ظالم حکمرانوں کی صورت میں ہم پر مصیبت کیوں؟

in Tahaffuz, March 2014, ا د ا ر یے

القران: ومااصابکم مصیبۃ فیما کسبت ایدکم (سورہ شوری پارہ ۲۵ آیت ۳۰)


ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا۔

تفسیر: صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ یہ خطاب مومنین مکلفین سے ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں‘ اکثر ان کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں۔ ان تکلیفوں کو اﷲ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے رفع ودرجات کے لئے ہوتی ہے۔

حدیث قدسی:

مشکوٰۃ شریف کے ص 315 میں حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ میں اﷲ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے دست قدرت میں ہیں ۔جب لوگ میری تابعداری کریں، میں بادشاہوں کے دلوں میں رحمت اور نرمی ڈال دیتا ہوں اور جب میری مخالفت کریں تو ان کے دلوں کو عذاب اور غضب کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو سخت ایذائیں دیتے ہیں تو لوگوں کو چاہئے کہ بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہوں بلکہ ذکر اور عاجزی اختیار کریں پھر بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہوجائوں گا، یعنی وہ رعایا کے ساتھ سلوک و محبت سے پیش آئیں گے

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الامارۃ والقضائ، الفصل الثالث، حدیث نمبر 3721، جلد 2،ص 12)

میرے محترم بھائیو! درج ذیل حدیث قدسی آپ نے پڑھی۔ اسے پڑھنے کے بعد آپ ذرا غور کریں کہ جن حکمرانوں کو ہم ظالم و جابر کہتے ہیں۔ یہ کہاں سے آئے؟ کس قوم میں سے آئے؟

تو جواب یہی آئے گا کہ یہ ہم ہی میں سے آئے۔ یہ ہمارے ہی درمیان پلے بڑے اور آج حکمران بنے بیٹھے ہیں۔ پھر یہ اتنے ظالم کیسے بن گئے؟ اقتدار میں آنے سے قبل تو یہ ہمارے درمیان نظر آتے تھے۔ ہمارے دکھوں کو اپنا دکھ قرار دیتے تھے، مہنگائی، کرپشن اور ظلم کو ختم کرنے کے ہم سے وعدے کرتے تھے مگر اقتدار میں آتے ہی یہ اتنے ظالم کیسے بن گئے؟

حدیث قدسی میں اس کا جواب موجود ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے جب لوگ میری اطاعت کریں تو میں بادشاہوں (حکمرانوں) کے دلوں میں رحمت اور نرمی ڈال دیتا ہوں اور جب لوگ میری نافرمانی کریں تو حکمرانوں کے دلوں کو غضب کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو (قوم کو) سخت ایذائیں دیتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کے سبب حکمران قوم کو تکالیف پہنچاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ حجاج بن یوسف خدا کی طرف سے ایک آزمائش تھا جو بندوں پر گناہوں کے موافق آیا ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاول، صبرہم علی جور الحکام ص 42)

سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ ہمیں ظالم حکمرانوں کے نقصان سے بچنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تجھے ظالم بادشاہ کے ساتھ ابتلاء واقع ہوجائے اور اس کے سبب سے تیرے دین میں نقصان پیدا ہوجائے تو اس نقصان کا کثرت استغفار کے ساتھ تدارک کر اپنے لئے اور اس ظالم بادشاہ کے لئے ۔
(تنبیہ المغترین، الباب اول، صبرہم علی جورالحکام، ص 42)

معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں کو برا کہنے کے بجائے ہم اﷲ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بن جائیں۔ اس کی بارگاہ میں سچی اور پکی توبہ کریں۔ اس کے دربار میں سربسجود ہوجائیں اور نہایت عاجزی کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوجائیں۔

ذرا سوچئے! ہم جن مصیبتوں میں مبتلا ہیں خصوصاً مہنگائی‘ بے برکتی‘ تنگ دستی‘ ذلت و رسوائی‘ مہلک بیماریاں‘ دشمن کا خوف‘ ظالم حکمران‘ لوڈشیڈنگ‘ نافرمان اولاد ، کہیں یہ مصیبتیں درج ذیل گناہوں کی وجہ سے تو نہیں…؟؟؟

