ؔٓٓاصل ا ھلسنت و جما عت کو ن ؟

in Tahaffuz, March 2014

’’قال رسول اﷲﷺ اتبعوا السواد الاعظم ید اﷲ علی الجماعۃ شذ شذ فی النار‘‘

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: بڑی جماعت (یعنی اہل سنت و جماعت) کی پیروی کرو، اﷲ تعالیٰ کی رحمت و مدد جماعت کے ساتھ ہے، جو بڑی جماعت (اہل سنت و جماعت) سے علیحدہ ہوا، وہ جہنم میں علیحدہ ڈالا گیا.
(بحوالہ: کنزالعمال ، جلد اول، ص 206)

رسول اﷲﷺ قام فینا فقال الا ان من قبلکم من اہل الکتاب افترقوا علی ثنتین وسبعین ملۃ وان ہذہ المۃ ستفترق علی ثلاث و سبعین ثنتان وسبعون فی الناروواحد فی الجنۃ وہی الجماعۃ

رسول اﷲﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: خبردار ہوجائو کہ تم سے پہلے اہل کتاب بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور عنقریب یہ اُمّت تہّتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ بہّتر فرقے تو جہنم میں جائیں گے اور ایک ہی فرقہ جنت میں جائے گا۔ وہی سب سے بڑی جماعت ہے

(بحوالہ سنن ابو دائود (مترجم) جلد سوم، حدیث 1173، ص 428، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)

ف= محدثین فرماتے ہیں سنت یہی ہے کہ ایک مسلمان کہلانے والا اسی جماعت میں رہے جو رسول پاکﷺ نے تیار کی تھی اور فرقۂ باطلہ کے منظر پر آنے کے وقت اس نے اپنے آپ کو اہلسنت و جماعت کے نام سے موسوم و مشتہر کیا۔ اس جماعت سے نکلنا اور اپنا علیحدہ فرقہ قائم کرنا یا اس طرح قائم ہونے والے کسی بھی فرقے میں شامل ہونا بہت بڑی گمراہی ہے۔

گیارہویں صدی کے مجدد شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب اشعۃ اللمعات جلد اول ص 141-140 پر لکھتے ہیں کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ جنتی گروہ ’’اہلسنت و جماعت‘‘ ہے۔ حالانکہ ہر فرقہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر ہے۔ حق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان کا دین اسلام نقل ہوتا ہے جبکہ یہاں صرف عقل کافی نہیں ہوتی اور متواتر خبروں سے معلوم ہوا نیز احادیث وآثار کی چھان بین سے یقین آیا کہ سلف و صالحین میں سے صحابہ و تابعین اور ان کے بعد والے تمام بزرگ اسی عقیدے اور طریقہ پر تھے۔

اہلسنت و جماعت کی ہر دور میں غالب اکثریت رہی

دور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بعد سے ہر دور میں اہلسنت و جماعت بڑے گروہ کی صورت میں پھلتا پھولتا رہا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ متحدہ پاک و ہند میں ہمیشہ اہل سنت و جماعت کی غالب اکثریت رہی ہے۔ سرزمین ہند میں بڑے بڑے نامور اور باکمال علماء و مشائخ پیدا ہوئے، جنہوں نے دین اسلام کی زریں خدمات انجام دیں اور ان کے دینی اور علمی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

اہلسنت و جماعت کی تعریف

’’موسوعۃ للادیان والمذاہب‘‘ میں اہلسنت و جماعت کی تعریف حسب ذیل الفاظ میں کی گئی ہے۔
’’اہل السنۃ والجماعۃ ہم المتمسکون سنۃ رسول اﷲﷺ التارکون بدع المبتد عین بعدہ، الثابتون مع اہل الجماعۃ، فاصحاب رسول اﷲﷺ ہم الجماعۃ الذین قال فیہمﷺ (ما انا علیہ واصحابی علیہ الیوم)
یعنی اہل سنت وجماعت وہی ہیں جو رسول اﷲﷺ کی سنت پر عمل پیرا رہے، بدمذہبوںکی گمراہیوں سے کنارہ کش رہے اور جماعت سے وابستہ رہے اور جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں جن کے بارے میں سرکار اعظمﷺ نے فرمایا

