امام احمد رضا اور تجارت و بینکنگ کا نظریہ

in Tahaffuz, March 2014, ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی (بریلی شریف، انڈیا)

معاش ہر انسان کی اہم ضرورت ہے۔ معاشی سرگرمیاں ابتداء سے ہی انسانی زندگی کا حصہ ہیں پھر ہر انسان اپنی ہر ضرورت کا کفیل نہیں لہذا اشیاء و خدمات کے باہمی تبادلے اور زر کا نظام وجود میں آیا۔ تہذیب و تمدن کے ارتقاء کے ساتھ یہ معاشی سرگرمیاں پیچیدہ تر ہوتی گئیں۔ اسلام نے بطور عالمگیر مذہب عبادات کے ساتھ معاملات کا بے نظیر نظام پیش کیا ہے۔ قانون اسلام کے ماہرین نے اپنے دور کے جدید معاشی مسائل کو تحقیق کا موضوع بنایا اور شرعی اصولوں کے مطابق معاشی سرگرمیوں کی تعلیمات دیں۔ امام احمد رضا اس وصف میں بھی نمایاں ہیں کہ انہوں نے مسلم امہ کے معاشی مسائل کے حل اسلامی اصولوں کے مطابق پیش کئے۔ آپ کی درجنوں تصانیف کا موضوع معاشی سرگرمیاں ہیں۔
تجارت کی اہمیت و افادیت ہر قوم کے نزدیک مسلم ہے۔ ملک و قوم کی خوشحالی اور معاشی استحکام میں تجارت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آج امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی، اور جرمنی نیز ایشیاء میں جاپان تجارت ہی کے سبب دنیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ تجارت کی وجہ سے صنعت تو حرفت، معاشیات یہاں تک کہ سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ کے میدان میں بھی انقلابات رونما ہورہے ہیں۔ معاشی طور پر مستحکم ممالک سیاسی اعتبار سے بھی طاقت پکڑ رہے ہیں۔
اسلام میں بھی تجارت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ بعض نے جہاد کے بعد تجارت کو سب سے افضل بتایا ہے۔ حضورﷺ کی اس حدیث پاک سے تجارت کی فضیلت واضح ہے:
’’سچا اور دیانت دار تاجر انبیائ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا‘‘ (حاکم ترمذی)
خود پیغمبر اسلامﷺ، صحابہ کرام اور دوسرے بزرگان دین رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے بھی تجارت کی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ تجارت ہی کی غرض سے مسلمان عرب سے نکل کر دور دراز ملکوں میں پہنچے اور تجارت کے ساتھ ساتھ تبلیغ کا زبردست کارنامہ بھی سرانجام دیا۔ البتہ اسلامی اور غیر اسلامی تجارت میں فرق ہے۔ اسلام نے تجارت میں بدعہدی، خیانت، فریب، مال میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی بیشی، ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری اور سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا ہے۔
1… باہمی رضا مندی
2… ایک فریق کا فائدہ دوسرے فریق کے نقصان پر مبنی نہ ہو
تجارت کے فروغ میں بینک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ سرمایہ کے بغیر تجارت کا تصور بے کار ہے اور بینک نئے نئے کاروباری امور کو بڑھانے، کارخانوں، ملوں، نیز گھریلو صنعت و حرفت وغیرہ کے لئے تاجروں کو سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ موجودہ دور اقتصادی منصوبہ بندی کا دور ہے۔ مختلف ممالک میں ماہرین اقتصادیات ملکی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اقتصادی منصوبہ بندی میں منصوبہ کی تکمیل کے لئے کن ذرائع سے رقم حاصل کی جاسکتی ہے، اس پر بھی خیال رکھا جاتا ہے اور اس کا سب سے آسان طریقہ ہے ملکی بچت یعنی ملک میں بچت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ آج شہر شہر گائوں گائوں بینکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ بینک عوام کی بچت کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کی رقوم ایک متعین منافع سود کی شرح پر بینکوں میں جمع کرتے ہیں اور پھر اس کثیر سرمایہ کو تاجروں، صنعت کاروں کو اپنے متعینہ سود کی شرح پر قرض دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب حکومت چھوٹے کاریگروں اور معمولی دکانداروں اور گائوں میں خواتین تک کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے قرض دے رہی ہے اور جانے کتنی تجارتی و صنعتی یونٹ قائم ہیں اور کتنی اسکیمیں چلائے جارہی ہیں۔
اس تمہید سے یہ بتانا مقصود ہے کہ روز بروز تجارت اور بینکاری نظام کی اہمیت و افادیت بڑھتی چلی جارہی ہے۔ تجارت کی اہمیت وافادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 14 ویں صدی ہجری کے عظیم مجدد، مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نور اﷲ مرقدہ نے بھی مسلمانوں کو تجارت، صنعت و حرف اور اپنے اسلامی بینکاری نظام کو فروغ دینے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اسلامی بینکاری نظام کو فروغ دینے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مختلف فتاویٰ اور تصانیف میں تجارت ، اقتصادیات اور معاشیات اور بینکاری کے نظریوں اور اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ فتاویٰ رضویہ جلد 11 میں ’’المنی والدر لمن عمد منی آردر‘‘ عنوان پر مشتمل رسالے تجارتی و بینکاری نظام کے نظریات پر روشنی ڈالی ہے نیز زمین اور مکان کی خریدوفروخت اور رہن وغیرہ کے سلسلے میں مختلف حالات اور شرائط کے ساتھ تجارت کے جائز و ناجائز ہونے کا حکم صادر فرمایاہے۔ فتاویٰ رضویہ جلد 7 میں ص 111 تا 119 حصص (شیئرز) بیمہ (انشورنس) برطانوی ہند میں گورنمنٹ بینکوں اور ڈاک خانوں میں جمع کردہ رقم پر منافع کے حصول پر بحث کی ہے۔ امام موصوف قدس سرہ العزیز نے اپنی ایک تصنیف ’’تدبیر فلاح و نجات و اصلاح‘‘ میں ملت کی بحالی کے لئے جو چار نکات پیش فرمائے ہیں وہ تجارت، معاشیات اور بینکاری کے نظریہ کے اعتبار سے بڑے ہی گراں قدر ہیں۔ امام احمد رضا نے غیر سودی اسلامی بینک کے ذریعہ نفع لینے کے مختلف طریقوں کی بابت اپنی ایک تصنیف ’’کفل الفقیہ الفاہم فی قرطاس الدراہم‘‘ (۱۳۲۴ھ) کا حوالہ بھی دیا ہے۔ رسالہ ’’تدبیر فلاح و نجات و اصلاح‘‘ میں جو چار نکات پیش فرمائے ہیں، وہ اس طرح ہیں
1… باتثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو، اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے۔ اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے۔ یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ، وکالت میں گھسے جاتے ہیں، گھر کے گھر تباہ ہوئے اور ہوئے جاتے ہیں۔ محفوظ رہتے۔
2… اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے، کہ گھر کا نفع گھر ہی رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے۔ یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبا کچھ ضاعی کی گڑہت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پائو بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔
3… ممبئی، کلکتہ، رنگون ، مدراس، حیدرآباد وغیرہ کے تونگر مسلمان اپنے بھائی مسلمانوں کے لئے بینک کھولتے۔ سود شرع نے حرام قطعی فرمایا ہے اور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایک نہایت آسان طریقہ ’’کفل الفقیہ الفاہم‘‘ میں چھپ چکا ہے۔ ان جائز طریقوں پر نفع بھی لیتے کہ انہیں فائدہ پہنچتا اور ان کے بھائیوں کی بھی حاجت بر آتی اور آئے روز جو مسلمانوں کی جائیدادیں بنیوں کی نذر ہوتی چلی جاتی ہے، ان سے بھی محفوظ رہتے۔ اگر مدیون کی جائیداد ہی لی جاتی، مسلمان ہی کے پاس رہتی، یہ تو نہ ہوتا کہ مسلمان ننگے اور بنیے چنگے۔
4… سب سے زیادہ اہم، سب کی جان، سبکی اصل اعظم وہ دین متین تھا جس کی رسی مضبوط تھامنے سے اگلوں کو ان مدارج عالیہ پر پہنچایا۔ چار دانگ عالم میں ان کی ہیبت کا سکہ بٹھایا، نان شبینہ کے محتاجوں کو بلند تاجوں کا مالک بنایا اور اسی کے چھوڑنے سے پچھلوں کو یوں چاہ ذلت میں گرانا۔ فاﷲوانا الیہ راجعون ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
دین متین علم دین سے وابستہ ہے۔ علم دین سیکھنا پھر اس پر عمل کرنا اپنی دونوں جہان کی زندگی جانتے وہ انہیں بتادیتا۔ اندھو! جسے ترقی سمجھ رہے ہو سخت تنزل ہے، جسے عزت جانتے ہو، اشد ذلت ہے۔
گو چوتھا نکتہ تجارت یا بینکنگ نظام سے متعلق نہیں ہے لیکن قوم مسلم کے لئے اصل اور اہم نکتہ یہی ہے۔ مسلمانوں کا حقیقی معنی میں مسلمان بن کر رہنا نہایت ضروری ہے۔ دین سے بے بہرہ ہوکر مسلمان دنیوی ترقی بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی وقار کی زندگی گزار سکتا ہے۔ دین سے وابستہ رہ کر جو دنیوی ترقی حاصل ہوتی ہے وہی اصل ترقی اور کامیابی و کامرانی ہے۔ غلبہ اسلام کے ساتھ زندگی گزارنے ہی میں عزت و وقار ہے۔ دین علم دین سے وابستہ ہے اور علم دین مسلمانوں کے لئے زندگی کے ہر موڑ اور ہر شعبہ میں ضروری ہے۔ تجارت میں بھی علم دین سے واقفیت ضروری ہے تاکہ مسلم تاجر حلال اور حرام کی تمیز کو قائم رکھ سکے۔
امام احمد رضا کے ان چار نکات کے تجزیے میں اقتصادیات و معاشیات کے ماہر پروفیسر رفیع اﷲ صدیقی نے ’’فاضل بریلوی کے معاشی نکات‘‘ نام سے مقالہ پیش فرمایا جس میں انہوں نے امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ العزیز کی علم معاشیات میں بصیرت، ان کے مسلم بینک کے قیام کے نظریہ کی تابانی، ان کی دور اندیشی اور تفکر و تدبر کو واضح کیا ہے اور یہ حقیقت عیاں کردی ہے کہ جب جدید اقتصادی نظریات کی ابتداء بھی نہ ہوئی تھی اور بینکاری نظام کو مغربی ماہرین تجارت و اقتصادیات نے اس شدت سے محسوس تک نہ کیا تھا جو آج وہ عمل میں لارہے ہیں، حضرت فاضل بریلوی نے اس سے تقریبا 25 سال قبل اپنے معاشی نکات اور بینکاری نظام کا نظریہ پیش فرما دیا تھا اور برطانیہ کے مشہور ماہر اقتصادیات جے ایم کینس (J.M. KENSES) کے