تفسیر سورۃ العلق (آخری قسط)
غرور و تکبر اور نافرمانی و سرکشی کا بہترین علاج یہی ہے کہ بندہ اس آیت کو بار بار تلاوت کرے اور اس پر غور کرے کہ بہرحال ایک دن اسے ضرور اپنے رب کے پاس حاضر ہونا ہے اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ یہ تصور اسے راہ ہدایت سے بھٹکنے اور تکبر و سرکشی سے محفوظ رکھے گا۔
آیت 9 تا آیت 14:
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے۔ بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا۔ بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا اور منہ پھیرا تو کیا حال ہوگا۔ کیا نہ جانا کہ اﷲ دیکھ رہا ہے‘‘ (کنزالایمان)
ان آیات کے شان نزول میں مفسرین فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا یا محمد(ﷺ) تمہارے سامنے سجدہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، کیا لات و عزیٰ کی قسم! اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو میں (معاذ اﷲ) ان کی گردن پائوں سے کچل ڈالوں گا اور ان کا چہرہ خال آلود کردوں گا۔
پھر وہ اسی فاسد ارادے سے حضورﷺ کے نماز پڑھتے وقت آیا اور گستاخی کی نیت سے قریب پہنچا۔ پھر اچانک الٹے پائوں واپس بھاگا، دونوں ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، اعضاء کانپنے لگے۔ لوگوں نے کہا، کیا ہوا؟
کہنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور محمد (ﷺ) کے درمیان ایک خندق ہے۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پرندے بازو پھیلائے ہوئے ہیں۔
سید عالمﷺ نے فرمایا۔ اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کر ڈالتے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (تفسیر ابن جریر، خزائن العرفان)
ان آیات کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ’’بڑے تعجب کی بات ہے کہ منع کرنے والا بندے کو نماز سے روکتا ہے جبکہ جسے منع کیا جارہا ہے وہ ہدایت پر ہے اور تقویم کا حکم دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ہے کہ منع کرنے والا جھٹلانے والااور ایمان سے منہ پھیرنے والا ہے‘‘ (تفسیر جلالین)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ’’اے حبیبﷺ! جب تم نماز پڑھتے ہو تو جو منع کرتا ہے کیا وہ سرکش نہیں؟ اگر ابوجہل اپنی سرکشی سے باز آکر ہدایت قبول کرلیتا اور دوسروں کو تقوے کی دعوت دیتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ اے حبیبﷺ! اگر ابوجہل تمہیں جھٹلائے اور حق سے منہ پھیرلے تو وہ کیسے نجات پاسکتا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اﷲ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے‘‘ (تفسیر مظہری)
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو عبادت سے روکنا ظلم و سرکشی ہے۔ سورۃ القلم میں ایک کافر کے دس عیب بیان کئے گئے ان میںایک یہ ہے (مناع للخیر) یعنی ’’بھلائی سے بڑا روکنے والا ہے‘‘ اس میں ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو مسلمانوں کو دینی مجالس اور ذکر رسولﷺ کی محافل سے روکتے ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوا
ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ
’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے‘‘ (البقرۃ 114، کنزالایمان)
جو بھی ایسا جرم کرے گا وہ ظالم و سرکش اور ابوجہل کی طرح مجرم قرار پائے گا۔ اگر یہ یقین پختہ ہوجائے کہ ’’اﷲ دیکھ رہا ہے‘‘ تو پھر ظلم و سرکشی سے بندہ بچ سکتا ہے۔
آیت 15 تا آیت 19
ارشاد ہوا ’’ہاں ہاں! اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔
کیسی پیشانی؟ جھوٹی، خطاکار۔ اب پکارے اپنی مجلس کو، ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ ہاں ہاں! اس کی نہ سنو، اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجائو‘‘ (کنزالایمان)
