تفسیر سورۃ الزلزال
سورۃ الزلزلۃ یا زلزال مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں آٹھ آیات ہیں۔ احادیث کے مطابق سورۃ الزلزال پڑھنے کا ثواب نصف قرآن کریم کے برابر ہے اور ایک روایت کے مطابق اس کا ثواب چوتھائی قرآن مجید کے برابر ہے (ترمذی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
’’جب زمین تھرتھرادی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے اور آدمی کہے، اسے کیا ہوا۔ اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی، اس لئے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔ اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر، تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں، تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے،اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے، اسے دیکھے گا‘‘
(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ)
لفظی ترجمہ
ربط و مناسبت
اس سے قبل سورۃ البینۃ میں مومنوں اور کافروں کی جزا و سزا کا بیان تھا جس سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جزاء و سزا کا وقت کب آئے گا اور کن اعمال پر جزاوسزا ملے گی؟ یہ سورت اس سوال کے جواب پر مشتمل ہے۔
اس میں فرمایا گیا، قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا حساب ہوگا جس نے بھی ذرہ بھر نیکی یا بدی کی ہوگی، وہ اس دن اسے اپنے نامۂ اعمال میں موجود پائے گا اور اس پر جزا وسزا کا حقدار ہوگا۔
سابقہ سورت میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہوا جو گناہوں بھری زندگی گزارتے رہے اور انہوں نے رب تعالیٰ اور اس کے محبوب رسولﷺ کے دین حق کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اگر نیک لوگ دنیا میں اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزاریں اور برے لوگ شیطان اور نفسانی خواہشات کی زندگی میں گناہ آلود زندگی بسر کریں تو دونوں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اﷲ تعالیٰ کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ نیک لوگوں کو جزا اور برے لوگوں کو سزا دے۔ یہی جزا و سزا کا مضمون اس سورت میں بیان ہوا ہے۔
سورۃ البینۃ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا کہ رب تعالیٰ کی رضا اور جنت اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے، رب ذوالجلال کی خشیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بندے کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے متعلق جوابدہ ہونے کا کامل یقین ہو۔ یہ یقین پیدا کرنے کے لئے آخرت کا عقیدہ اس سورت میں اور اگلی سورتوں میں بھی بیان کیا گیا تاکہ بندہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے رب کی ناراضگی سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا رہے۔
شان نزول
عقیدۂ آخرت پر پختہ یقین ہی انسان کی افکار و اعمال کی اصلاح کا ضامن ہے۔ کفار رسول معظمﷺ سے یہ بات سن کر حیران ہوتے کہ ایک دن قیامت آئے گی اور سب انسانوں کو پھر سے زندہ کرکے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔
ان کے اذہان اس حقیقت کو ماننے پر تیار نہ تھے کہ اس فانی زندگی کے بعد ایک دائمی زندگی بھی ہے۔ سورۃ الزلزال اور اس کے بعد کی کئی سورتیں ایسے لوگوں کو ہدایت کی روشنی دینے کے لئے عمدہ دلائل اور علمی حقائق پر مبنی ہیں۔
مفسرین فرماتے ہیں: ابتداء میں بعض مسلمانوں کے ذہن میں خیال تھا کہ معمولی برائی پر گناہ نہیں ہوگا اور تھوڑی چیز صدقہ دینے پر ثواب نہیں ملے گا۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کے مذکورہ خیال کی اصلاح بھی فرمادی گئی اور بتادیا گیا کہ نیکی یا بدی خواہ ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہوں، جزا و سزا کا باعث ہوتے ہیں۔
سورۃ الزلزال کو نصف قرآن فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن عظیم کے احکام دو قسم کے ہیں۔ دنیاوی احکام اور احکام آخرت۔ یہ سورت آخرت کے احکام کا خلاصہ ہے اس لئے اس کا ثواب نصف قرآن کریم کے برابر ہے۔
اذا زلزلت الارض زلزالہا
ارشاد ہوا: ’’جب زمین تھرتھرادی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے‘‘
ایسا زوردار جھٹکا جس سے زمین تھرتھرا اٹھے اور لرزنے لگ جائے، اسے زلزلہ کہتے ہیں ’’زلزالہا‘‘ کے لفظ میں شدت اور تسلسل دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی زمین کا ہلایا جانا نہایت شدید ہوگا اور زمین مسلسل ہلتی رہے گی، یہاں تک کہ سب کچھ تہہ و بالا ہوجائے گا۔