’’ماانا علیہ واصحابی‘‘

اہلسنت و جماعت کوئی نو پیدا فرقہ نہیں ہے کہ اس کے بنیادی عقائد انگلیوں پر گنا دیئے جائیں، بلکہ اس کے عقائد کتاب وسنت کا خلاصہ اور صحابہ وتابعین رضی اﷲ عنہم کے افکار و نظریات اور اعمال و افعال کا نچوڑ ہیں اور انہی عقائدو اعمال پر گزشتہ چودہ سو سال سے اُمّت اسلامیہ کا سواد اعظم ہے، جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اہلسنت و جماعت کن عقائد کی بنیاد پر دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے؟ تو میری ناقص خیال میں اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جب کسی جماعت نے سواداعظم (اہلسنت وجماعت) کے جن عقائد سے اختلاف کیا، وہی عقائد اس دور میں جماعت کا امتیاز اور سنیت کی علامت قرار پائے۔

اہلسنت و جماعت کے بنیادی عقائد و نظریات

عقیدہ: اﷲ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ جس طرح سے اس کی ذات قدیم ازلی ابدی ہے اس کی صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں۔ ذات و صفات کے علاوہ سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہیں تھیں پھر موجود ہوئیں۔

عقیدہ: اﷲ تعالیٰ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ومن اصدق من اﷲ قیلا (سورہ النساء ۴/۱۲۲)
’’اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی‘‘ (کنزالایمان) نیز ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔
ومن اصدق من اﷲ حدیثا (سورہ النساء ۴/۸۷)
’’اور اﷲ سے زیادہ کس کی بات سچی‘‘ (کنزالایمان)
صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
’’یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کذب ناممکن و محال ہے کیونکہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اﷲ پر محال ہے‘ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے‘‘ (تفسیر خزائن العرفان)
عقیدہ: اﷲ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے… اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
ترجمہ ’’وہی اﷲ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ ہر نہاں و عیاں کا جاننے والا وہی ہے‘ بڑا مہربان رحمت والا (سورۃ الحشر ۵۹/۲۲) (کنزالایمان)
ترجمہ: ’’ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا‘‘ (سورہ الرعد ۱۳/۹) (کنزالایمان)
ترجمہ: ’’بے شک توہی ہے سب غیبوںکا جاننے والا‘‘ (سورۃ المائدہ ۵/۱۰۹‘۱۱۶) (کنزالایمان)
عقیدہ: حضورﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت آپﷺ پر ختم کردیا۔ حضورﷺ کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ حضورﷺکے زمانہ میں یا حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز جانے‘ کافر ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ: ’’محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے‘‘ (سورۃ الاحزاب ۳۳/۴۰) (کنزالایمان)
عقیدہ: حضورﷺ نور ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: بے شک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب

(سورۃ المائدہ ۵/۱۵) (کنزالایمان)

حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہماکی تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد حضور پرنورﷺ ہیں۔ جمہور مفسرین کا یہی قول ہے ملاحظہ ہوں (تفسیر بیضاوی‘ تفسیر مظہری‘ تفسیر خازن‘ تفسیر مدارک‘ تفسیر روح البیان‘ تفسیر جلالین‘ تفسیر روح المعانی و غیرہا) صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’سید عالمﷺ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی‘‘ (خزائن العرفان)

عقیدہ: حضورﷺ بے مثل بشر ہیں۔ حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔
’’میں تمہاری مثل نہیں‘‘ (صحیح بخاری ۲/۲۴۶‘ جامع الترمذی ۱/۹۷)

حضرت سیدنا علی رضی اﷲ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ’’میں نے رسول اﷲ کی مثل نہ پہلے کسی کو دیکھا نہ بعد میں (ترمذی ۱۲/۸۹ تاریخ کبیر‘ خصائص کبریٰ)

عقیدہ: حضورﷺ شافع محشر ہیں۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے اذن سے اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے مگر اس کے حکم سے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے

(سورہ البقرہ ۲/۲۵۵) (کنزالایمان)

’’قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں

(سورہ الاسراء ۱۷/۷۹) (کنزالایمان)

جمہور مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مقام محمود سے شفاعت مراد ہے۔