مشہور زمانہ نظریہ ’’روزگار و آمدنی‘‘ کے پیش کرنے سے قبل اقتصادیات کی یہ مساوات ’’پس اندازی، سرمایہ کاری‘‘ اپنے اس چار نکاتی پروگرام کے نکتے کے ذریعے پیش فرمایا تھا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ جے ایم کینس کو اس کے نظریہ ’’روزگار و آمدنی‘‘ پر تاج برطانیہ نے لارڈ کے خطاب سے نوازا (1936) جبکہ 1912ء میں پیش فرمودہ معاشی و تجارتی نظریات کی طرف امام احمد رضا کی قوم نے دھیان تک نہ دیا۔ پروفیسر رفیع اﷲ صدیقی شدید رنج و قلق کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اب اہل دل اور اہل نظر ذرا اس ماحول کو ذہن میں رکھیں جبکہ 1912ء میں مولانا احمد رضا خان نے مسلمانوں کو اس بات پر عمل کرنے کی تلقین کی تھی کہ وہ غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کریں اور زیادہ سے زیادہ پس انداز کریں اور آج کے ماحول پر نظر ڈالیں جبکہ حکومتیں اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ عوام زیادہ سے زیادہ بچت کریں۔ کیا آپ اب بھی قائل نہ ہوں گے مولانا کی دور اندیشی کے؟ کیا اب بھی آپ کو یقین نہ آئے گا کہ مولانا کی دور رس نگاہیں مستقبل کو کتنا صاف دیکھ رہی تھیں؟ کنیز کو اس کی خدمات کے صلے میں اعلیٰ ترین خطاب مل سکتا ہے، اس بناء پر کہ اس نے وہ چیز دریافت کرلی تھی جسے چوبیس سال قبل مولانا احمد رضا خان بریلوی شائع کرواچکے تھے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس طرہ ذرہ برابر توجہ نہ دی‘‘ (فاضل بریلوی کے معاشی نکات)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کے بینکاری نظام کے نظریے کے بارے میں مزید تحریر کرتے ہیں ’’1912ء میں جب کہ اقتصادی تعلیم محدود تھی، کسے معلوم تھا کہ تیس چالیس سال کے بعد بچت اور بینک کس قدر اہمیت اختیار کرجائیں گے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے مستقبل میں جھانک لیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو نہ صرف فضول خرچی سے باز رکھنے کی تلقین کی، نہ صرف پس اندازی کی ہدایت کی بلکہ صاحب حیثیت اور دولت مند مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے بینک قائم کریں۔ وہ بینک جہاں کم حیثیت کے مسلمان اپنی چھوٹی چھوٹی بچائی ہوئی رقم محفوظ رکھ سکیں اور جہاں سے باصلاحیت مسلمان تاجروں کو سرمایہ فراہم ہوسکے اور وہ صنعت کاری کے میدان میں ہندوئوں کا مقابلہ ڈٹ کر کرسکیں؟‘‘ (فاضل بریلوی کے معاشی نکات)
عصر حاضر کے ایک دانشور برطانوی نومسلم ڈاکٹر محمد ہارون مرحوم نے اپنے چھ انگریزی مقالات کے توسط سے حضرت فاضل بریلوی کے اس چار نکاتی پروگرام کا جائزہ وسیع کینوس پر لیا ہے۔ انہوں نے ان چار نکات کے ذریعے امام کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات کو اجاگر کرتے ہوئے ثابت کردیا ہے کہ عہد رضا میں رضا کا یہ چار نکاتی فارمولہ قوم مسلم کی بحالی کا واحد حل تھا اور آج بھی یہی پروگرام ملت کی بحالی کی کلید ہے اور آئندہ بھی اس منصوبہ رضا پر عمل پیرا ہوکر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ راقم الحروف نے ڈاکٹر محمد ہارون کے ان انگریزی مقالات کا اردو ترجمہ کرکے ’’امام احمد رضا کا 1912ء کا منصوبہ‘‘ نام سے 1996ء میں شائع کیا ہے اور یہ ترجمہ کرچای سے بھی شائع ہوگیا ہے۔
