’’تندرستی ہزار نعمت ہے ‘‘یہ محاورہ ہم اپنے بچپن سے سنتے آرہے ہیں اور بات بھی یہی ہے کہ اگر انسان کا تن درست ہو تووہ نعمتوں سے بھر پور لطف اٹھاتاہے اور اگر تن کو بیماری لگ جائے تو ا ب چاہے لاکھوں نعمتوں کا مالک ہو مگر اس کے حق میں نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ تو تھی صحت وتندرستی کی بات جسے ہر معاشرہ اور ہر مذہب میں قابل رشک سمجھا جاتا ہے مگر بیماری کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔دنیا کے دیگر مذاہب بیماری کو صرف آفت ومصیبت گردانتے ہیں جبکہ مذہب اسلام جہاں صحت کو نعمت قرار دیتا ہے وہاں بیماری کو بھی ایک طرح کی نعمت بتاتا ہے اور نہ صرف بیمار کے فضائل بیان کرتا ہے بلکہ بیمار کی عیادت کرنے کی اہمیت وفضیلت پربھی روشنی ڈالتا ہے نیزاس کی ترغیب وتحریص پر بھی ابھارتا ہے۔فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’بیماری سے بظاہر تکلیف پہنچتی ہے لیکن حقیقت میں وہ بہت بڑی نعمت ہے جس سے مومن کو ابدی راحت وآرام کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے۔‘‘(انوار الحدیث ، ص۱۹۷) ذیل میں ہم پہلے بیماری وبیمار کی فضیلت، پھر بیماری میں صبر وشکر کی اہمیت،پھرمریض کے ساتھ حسن سلوک ،پھردواء اور دم سے بیماری کا علاج،پھر عیادت کی اہمیت وفضیلت اور آخر میں عیادت کے آداب بیان کریں گے اوریہ بھی بیان کریں گے کہ بیماری کے وقت مریض کو اور عیادت کرنے والے کو کیا کرنا چاہیے نیز ساتھ ساتھ ان کے متعلق بعض ضروری مسائل بھی ذکر کریں گے۔
بیماری اور بیمار کی فضیلت:
جب ہم احادیث طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں بیماری اور بیمارکی حیرت انگیز فضیلتیں معلوم ہوتی ہیں ۔چندروایات ملاحظہ کیجئے اور دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مرحومہ کے حق میں بیماری کو کس قدر نافع ومفید اور رحمت ونعمت بنایا ہے۔(1) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کو کوئی رنج ، دکھ ، فکر،تکلیف،اذیت اور غم پہنچتا ہے حتی کہ اسے کانٹا بھی چبھتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری،ج۴،ص۳،الحدیث:۵۶۴۱) (2)بارگاہِ رسالت میں بخار کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے بخار کو برا کہا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بخار کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مومن کو گناہوں سے ایسے پاک کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کا میل صاف کردیتی ہے۔(سنن ابن ماجہ ،ج۴، ص۱۰۴، الحدیث:۳۴۶۹)(3) بندے کے لئے علم الہٰی میں جب کوئی مرتبۂ کمال مقدر ہوتا ہے اور وہ اپنے عمل سے اس مرتبے کو نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم ،مال یا اولاد پرکوئی مصیبت ڈالتا ہے پھر اس پر صبر عطا فرماتا ہے حتیکہ اسے اس مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جواس کے لئے علم الہٰی میں مقدر ہوچکا ہے۔(مسند احمد ،ج۸،ص۳۱۴،الحدیث:۲۲۴۰۱) (4) راہِ خدا میں قتل کے علاوہ سات شہادتیں اور ہیں: (۱) طاعون سے مرنے والاشہید ہے(۲) ڈوب کر مرنے والا شہید ہے(۳) نمونیہ سے مرنے والا شہید ہے (۴) پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے (۵) آگ میں جل جانے والاشہید ہے(۶) عمارت کے نیچے دب کر مرنے والاشہید ہے اور (۷) بچہ کی پیدائش کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔ (موطأامام مالک، ج۱، ص۲۱۸، الحدیث :۵۶۳)(5) جب بندہ تین دن بیمار ہوتاہے توگناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔(مجمع الزوائد،ج۳،ص۲۰، الحدیث:۳۷۶۴)(6) مریض جب تک تندرست نہ ہوجائے اس کی دعا رد نہیں ہوتی ۔‘‘(الترغیب والتر ھیب ، ج ۴ ، ص ۱۶۶، الحدیث:۱۹ )(7)جب بندہ بیمار ہوتاہے یا سفر کرتا ہے تو جو عمل وہ تندرستی اور اقامت کی حالت میں کرتا ہے وہ عمل بھی اس کے لئے لکھا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری،ج۲،ص۳۰۸،الحدیث:۲۹۹۶)
