حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, February 2014, خان آصف

بڑی عجیب صورتحال تھی۔ درویشوں کا یہ قافلہ بے گھری کے عالم میں کہاں جاتا؟ کچھ دیر تک یہ مردان خدا حیرت و پریشانی کی کیفیت میں کھڑے رہے۔ پھر اﷲ کے بھروسے پر ایک طرف چل دیئے۔ کچھ فاصلے پر سراج بقال کا مکان تھا اور اس کے سامنے ایک مسجد تھی جسے چھپر والی مسجد کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ چلتے چلتے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی نظر اس مسجد پر پڑی۔ آپ نے مریدوں اور عقیدت مندوں کو رک جانے کا اشارہ کیا۔
’’یہ اﷲ کا گھر ہے۔ اس پر تو کوئی انسان اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرے گا‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’کتابیں یہاں رکھ دو‘‘
الغرض دہلی کے ’’محفل شکن‘‘ کی کتابیں چھپر والی مسجد میں رکھ دی گئیں… اور محفل شکن نے وہ رات مسجد میں گزاری۔
سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مسجد کی سیڑھیوں پر پڑے رہے۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے جانے کے بعد محلے کے کچھ بزرگوں نے راوت عرض کے بیٹوں سے کہا ’’آپ کو ان درویشوں کے ساتھ یہ جارحانہ سلوک روا نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ بڑی برکت تھی ان لوگوں کے دم سے۔ پورے علاقے میں ایک عجیب سی روشنی کا احساس ہوتا تھا‘‘
راوت عرض کے بیٹے دولت و اقتدار کے نشے سے سرشار تھے۔ متکبرانہ لہجے میں کہنے لگے ’’ہم خوب جانتے ہیں ان درویشوں کا۔ دنیا کمانے کا ایک یہ بھی انداز ہے‘‘
پھر اسی رات مکان میںآگ لگ گئی اور اس شاندار عمارت کی تینوں منزلیں زمیں بوس ہوگئیں۔ آگ بجھانے کی بہت کوشش کی گئی مگر آگ نہیں بجھی… اور سب کچھ جل کر خاکستر ہوگیا۔ اہل محلہ حیران تھے کہ اس پختہ عمارت میں آگ کیسے لگی؟ اگر گھاس پھونس کی جھونپڑی ہوتی تو خیال گزر سکتا تھا کہ کوئی چنگاری پڑوس سے اڑ کر آئی ہوگی اور اس نے سب کچھ پھونک دیا ہوگا … مگر وہ تو پتھروں سے بنی ہوئی ایک مضبوط ترین عمارت تھی۔ پھر اس میں آگ کس نے لگائی؟  راوت عرض کے بیٹے دم بخود کھڑے رہے اور ان کی سماعتوں میں پڑوسیوں کے الفاظ گونجتے رہے۔
’’بڑی برکت تھی ان لوگوں کے دم سے‘‘ وہ کیا گئے کہ اس کے ساتھ رحمت چلی گئی اور زحمت باقی رہ گئی۔
یہ اسی کرامت کا عکس تھا جو تقریبا ستر سال پہلے اجمیر کے ایک میدان میں ظاہر ہوئی تھی۔ راجپوت حکمران پرتھوی راج چوہان کے کارندوں نے بھی حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ سے اسی انداز میں کہا تھا۔
’’یہ راجہ کے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، اسے خالی کردو‘‘
جواب میں حضرت سلطان الہند علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا۔ ’’ہم تو اٹھے جاتے ہیں مگر ہمارے بعد جو بھی یہاں بیٹھے گا، وہ دوبارہ نہیں اٹھے گا‘‘
پھر جب پرتھوی چوہان کے سیکڑوں اونٹ اس میدان میں بیٹھے تو زمین نے انہیں پکڑ لیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو بھی اسی جابرانہ انداز میں گھر سے بے دخل کیا گیا تھا۔ بے شک! محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے راوت عرض کے بیٹوں کو بددعا نہیںدی تھی مگر آپ کی دل آزاری تو ہوئی تھی… اور یہی خلش برق بلا بن کر ٹوٹی۔ آپ اٹھے تو اس جگہ سے برکت بھی رخصت ہوگئی اور راوت عرض کا مکان راکھ کا ایک ڈھیر بن کر رہ گیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے ساتھ بدسلوکی کا یہ واقعہ سلطان ناصر الدین محمود کے دور حکومت میں پیش آیا۔
سلطان ناصر الدین محمود ایک درویش حکمراں تھا اور قرآن کریم کی کتابت کرکے اپنی روزی حاصل کرتا تھا۔ فرمانروائے ہند، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے پیرومرشد حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا۔ ایک بار حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا تھا مگر وزیر سلطنت غیاث الدین بلبن نے راستے کی دشواریوں کا ذکر کرکے اسے سفر سے باز رکھا اور خود ایک لشکر کثیر لے کر اجودھن حاضر ہوا۔ اگر سلطان ناصر الدین محمود یا غیاث الدین بلبن کو معلوم ہوجاتا کہ حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ کے چہیتے مرید کے ساتھ راوت عرض کے بیٹوں نے یہ سلوک کیا ہے تو انہیں حکومت ہند کی طرف سے سخت سرزنش کی جاتی اور حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے لئے بہترین رہائش گاہ کا انتظام کردیا جاتا مگر اﷲ کو یہ منظور نہیں تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کسی شہنشاہ یا وزیر کے احسان مند ہوتے۔ وہ جس شہنشاہ معرفت کے دربار سے فقر و قناعت کا تاج پہن کر دہلی تشریف لائے تھے، اس کا تقاضا یہی تھا کہ صاحبان وسائل و اسباب سے بے نیاز ہوکر ہر حال میں اپنے خالق کا شکر ادا کریں۔