اب پروفیسر رفیع اﷲصدیقی اور ڈاکٹر ہارون صاحبان کے جائزوں سے الگ ہٹ کر ان چار نکات نیز رسالہ ’’کفل الفقیہ الفاہم‘‘ (اردو ترجمہ) کی روشنی میں امام احمد رضا کے تجارتی اور بینکاری نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔
تجارت کے لئے سرمایہ اور تجارتی اشیاء دونوں لازمی ہیں۔ تجارتی اشیاء کے لئے زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمین سے ہی غلہ، پھل، پھول، سبزی نیز دیگر خام مال، جیسے کپاس، مختلف قسم کی دھات وغیرہ اور پھر خام مال وہ زمین سے حاصل ہوا ہو یا کسی اور ذریعے سے اس کی تیاری اور اس سے مصنوعات بنانے کے لئے صنعت و حرفت ضروری ہیں۔ سرمایہ کے حصول کا ایک ذریعہ نجی ہے یعنی آدمی کے پاس خود کاروبار کے لئے ضروری سرماہ ہو، جیسے ظاہر ہے اس نے پس انداز کرکے ہی جمع کیا ہوگا یا پھر دوسرا ذریعہ ہے قرض اور ظاہر ہے مہاجن سے قرض تباہی کا باعث بھی ہے اور سود کی لعنت میں بھی گھیرنے والا۔ تیسرا طریقہ بینک سے قرض لیکن یہ اگر آج کی طرح گورنمنٹ بینک سے قرض لیا جاتا ہے تو انٹرسٹ یہاں بھی دینا ہوتا ہے اور یہ بھی ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں کہ اس بوجھ کو برداشت کرسکے۔ اب آیئے مسلمانوں کی تجارت، صنعت و حرفت اور بینکاری نظام کو امام احمد رضا کے نکات کی روشنی میں دیکھیں کہ کس طرح مسلمانوں کو سود کی لعنت، مہاجن سے قرض کی تباہی اور نوکری کرنے یا نوکری تلاش کرنے وغیرہ جیسی زحمتوں سے امام نے بچے رہ کر آزاد اور خوش حال بنے رہنے کا فارمولا عطا کیا ہے۔
پہلا نکتہ ہے… ’’ان امور کے علاوہ جن میں حکومت دخل انداز ہے، مسلمان اپنے معاملات باہم فیصل کریں تاکہ مقدمہ بازی میں جو کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں پس انداز ہوسکیں‘‘
اس نکتے میں ایک تو فضول خرچی کی مذمت ہے جو بذات خودایک لعنت ہے۔ دوسرے مقدمہ بازی وغیرہ سے روکنے اور معاملات کو باہم فیصل کرنے میں آپس میں میل محبت یعنی قومی اتحاد کا درس بھی ہے اور الجھنوں سے بچتے ہوئے ذہنی سکون کے حصول کا راستہ بھی۔ امام نے اس نکتے کے ذریعے ’’پس اندازی‘‘ کا جو نظریہ واضح کی اہے وہ جدید اقتصادیات کی جان ہے۔ علم معاشیات کی رو سے سرمایہ کاری بچت ہی کے ذریعے ممکن ہے یعنی بچت۔ سرمایہ کاری مسلمانوں کی یہ بچت انفرادی طور سے بھی ہر ایک کے لئے فائدہ مند ہے اور مجموعی طور سے پوری قوم کے لئے اور یہی قومی سرمایہ افراد قوم کے کاروبار میں کام آسکتا ہے۔ انہیں قرض دے کر لیکن اس قومی سرمایہ کے لئے مسلم بینک کا قیام بھی ضروری ہے اور اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان سرمایہ کی ذخیرہ اندوزی نہ کرکے اسے گردش میں رکھے گا۔ ہر ایک کے کام آئے گا اور سرمایہ دارانہ ذہنیت رفتہ رفتہ ختم ہوگی اور سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت نہیں ملے گی اور یہی سبب ہے کہ اس نکتہ اول میں بچت کی ہدایت کرتے ہوئے نکتہ سوم میں امام نے تونگر مسلمانوں سے بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس اور حیدرآباد وغیرہ میں اسلامی بینک کیقیام کی اپیل کی تھی۔ امام نے اس نکتے میں یہ بھی صاف فرمادیا ہے کہ ’’آئے رو زجو مسلمانوں کی جائیدادیں بنیوں کی نذر ہوئی چلی جاتی ہیں، ان سے بھی محفوظ رہتے‘‘ مسلمان حکومتی بینک میں جو رقم جمع کرتا ہے اس سے اس کی قوم کو برائے نام فائدہ پہنچتا ہے اور دوسری قومیں پورا پورا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اپنے اسلامی بینک میں اپنی ر قم جمع ہوتی تو بھلے منافع اتنا ہی یا اس سے کم بھی ملتا، لیکن اپنا سرمایہ اپنوں کے کام آتا اور پوری قوم معاشی طور سے مستحکم ہوتی۔
دوسرے نکتہ میں امام احمد رضا نے یہ کہہ کر ’’اپطنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹاک بھر تانبا کچھ ضاعی کی گڑھت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پائو بھر چاندی آپ سے لے جائیں‘‘ تجارت کا زریں اصول مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے، یا یوں کہئے کہ تجارت کی روح نکال کر پیش کردی ہے۔
1… مسلمانوں کو صرف اپنی ہی قوم سے خریداری کی تلقین کی ہے تاکہ اپنی رقم اپنوں ہی میں جائے لیکن دوسروں کو اپنا مال بیچنے کی پابندی نہیں لگائی ہے یعنی اگر اپنوں میں مال کی کھپت نہ ہوسکے تو دوسروں کو فروخت کرسکتے ہیں۔ تاکہ ان کی رقم اپنے پاس آئے۔ آگے یہ بھی فرمایا ہے کہ اپنا خام مال دوسروں کو بالخصوص دوسرے ممالک کو ان کے کسی سامان یا مصنوعات کے بدلے نہ دیا جائے یعنی درآمد نہ کیا جائے البتہ اپنی مصنوعات کی برآمد کی جاسکتی ہے یعنی ایکسپورٹ اور اس طرح زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا یعنی قومی معیشت میں اضافہ ہوگا اور اسے استحکام حاصل ہوگا۔ اپنوں ہی میں کاروبار کا نظریہ دراصل نظریہ تامین (View Point of Protection) ہے اور تامین اس لئے ضروری ہے کہ ملک کی دولت یا قومی سرمایہ ملک و قوم ہی میں رہے۔ اس سے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے نیز یہ جذبہ حب الوطنی یا ملی و قومی محبت کے فروغ کا باعث ہے۔ امام کے اسی نکتے پر برسوں بعد یورپین نے عمل کیا اور یورپین نے مشترکہ منڈی قائم کی جس میں انہیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور معاشی استحکام کی بدولت انہیں سیاسی استحکام بھی حاصل ہوا۔
2…1912ء میں امام احمد رضا کی نگاہ اس پر بھی تھی کہ آج جو مسلم رئوسا نوابی اور زمینداری کے نشے میں چور ہیں، اگر کل یہ چھن گئیں تو یہ ناکارہ محض ہوکر رہ جائیں گے اور پسپا قوم ان پر پوری طرح حاوی ہوجائے گی۔ آخر زمانے نے دیکھا کہ ہند کی آزادی اور ملک کی تقسیم کے بعد جب یہ ریاستیں ختم ہوئیں اور زمینداری ٹوٹی تو غیر مسلم راجائوں اور زمین داروں نے کمپنیاں اور فیکٹریاں قائم کرلیں لیکن مسلمانوں میں شاید ہی معدودے چند کاروبار یا تجارت کے میدان میں آتے ہیں۔