اس آیت میں اس ہیبت ناک زلزلے کا ذکر ہے جو پہلا صور پھونکے جانے پر وقوع پذیر ہوگا اور قیامت واقع ہونے کا سبب بنے گا۔ ارشاد ہوا۔
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ
(الزمر: ۶۸)
’’اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اﷲ چاہے، پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ (حیرت سے) دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے‘‘ (کنزالایمان)
اس دن پوری زمین نہایت شدت سے ہلادی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت، کوئی عمارت، کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا، ہرچیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی اور تمام جاندار مخلوق فنا ہوجائے گی۔
غیب بتانے والے آقا ومولیٰﷺ کا فرمان ہے۔ خریدار اور دکاندار کے درمیان کپڑا پھیلا ہوگا، نہ سودا مکمل ہوگا، نہ وہ کپڑا لپیٹ سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ یعنی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور وہ کام ویسے ہی ناتمام رہ جائیں گے، نہ انہیں خود پورا کرسکیں گے نہ کسی دوسرے سے پورا کرنے کو کہہ سکیں گے اور جو گھر سے باہر گئے ہوں گے وہ واپس نہ آسکیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہوا۔
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَىٰ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ
(یس: 50)
’’تو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کر جائیں گے‘‘
رب تعالیٰ نے اس دن کی ہولناکی کو دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ
(الحج: ۱،۲ کنزالایمان)
’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ (یعنی حمل) ڈال دے گی، اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں، اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر یہ ہے کہ اﷲ کی مار کڑی ہے (یعنی اس کا عذاب بہت سخت ہے)
مقام غور ہے کہ قیامت کے اثر اور ہیبت سے زمین جیسی بے جان اور جامد چیز کانپنے لگے گی تو اے انسان! کیا قیامت کے ذکر سے تیرا دل بھی کانپتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو تیرا دل مردہ ہوچکا، اسے خوف خدا اور محبت رسولﷺ سے زندہ کر۔
بعض علماء کا قول ہے کہ دوسری بار صور پھونکنے کے وقت جو زلزلہ آئے گا، یہاں اس کا ذکر ہورہا ہے، جیسا کہ بعد کی آیات سے اندازہ ہوتا ہے۔ اس زلزلے سے زمین کے نشیب و فراز ختم کرکے اسے ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ پھر اس ہموار زمین پر میدان محشر قائم ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا
لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا
(طہ: ۱۰۶، ۱۰۷)
’’وہ زمین کو نہایت ہموار صاف میدان کردے گا اور تو اس میں کچھ بھی اونچا نیچا نہیں دیکھے گا‘‘
واخرجت الارض اثقالہا
ارشاد ہوا ’’اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے‘‘ معنی یہ ہے کہ رب تعالیٰ کے حکم سے زمین، جو کچھ اس میں ہے یعنی خزانے اور مردے سب باہر نکال دے گی۔
تمام مردے جو زمین میں دفن ہوتے رہے، ان کے اجزاء اور ذرات اگر مٹي بھی ہو چکے ہوں گے تو بھی ان کو یکجا کرکے زندہ کردیا جائے گا۔ ارشاد ربانی ہے۔
قال من یحیی العظام وہی رمیم o قال یحییہا الذی انشاہا اول مرہ و ہو بکل خلق علیم
(یٰس: ۷۸، ۷۹، کنزالایمان)
’’(کافر) بولا، ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں؟ (اے حبیبﷺ) تم فرمائو انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے‘‘
زمین کی تہوں میں جتنے خزانے پوشیدہ ہیں، وہ بھی سب ظاہر کردیئے جائیں گے لیکن اس دن کی ہیبت اس قدر ہوگی کہ کوئی ان خزانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
سرکار دوعالمﷺ کا ارشاد ہے۔ زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سونے چاندی کے ستونوں کی صورت میں باہر نکال دے گی۔ قاتل آئے گا اور کہے گا، ہائے افسوس میں نے ان خزانوں کی وجہ سے قتل کیا تھا۔
قطع رحمی کرنے والا کہے گا، ہائے! میں نے ان کی خاطر خونی رشتہ داروں کو چھوڑا تھا۔ چور کہے گا، ہائے! ان چیزوں کی خاطر میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا۔ پھر وہ سب ان چیزوں کو چھوڑ دیں گے اور ان میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔ (مسلم)
اس طرح انسان کو خوب افسوس اور پشیمانی ہوگی کہ جن خزانوں کی خاطر میں نے اتنے بڑے جرائم کئے، آج ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ آج کے دن ہر شخص کو صرف ایک فکر ہے اور وہ ہے اعمال نامے کی۔