نبی کریمﷺ ایک دن مقام ابراہیم پر نماز ادا فرما رہے تھے کہ ابوجہل آگیا اور گستاخانہ لہجے میں بولا۔ کیا میں نے تمہیں اس کام سے منع نہیں کیا تھا؟ حضورﷺ نے اسے سختی سے جھڑک دیا۔ وہ بولا تم مجھے جھڑکتے ہو۔ خدا کی قسم! میں تمہارے مقابل سوار اور پیدل جوانوں سے اس وادی کو بھر دوں غا کیونکہ مکہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (ترمذی)
ارشاد ہوا ’’کلا‘‘ (ہرگز نہیں) اس ایک لفظ پر غور کیجئے۔ اس میں اﷲ تعالیٰ نے گستاخ رسولﷺ ابوجہل کی سرکشی اور گستاخی کی مذمت بھی فرمادی اور اپنے محبوبﷺ کی مدد ونصرت کا اعلان بھی فرمادیا۔ ’’ہاں ہاں! اگر وہ سرکشی اور گستاخی سے باز نہ آیا تو ضرور ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔‘‘
رب تعالیٰ کا یہ فرمان غزوۂ بدر میں پورا ہوا جب ابوجہل کا جتھا اس کے کچھ کام نہ آیا اور اسے دو کمسن بچوں نے تلوار کے وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ نے اس ملعون کو پڑا ہوا دیکھا تو اس کے سینے پر چڑھ گئے۔ وہ تکبر سے بولا۔ اپنے صاحب کو کہنا کہ مجھے زندگی میں بھی وہ سخت ناپسند تھے، اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ حضورﷺ نے یہ سنا تو فرمایا میری امت کا فرعون موسیٰ علیہ السلام کے فرعون سے سخت ہے کیونکہ اس فرعون نے مرتے وقت کہا تھا۔ میں ایمان لاتا ہوں جبکہ ابوجہل کے تکبر میں اضافہ ہوا۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے اس ملعون کی گردن کاٹی پھر اسے اٹھا نہ سکے کیونکہ آپ بہت ضعیف و نحیف تھے۔ آپ نے ابوجہل کے کان میں سوراخ کیا اور اسی میں رسی ڈال کر اسے گھسیٹتے ہوئے آقا و مولیٰﷺ کے پاس لے گئے۔
’’الزبانیۃ‘‘ سے جہنم کے داروغہ 19 فرشتے مراد ہیں جن کا ذکر سورۂ مدثر میں آیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جن کی پکڑ بہت سخت ہے۔
دوبارہ ’’کلا‘‘ ارشاد ہوا۔ اس کے معنی ہیں، یہ بات یقینی ہے۔ یعنی جو ارشاد ہوا ہے کہ اگر وہ اپنے لوگوں کو بلائے گا تو ہم عذاب کے فرشتوں کو بلالیں گے۔ یہ بات ہوکر رہے گی۔ اے حبیبﷺ! آپ اس جھوٹے خطاکار کی بات مت سنیں۔ آپ نماز و سجدہ میں مشغول رہیں اور رب تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیں۔
اگرچہ نماز وسجدہ کے ذریعے قرب الٰہی پانا حضورﷺ کے لئے ارشاد ہوا لیکن حضور کی محبوبیت بارگاہ الٰہی میں ایسی ہے کہ جو حضورﷺ کی اطاعت گزار ہیں، انہیں بھی آپ کے صدقے میں اس فیضان سے سجدہ میں قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔
سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا۔ بندہ جب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس حالت میں زیادہ دعا کیا کرو (مسلم)
یہ بھی ارشاد ہوا، اﷲ تعالی کو اپنے بندے کی یہ حالت سب سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کی پیشانی خاک آلود ہوجائے (طبرانی فی الاوسط)
حضرت ثوبان رضی اﷲ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ! اﷲ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا۔ کثرت سے سجدہ کیا کرو۔ اﷲتعالیٰ ہر سجدے کی وجہ سے تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور ایک گناہ معاف فرمادے گا۔
حضرت ربیعہ رضی اﷲ عنہ حضورﷺ کے خادم خاص ہیں۔ آپ حضورﷺ کے وضو کے لئے پانی رکھا کرتے تھے۔ ایک بار سرکار دوعالمﷺ نے خوش ہوکر ان سے فرمایا۔ مانگ لو جو تم چاہو۔ انہوں نے عرض کی، جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔
آپ نے فرمایا۔ اور بھی کچھ مانگ لو۔ بس یہی کافی ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اے ربیعہ! اپنے حق میں سجدوں کی کثرت سے مجھ سے تعاون کرنا (مسلم)
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ کے نزدیک اس سورت کی آخری آیت پر سجدۂ تلاوت واجب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظمﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو سجدۂ تلاوت ادا فرماتے (مسلم)