پیروں کی حفاظت کیسے؟

in Articles, Tahaffuz, February 2014, اویس الرحمن

عام طور پر ایک دن میں ایک آدمی کے پیر پانچ ہزار بار زمین پر لگتے ہیں۔ مجموعی طور پر آپ کے پیروں پر کئی سو ٹن کا وزن ہوتا ہے۔ آپ کی زندگی میں آپ کے پیر ایک لاکھ پچاس ہزار میل کا سفر کرتے ہیں جو زمین کے گرد چکر لگانے کے برابر ہے۔
پیروں کے حیرت انگیز کام کی معلومات حاصل کرکے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہمارے پیر محیر العقول کام کرنے والے گھوڑے ہیں جو عمر بھر پائوں پخٹنے کی سزا کاٹتے رہتے ہیں، لیکن ایک ہم ہیں کہ پیروں کی اکثر تکلیفیں خود ہماری لائی ہوتی ہوتی ہیں۔ ہم جوتے پیروں کے سائز کے مطابق نہیں چنتے، کبھی ذرا چھوٹے اور کبھی ذرا بڑے لے لیتے ہیں۔ کبھی تنگ پنجے والے جوتے لے لیتے ہیں جن کے پائوں کی انگلیاں بھینچی بھینچی رہتی ہیں۔
ساٹھ فیصد خواتین اونچی ایڑی والے جوتے پہنتی ہیں۔ اونچی ایڑی والے جوتوں میں بدن کا وزن پائوں کے پنجے پر پڑتا ہے اور جوتا کا پنجہ بھی تنگ اور نوک دار ہوتا ہے جس میں پیروں کی انگلیاں زبردستی گھسا دی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیروں کی انگلیاں، پیروں کی ہڈیاں، رباط (بندھن) اور عضلات تنگ جگہ میں سکڑے رہتے ہیں۔ خون کی گردش کھل کر نہیں ہوتی اور درد لازمی طور پر ہوتا ہے۔ جوتے کی اونچائی اور غیر مستحکم نوک دار ایڑی عضلوں اور رباط (بندھوں) پر دبائو ڈالتی ہے اور متعدد زخم اور چوٹیں لگتی رہتی ہیں۔ بڑھاپے، ذیابیطس، جوڑوں کے ورم اور گردش خون کے بگاڑ سے پیروں کی تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں۔
گزشتہ پندرہ برس میں کھیلوں کے لئے طرح طرح کے جوتے بنے ہیں۔ ان میں پیدل چلنے کے آرام دہ جوتے بھی شامل ہیں۔ چونکہ ان جوتوں کے سامان اور ان کے ڈیزائن پر تحقیق ہوئی ہے، لہذا ان سے پیروں کو خاصا آرام ملا ہے۔
چوڑے پنجے والے جوتے چنئے، نوک دار ایڑی کو الوداع کہئے۔ چوڑے پنجے اور چوڑی ایڑی والے پمپ شو استعمال کیجئے۔ جوتے میں پائوں کے لئے اچھی قسم کی گدی ہونی چاہئے۔
جوتے شام کو خریدیئے
شام تک پیر کچھ پھیل جاتے ہیں، اس لئے اس وقت اگر جوتے پہن کر پسند کئے جائیں تو کبھی تنگ ثابت نہیں ہوں گے۔
سائز کی پڑتال
پائوں کے انگوٹھے اور جوتے کے پنجے کے سرے کے درمیان آدھا انچ فاصلہ رکھئے۔ ایڑھی ایسی ہوکہ آپ کا پیر اوپر اور نیچے کھسکتا نہ رہے۔ اگر آپ نے ایسے جوتے چن لئے جو پیر کو ذرا دبا رہے ہیں اور تھوڑا درد ہورہا ہے اور آپ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ رو زپہننے سے جوتے کھل جائیں گے تو یہ غلط فہمی ہے۔ جوتے چند روز پہننے سے ان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑے گا تو یہ کہ آپ کے پیروں میں تکلیف ہوگی۔