عہد امام احمد رضا میں اس سے پہلے اور آج بھی ہر طرح کی حرفت اور کاریگری مثلا کپڑا سازی (ہر طرح کا کپڑا سازی، تہبند، رومال، دری، قالین، کشمیری شال وغیرہ) کپڑوں کی رنگائی و چھپائی، دباغت (چمڑا سازی) ادویات سازی، عطر سازی، روغن سازی، سرمہ سازی، لکڑی کے فرنیچر، ہر طرح کی برتن سازی، سونے چاندی کے کام، شیشے کے کام، ہیرے اور پتھر تراشنے کے کام اور بہت سارے حرفت و کاریگری نیز الیکٹریکل و مکینیکل (بجلی و مکینک والے کام) امور میں بھی مسلمان کاریگر یا مستری کافی آگے تھے۔ اگر وہ اپنی انڈسٹری قائم کرتے، کاریگری کے کاموں میں انہیں سرمایہ فراہم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تو ہر طرح کی تجارت اور انڈسٹری پر مسلمان ہی چھائے رہتے اور دوسرے لوگ ان مسلم کاگیروں کا استحصال نہ کرسکتے تھے۔ آج مسلم کاریگروں کا یہی حال ہے۔ ان کی محنت، ذہانت اور کاریگری کا دوسری قومیں استحصال کررہی ہیں اور ان کے حصے میں صرف مزدوری آتی ہے اور بے چارے ایسے عالم میں استعمال ہونے اور اپنا استحصال کرانے کیلئے مجبور ہیں۔
امام نے مسلم صنعت کاروں کے سرمایہ کے لئے اپنے دو نکات بچت کرنے اور بینک کے قیام میں پوشیدہ کردیا تھا۔ کاش اس پر سے پردے اٹھائے جاتے اور امام کے نکات پر عمل کیا جاتا تو آج عالم ہی کچھ اور ہوتا۔ امام احمد رضا کے 1912ء منصوبہ کی خوبی یہ ہے کہ اس پر کسی بھی ملک (مسلم ملک یا سیکولر اسٹیٹ) میں آج یا مستقبل میں (کسی بھی عہد میں) عمل پیرا ہوکر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
اب امام احمد رضا کے غیر سودی اسلامی بینک سے نفع حاصل کرنے کے چند طریقے بھی ملاحظہ کریں۔
امام نے اپنے نکتہ سوم میں صاف لکھ دیا ہے کہ ’’سود شرع نے حرام قطعی فرمایا ہے۔ مگر اور سو طریقے نفع لینے کے حلال فرمائے ہیں جن کا بیان کتب فقہ میں مفصل ہے اور اس کا ایک نہایت آسان طریقہ ’’کفل الفقیہ الفاہم‘‘ میں چھپ چکا ہے۔ ’’کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم‘‘ امام احمد رضا کی وہ معرکتہ الآراء تصنیف ہے جسے انہوں نے 1324ھ / 1905ء میں اپنے دوسرے حج و زیارت کے موقع پر مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران ایک روز اور کچھ گھنٹوں میں تحریر فرمایا تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حنفی امام احمد شیخ عبداﷲ میرداد بن شیخ الخطبائ، شیخ احمد ابو الخیر رحمہ اﷲ تعالیٰ نے کرنسی نوٹ سے متعلق امام کی خدمت میں بارہ سوالات پیش کئے تھے۔ امام نے ہر سوال کا ایسا جواب دیا کہ فقہائے کرام مطمئن بھی ہوگئے اور امام کی فقاہت اور ذہانت دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور ان کی علمی و فقہی وجاہت کے آگے عقیدت کی گردنیں خم کردیں۔ اس رسالے میں امام احمد رضا نے ثابت کردیا کہ نوٹ قیمتی مال ہے رسید نہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ اور اقتصادی نظام نیز بینکوں کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے یہ ایک عظیم نعمت ہے۔ مسلم علماء میں امام احمد رضا ہی کی ذات ایسی ہے جنہوں نے پہلی بار کرنسی نوٹ کے جواز کا فتویٰ دیا۔ یہ بھی عالم اسلام پر ان کا ایک عظیم احسان ہے۔ امام بلاشبہ 14 ویں اسلامی صدی کے عظیم مجدد تھے۔ ان کی ہر تصنیف علم و تحقیق کا خزانہ، سچائی کا آئینہ اور ہر تصنیف کا لفظ لفظ معتبر ہے۔ ان کی ہر تصنیف سے ان کے کارنامہ تجدید کی درخشاں شعاعیں پھوٹتی نظر آتی ہے۔ امام نے یہ رسالہ فصیح عربی میں لکھا تھا۔ شہزادہ امام احمد رضا حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حامد رضا خاں قدس سرہ نے اردو میں اس کا ترجمہ کیا۔ امام احمد رضا نے اس طرح کے کئے طریقے بتائے ہیں کہ مسلمان اپنے روپیہ پر کسی مسلمان سے زیادہ لے اور وہ سود بھی نہ ہو۔