عقیدہ: عبدالمصطفی‘ عبدالنبی‘ غلام رسول اور غلام نبی وغیرہ نام رکھنا جائز ہے اور باعث برکات بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’تم فرمائو اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اﷲ کی رحمت سے ناامید نہ ہو

 (سورۃ الزمر ۳۹/۵۳) (کنزالایمان)

اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں حضورﷺکو حکم فرمایا کہ یاعبادی (اے میرے بندوں) کہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ لفظ عبد غیر اﷲ کے ساتھ مل کر استعمال ہوسکتا ہے۔ یعنی جس طرح عبداﷲ اور عبدالرحمن نام ہوسکتے ہیں اسی طرح عبدالمصطفی اور عبدالنبی نام میں کچھ حرج نہیں ہے جو لوگ غیر اﷲ کی طرف اضافت کے سبب شرک کی بات کرتے ہیں وہ اس آیت کا کیا جواب دیں گے اس میں بندوں کی اضافت ضمیر واحد متکلمی کی طرف کی گئی ہے جس سے قطعا حضورپرنور سید عالم صاحب لولاک ﷺکی ذات ستودہ صفات مراد ہے۔

عقیدہ: یارسول اﷲ‘ یا حبیب اﷲ لفظ ندا سے پیارے آقا و مولیٰﷺ کو پکارنایا یاد کرنا جائز ہے۔ امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری قدس سرہ روایت فرماتے ہیں کہ:

’’حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما کا پائوں سن ہوگیا تو ایک شخص نے ان سے کہا کہ اس شخص کو یاد کریں جو آپ کو سب سے محبوب ہے‘ تو انہوں نے کہا ’’یامحمداہ ﷺ‘‘ (الادب المفردلامام بخاری ۱/۳۲۵)

عقیدہ: حضور سرور کون و مکاںﷺ دور و نزدیک سے اپنے امتیوں کی آواز و فریاد کو سنتے ہیں۔ شافع محشر‘ ساقی کوثر احمد مجتبیٰﷺ کا فرمان ہے۔ ’’جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے‘

(المستدرک علی صحیحین ۲/۵۵۴‘ سنن الترمذی ۴/۵۵۶‘ سنن البیہقی الکبری ۵۲۷‘ مسند البزار ۹/۳۵۸‘ مسند احمد ۵/ ۱۷۳‘ شعب الایمان ۱/۴۸۴)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ اپنے مشہور و معروف ’’سلام‘‘ میں فرماتے ہیں۔

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام

عقیدہ: حضور سرور کونینﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے نفع و نقصان کا مالک بنایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اﷲ اور اﷲ کے رسولﷺ نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا

(سورۃ التوبہ ۹/۷۴) (کنزالایمان)

’’اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اﷲ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے اﷲ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اور اﷲ کا رسول ہمیں اﷲ ہی کی طرف رغبت ہے‘

 (سورۃ التوبہ ۹/۵۹) (کنزالایمان)

’’اور اے محبوب یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اﷲ نے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی (سورہ الاحزاب ۳۳/۳۷) (کنزالایمان)

حضورﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہم تقسیم فرمانے والے ہیں اور اﷲ تعالیٰ دیتا ہے‘

 (صحیح البخاری ۱/۱۲۶ مشکوٰۃ المصابیح)

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سرکاردوعالمﷺ من جانب اﷲ پوری کائنات میں تقسیم فرمانے والے ہیں اور جو قاسم ہوتا ہے یقینا وہ نفع رساں ہوتا ہے۔

عقیدہ: انبیاء کرام‘ اولیاء کرام اور نیک ہستیوں کا وسیلہ مانگنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پائو‘

 (سورہ المائدہ ۵/۳۵) (کنزالایمان)

حضور اکرم نور مجسمﷺ نے ایک نابینا صحابی رضی اﷲ عنہ کوایک دعا تعلیم فرمائی جس میں ان صحابی رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ کے وسیلہ سے دعا مانگی۔ وہ دعا یہ ہے.

اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بمحمد نبی الرحمۃ یامحمد انی قد توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی اللھم فشفعہ فی‘‘

اے اﷲ بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے حضرت محمد مصطفیﷺ نبی رحمت کے وسیلہ سے متوجہ ہوتا ہے‘ یا محمدﷺ بے شک میں آپﷺ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اپنی اس حاجت کے لئے تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ اے اﷲ حضور اکرمﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما‘‘ (سنن ابن ماجہ ۴/۲۹۶) علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی فرماتے ہیں۔ ’’اہل سنت و جماعت کے نزدیک وسیلہ مانگنے کے جائز ہونے پر اجماع ہے‘‘

(الدر السنیۃ ص ۴۰)

عقیدہ: حضور سید عالمﷺ معلم کائنات ہیں اور آپﷺ کی اطاعت سب پر لازم ہے۔
اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اﷲ کا حکم مانا‘‘

(سورۃ النساء ۴/۸۰) (کنز الایمان)

’’اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘

 (سورۃ الحشر ۵۹/۷) (کنزالایمان)

’’اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے‘

 (سورۂ ابراہیم ۱۴/۴) (کنزالایمان)

شیخ سلیمان الجمل قدس سرہ حاشیہ جلالین میں لکھتے ہیں ’’اور رسول اﷲﷺ ہر قوم سے ان کی زبان میں خطاب فرمایا کرتے تھے‘

 (تفسیر جمل ۲/۵۱۲)

’’اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتے ہیں اور تمہیں خوب ستھرا کرتے ہیں اور تمہیں وہ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ (سورۃ البقرہ ۲/۱۵۱) (کنزالایمان)

ان آیات و تفسیر سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ تمام لغات کے جاننے والے ہیں اور آپﷺ معلم کائنات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپﷺ نے کوئی علم یا کوئی زبان کسی مخلوق سے سیکھی ہو۔
عقیدہ: حضورﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے ہر چیز کا علم عطا فرمایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا تم پر بڑا فضل ہے‘‘ (سورۃ النساء ۴/۱۱۳) (کنزالایمان)

صحابی رسولﷺ حضرت ابو زید رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’نبی پاکﷺ نے ہم کو جو کچھ بھی پہلے ہوچکا تھا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا تھا‘ تمام بیان فرمادیا‘‘ (صحیح مسلم ۲/۳۹۰)

نیز سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’پس جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے‘ میں اس کو جان گیا ہوں‘‘ (جامع ترمذی ۲/۱۵۵)

نیز سرکار کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کیا حال ہے ان قوموں کا جنہوں نے میرے علم میں طعن کیا ہے۔ قیامت تک کی جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے پوچھو گے میں تمہیں بتادوں گا‘‘ (تفسیر خازن ۱/۳۸۲‘ مطبوعہ مصر)

عقیدہ: نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا‘‘ (سورۂ غافر ۴۰/۶۰) (کنزالایمان)

اس آیت میں کوئی قید نہیں ہے جب بھی ہم دعا مانگیں اﷲ تعالیٰ قبول فرمانے والا ہے۔ خواہ عام فرض نمازوں کے بعد دعا کی جائے یا نماز جنازہ کے بعد بالکل جائز اور حکم قرآن کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ حضور اقدس سیدعالمﷺارشاد فرماتے ہیں۔ ’’جب تم نماز جنازہ پڑھ لو تو میت کے لئے خالص دعا مانگو‘‘ (ابن ماجہ ۴/۴۴۷‘ سنن ابی دائود ۸/۴۹۱)

حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما ایک جنازے پر نماز جنازہ کے بعد پہنچے تو انہوں نے نمازیوں سے فرمایا
’’اگر تم نے مجھ سے پہلے نماز پڑھ لی ہے تو دعا میں تم مجھ سے آگے نہ بڑھو‘‘ (المبسوط الامام شمس الائمۃ السرخسی ۲/۶۷)
عقیدہ: محفل میلاد شریف کرنا جائز اور باعث برکت ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

’’تم فرمائو کہ اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اس پر چاہئے کہ خوشی کریں‘‘ (سورۃ یونس ۱۰/۵۸) کنزالایمان)

’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘ (سورۃ الضحی ۹۳/۱۱) (کنزالایمان)