سعد کاغذی حضرت شیخ صدر الدین کے مریدوں میں سے تھا۔ دوسرے روز اسے اس واقعہ کا پتہ چلا تو گریہ وزاری کرتا ہوا حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
’’شیخ! میرے ہوتے ہوئے آپ اس طرح بے آرامی کی زندگی بسر کریں‘‘
’’اب میں کسی بندۂ خدا کو زحمت دینا نہیں چاہتا‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے درپردہ راوت عرض کے بیٹوں کے سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’ابھی تو میں اپنے اﷲ کے گھر مہمان ہوں۔ اگر اس کے بندوں کو میرا یہ انداز قیام بھی پسند نہیں آیا تو میں صحرا کی جانب نکل جائوں گا‘‘
سعد کاغذی بہت دیر تک خوشامد کرتا رہا۔ آخر اس کی خوشنودی کے لئے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ چھپر والی مسجد سے سعد کاغذی کے مکان میں منتقل ہوگئے۔ اور سید محبوب کرمانی علیہ الرحمہ کے اہل خانہ کے لئے کسی دوسری جگہ کا انتظام کردیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ایک ماہ تک یہاں مقیم رہے۔ پھر جب دوسری جگہ تشریف لے جانے لگے تو سعد کاغذی نے دست بستہ عرض کیا۔
’’شیخ! یہ کس غلطی کی سزا ہے، غلام کو خدمت سے محروم کیا جارہا ہے؟‘‘
’’سعد! تو نے میزبانی کا حق ادا کردیا مگر میں اپنے دل کا کیا کروں کسی جگہ ٹھہرنے ہی نہیں دیتا‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’جہاں جارہا ہوں، وہاں بھی چند دنوں سے زیادہ نہیں ٹھہروں گا‘‘
اس کے بعد آپ ’’رکاب دار کی سرائے‘‘ کے ایک گھر میں تشریف لے گئے۔ یہ سرائے پل قیصر کے قریب واقع تھی۔ سید محمد کرمانی علیہ الرحمہ بھی اپنے خاندان والوں کے ساتھ اسی سرائے کے ایک حجرے میں مقیم ہوئے۔
اس سرائے میں بھی آپ کا قیام بہت مختصر رہا۔ یہاں سے اٹھ کر آپ شادی گلابی کے گھر تشریف لے گئے۔
کچھ دن بعد شمس الدین ’’شراب وار‘‘ کے عزیز واقربا آپ کے خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ لوگ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے بے حد اصرار پر آپ شمس الدین ’’شراب دار‘‘ کے گھر تشریف لے گئے (شراب دار ایک عہدہ تھا جس کے سپرد بادشاہ کو پانی پلانے کا کام تھا) حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اس مکان میں کئی سال تک مقیم رہے۔ اجودھن سے آنے والے عقیدت مند اسی مکان میں آپ سے ملاقات کرتے تھے۔
غربت و افلاس کا یہ عالم تھا کہ کئی کئی وقت روٹی میسر نہ آتی۔ اس سلسلے میں خود حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔
’’سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد حکومت میں اشیائے ضرورت کی ارزانی کا یہ عالم تھا کہ دو جیتل (سکے) میں ایک من خربوزے ملتے تھے مگر پوری فصل گزر گئی اور میں خربوزہ چکھ بھی نہ سکا۔ یہی حال آٹے کا تھا لیکن میں ایک روٹی خریدنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا تھا‘‘
اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ شہر پناہ کے اس برج میں مقیم تھے جو ’’مندرہ‘‘ دروازے کے قریب ہے۔ یہاں آپ ذکر الٰہی بھی کرتے تھے اور طلباء کو تعلیم بھی دیتے تھے، حسب روایت کئی روز گزر گئے اور آپ کے کھانے کے لئے کوئی چیز میسر نہیں آئی۔ پھر بھی استقامت کا وہی عالم تھا۔ پوری توجہ اور خوش دلی کے ساتھ طالب علموں کو درس دیتے۔ اتفاق سے ایک شاگرد جو اپنے استاد کے شب و روز پر گہری نظر رکھتا تھا، یہ راز جان گیا کہ حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے کئی دن سے کھانا نہیں کھایا ہے۔ طالب علم خود بھی بہت غریب تھا۔ اس لئے خود تو استاد کے کھانے کا انتظام نہیں کرسکا لیکن پڑوسیوں کے پاس جاکر کہنے لگا۔
’’تمہارے دستر خوانوں پر تو انواع و اقسام کے کھانے جمع ہیں مگر تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے پڑوس میں کسی عظیم ہستی نے کئی دن سے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا ہے۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)