آغازسخن:
اللہ عزوجل نے انسان کو عقل کے نور سے مزین فرمایا تاکہ انسان صحیح وغلط میں فرق کرسکے۔پھر عقل کے لحا ظ سے انسان مختلف درجات میں بٹے ہوئے ہیں، کوئی زیادہ عقل مند توکوئی کم عقل اور کوئی ان دونوں کے درمیان ہے۔پہلے درجے والے عقلی ہو یا حسی ہر بات فورا سمجھ لیتے ہیں ۔ دوسرے درجے والے انسانوں کو عقلی وعلمی باتیں سمجھنے میں کافی غوروفکرسے کام لینا پڑتاہے جبکہ تیسرے درجے والے حقائق علمی کو ذرا سی توجہ کرنے سے سمجھ جاتے ہیں۔جب حقیقت یہ ہے کہ بعض انسان کم عقل اور کم فہم ہیں تو انہیں عقلی اور غیر محسوس بات سمجھانے کے لئے کسی ایسی شے کا سہارا لینا پڑتا ہے جوان کے لئے دیکھی بھالی ہو، ان کے عادات اور روزمرہ سے تعلق رکھتی ہواور وہ شب وروز اس کا نظارہ کرتے ہوں۔جیسے کسی کم عقل کو یہ بات سمجھانی ہوکہ’’عمر غیر محسوس طریقے سے بڑھتی ہے‘‘یعنی پتا بھی نہیں چلتا اور عمر بڑھتی جاتی ہے تو اب اسے یہ مثال دے کر آسانی سے سمجھایا جاسکتا ہے کہ’’ دیکھویہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کے بال یا ناخن بڑھتے ہیں اور آپ کو پتا نہیں چلتا۔‘‘اس مثال سے کم عقل آپ کی بات اس لئے سمجھ جائے گا کہ بال وناخن کا غیر محسوس طریقے سے بڑھنا وہ دن رات ملاحظہ کرتا ہے ۔یوں ہی ’’عمر تیزی سے ختم ہورہی ہے‘‘اس بات کو ہم یوں مثال دے کر سمجھاتے ہیں ’’انسان کی عمراس تیزی سے ختم ہورہی جیسے برف پگھلتی ہے۔ ‘‘
پھر حال یہ ہے کہ ہم صبح شام یہ کہتے نظر آتے ہیں ’’مثال کے طورپر‘‘،’’مثلاً‘‘، ’’جیسے ‘‘،’’یا اسے یوں سمجھ لو ‘‘وغیرہ اور ہمارا ٹیچر یا ٹیوٹر بھی ہمیں باربار ’’for example‘‘ کہہ کہہ کر سمجھاتا ہے۔اس طرح ہم مثال دے کر بات سہولت کے ساتھ دوسرے کو ذہن نشین کرادیتے ہیں ۔الغرض عقلی ابحاث میں وضاحت وتشریح کے لئے’’ مثال‘‘ کا کردار ناقابل انکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقائق کو واضح و روشن اور انھیں ذھن کے قریب کرنے میں ہم ہمیشہ مثال کے محتاج ہیں کیونکہ کبھی ’’ایک مثال‘‘ مقصود سے ہم آہنگ کرنے اور وضاحت کے سلسلے میں ایک کتاب کا کام کرتی ہے اور مشکل مطالب کو سب کے لئے عام فہم بنا دیتی ہے ۔مثال کے خوبصورت اورعام فہم ہونے کی وجہ سے تمام تہذیبوں نے اسے قبول کیا ہے ،یہ ان کی تہذیبی طاقت کی علامت ہے،انہوں نے اس سے استفادہ کیا اوراسے عمدہ وپسندیدہ چیزوں میں شمار کیاہے۔چنانچہ،امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:مثالیںدینا عقلی طور پر پسندیدہ امور میں سے ہے۔ (تفسیرکبیر،ج۱،ص۳۶۲)معلوم ہواکہ’’ مثال‘‘ کو ہماری زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔
مثال کی تعریف:
مثال ومثل کے لغوی معنی ’’مانند،نمونہ،نظیر،تشبیہ ‘‘وغیرہ ہیں ۔ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: ضَرْبُ الْاَمْثَال اِعْتِبَارُ الشَّیْئِ بِغَیْرِہٖیعنی کسی شے کو اس کے غیر کے ساتھ جانچنے وپرکھنے کو مثال دینا کہتے ہیں ۔(لسان العرب،ج۱،ص۵۴۷)