بیمار ی میں صبر وشکرکی اہمیت :
حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’مریض کوچاہئے کہ موت کوکثرت سے یاد کرے،توبہ کرتے ہوئے موت کی تیاری کرے،ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے، خوب گڑگڑا کر دعا کرے،عاجزی کا اظہارکرے، خالق ومالک جَلَّ جَلَالُہٗ سے مددمانگنے کے ساتھ ساتھ علاج بھی کرائے، قوت وطاقت ملنے پراللہ تعالیٰ کا شکرادا کرے، شکوہ وشکایت نہ کرے، تیمارداری کرنے والوں کی عزت واحترام کرے ،مگر ان سے مصافحہ نہ کرے۔ (رسائل امام غزالی،الادب فی الدین،ص۴۰۹)مصافحہ نہ کرنے کا اس لئے فرمایا تاکہ کمزور عقیدے والایہ گمان نہ کرے کہ ایک مریض کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے… فقیہ ملت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ یہ ظاہری بیماری حقیقت میں روحانی بیماریوں کا بڑا زبردست علاج ہے بشرطیکہ آدمی مومن ہو اور سخت سے سخت بیماری میں صبر وشکر سے کام لے اگر صبر نہ کرے بلکہ جزع فزع کرے تو بیماری سے کوئی معنوی فائدہ نہ پہنچے گا یعنی ثواب سے محروم رہے گا۔بعض نادان بیماری میں نہایت بے جا کلمات بول اٹھتے ہیں اور بعض خدائے تعالیٰ کی جانب ظلم کی نسبت کرکے کفر تک پہنچ جاتے ہیں یہ ان کی انتہائی شقاوت اور دنیاو آخرت کی ہلاکت کا سبب ہے۔وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی۔(انوار الحدیث ،ص۱۹۷)سچی بات ہے کہ احادیث مبارکہ میں بیماری کے جو بھی فضائل وارد ہوئے ہیں ان کااصل حق دار وہی ہے جو اپنی زبان پر شکوہ وشکایت کے الفاظ لانے کے بجائے خود کو صبر وشکر سے سجائے اور دنیاوآخرت کی سعادتوں سے مالا مال ہوجائے۔ترغیب کے لئے دوروایتیں ملاحظہ کیجئے:(1)حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور ان سے فرماتا ہے:دیکھو یہ اپنی عیادت کرنے والوں سے کیا کہتا ہے؟‘‘پھر اگر وہ مریض اپنی عیادت کے لئے آنے والوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے(یعنی شکر ادا کرے) تو وہ فرشتے اس کی یہ بات بارگاہِ الہٰی میں عرض کر دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میرے بندے کا مجھ پر حق ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں اور اگر اسے شفا دوں تو اس کے گوشت کو بہتر گوشت سے بدل دوں اور اس کے گناہ مٹادوں۔(موطا امام مالک،ج۲،ص۴۲۹،الحدیث:۱۷۹۸)(2)حضور نبی کریم ﷺنے ایک انصاری عورت کی عیادت فرمائی اور اس سے پوچھا : کیسا محسوس کر رہی ہو؟‘‘ اس نے عرض کی:’’بہتر،مگر اس بخار نے مجھے تھکا دیا ہے۔‘‘رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’صبر کرو کیونکہ بخار آدمی کے گناہوں کو اس طرح دورکردیتا ہے جس طر ح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔‘‘(الترغیب والترہیب،ج۴،ص۱۵۲، الحدیث:۷۷)
مریض کے ساتھ حسن سلوک :