ان آیات سے یہ بات نہایت واضح کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل‘ رحمت اور نعمت پر خوب خوشی کا اظہار کرو اور چرچا بھی کرو۔ اب کون سا مسلمان ہے جو سرور عالم نور مجسم شفیع اعظمﷺ کی ذات بابرکات کو اﷲ تعالیٰ کا فضل اس کی رحمت اور اس کی نعمت نہیںسمجھتا؟ یقینا تمام مسلمانان عالم حضورﷺ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رحمتہ للعالمین اور اﷲ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ سمجھتے ہیں جن کی بعثت شریفہ کا اﷲ تعالیٰ نے احسان جتایا ہے۔

’’بے شک اﷲ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا‘‘ (سورۂ آل عمران ۳/۱۶۴) (کنزالایمان)

لہذا آپﷺ کے میلاد کی خوشی منانا اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا چرچا کرنا ہے۔ اور محفل میلاد منعقد کرنا صرف پاکستان یا ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام اپنے اپنے زمانے میں محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ لکھتے ہیں ’’اور اہل اسلام ہمیشہ سے حضورﷺ کی ولادت شریف والے مہینہ میں محافل میلاد منعقد کرتے رہے ہیں‘‘

(ماثبت من السنۃ ص ۴۰ مطبوعہ لاہور)

عقیدہ: حضور اکرم نور مجسمﷺ اور تمام انبیاء کرام اپنے اپنے مزاروں میں زندہ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں‘‘ (سورۃ البقرہ ۲/۱۵۴) (کنزالایمان)

علامہ احمد بن حجر عسقلانی رحمتہ اﷲ لکھتے ہیں:
’’اور جب قرآنی ارشادات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ شہید لوگ زندہ ہیں اور یہی عقل سے بھی بادلیل ثابت ہے تو وہ انبیاء کرام علیہم السلام جن کا درجہ شہداء سے بلند اور بالاتر ہے ان کی حیات بطریق اولیٰ ثابت ہوگئی‘‘ (فتح الباری شرح صحیح البخاری ۱۰/۲۴۳)

عقیدہ: بزرگان دین کے اعراس میں جو جانور نیاز اور ارواح کے ایصال ثواب کے لئے ذبح کیا جاتا ہے‘ وہ حلال ہے۔ قرآن مجید میں جو آیت ہے (اور وہ جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو‘‘ (سورہ البقرہ ۲/۱۷۳) (کنزالایمان)

تو اس آیت کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں وہ جانور مراد ہے جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام لیا جائے۔ مندرجہ ذیل تفاسیر میں یہ بیان موجود ہے

(تفسیر بیضاوی‘ تفسیر مظہری‘ تفسیر خازن‘ تفسیر مدارک‘ تفسیر روح البیان‘ تفسیر جلالین‘ تفسیر روح المعانی وغیرہا)

لہذا حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کی گیارہویں شریف ان کے ایصال ثواب کے لئے جو جانور گائے‘ بکرا وغیرہ ذبح کیا جاتا ہے یا کسی ولی اﷲ کے عرس مقدس پر جو بکرا ذبح کیا جاتا ہے اس پر بھی ذبح کے وقت (بسم اﷲ اﷲ اکبر) پڑھا جاتا ہے لہذا وہ کھانا بالاتفاق حلال اور جائز ہے۔ کذا فی

التفسیرات الاحمدیۃ

عقیدہ: مردے سنتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے قوم ثمود پر عذاب نازل کیا اور وہ لوگ مر گئے تو حضرت صالح علیہ السلام نے ان مردہ لوگوں کو فرمایا (پس ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرض ہی نہیں) (سورہ الاعراف ۷/۷۹) (کنزالایمان)

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک جب آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست جب وہاں سے لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے‘‘ (صحیح بخاری ۵/۱۱۳)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب سرکار دوعالمﷺ مدینہ طیبہ کے قبرستان سے گزرتے تو فرماتے:
’’اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو‘ اﷲ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں بخشے اور تم ہم سے پہلے آئے اور ہم تمہارے بعد آئیں گے‘‘ (جامع ترمذی ۴/۲۰۸) ان احادیث سے صاف واضح ہے کہ قبروں والے مردے سنتے ہیں۔