آج اس دنیا میں مادی چیزوںکو ترازو میں تولا جاسکتا ہے لیکن خلوص، سچائی، دیانت اور نیکیوں کو کسی ترازو میں نہیں تولا جاسکتا۔ قیامت میں دنیا فنا ہونے کے ساتھ اس کا یہ نظام بھی فنا کردیا جائے گا اور ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا۔ ارشاد الٰہی ہے۔
یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات برزو ﷲ الواحد القہار (ابراہیم: ۴۸)
’’جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے، ایک اﷲ کے سامنے جو سب پر غالب ہے‘‘ (کنزالایمان)
اس نئے نظام میں سونے چاندی کی کوئی وقعت نہ ہوگی، صرف اعمال کی قدر ہوگی۔ اس لئے ایسی میزان قائم کردی جائے گی جس میں نیکی بدی، سچ جھوٹ،اخلاص، ریاکاری، دیانت خیانت یعنی سب اچھے برے اعمال تولے جاسکیں گے۔
والوزن یومئذ الحق فمن ثقلت موازینہ فائولک ہم المفلحون ومن خفت موازینہ فائولک الذین خسروا انفسہم بماکانوا باتینا یظلمون (الاعراف: ۸،۹)
’’اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کی پلے بھاری ہوئے، وہی مراد کو پہنچے۔ اور جن کے پلے ہلکے ہوئے، تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی، ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے‘‘ (کنزالایمان)
باقي آئنده شمارے ميں ملاحظه فرمائيں
وقال الانسان مالہا
ارشاد ہوا ’’اورآدمی کہے، اسے کیا ہوا‘‘ مفسرین فرماتے ہیں، یہاں انسان سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کے وقت زمین پر موجود ہوں گے، وہ تعجب اور حیرانی سے بول اٹھیں گے، زمین کو کیا ہوگیا ہے؟
انسان کے اس قوال پر غور کیجئے۔ اس میں خوف بھی ہے، اضطراب بھی، بے چینی بھی ہے، پریشانی بھی۔ کیونکہ زمین پوری شدت سے تھرتھرا رہی ہے، اس کے خزانے باہر پڑے ہوئے ہیں، کوئی لینے والا نہیں ہے، پورا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔
اس دن کی منظر کشی ایک اور مقام پر یوں کی گئی ہے۔
اذان الشمس کورت……… بای ذنب قتلت (التکویر: ۱۔۹)
’’جب دھوپ لپٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں، اور جب پہاڑ چلائے جائیں اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں چھوٹی پھریں اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں اور جب سمندر سلگائے جائیں، اور جب جانوں کے جوڑ بنیں اور جب زندہ دبائی ہوئی (لڑکی) سے پوجا جائے، کس خطاء پر ماری گئی‘‘۔
پہلی مرتبہ صور پھونکنے جانے اور دوسری مرتبہ صھور پھونکنے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان دونوں صور پھونکنے کی درمیانی مدت میں رب تعالیٰ کافروں پر سے عذاب اٹھالے گا۔
پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور تمام مردے زندہ کئے جائیں گے اس وقت انسان کہے گا، زمین کو کیا ہوگیا؟ یہاں انسان سے مراد کافر ہیں جو قیامت کے ہولناک مناظر دیکھ کر چیخ اٹھیں گے اور…
قالو یٰویلنا من بعثنا من مرقدنا (یٰس: ۵۲)
’’کہیں گے، ہائے ہماری خرابی!کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا‘‘
جبکہ اہل ایمان جب مردوں کو قبروں سے نکلتا دیکھیں گے تو ان کا علم الیقین ترقی پاکر عین الیقین کی منزل پر پہنچ جائے گا اور وہ کہیں گے۔
ہذا ماوعد الرحمن وصدق المرسلون (یٰس ۵۲)
’’یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا تھا‘‘
یومئذ تحدث اخبارہا
پھر ارشاد ہوا۔ ’’اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی‘‘ (کنزالایمان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو کہ زمین کیا خبریں دے گی؟ صحابہ نے عرض کی، اﷲ اور اس کا رسولﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر مرد و عورت کے بارے میں گواہی دے گی کہ اس نے میری پشت پر فلاں فلاں دن یہ یہ کام کئے، یہی اس کی خبریں ہیں (ترمذی ابواب التفسیر)
ایک اور حدیث شریف میںارشاد ہوا: زمین پر محتاط رہو۔ یہ تمہاری ماں ہے، اس پر جس نے بھی اچھا یا برا عمل کیا، یہ اس کے بارے میں ضرور خبر دے گی (در منشور)
رب تعالیٰ اگر چاہے تو محض اپنے علم ہی کی بنیاد پر نیکوں کو جزا اور بروں کو سزا دے دے لیکن وہ انسانی سوچ کے لحاظ سے عدل و انصاف کے ظاہری تقاضے پورے فرمائے گا۔ فرد جرم کے طور پر ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ پھر اس پر گواہیاں پیش کی جائیں گی اور یہ گوہا ہر قسم کے ہوں گے۔ انسان کے ہاتھ اور پائوں، اﷲ تعالیٰ کے حکم سے بولنا شروع کردیں گے۔
الیوم نختم علی افواہم وکلمنا ایدیھم وتشہد ارجلہم بما کانوا یکسبون (یٰس: ۶۵ کنزالایمان)