1… ایک شخص کے دوسرے پر دس روپے آتے تھے۔ اس نے چاہا کہ دس کے تیرہ کرلوں ایک میعاد تک۔ علماء نے فرمایا کہ وہ مدیون سے ان دس کے عوض کوئی چیز خرید لے اور اس پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز اس مدیون کے ہاتھ سال بھر کے وعدہ پر بیچ ڈالے تو حرام سے بچ جائے گا اور اس کا مثل نبیﷺ سے مروی ہوا کہ حضور نے ایسا کرنے کا حکم دیا (قاضی خان 406/2 مطبوعہ نول کشور لکھنوﷺ) انتہیٰ اور اسی طرح بحر الرائق میں بحوالہ خلاصہ نوازل امام فقیہ امو اللیث رحمہ اﷲ تعالیٰ سے مروی ہے‘‘ (ص 29-28 اردو ترجمہ)
اسی طرح اور بھی طریقے بیان فرمائے ہیں۔ اس طرح کے حیلہ کو حضرت امام محمد علیہ الرحمہ نے بیع عینہ کا نام دیا ہے۔ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالیٰ نے عینہ کو جائز کہا ہے اور اس پر ثواب بھی بتایا ہے، اس لئے کہ اس میں حرام یعنی سود سے بھاگنا ہے
2… نوٹ کی بیع کم زیادہ کو جائز ہے۔ حضرت امام احمد رضا لکھتے ہیں ’’ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضامندی ہوجائے، اس کا بیچنا جائز ہے‘‘ (ص 57)
3… ایک روپیہ ایک اشرفی کو بلکہ ایک ہزار اشرفیوں کو بیچنا جائز ہے (ص 61)
اب اگر مسلم بینک قائم کیا جائے اور کھاتہ داروں کی جمع کردہ رقم پر امام احمد رضا کے بتائے ہوئے شرعی حیلوں سے زیادہ رقم دی جائے تو جائز ہے۔ لہذا مسلم بینک کے ذریعے بچت کھاتہ اور ایک مخصوص مدتی رقم فکسڈ ڈپازٹ پر نفع دیا جاسکتا ہی اور جمع شدہ سرمایہ سے مسلم تاجروں اور صنعت کاروں کو قرضے بھی نفع پر دیئے جاسکتے ہیں اور اس طرح مسلم تجارت اور صنعت و حرفت کو فروغ دے کر قومی معیشت مستحکم کی جاسکتی ہے اور مسلمان حکومت یا کسی اور کے آگے نوکری کے لئے گڑگڑانے کے بجائے خود تجارت، اپنی ہی فرموں اور انڈسٹریوں میں ملازمت کرسکتا ہے اور اپنی کاریگری، صلاحیت اور محنت کو زیادہ بہتر طریقے سے زیادہ خوشحالی کے ساتھ بروئے کار لاسکتا ہے۔ رسالے میں امام احمد رضا نے یہ بھی لکھا ہے کہ خریدوفروخت میں کوشش کرنا سنت ہے (ص 75)
امام احمد رضا قوم کو کفر و شرک کی ہر جکڑ سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور اس لئے انہوں نے مسلمانوں کو معاشی طور پر مضبوط ہوکر سیاسی اور سماجی اعتبار سے مضبوط اور طاقت ور ہونے کی تلقین کی ہے اور یہ تجارت اور صنعت و حرفت ہی کے ذریعے ممکن ہے
ماخذ و مراجع
1…قرآن کریم
2… ترمذی شریف
3… فتاویٰ رضویہ، ج 7، 11، امام احمد رضا (قدیم ایڈیشن)
4… تدبیر فلاح و نجات و اصلاح ، مشمول فتاویٰ رضویہ
5… کفل الفقیہ الفاہم، از امام احمد رضا، مشمولہ فتاویٰ رضویہ
6… فاضل بریلوی کے معاشی نکات، از پروفیسر رفیع الدین صدیقی، سالنامہ معارف رضا کرای، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا 1981ء
7… امام احمد رضا کا 1912ء منصوبہ (انگریزی : ڈاکٹر محمد ہارون، ترجمہ: عبدلنعیم عزیزی) مطبوعہ کراچی)