے اپنے ظلم سے دریائے دجلہ کا پانی خون آلود کردے یا انسانی سروں کے مینار کھڑے کردے۔ وقتی طور پر ایسے افراد قابل تعریف ہوتے ہیں مگر مورخ اسے وحشی اور ظالم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ برطانوی وزیراعظم 94 سال بعد جلیانوالہ باغ کے سانحہ کو شرمناک واقعہ قرار دے رہا ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کی تاریخی فتح ہے۔