عقیدہ: اولیاء اﷲ کو پکارنا اور ندا کرنا جائز ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

’’تو بے شک اﷲ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے فرشتہ مدد پر ہیں‘‘ (سورۃ التحریم ۶۶/۴) (کنزالایمان)

امام جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے طبرانی شریف کے حوالے سے حدیث شریف درج فرمائی ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اﷲ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں لوگوںکی حاجتیں پوری ہونے کے لئے لوگ اپنی حاجتوں میں ان کی طرف فریاد کریں گے‘ وہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہیں‘‘ (جامع صغیر مع فیض القدیر ۲/۴۷۷ مطبوعہ مصر‘ المعجم الکبیر ۱۲/۳۵۸‘ حلیتہ الاولیاء ۳/۲۲۵)

اس کے علاوہ بہت سے ایسے عقائد ہیں جن سے اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی حضرات کا دیگر فرقوں سے امتیاز ہوجاتا ہے۔

ان عقائد کے حامل حضرات ہی درحقیقت اہل سنت و جماعت ہیں اور ان عقائد و نظریات کے حامل نہیں اور ان درج ذیل عقائد و نظریات کو شرک و بدعت کہیں وہ اہلسنت و جماعت نہیں بلکہ مسلمانوں کو ھوکہ دینے کے لئے اہلسنت و جماعت کا لیبل لگائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کو مسترد کردیں۔

موجودہ دور میں جو لوگ عوام کے سامنے اپنے آپ کو اہلسنت و والجماعت کا لیبل لگا کر متعارف کروا رہے ہیں، درحقیقت وہ دہشت گردوں کا منظم گروہ ہے جو ہر دور میں خون خرابہ کرتا رہا ہے۔ میری مراد (کالعدم) سپاہ صحابہ المعروف سپاہ خون خرابہ ہے۔ آیئے ہم اس کی ابتداء اور اس کے عزائم سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

(کالعدم) سپاہ صحابہ پاکستان کی ابتداء

صوبہ پنجاب کا ضلع جھنگ سیدھے سادھے مسلمانوں کی شاندار رواداری کا مظہر رہا ہے۔ یہاں پر سنی (اہلسنت و جماعت) اور شیعہ پرامن طور پر اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ اسی اثناء میں فرقہ واریت کا ایک غلیظ پودا حق نواز جھنگوی نامی ایک دیوبندی مولوی نے سنیت کے دعوے کے ساتھ لگایا۔ یاد رہے کہ حق نواز جھنگوی نے ابتداء میں علمائے اہلسنت کو مناظرہ کا چیلنج کیا جسے استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالرشید جھنگوی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے اہلسنت نے قبول کیا اور حق نواز جھنگوی کو بری طرح شکست ہوئی جس کے بعد اس نے پینترہ بدل کر شیعہ فرقے کے خلاف ایک تحریک چلائی جس کا نام سپاہ صحابہ پاکستان رکھا۔ بالآخر حق نواز جھنگوی اپنی ہی لگائی آگ میں جل کر ہلاک ہوگیا مگر اپنے پیچھے ایک مستقل خونریزی کی رسم چھوڑ گیا، جو اب تک ہزاروں گھروں کو ماتم کدوں میں تبدیل کرچکی ہے۔

سپاہ صحابہ پاکستان کے نام سے جو قتل و غارت کا پودا حق نواز جھنگوی نے لگایا تھا، اس سے اسلام کو بہت نقصان پہنچا، فرقہ وارانہ کشیدگی اس قدر بڑھی کہ پورے ملک میں شیعہ دیوبندی فسادات شروع ہوگئے۔ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں نے جب سپاہ صحابہ پاکستان کی دہشت گردی دیکھی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سپاہ محمد پاکستان قائم کی۔ دونوں جانب کی مسلح گروہ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے ہزاروں افراد کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ان دونوں فرقوں کے مسلح گروہ کو دو ملکوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
حق نواز جھنگوی کے بعد اس کا جانشین مولوی ایثار قاسمی 1991ء میں قتل ہوا۔ ضیاء الرحمن فاروقی کے دور میں کالعدم سپاہ صحابہ اندرونی انتشار کا شکار ہوئی۔ پنجاب کے صدر نے سپاہ صحابہ سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا۔ اسی اثناء میں ریاض بسرا کی قیادت میں ایک گروپ کالعدم سپاہ صحابہ سے الگ ہوگیا اور اس نے لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی بالاخر ریاض بسرا بھی پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں سپاہ صحابہ پاکستان پر پابندی عائد کی گئی جس کے باعث وہ کچھ عرصہ خاموش رہی، مگر بعد میں اس نے اپنے اوپر اہلسنت والجماعت کا لیبل لگالیا۔ حکومت کے تمام دعوئوں کے باوجود کالعدم سپاہ صحابہ اس وقت پورے ملک میں اہلسنت والجماعت کے نام پر کھل کر کام کررہی ہے اور اس کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت کالعدم سپاہ صحابہ تین ناموںسے کام کررہی ہے، پہلا نام اہلسنت والجماعت، دوسرا نام سنی ایکشن کمیٹی اور تیسرا لشکر جھنگوی۔

