احساس ذمہ داری ایک ذہنی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کے دوران ’’ہم کسی کام کے بروقت اور احسن انداز سے ہوجانے کی بے چینی‘‘ محسوس کرتے ہیں اور بے چینی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ ہم نہ تو اس کام سے اپنی توجہ ہٹا سکتے ہیں اور نہ اس وقت تک چین سے بیٹھ سکتے ہیں، جب تک وہ کام پایہ تکمیل نہیں پہنچ جاتا۔
شدید بے چینی کی اس کیفیت میں ہمارے ذہن پر صرف تین باتیں سوار رہتی ہیں۔
1۔ یہ کام ضرور ہونا چاہئے
2۔ یہ کام بروقت ہونا چاہئے
3۔ یہ کام کس طرح اتنے کم وقت میں مکمل ہوسکتا ہے؟
پہلی دو باتیں تو اس خوف کے تحت ہمیں پریشان رکھتی ہیں کہ نہ ہونے یا کام میں دیر ہوجانے کے سبب ’’ناقابل برداشت یا ناقابل قبول نقصان‘‘ ہوگا۔ البتہ تیسری بات ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ’’وقت بہت کم ہے‘‘ اور آرام کرنا یا کسی اور کام کو وقت دینا دیر کا سبب ہوسکتا ہے۔
اسی احساس کی وجہ سے جب تک ہمارا کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچ جائے، ہم زیادہ سو نہیں پاتے، تفریح کے لئے فلم نہیں دیکھ سکتے، ہمارے پاس دوستوں کے ساتھ گپ شپ کا وقت نہیں ہوتا، سیر کا خیال ہمیں اچھا نہیں لگتا، اور کھانا بھی آرام سے بیٹھ کر کھانا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس احساس ذمہ داری سے محروم لوگوں کے پاس ایسے کاموں کے لئے ہمیشہ بہت وقت ہوتا ہے اور ان کے خیال میں…
’’خیر ہے یار… ابھی بہت وقت باقی ہے… آخر اتنی جلدی بھی کیا ہے…‘‘
’’ناقابل برداشت یا ناقابل قبول نقصان‘‘ سے تین چیزوں کا خوف مراد ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ معاشرتی ناپسندیدگی کا خوف لوگوں کو احساس ذمہ داری دلاتا ہے۔ معاشرتی ناپسندیدگی سے مراد یہ ہے کہ کام نہ ہونے یا دیر سے ہونے کی صورت میں کوئی شخص ہمارے بارے میں برا سوچے گا۔ ہم سے ناراض ہوجائے گا، ہمیں ناپسند کرنے لگے گا، اسے ہمارے رویئے سے سخت مایوسی ہوگی۔ اس کا دل ٹوٹ جائے گا یا یہ کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائے گا۔
کسی ادارے میں نگران بھی اسی لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ ملازمین اپنے نگران کے پوچھنے کے ڈر سے سستی اور لاپرواہی کا شکار نہیں ہوتے، جو ملازمین کسی کو جواب دہ نہیں ہوتے یا جن کے ملازمین کے نگران بروقت اور باقاعدگی سے ان کی کارکردگی کا جائزہ نہیں لیتے، ان کی کارکردگی میں خاطر خواہ کمی آجاتی ہے اور یوں وہ ادارہ زوال پذیری اور نقصان کا شکار ہوجاتا ہے۔
اگرچہ ضرورت سے زیادہ لوگوں کی پرواہ کرنا بھی درست نہیں ہے لیکن اپنی زندگی میں کسی کی بھی پرواہ کرنا نہ صرف خراب ذہنی حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ بہت نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔
اپنی بیوی کے روٹھ جانے کی فکر… اپنے شوہر کا دل ٹوٹ جانے کا خیال… اپنے افسران کی ناراضگی کی پریشانی… اپنے دوست کی مایوسی اور قطع تعلقی کا غم… اپنے گاہکوں کا اعتماد کھو دینے کی تشویش… اور اس طرح اور بہت سے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کا خوف ذہنی طور پر صحت مند معاشرتی طور پر اچھے اور مذہبی طور پر نیک لوگوں کی ہی نشانی ہے۔
معاشرتی ناپسندیدگی کے بعد سب سے زیادہ بے چینی لذت سے محرومی کے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔ لذت سے محروم یا تکلیف میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہماری جبلت میں شامل ہے۔ انسانی طبیعت جبلی طور پر ہر اس کام کی طرف مائل ہوتی ہے جس میں اسے لذات، لطف یا فرحت حاصل ہو اور ہر اس کام سے بچنے اور دور رہنے کی کوشش کرتی ہے جو اس کے لئے تکلیف یا پریشانی کا باعث ہو۔
انسانی نفسیات کے اسی اصول کے تحت، تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات اور کاروباری یا فلاحی اداروں میں ملازمین اور کارکنان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ان کے کام کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ اور پرلطف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے کام کے ساتھ دنیاوی اعتبار سے مالی فوائد یا ترقی کا لالچ اور اخروی اعتبار سے ثواب اور جنت جیسے فوائد وابستہ کردیئے جاتے ہیں۔ سیمینار اور ورکشاپ منعقد کروانے کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ اچھے مقررین اپنی موثر گفتگو کے ذریعے طلبہ و طالبات یا ملازمین کو ان فوائد کا احساس دلائیں اور یوں انہیں زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کا جذبہ ملے۔