’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے (کہ وہ بول نہ سکیں) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پائوں ان کے کئے کی گواہی دیں گے‘‘
انسان کے کان، آنکھ اور اس کی کھال بھی اس کے خلاف گواہی دے گی۔ ارشاد ہوا
شہد علیہم سمعہم وابصارہم وجلودھم بما کانو یعملون o وقالو لجلودھم لما سہدتم علینا قالوا انطقنا اﷲ الذی انطق کل شی ٔ (حم السجدہ: ۱۹۔۲۱)
’’ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔ اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے ، تم نے ہم پر کیوں گواہی دی؟ ہمیں اﷲ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی‘‘
ذرا سوچئے تو سہی! وہ کیسا منظر ہوگا جب انسان کے ہاتھ پائوں اس کے کئے کی گواہی دے رہے ہوں گے، اس کے کان اور آنکھیں اور اس کی کھال اس کے خلاف بول رہی ہوگی۔ پھر زمین بھی بولنا شروع کردے گی اس شخص نے میرے فلاں حصے پر فلاں وقت پر یہ گناہ کئے۔ غرض یہ کہ کوئی بات ایسی نہ رہے گی جس پر وہ اپنی گواہی پیش نہ کرے۔
سابقہ زمانے کے لوگ تو شاید زمین کی اس طرح خبریں بیان کرنے پر تعجب کرتے ہوں گے مگر اس جدید دور کے انسان کو اس پر قطعاً حیران نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ اپنی آنکھں سے ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈر، ویڈیو اور الیکٹرانکس کے نت نئے آلات دیکھ رہا ہے۔ اور تو اور کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی چپ (Chip) میں اور موبائل فون کی حقیر سی سم (Sim) میں ہزاروں لاکھوں صفحات محفوظ کئے جاسکتے ہیں۔
تو پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کے اعضاء اور کھال میں اور زمین کے ذرات میں ایسی صلاحیت رکھ دی ہو کہ انسان کے تمام اعمال اس میں محفوظ کئے جارہے ہوں، اس کی آوازیں فضا میں محفوظ ہورہی ہوں اور اس کے اعمال زمین پر ثبت ہورہے ہوں۔ پھر قیامت کے دن یہ سب کچھ ایک متحرک منظر کی طرح انسان کے سامنے آجائے اور زمین ساری خبریں بیان کردے۔
بان ربک اوحیٰ لہا
اسی لئے فرمایا گیا کہ زمین اس دن اپنی ساری خبریں اس لئے بتائے گی کیونکہ تمہارے رب نے اسے یہ حکم دیا ہوگا۔
سابقہ آیت کریمہ کے تحت مذکورہ آیات مبارکہ اور اس آیت مقدسہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے اعضاء بولنے لگیں گے اور اسی کے حکم سے زمین بھی کلام کرے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ جو چیز بھی کلام کرتی ہے وہ رب تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت سے ہی کلام کرتی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو زبان بھی تو گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے لیکن گوشت کے دیگر ٹکڑے تو ساکت رہتے ہیں مگر زبان بولتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تمام تر کوشش کے باوجود اس کا یہی جواب ملے گا کہ ایک قادر مطلق ہستی نے اسے ناطق بنادیا ہے۔
حق یہی ہے کہ وہ چاہے تو گوشت کے ایک ٹکڑے کو بولنے کی طاقت بخش دے۔ وہ چاہے تو ایک نرم ہڈی یعنی کان میں سننے کی صلاحیت رکھ دے، وہ چاہے تو چکنائی کے ایک ٹکڑے یعنی آنکھ میں دیکھنے کی قوت پیدا فرمادے تو اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ زمین کو بھی بولنے کی صلاحیت عطا فرمادے۔ آج رب تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ زمین خاموش رہے لیکن قیامت کے دن اس کی مرضی یہ ہوگی کہ زمین ناقط ہوجائے تو زمین اس کے حکم سے بولنا شروع کردے گی۔
یومئذ یصدر الناس
ارشاد ہوا ’’اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر، تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں‘‘ (کنزالایمان)
ایک مفہوم یہ ہے کہ اس دن لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو بارگاہ الٰہی میں الگ الگ آئیں گے، کوئی کسی کا ساتھی نہ ہوگا، اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ حساب ہوگا۔
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ مختلف اعمال کی بناء پر لوگوں کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ جیسے نمازیوں کا گروہ، شہیدوں کا گروہ، چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ہر شخص اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ مل کر اپنے انجام کوپہنچے گا۔
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’لیروا اعمالہم‘‘ کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کی جزا دیکھیں گے یعنی وہ حساب کی جگہ سے پلٹیں گے تاکہ جنت یا جہنم میں اپنے ٹھکانے پر پہنچیں (تفسیر مظہری)
)باقي آئنده شمارے ميں ملاحظه فرمائيں)