کالعدم سپاہ صحابہ نے اہلسنت والجماعت
کا نام کیوں منتخب کیا؟

کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما بلکہ پورا ملک اور اس کی تمام ایجنسیز، ادارے میں انتظامیہ یہ جانتی ہیں کہ ہر دور میں ’’اہلسنت والجماعت‘‘ امن وسلامتی اور بھائی چارگی کی علامت رہا ہے لہذا اس نام کو چرا کر اس نام کو بدنام کرنے کی خاطردہشت گردوں نے یہ لیبل لگایا تاکہ امن وسلامتی کا نشان ’’اہلسنت و الجماعت‘‘ داغ دار ہوجائے۔

دیوبندی مکتب فکر اور اہلسنت و الجماعت کے درمیان فروعی اختلاف بھی اور نظریاتی اور بنیادی اختلاف بھی ہیں۔ دیوبندی فرقے کے اکابرین اور علماء نے اپنی کتابوں میں ضروریات دین کا انکار کیا۔ اسی بنیاد پر علمائے عرب وعجم نے ان کی تکفیر کی۔ تقویۃ الایمان، صراط مستقیم، فتاویٰ رشیدیہ، تحذیر الناس، براہین قاطعہ اور حفظ الایمان میں تکذیب باری تعالیٰ کا فتویٰ، سید عالمﷺ کی شان میں سخت بے ادبی اور گستاخی کی گئی۔ ان گستاخانہ عبارتوں کی اب تک علمائے دیوبند مختلف تاویلیں کرتے ہیں مگر ان گستاخانہ اور کفریہ عبارات کا انکار نہیں کرتے۔

عرصہ دراز سے اپنے آپ کو دیوبندی کہلوانے والے آج سادہ لوح عوام کو دھوکے دینے کے لئے اہلسنت والجماعت کا لیبل کیوں لگائے ہوئے ہیں؟ کیا یہ منافقت نہیں؟

ہم نے اخبارات اور میڈیا کے دفاتر پر فون کرکے معلوم کیا کہ آپ لوگ کالعدم سپاہ صحابہ کو اہلسنت والجماعت کیوں لکھتے ہیں؟ تو ان کا جواب یہ تھا کہ ہمیں کالعدم جماعتوں کی جانب سے دھمکیاں آتی ہیں کہ اگر آپ نے ’’اہلسنت والجماعت‘‘ نہ لکھا تو ہم آپ کے دفاتر کو بم سے اڑادیں گے۔ اس لئے ہمیں مجبوراً کالعدم سپاہ صحابہ کو ’’اہلسنت والجماعت‘‘ لکھنا پڑتا ہے۔

محترم حضرات! آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ لوگ اہلسنت والجماعت کہلوانے کے قابل ہیں جن کے عقائد و نظریات حتی کہ سوچ وفکر کا بھی دور تک اہلسنت سے کوئی تعلق نہ ہو، ان کو اہلسنت والجماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں؟

ہماری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ سعودی عرب اور اپنے چند وزراء کے دبائو پر کالعدم جماعتوں کو اتنی چھوٹ نہ دے ۔ ورنہ یاد رکھیں کہ سانپ کو جتنا بھی دودھ پلایا جائے وہ ڈسنا نہیں چھوڑتا۔