چونکہ مریض بیماری میں اپنی حالت وکیفیت پر نہیں رہتا ۔اس کی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیں ، مزاج وطبیعت میں تبدیلی آجاتی ہے،منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے اور کبھی کبھار چڑچڑا پن اسے گھیر لیتا ہے ۔لہٰذا ایسے وقت میں وہ انتہائی نرم سلوک کا مستحق ہوتا ہے ۔اس پر سختی نہ کی جائے اورکھانے وغیرہ کے معاملے میںاس کے ساتھ ضدنہ کی جائے بلکہ انتہائی محبت وپیارکے ساتھ اُسے اس کے اچھے یا برے کے بارے میں بتایا جائے۔یہاں وہ روایات ذکر کی جاتی ہیں جن میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مریضوں کے ساتھ نرمی برتنے اور سختی نہ کرنے کا فرمایا ہے اور یہ کہ مریض کی حالت کا خیال رکھنا چاہئے: (1)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مریضوں کو کھانے پر مجبور نہ کرو کہ ان کو اﷲتعالیٰ کھلاتا پلاتا ہے۔(سنن ترمذی، ج۴، ص۵، الحدیث:۲۰۴۷)(2)ایک موقع پر یہ ارشاد فرمایا: جب مریض کھانے کی خواہش کرے تو اسے کھلا دو۔ (سنن ابن ماجہ،ج۴،ص۸۹، الحدیث:۳۴۴) (3)حضرت اُم منذر بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہمراہ میرے یہاں تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیماری سے ابھی ابھی صحت یاب ہوئے تھے۔ مکان میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے،حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے کھجوریں تناول فرمائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھانا چاہاتوآپ ﷺنے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایاکہ تم ابھی کمزوروناتواں ہو۔حضرت اُم منذر فرماتی ہیں :میں نے جو اور چقندر پکا کر پیش کیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’اس میں سے کھائو، یہ تمہارے لیے نفع بخش ہے۔‘‘(سنن ابوداؤد، ج۴، ص۵، الحدیث:۳۸۵۶) صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مریض کو پرہیز کرنا چاہیے جو چیزیں اس کیلئے مضر ہیں، ان سے بچنا چاہیے۔ ‘‘ (بہارشریعت، ج۳، ص۵۰۱)
دواء اوردم سے علاج:
بیماری خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو اس کا علاج جلد کرنا چاہیے کہ خدانخواستہ کہیں وہ بڑھ کر کوئی ناسور یا بڑے مرض میں تبدیل نہ ہوجائے اور بندہ حقوق اللہ اورحقوق العباد کی ادائیگی سے عاجز آجائے نیزاللہ تعالیٰ نے کوئی بھی بیماری اتاری ہے تو ساتھ ہی اس کے لئے شفا بھی نازل فرمائی ہے(کمافی صحیح البخاری، ج۴، ص۱۶، الحدیث:۵۶۷۸) …علاج کی بھی دوصورتیں ہیں (۱)دوائوں سے علاج(۲)دعائوں سے علاج یعنی تعویذات اور دم وغیرہ سے علاج جسے روحانی علاج بھی کہتے ہیں۔یہاں دونوں کے متعلق کچھ مسائل نیزچندروحانی علاج بیان کئے جاتے ہیں۔ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ’’بہارشریعت‘‘ میں نقل فرماتے :دوا علاج کرنا جائز ہے جبکہ یہ اعتقاد ہو کہ شافی(شفادینے والا)اﷲ تعالیٰ ہے، اس نے دوا کو ازالہ مرض (مرض دور کرنے)کے لیے سبب بنادیا ہے اور اگر دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہو تو ناجائز ہے۔(فتاوی عالمگیری، ج۵،ص۳۵۴) … علاج جائز اور حلال اشیاء ہی سے کیا جائے کیونکہ حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا ناجائز ہے کہ حدیث میں ارشاد فرمایا:’’جو چیزیں حرام ہیں ان میں اﷲتعالیٰ نے شفا نہیں رکھی ہے۔‘‘(معجم کبیر، ج۲۳، ص۳۲۶،الحدیث:۷۴۹) …شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: بہت سے مریض جن کو تمام حکیموں اور ڈاکٹروں نے لاعلاج کہہ کر مایوس کر دیا تھا لیکن جب اﷲتعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اور قرآن مجید کی مقدس آیتوں سے صحیح طریقے پر چارہ جوئی کی گئی تو دم زدن میں بڑے بڑے خوفناک اور بھیانک امراض اس طرح ختم ہو گئے کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔(جنتی زیور، ص۵۷۳) ’’بہارشریعت‘‘ میں ہے: گلے میں تعویذلٹکانا جائز ہے جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ یا ادعیہ سے تعویذ کیا گیا ہو۔