اس کا اصطلاحی معنی بیان کرتے ہوئے ڈاکٹرعلاء اسماعیل حمزاوی ’’الأمثال العربیۃ والأمثال العامیۃ ‘‘کے صفحہ ۴ پر لکھتے ہیں: ’’أَنَّ الْمَثَلَ ہُوَ جُمْلَۃٌ خَیَالِیَۃٌ ذَائِعَۃُ الْاِسْتِخْدَامِ ، تَدُلُّ عَلَی صِدْقِ التَّجْرِبَۃِ اَوِ النَّصِیْحَۃِ اَوِ الْحِکْمَۃِ ، یَرْجِعُ اِلَیْہَا الْمُتَکَلِّمُ وَقَدِیْمًا عَرَفُوْا الْمَثَلَ بِأَنَّہُ حِکْمَۃٌ شَعْبِیَّۃٌ قَصِیْرَۃٌ تَتَدَاوَلُ عَلَی الْاَلْسِنَۃِ ، اَوْ ہُوَ جُمْلَۃٌ غَالِبًا مَا تَکُوْنُ قَصِیْرَۃً ، تُعْبَرُ عَنْ حَدْثٍ ذِیْ مَدْلُوْلٍ خَاصٍ ، لَکِنْ یَبْقِیْ عَلَی الْمُسْتَمِعِ تَخْمِیْنُہُترجمہ:مثال وہ خیالی جملہ جس کا استعمال عام ہوجوحقیقی تجربہ یا نصیحت یا حکمت پر دلالت کرتا ہو اورکلام کرنے والااس سے یہی ارادہ کرے اورلوگ شروع ہی سے مثال کو پہچانتے ہوں کہ یہ زبانوں پر جاری عوامی مقبولیت رکھنے والی حکمت بھری بات ہے یامثال عمومی طور پر اس مختصر جملے کو کہتے ہیں جوخاص شے پر دلالت کرنے والی بات کو بیان کرتا ہومگر اس کا اندازہ لگاناسننے والے پر موقوف ہوتاہے۔‘‘
مثال دینے کامقصد:
مثال دینے (Showing by example) کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟تواس بارے میں اہل علم وفن نے مختلف الفاظ کے ساتھ رائے کا اظہارکیا ہے مگر سب کا ماحاصل ایک ہی ہے۔چندآراء ملاحظہ کیجئے:
تاج العروس میں شرح نظم الفصیح کے حوالے سے ہے:ضَرْبُ الْمَثَلِ اِیْرَادُہُ لِیُتَمَثَّلَ بِہِ وَیُتَصَوَّرَ مَا اَرَادَ المُتَکَلِّمُ بَیَانَہُ لِلْمُخَاطَب یعنی مثال اس لئے لائی جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے مشابہت ومماثلت بیان کی جائے اور متکلم نے جو بات مخاطب سے بیان کرنے کا ارادہ کیا ہے اس کا تصور کیا جائے۔ (تاج العروس،ج۱،ص۶۸۶)
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:مثال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ معقول چیز محسوس بن کر ہر ایک کی سمجھ میں آجائے اور اس کے ذریعے مضمون کو دل قبول کرے۔(تفسیر نعیمی ،ج۱،ص۲۳۱)
مفسر قرآن وشارح صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی دام ظلہ فرماتے ہیں :مثال کے ذریعہ ممثل لہ (مقصود)کے معنی کو منکشف کیا جاتا ہے اور امر معقول کو محسوس اور مشاہد کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ سمجھ آجائے۔(تبیان القرآن،ج۱،ص۳۴۰)
امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:مثال دینے کامقصد دلوں میں اثر پیدا کرنا ہوتا ہے جو خود اس شے سے نہیں ہوتاکیونکہ مثال سے غرض یہ ہوتی ہے کہ خفی بات کی جلی سے اور غائب کی حاضر وموجود شے سے مشابہت ومماثلت (Likening/ Comparison) بیان کی جائے اور یہ مشابہت اس شے کی ماہیت وحقیقت پر آگاہی میں پختگی پیدا کرتی ہے اور حس کو عقل کے مطابق کردیتی ہے ۔کیا تم نہیں دیکھتے جب ایمان لانے کی ترغیب مثال دیئے بغیر ہو تووہ دل پر اس قدر پختہ اثر نہیں کرتی جتنا کہ اس وقت کرتی ہے جب ایمان کی مثال نوروروشنی سے دی جائے ۔یوںہی  جب تم صرف کفر کا ذکرکرکے ڈرائوگے تو عقلوں میں اس کی قباحت وبرائی اس طرح پختہ نہیں ہوگی جیسا کہ ظلمت و اندھیرے سے مثال کے ذریعے ہوگی ۔اسی طرح اگر تمہیں کسی بات کی کمزوری بیان کرنی ہوتو اس کی مثال مکڑی کے جالے سے دوگے تو یہ اس خبر سے یقینی طورپر زیادہ اثرانگیز ہوگی جو صرف ’’کمزوری‘‘ کے ذکرپر مشتمل ہو۔(تفسیر کبیر،ج۱،ص۳۱۲)
مثال دینے کا قاعدہ:
جوبات قاعدہ وقانون کے تحت کی جاتی ہے وہ اپنی ایک حیثیت رکھتی ہے اور قابل التفات وقابل حجت قرار پاتی ہے ورنہ وہ عبث وفضول ٹھہرتی ہے اسی طرح مثال بیان کرنے کا بھی ایک قاعدہ ہے۔ یہ سمجھنے کے لئے درج ذیل تین اقتباسات کافی ہیں:
(۱)…’’کسی  چیز کا جیسا حال ہوگا اسی قسم کی چیز سے اس کی مثال دی جائے گی۔بڑی چیز کی مثال بڑی اور حقیر چیز کی مثال حقیر چیز،اس پر اعتراض کرنا محض غلط اور بے جا ہے بلکہ یہ تو کمال حکمت ہے کہ مثال اصل کے مطابق ہو حقیر چیزوں کی مثال چھوڑدینی اور ان کے بغیر مثال لانا ان کے سمجھانے کے لئے کافی نہ ہوگا۔مثل مشہور ہے کہ مثال اقوال کا چراغ ہے ۔چراغ خواہ سونے کا ہو خواہ مٹی کا روشنی میں فرق نہیں رکھتا۔‘‘(تفسیر نعیمی ،ج۱،ص۲۳۱)
(۲)…’’مثال دینے کا قاعدہ یہ ہے کہ جس وجہ سے مثال دی گئی ہے اس وجہ سے وہ مثال ممثل لہ کے موافق ہو اگر کسی چیز کی عظمت بیان کرنا مقصود ہو تو عظیم چیز سے مثال دی جائے گی اور اگر کسی چیز کی خست (حقارت)بیان کرنا مقصود ہے تو حقیر چیز سے مثال دی جائے گی۔‘‘ (تبیان القرآن،ج۱،ص۳۴۰)
(۳)…’’مثال سمجھانے کو ہوتی ہے نہ کہ ہر طرح برابری بتانے کو۔قرآن عظیم میں نورِ الہی کی مثال دی کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ (جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے)کہاں چراغ اور قندیل اور کہاں نورِ رب جلیل ۔‘‘(فتاوی رضویہ ،ج۳۰،ص۲۶۶)
قرآن کریم اور مثال:
یہاں تک کی گفتگوکا خلاصہ یہ ہوا کہ’’ کسی بات کی وضاحت وبیان کے لئے مثال دینا انتہائی مفید ہے ۔‘‘یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس مقدس کتاب میں جابجا ’’مثالیں‘‘ نظر آتی ہیں اورایسا کیوں نہ ہو کہ اس کتاب کا مقصد ہی ’’وضاحت وبیان ‘‘ہے جیسے توحیدورسالت ،عقائد ونظریات ،شریعت وطریقت اورظاہر وباطن کا بیان وضاحت وغیرہ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے :’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ(پ۱۴،النحل:۸۹)ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔‘‘اور مثالیں بیان کرنے کے متعلق ارشادربانی ہے: وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ(پ۲۸،الحشر:۲۱)ترجمہ کنزالایمان:اور یہ مثالیں لوگوں کے لئے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں۔
قرآنی مثالوں کی اغراض:
قرآن کریم میں بیان کردہ مثالوں کی بعض اغراض ومقاصد نیز ان کی چندخصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے عبدالرحمن میدانی اپنی کتاب ’’البلاغۃ العربیۃ اسسہا وعلومہاوفنونہا‘‘کے صفحہ ۵۹پر لکھتے ہیں :کلام کوادبی حسن وجمال سے آراستہ کرنے میں مثالوں کا اہم کردار ہے جبکہ امثلہ ان کی فنی شرائط کے مطابق ذکر کی جائیںورنہ ان کا ذکر کرنا عبث وبے فائدہ ہوتاہے۔میں نے قرآنی امثلہ میں نہایت جستجووتتبع کیا ،میں نے انہیں ان اہم اغراض کے موافق پایا جنہیں بلغاء پیش نظر رکھتے ہیں اور وہ اغراض بنی نوع انسان کی اخلاقی تربیت پر مشتمل ہیں ۔ان کاخلاصہ درج ذیل ہے:
پہلی غرض:مثال ایسی صورت میں بیان کرنا کہ جو مخاطب کے ذہن کو اصل مقصود کے قریب کردے ۔
دوسری غرض:مثال کے ذریعے ایسی دعوتِ فکر دیناجو اطمینان بخش ہو۔
تیسری غرض:مثال عمدہ پیرائے میں بیان کرکے کسی کام کے کرنے کی ترغیب دلانااور اس کی خوبیوں کو احسن انداز میں بیان کرنا تاکہ قاری اس کی طرف راغب ہویا کسی فعل سے نفرت دلانا اور اس کی برائیوں کو کھول کر بیان کرنا تاکہ قاری اس بُرے فعل سے متنفر ہو۔