یہ جبلت انسانی زندگی میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کرتی ہے اور اس جبلت کا قانونی طور پر جائز معاشرتی اعتبار سے قابل قبول اور مذہبی نقطہ نظر سے حلال استعمال تو یقینا ایک صحت مندانہ اقدام ہے لیکن معاملہ اگر اس کے برعکس ہوجائے تو فرد اور معاشرہ دونوں کے لئے خطرناک ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت حال اچھی تعلیم و تربیت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے اور کسی نفسیاتی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ ذمہ داری کا احساس ضمیر کی ملامت کے خوف سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ضمیر کی ملامت زیادہ تر لوگوں میں تو محض اخلاقی نوعیت کی ہوتی ہے یعنی چونکہ کام کا نہ ہونا یا کام میں تاخیر ہوجانا، ان کے اپنے نظریات اور مزاج کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے وہ پشیمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ جو اپنے مذہب سے گہرا لگائو یا خدا اور آخرت پر حقیقی یقین رکھتے ہیں ان میں یہ خوف خدا کی ناراضگی کے خیال سے پیدا ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے لئے خدا کی رحمت سے محروم ہوجانے اور قبر و آخرت کی سزا سے بڑھ کر اور کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مذہبی لوگ عملی زندگی میں سب سے زیادہ ذمہ دار ثابت ہوتے ہیں لیکن اپنے لئے ملازمین یا کارکنان کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ کچھ لوگ مذہبی نظر تو آتے ہیں یا مذہبی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسے نہیں ہوتے۔
ہمارا ضمیر ہمارے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز پیدا کرتا ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لئے ایک اچھے ضمیر کا مالک ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ضمیر کے بننے میں ورثۂ تعلیم اور ماحول تینوں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس کی نشوونما سب سے زیادہ بچپن اور لڑکپن کے ادوار میں ہوتی ہے۔ اس لئے ماں باپ، اساتذہ اور حکومتی اداروں کو اس بات پر سخت توجہ دینی چاہئے کہ بچوں کو اپنے گھر، اسکول، مدرسے یا ہم جولیوں سے کچھ بھی غلط سیکھنے کا حتی الامکان موقع نہ ملے۔ اگر ان کے اردگرد رہنے والے لوگ ان کے سامنے ایک برا کردار پیش کریں، انہیں ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر پر بہت کچھ برا دیکھنے کو ملے اور انہیں اچھی باتیں بتانے اور سکھانے کا اہتمام نہ کیا جائے تو معاشرہ اچھے لوگوں سے محروم ہوجائے۔
ماں باپ کو چاہئے کہ وہ خود بھلے جیسے بھی ہوں، لیکن کم از کم اپنے بچوں کے سامنے ایک اچھے کردار کا ہی مظاہرہ کریں۔ اسکول کی انتظامیہ کو چاہئے کہ صرف ان اساتذہ اور ملازمین کو منتخب کریں جو نہ صرف باقاعدہ تربیت یافتہ ہوں بلکہ اچھے کردار کے بھی مالک ہوں۔ فلم اور ٹیلی ویژن پروگرام سے پہلے والدین کے لئے ایک ہدایتی پٹی بھی اس لئے چلائی جاتی ہے تاکہ وہ اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ اس پروگرام کو دیکھنا ان کے بچوں کے لئے موزوں ہے یا نہیں؟
کسی کام میں تاخیر صرف احساس ذمہ داری کے فقدان سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہماری شخصیت میں موجود کچھ اور کمزوریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں مثلا نظم و ضبط کا فقدان، وہمی ہونا، ضرورت سے زیادہ فرمانبردار ہونا اور شیخی باز ہونا وغیرہ۔ شخصیت کی ان کمزوریوں پر قابو پائے بغیر خود کو ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد شخص ثابت کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔
وہمی لوگ کام کم کرتے ہیں اور سوچتے زیادہ ہیں اور کسی بھی کام سے آسانی سے مطمئن نہیں ہوتے اور یوں ایک ہی کام کو بار بار بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش میں بہت سا وقت ضائع کر بیٹھتے ہیں ۔ضرورت سے زیادہ فرمانبردار لوگوں کے لئے ’’ناں‘‘ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے ذمے اتنا زیادہ کام لے لیتے ہیں کہ جو مقررہ وقت میں کرنا ان کے لئے حقیقتاً ناممکن ہوتاہے۔ اسی لئے شیخی باز لوگ بھی ایسے کام کی حامی بھرلیتے ہیں جو دراصل ان کے بس میں نہیں ہوتے۔ ایسی صورت حال میں ٹال مٹول سے کام لینے اور حیلے بہانے کرنے کے سوا، ان کے پاس بھلا اور چارہ بھی کیا ہوسکتا ہے؟