(بہار شریعت ، ج۳ ،ص۶۵۲)…جائز دم اور تعویذ کا ذکر احادیث کریمہ میں بھی ہے ۔چنانچہ ،حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :ہم جاہلیت میں جھاڑا کرتے تھے۔آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میرے سامنے پیش کرو، جھاڑ پھونک میں حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔‘‘(صحیح مسلم، ص۱۲۰۷،الحدیث:۲۲۰۰)…سیدنا امام ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے بالغ بچوں کو سوتے وقت یہ کلمات پڑھنے کی تلقین فرماتے:بِسْمِ اللّٰہِ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّعِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَحْضُرُوْنِ اور ان میں سے جو نابالغ ہوتے اور یاد نہ کرسکتے تو آپ رضی اللہ عنہ یہ کلمات لکھ کر ان کا تعویذ بچوں کے گلے میں ڈال دیتے ۔(مسندامام احمد ،ج۲،ص۶۰۰، الحدیث:۶۷۰۸)…دکھی دلوں کے طبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کو جائے اور سات بار یہ دعا پڑھے أَسْأَ لُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ أَ نْ یَّشْفِیَکَ اگر موت کا وقت نہیں آگیا ہے تو اسے ضرورشفا ہوگی۔(مشکوۃ المصابیح ، ج۱،ص۲۹۸،الحدیث:۱۵۵۳) …ارشادنبوی ہے : صدقے کے ذریعے اپنے مریضوں کی دوا کرو۔(معجم کبیر، ج۱۰، ص۱۲۸، الحدیث:۱۰۱۹۶) …بخار کا ایک روحانی علاج یہ بھی ہے کہ بعد نماز عصر پارہ ۲۸ کی سورۂ مجادلہ تین مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پلائیے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت، ص۳۲۵) …دماغ میں کوئی خرابی آجائے تولاحول شریف ۲۰ بار،سورۂ فاتحہ اور آیت الکرسی ایک ایک باراور تینوں’’قل‘‘تین بار پانی پر دَم کرکے پلائیے۔(ملفوظاتِ اعلی حضرت،ص۳۴۱)
عیادت کی اہمیت وفضیلت:
کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرنا صرف سنت ہی نہیں بلکہ اس کا حق ہے جسے ہم مسلمانوں کو بحسن وخوبی ادا کرنا چاہئے۔آج کل لوگ صرف ایک فون کال بلکہ ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ہی یہ ’’ فریضہ ‘‘ادا کرلیتے ہیں اور وقت نکال کر بنفس نفیس مریض کی مزاج پرسی وتیمارداری کے لئے جانا دشوار ہوتا جا رہا ہے اور اب تو لوگ موت میت پر بھی اسی’’ ذریعے‘‘ کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں ۔باری تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے باہمی حقوق خوش دلی اور بھرپور جذبے کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔کسی مسلمان کی عیادت کرنانہ صرف بڑی سعادت ہے بلکہ اطاعت وعبادت ہے۔ چنانچہ، (1)حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: مریضوں کی عیادت کیا کرواور جنازوں میں شرکت کیا کرو یہ تمہیں آخر ت کی یا د دلاتے رہیں گے ۔(مسندامام احمد،ج۴ ،ص ۴۷ ،الحدیث: ۱۱۱۸۰ ) (2)اللہ تعالیٰ بروزقیامت فرمائے گا:اے ابن آدم! میں بیمار ہوا مگرتو نے میری عیادت نہیں کی۔بندہ عرض کرے گا:میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیاتجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمارہے، پھر بھی تو نے اس کی عیادت نہ کی؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔(صحیح مسلم، ص۱۱۶۸، الحدیث:۶۵۵۶) (3) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اور ثواب کی امید پر اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کی اسے جہنم سے70 سال کے فاصلے تک دور کردیا جائے گا۔ (سنن ابی داؤد، ج۳ ، ص ۲۴۸، الحدیث: ۳۰۹۷ ) (4)جس نے مریض کی عیادت کی ، جب تک وہ بیٹھ نہ جائے دریائے رحمت میں غو طے لگاتا رہتاہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈو ب جاتا ہے ۔ (مسندامام احمد،ج۵،ص۳۰،الحدیث:۱۴۲۶۴)(5) جو مسلمان صبح کو کسی مسلمان کی عیادت کو نکلتاہے شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور جو شام کو مریض کی عیاد ت کرنے نکلتا ہے صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ لگادیا جا تا ہے۔ (الترغیب والترہیب،ج۴،ص۱۶۴،الحدیث:۱۱)
عیادت کے آداب :
اگرکوئی عمل قرینے،تمیز اور طریقے سے نہ کیا جائے تو وہ ادھورا ونامکمل رہتا ہے ۔عیادت کے بھی کچھ آداب ہیں جن میں سے بعض یہاں بیان کئے جاتے ہیں :(1)… عیادت کرنے والا اگر مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے بلکہ اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہیں جو اس کے دل کو اچھی لگیں ۔(کما فی سنن الترمذی،ج۴،ص۲۵،الحدیث:۲۰۹۴)(2)…مریض کے پاس زیادہ دیر نہیں ٹھہرنا چاہیے سوائے اس شخص کے کہ جس کے زیادہ دیرٹھہرنے سے مریض کو خوشی حاصل ہوجبکہ کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عیادت اونٹنی کادودھ دوہنے کے وقت کی مقدار برابر ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں یوںہے:بیمارپرسی کا افضل طریقہ یہی ہے کہ بہت جلد مریض کے پاس سے اٹھ جائیں۔ (شعب الایمان، ج۶،ص۵۴۲،الحدیث:۹۲۲۱۔۹۲۲۲) اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :عیادت میں مریض کے پاس تھوڑی دیر بیٹھنا اور شور نہ کرنا سنت ہے۔ (مشکوۃ المصابیح،ج۱،ص۳۰۳، الحدیث:۱۵۸۹)(3)…اگر کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو نیز مریض کی خود خواہش ہو تو اس کے سریا پیشانی پر ہاتھ رکھ کر عیادت کرے (کمافی بہارشریعت،ج،۳،ص۵۰۵) چنانچہ،حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے۔(سنن ترمذی، ج۴،ص۳۳۴،الحدیث:۲۷۴) (4)…عیادت کرنے والے کو چاہیے کہ جہاں وہ مریض کے لئے دعا کرے وہیں مریض سے اپنے لئے بھی دعا کروائے ۔جیساکہ حدیث شریف میں ہے: جب تم بیمار کے پاس جائوتو اس سے اپنے لئے دعا کی درخواست کرو کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی مانند ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ، ج۲، ص ۱۹۱،الحدیث ۱۴۴۱)(5)…نیک لوگوں بالخصوص ان خوش نصیبوں کی عیادت ضرور کی جائے جواللہ تعالیٰ کے گھروں کو شاد وآباد رکھتے کیونکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:مساجد کو آباد رکھنے والے نیک لوگوں بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرنا فرشتوں کا طریقہ ہے۔ (مستدرک،ج۳،ص۱۶۲، الحدیث:۳۵۵۹)…چند مسائل :(۱) فاسق کی عیادت بھی جائز ہے، کیونکہ عیادت حقوق اسلام سے ہے اور فاسق بھی مسلم ہے۔ (درمختارمع ردالمحتار،ج۹، ص۶۳۹)(۲)اگر کسی مریض کو ایذا پہنچے تو قرآن مجید بھی بلند آواز سے نہ پڑھاجائے ۔(غنیۃ المتملی،ص۴۹۸)(۳)اگر جماعت کے لیے جانے سے مریض کو تکلیف ہوگی اوروہ گھبرائے گاتواس کی تیمارداری کرنے والا جماعت ترک کرسکتا ہے۔ (درمختار،ج۲،ص۳۴۹)(۴) اگر معلوم ہے کہ عیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گراں گزرے گا ایسی حالت میں عیادت نہ کرے۔(بہار شریعت ،ج۳،ص۵۰۵)