چوتھی غرض:مثال سے کسی چیز کی امید دلانا تاکہ مخاطب اس کی طرف مائل ہو(جیسے جنت اور اس کی خوبیوں کا بیان)یا کسی شے کا خوف دلانا تاکہ وہ اس سے اجتناب کرے(جیسے جہنم اور اس کے عذابات کا تذکرہ)
پانچویں غرض:مثال ذکر کرکے کسی شے کی تعریف کرنا یا برائی بیان کرنا یا اس کی عظمت کو بیان کرنایااس سے نفرت دلانا۔
چھٹی غرض:مثال بیان کرکے مخاطب کے ذہن کو تیز کرنا یا اس کی فکری طاقتوں میں جنبش پیدا کرنا تاکہ وہ تدبر وتامل کرکے اصل مقصود ومراد کا ادراک کرے۔
قرآنی مثالوں کی خصوصیات:
میدانی صاحب چندسطور کے بعد لکھتے ہیں:قرآنی مثالوں میں خوب کوشش کے بعدمجھ پران کی یہ 6خصوصیات منکشف ہوئی ہیں :
(۱)مثال بیان کرکے اہم عناصر کو خوب واضح کیا گیاہے ۔(۲)مثال گویا چلتا پھرتا بولتا انسان ہو۔(۳)جس کے لئے مثال بیان کی جارہی ہے اور جسے مثال بنایا جارہا ہے دونوں کے مابین مکمل مماثلت ہے۔(۴)تشبیہات کی اقسام کو ملحوظ رکھا گیا ہے مثلا تمثیل بسیط ،تمثیل مرکب کہ اس میں جس کے لئے مثال بیان کی گئی ہے اس کے ہر ہر جزء سے مثال کی موافقت ومطابقت ہے۔(۵)مثال ،ممثل لہ کی صورت کے مخاطب کے ذہن میں ادراک کا وسیلہ ہے۔(۶)استنباط کرنے والوں کی ذہانت کی بنا پرکہیں قرآنی امثلہ سے قطعات(چھوٹے چھوٹے محذوفات)کو حذف کردیا گیاہے اورکہیں ممثل لہ سے ایسا کیا گیا ہے کیونکہ الفاظ کی دلالتیں اور معانی کے لوازمات محذوف پر دلالت کرتے ہیں۔(البلاغۃ العربیۃ،ص۵۹)
یہ قرآنی مثالوں کی اغراض ومقاصد اوران کی خصوصیات کی صرف ایک جھلک ہے ورنہ ان کے مقاصد وخصائص اس سے کہیں زیادہ ہیں ۔
قرآن کریم سے تین مثالیں :
آئیے اب قرآن کریم سے چند مثالیں ملاحظہ کیجئے کہ وہ کس احسن انداز سے مخاطب کے ذہن کو اصل مقصود کے قریب کرتی،تسلی بخش دعوتِ فکر دیتی اورعمدہ پیرائے میں کسی فعل کی ترغیب دلاتی یاکسی فعل سے نفرت پیدا کرتی ہیں۔
دوقرآنی مثالیں اور ان کی وضاحت:
ارشادباری تعالیٰ ہے:
(۱)…یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ  اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ  وَ اِنْ یَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْـًٔا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ  ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ(پ۱۷،الحج:۷۳)ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنووہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیںاور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا۔
(۲)…نیز ارشادفرماتاہے:مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآء َ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا  وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ  لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(پ۲۰،العنکبوت:۴۱)ترجمہ کنزالایمان:ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالئے ہیں (معبود ٹھہرالیا) مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایااور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتا اگر جانتے ۔
امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ ان دونوں آیات کے تعلق سے فرماتے ہیں:جب اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کی عبادت اور عبادت رحمن سے ان کی دشمنی کی شناعت وقباحت بیان کرنے کا ارادہ فرمایاتو مکھی کی مثال ہی مناسب تھی کہ ان بتوں سے مکھی کے نقصان کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا اورمکڑی کے گھر (جالے)کی مثال دی تاکہ آشکار ہوجائے کہ ان بتوں کی عبادت اس سے بھی کمزور واضعف ہے ۔ایسی مثال میں جس کی مثال دی گئی وہ اضعف ہوتا ہے جبکہ مثال اقوی واوضح ہوگی۔(تفسیرکبیر،ج۱،ص۳۶۳)
تیسری مثال اور اس کی وضاحت:
(۳)… جب اللہ تعالی نے آیت مقدسہ’’ مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ‘‘(البقرۃ:۱۸)اور آیت طیبہ’’اَوْکَصَیِّبٍ‘‘ (البقرۃ:۱۹) میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بالاتر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے تو حکیم وقادرمطلق رب تبارک وتعالیٰ نے یوں جواب ارشادفرمایا:اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَہَا  فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ  وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا  یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا  وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ (پ۱،البقرۃ:۲۶)ترجمہ کنزالایمان:بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر تو وہ جو ایمان لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں۔
مفسرقرآن جسٹس پیر کرم شاہ صاحب الازہری اس کے تحت رقم طراز ہیں:مقصد یہ ہوا کہ کسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے اگر مکھی ، مکڑی ،مچھر یا اس سے بھی حقیر ترین چیز سے مثال دینا ضروری ہوتو اللہ تعالیٰ کسی کے اعتراض کے ڈرسے اس مثال کو ترک نہیں فرماتا ،سلیم الطبع لوگ تو مثال کے مفید ہونے کی وجہ سے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے لیکن جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہے وہ اعتراض کرنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ عجیب خدا کا کلام ہے جس میں مکڑی اور مچھروں کا ذکر ہے(ضیاء القرآن،ج۱،ص۴۲)
یہ صرف تین قرآنی مثالیں ہیں جو یہاں ذکر کی گئیں ورنہ جب ہم اس بے مثال کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اس میں علم وحکمت کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے مثالوں کے چراغ انسان کوہدایت کی روشنی سے ہمکنار کررہے ہیں ۔
احادیث کریمہ سے تین مثالیں:
قرآن کریم کی طرح احادیث کریمہ میں بھی مثالوں کا استعمال بکثرت ملتا ہے ۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب اورقیامت تک آنے والے امتیوں کو دین کا پیغام آسانی اور وضاحت کے ساتھ سمجھانے کے لئے کئی مواقع پر روز مرہ زندگی سے مثالیں دیں ہیں ۔یہاں بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
پہلی مثال اور اس کی وضاحت:
(۱)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایااور اس کے سجانے اور سنوارنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے،بھلا یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟فرمایا:وہ اینٹ میں ہوں ۔میں سارے انبیاء سے آخری ہوں۔(صحیح بخاری،کتاب المناقب،الحدیث:۳۵۳۵ج۲،ص۴۸۴)