۱۔ ہم نے نمازوں کو بوجھ جان کر اسے وقت پر باجماعت ادا کرنا چھوڑ دیا۔
۲۔ روزے ہم اس لئے ترک کردیتے ہیں کہ ہمیں بھوک اور پیاس برداشت نہیں ہوتی۔
۳۔ ہم زکوٰۃ کو ٹیکس سمجھتے ہیں اور اسے پوری طرح ادا نہیں کرتے۔
۴۔ ہم نے رمضان کے عمرے کو فیشن بنالیا اور فرض حج کو مشقت کا باعث سمجھ کر اسے ترک کردیا۔
۵۔ والدین نے اپنی اولاد کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت نہیں کی۔
۶۔ اولاد ماں باپ کو بوجھ سمجھتی ہے اور انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتی۔
۷۔ بھائی اپنے سگے بھائی سے فقط مال کی وجہ سے محبت اور غریب بھائی سے تعلقات بھی نہیں رکھتا۔
۸۔ سگی بہن اگر غریب ہے تو بھائی اس کے گھر جانا بھی گوارا نہیں کرتا۔
۹۔ والدین اپنی مالدار اولاد کو غریب اولاد پر ترجیح دیتے ہیں۔
۱۰۔ بیوی شوہر کا قبلہ بن چکی ہے۔
۱۱۔ بیوی اپنے شوہر کی ناشکری بن چکی ہے۔
۱۲۔ نوجوان لڑکا باپ کو دور اور دوست کو قریب کرتا ہے۔
۱۳۔ والدین اپنی نوجوان اولاد اور بہو کے ساتھ بیٹھ کر فلمیں‘ ڈرامے دیکھتے ہیں۔
۱۴۔ موسیقی عام ہوچکی ہے‘ کوئی بھی مسلمان اپنے کانوں کو موسیقی سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔
۱۵۔ دعوتوں میں بے دریغ کھانا پھینکا جاتا ہے۔
۱۶۔ خود پسندی بڑھ رہی ہے‘ ہر چیز میں دکھاوا پیدا ہوچکا ہے۔
۱۷۔ مال کمانے کی لالچ بڑھتی جارہی ہے‘ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ حلال ہے یا حرام
۱۸۔ لسانیت کی بنیاد پر بھائی بھائی کے اوپر اسلحہ تانے کھڑاہے۔
۱۹۔ جس مومن کی عزت کو بیت اﷲ سے بھی بڑھ کر فرمایا اس کو سرعام گولیاں ماری جاتی ہیں۔
۲۰۔ مسلمان بھائی کا مال دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘ مگر اس کے باوجود اسلحہ کے زور پر دوسرے مسلمان کو لوٹ لیا جاتا ہے۔
۲۱۔ اخبارات پر مقدس نام اور کلمات لکھے ہوتے ہیں مگر ہم چند روپے کے عوض اسے ردی میں فروخت کردیتے ہیں۔
۲۲۔ نقص والے مال کو اچھا ظاہر کرکے اپنے بھائی کو دھوکہ دیکر فروخت کرتے ہیں۔
۲۳۔ حسد اور عداوت کی بناء پر اپنے ہی مسلمان بھائی پر‘ اس کے گھر پر اور کاروبار پر کالا علم کرواتے ہیں۔
۲۴۔ سیٹھ صاحب اپنے ملازمین کو ان کا اصل حق نہیں دیتے۔
۲۵۔ ملازمین اپنے سیٹھ سے تنخواہ لینے کے باوجود سیٹھ کی جانب سے منگوائی جانے والی اشیاء پر کمیشن رکھتے ہیں۔
۲۶۔ رعایا کی نیت خراب ہوچکی ہے جبکہ حکمران عیاش اور مکار ہوچکے ہیں۔
۲۷۔ میڈیا پر بے دریغ اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
۲۸۔ مسلمان اپنے علماء کی غیبت کرتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
۲۹۔ قرآن مجید کو غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا‘ کبھی اس کی تلاوت پابندی سے نہیں کی اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۳۰۔ ہم نے اپنے مولیٰﷺ کی سنتوں کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کے طریقوں کو اپنالیا ہے۔
۳۱۔ سٹے بازی‘ جوا‘ ویڈیو گیم‘ شطرنج‘ اسنوکر اور دیگر بے ہودہ کھیل گلی گلی کھیلے جارہے ہیں۔
۳۲۔ سود کا نام منافع‘ شیئرز کا نام کاروبار‘ شراب کا نام وسکی‘ جھوٹ کا نام ٹکنیک‘ اور خنزیر کا نام دنبہ رکھ کر ان چیزوں کو خوب استعمال کیا جارہا ہے۔
لمحہ فکریہ! ہم سب اپنا محاسبہ کریں کہ کہیں ان میں سے کسی گناہ میں ہم ملوث تو نہیں؟ فوراً توبہ کریں اس سے پہلے کہ موت ہمیں آگھیرے…!!!