جوتے ایسے ہوں کہ ان کے اندر ہوا کا کچھ گزر ہو۔ آپ کے پیروں میں ڈھائی لاکھ پسینے کے غدود ہیں جو روزانہ چھ اونس پسینا خارج کرتے ہیں۔ پیروں کو خشک رکھنے کے لئے ان میں ہوا کا گزر ضروری ہے۔ اس لئے آپ جوتے کے چمڑے پر غورکریں۔
کھیل کے لئے جوتے
ہر کھیل کے لئے ایک ہی قسم کا جوتا نہیں ہوتا۔ اس لئے بہتر ہے کہ معالج سے مشورہ کرکے اپنے کھیل کے لئے موزوں جوتے خریدیئے
پائوں کی ورزش اور مالش
پیروں کو طاقت پہنچانے کے لئے پانی کو تھوڑا سا گرم کریں۔ اس میں اپسم سالٹ (Epsomsalt) ملالیں۔ اس پانی میں پیروں کو پندرہ یا بیس منٹ تک رکھیں۔ اس سے پیروں کی تکان دور ہوتی ہے اور ان میں طاقت آتی ہے۔ پیروں کی مالش کریں۔ انگلیوں کو دائیں بائیں موڑیں۔ کبھی خشک اور کبھی تیل کی مالش کریں۔ پیدل چلا کریں، یہ پیروں کے لئے بہترین ورزش ہے۔
پائوں کے گٹے اور انگوٹھے کی سوجن
جوتے کی مسلسل رگڑ سے جلد سخت ہوجاتی ہے اور گٹے پڑ جاتے ہیں۔ خود علاجی کے بجائے بہتر ہے کہ معالج ے رجوع کیا جائے۔ خاص طور پر ذیابیطس اور پیروں کی رگوں کی تکلیف میں معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
پیر کے انگوٹھے کی سوجن بھی عام طور پر ایسے جوتوں سے پیدا ہوتی ہے جو پوری طرح فٹ نہیں ہوتے۔
پائوں کی پھپھوندی
پسینے والے موزوں اور تنگ جوتوں کی وجہ سے پیروں میں فنگس (پھپھوندی) انفیکشن ہوجاتی ہے۔ اس کے لئے روزانہ پیروںکو صابن سے دھوکر پوری طرح سکھائیں۔ چند قدم ننگے پیر چلا کیجئے تاکہ پیروں کو ہوا لگے یا سینڈل استعمال کریں۔ گیلے جوتے نہ پہنئے، موزے جلد جلد بدلتے رہئے، اینٹی فنگل پوڈر یا اینٹی فنگل کریم پیروں پر لگایا کریں۔ پیروں پر چھالے ہوں تو معالج کے مشورے سے علاج کریں۔
پائوں کی بدبو
دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ پیروں کو دھوئیں اور موزے تبدیل کریں۔ سو فیصد کاٹن والے موزے استعمال کیجئے۔ پیروں کے لئے فٹ پائوڈر ملتے ہیں، انہیں آزما کر دیکھئے۔ سرکے میں پانی ملاکر پیروں پر چند روز لگاکر دیکھیں، اس سے بدبو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
بعض احتیاطی تدابیر
٭ روزانہ پیروں کا معائنہ کرکے دیکھیں کہ کوئی زخم، چوٹ یا رگڑ تو نہیں آئی۔
٭ پچاس برس سے زیادہ عمر کے افراد اور ذیابیطس کے مریضوں کو سال میں دو مرتبہ معالج سے پیروں کا معائنہ کرانا چاہئے۔
٭ روزانہ پیروںکو اچھی طرح دھوئیں۔
٭ پیروں کو خشک اور گرم رکھیں
٭ پیروں کی انگلیوں کے ناخنوں کو باقاعدگی سے تراشتے رہنا چاہئے
٭ جوتے پہننے سے پہلے دیکھ لیں کہ ان میں کوئی نوک دار پتھر وغیرہ تو نہیں
٭ روزانہ کچھ فاصلہ پیدل ضرور طے کیجئے۔
٭ دن میں چند مرتبہ جوتے اتار کر پیروںکو ذرا اونچا رکھیں تاکہ ان میں گردش خون صحیح طور پر ہو۔
٭ صاف موزے پہنا کریں۔ سوتی موزے بہتر ہوتے ہیں۔ تنگ موزے اور گیٹس (ربڑ کی پٹیاں) استعمال نہ کریں۔