اہل اسلام کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضورخاتم الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں ۔آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔اس عقیدہ ختم نبوت کا منکر کافرو مرتد یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس حدیث شریف میں بڑے ہی عمدہ پیرائے میں ایک عام فہم مثال کے ذریعے ختم نبوت کا عقیدہ سمجھایا گیا ہے تاکہ عامی سے عامی شخص بھی سمجھ جائے مگر کیا کریں کہ ’’خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے‘‘کے مترادف مرزا غلام احمد قادیانی جوبزعم خود عقل وفہم میں یکتا اور عربی دانی میں بے نظیر ہونے کا مدعی تھا ،اس آسان سی مثال کو نہ سمجھ سکا یا پھر جان بوجھ کر نہ سمجھا اور نبوت کا جھوٹا دعویدار بن بیٹھااور اپنے لئے دنیا وآخرت کی ذلت ورسوائی خرید لی۔
دوسری مثال اور اس کی وضاحت:
(۲)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس پر پت جھڑ نہیں آتا (اس کے پتے نہیں جھڑتے)اور وہ مسلمان کی مانند ہے ۔مجھے بتائووہ کو ن سا درخت ہے؟ابن عمر کا کہنا ہے کہ لوگوں کا دھیان جنگلی درختوں کی طرف چلاگیا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میرے ذہن میں آگیا کہ ہونہ ہو کھجور کا درخت ہے مگر حیاء آڑے آئی آخرکار صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ !آپ ہی بتلائیے وہ کون سا درخت ہے۔فرمایا:وہ کھجورکا درخت ہے۔
(صحیح بخاری،کتاب العلم،الحدیث:۷۲،ج۱،ص۴۳)
اس حدیث شریف میں مومن کی مثال کھجور کے درخت کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح کھجور کا تقریبا ہرجزنفع بخش ہے اسی طرح مومن کا ہر فعل نفع بخش ہوتا ہے ۔اس تشبیہ کی وجوہ بیان کرتے ہوئے مفسر قرآن وشارح صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی دام ظلہ فرماتے ہیں :کھجور کے درخت میں بہت خیر ہے ،اس کا سایاہمیشہ رہتا ہے ،اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور یہ پھل اکثر دستیاب ہوتا ہے ،اس کا تازہ پھل کھایاجاتا ہے ،سوکھنے کے بعد چھوارا بن جاتا ہے ،وہ بھی مختلف طریقوں سے کھایا جاتا ہے ،اس کے تنے سے شہتیر کا کام لیا جاتاہے ، اس کے پتوں سے چٹائیاں ،رسیاں،برتن اور پنکھے بنائے جاتے ہیں حتی کہ اس کی گٹھلیاں بھی کام آتی ہیں ،ان سے تسبیح بنائی جاتی ہے۔اسی طرح مومن میں بھی بہت خیر ہے ۔نماز،روزہ ،زکوۃ اور حج سے اس کو بہت ثواب ملتا ہے ،اپنے اہل وعیال کے رزق کی طلب کے لئے وہ جو کسب معاش کرتا ہے وہ بھی کارِ ثواب ہے ،دوستوں اور عزیزوں سے جو نیک سلوک کرتا ہے اس سے بھی اس کو ثواب ملتا ہے،حصول سنت کی نیت سے اس کا کھاناپینا،سوناجاگنا اور اہل وعیال اور ماں باپ کے حقوق ادا کرنے سے بھی اس کو ثواب ملتا ہے ،غرض اس کے ہر نیک عمل میں ثواب ہے۔(دوسرے )جس طرح کھجورکے درخت کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں اوپر آسمان کی طرف جاتی ہیں ،اسی طرح مومن کے ایمان کی جڑیں اس کے سینہ میں پیوست ہوتی ہیں اوراس کے نیک اعمال کی شاخیں آسمان کی طرف چڑھی ہوتی ہیں۔(نعمۃ الباری،ج۱،ص۳۰۹)
تیسری مثال اور اس کی وضاحت:
(۳)…حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی حدوں کو قائم رکھنے والوں اور توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کشتی کے سوار وں نے اپنا حصہ تقسیم کر لیا۔بعض کے حصے میں اوپر والا حصہ آیا  اور بعض کے حصے میں نیچے والا پس جولوگ نیچے تھے انہیں پانی لینے کے لئے اوپر والوں کے پاس جانا پڑتا تھا انہویں نے کہا کہ کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کے پاس جانے کی زحمت سے بچیں پس اگر وہ انہیں ان کے ارادے کے مطابق چھوڑے رہیں تو سب ہلاک ہوجائیں اور اگر ان کے ہاتھ پکڑلیں تو سارے بچ جائیں ۔
(صحیح بخاری،کتاب الشرکۃ،الحدیث:۲۴۹۳،ج۲،ص۱۴۳)
اس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور بتایاگیا کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھا ئے گا ہمار اکیا نقصان ہے ! تو یہ سوچ غلط ہے ۔ا س لئے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والااکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو کشتی میں سوار ہیں ، اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،ج۶،ص۵۰۴)
حکمائے اسلام اور مثال :
قرآن وحدیث کے طریقہ کی پیروی کرتے ہوئے بعض بزرگوں اور حکمائے اسلام نے بھی اپنی کتب میں افہام وتفہیم کے لئے بکثرت مثالیں دی ہیں۔اس حوالے سے ماضی بعید میں حضورحجۃ الاسلام امام محمد بن محمد بن محمد غزالی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا نامِ نامی اسم گرامی سرفہرست ہے ۔اس پر آپ کی جملہ تصانیف بالخصوص احیاء العلوم شاہد عدل ہیں ۔جبکہ ماضی قریب میں نباض قوم ،محسن اہلسنّت ،کاشف اسرارحقیقت ومعرفت مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی بدایونی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ تو دنیائے اردوکو مثال دے کر سمجھانے میں اپنی نظیر آپ ہیں ۔تفسیر نعیمی ہو یا مراٰۃ المناجیح،رسائل نعیمیہ ہوں یا مواعظ نعیمیہ ،آپ کی کم وبیش ہر کتاب میں مثالوں کی کثرت پائی جاتی ہے ۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ کے حالاتِ زندگی پر پی ایچ ڈی کے مقالہ نگار جناب شیخ بلال احمد صدیقی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان (مفتی احمد یارخان نعیمی)کاذہن خاص طور پر اسی ضرورت کی طرف زیادہ متوجہ تھا کہ عامۃ الناس کے حلقوں کے لئے اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئے آسان اور مفید لٹریچر پیدا کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے چنانچہ وہ خود فرمایاکرتے تھے:’’میں جب لکھنے کے لئے بیٹھتا ہوں تو یہ بات مد نظر رکھتا ہوں کہ میں بچوں ،عورتوں اور دیہات کے کم پڑھے لوگوں سے مخاطِب ہوں ۔‘‘ تفسیر لکھنے کا آغاز کیا تو اس میں بھی ان کا بنیادی احساس یہی تھا کہ ایسی سادہ اور آسان زبان میں قرآن حکیم کی تفسیر لکھی جائے جس سے قرآن حکیم کے مشکل مسائل بھی آسانی سے سجھ آسکیں ،تفسیر نعیمی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:’’بہت کوشش کی گئی ہے کہ زبان آسان ہو اور مشکل مسائل بھی آسانی سے سمجھا دیئے جائیں ۔‘‘چند سطور کے بعدشیخ بلال احمد رقم طراز ہیں :ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی کہ کم خواندہ سے کم خواندہ آدمی بھی ان کی بات کو سمجھ سکے ۔مضمون کو واضح اور سہل بنانے کے لئے زوزہ مرہ زندگی سے بکثرت مثالیں منتخب کرلیتے ۔ (حالاتِ زندگی مفتی احمدیارخان نعیمی،ص۱۰۴)