آج کے معاشرے میں طلاق کی کثرت نے جو اودھم مچائی ہے، اس سے معاشرے کا ہر فرد متاثر اور متفکر ہے۔ کہتے ہیں کہ آج کا دور علم اور سائنس کا دور ہے۔ علم پھیل رہا اور جہالت دور ہورہی ہے۔ دنیاوی اعتبار سے یہ بات صحیح ہو تو ہو، دینی لحاظ سے صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ کیونکہ مال و دولت اور دنیاوی علوم و فنون میں جس قدر ترقی ہوتی جارہی ہے، اسی قدر دین اور علم دین سے دوری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جس کے نتیجے میں مسلمان دین سے نابلد، احکام شریعت سے ناواقف اور خوف و خشیت خداوندی سے عاری ہوتے جارہے ہیں۔ آخرت کا اور حساب و کتاب کا خوف تو گویا کوئی چیز ہی نہیں، بس دین کا نام زندہ ہے۔ اس کی گہرائیوں میں جانے کی کسی کو فرصت نہیں۔ دین کی نزاکتوں کو جانتے نہیں، علمائے دین اور صلحائے امت کی صحبتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ خانقاہوں میں تربیت کا فقدان ہے اور شاذونادر کے طور پر اگر کسی خانقاہ میں درس و تربیت اور ارشاد و ہدایت کا کام ہورہا ہے تو اس کی طرف عامۃ المسلمین کی توجہ نہیں اخبار پڑھنے کی فرصت ہے، ٹی وی دیکھنے کے لئے وقت ہے، ہوٹلوں میں گھنٹوں گزار دینا آسان ہے، تفریح گاہوں سے بھی دل بہلائے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں معاشرے کا کیا ہوگا، کون سی کل اس کی سیدھی رہ پائے گی؟ یہ کہنے کی بات نہیں۔ نتیجے کے طور پر حقوق کی پامالی عام ہے۔ گھر گھر میں لڑائی جھگڑے کی فضاء قائم ہے۔ گھر سے لے کر باہر تک ہر طرف مطلق العنانی اور بے ادبی کا دور دورہ ہے۔ اکابر اور بزرگوں کی قدر جیسی ہونی چاہئے، بہت تیزی سے رخصت ہورہی ہے، میاں بیوی کے تعلقات بھی روز بروز خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔ جبکہ شادی بیاہ کی رسموں اور فضول اخراجات میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، کاش ذرا توجہ اس طرف بھی ہوتی کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو دین آشنا بنایا جاتا، حقوق و فرائض سے انہیں آگاہ کیا جاتا، دینی اور اخلاقی ماحول میں ان کی پرورش کی جاتی، اسلام کیا ہے؟ ان کو اچھی طرح سمجھایا جاتا۔
آج کا نوجوان طبقہ دنیاوی رنگ رلیوں میں تو خوب آگے بڑھتا نظر آرہا ہے، انگریزی تعلیم میں ہی نہیں، انگریزی تہذیب میں بھی ترقی کررہا ہے۔ مگر دینی تقاضوں سے بالکل نابلد ہے، شادی تو خوب دھوم دھام سے ہوتی ہے، مگر زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے؟ میاں بیوی کے حقوق و فرائض کیا ہیں؟ ان سب باتوں سے اسے سروکار نہیں ہوتا۔ نہ ہی والدین کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ نوجوان نسل دین کے ضروری مسائل سے واقف ہوسکے۔ نکاح تو کسی طرح قاضی صاحب پڑھا دیتے ہیں۔ مگر جہاں تعلقات خراب ہوئے اور طلاق کی نوبت آپہنچی تو پھر شوہر نامدار بے سوچے سمجھے تین طلاقیں داغ دیتے ہیں اور پھر فورا ہی وہی بیوی انہیں بھانے لگتی ہے اور علماء کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ مفتی صاحب! کوئی شکل نکالئے، میں بیوی کو تین طلاق دے چکا ہوں، اب مفتی صاحب کیا کرسکتے ہیں۔ سوائے یہ کہ حلالے کی شکل بتادیتے ہیں۔ حلالہ کا نام سنتے ہی چہرے پر اداسی پڑجاتی ہے، چاہتے ہیں کہ بغیر حلالہ ہی کے دوبارہ بیوی ہاتھ آجائے۔ کاش یہ نوجوان طبقہ سوچ کر طلاق دیتا یا دینا ہی تھا تو صرف ایک ہی طلاق دیتا، تاکہ پچھتاوے کے بعد دوبارہ بیوی نکاح میں آسکے۔ لیکن برا ہو جہالت کا انہیں معلوم ہی نہیں کہ طلاق کے بارے میں اسلام کا قانون کیا ہے؟ افسوس دنیا کا ہر کام کرنے سے پہلے آدمی ہزار بار سوچتا ہے، اس کے عواقب و نتائج پر غور کرتا ہے، بسا اوقات دوست احباب اور گھر والوں سے مشورہ لیتا ہے، حتی کہ نکاح سے قبل بھی تحقیق و تلاش میں بھی ایک لمبا عرصہ گزارتا ہے تب کہیں نکاح اور شادی کی نوبت آتی ہے، لیکن طلاق دیتے وقت اپنی شریک حیات اور جیون ساتھی کو جدا کرتے اور اس کے رشتہ محبت کو قطع کرتے وقت ذرا بھی غور وفکر کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ اپنے کسی مخلص سے مشورہ نہیں لیا جاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عورت پر تو یہ ظلم ہے ہی، ساتھ میں اپنی زندگی کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے مترادف ہے۔ اکثر طلاق دینے والوں کی زندگیاں بے لطف نظر آتی ہیں۔ ان کی آل اولاد بھی مایوسی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔ آس پڑوس میں جو بے عزتی ہوتی ہے، وہ الگ ہے۔ اکثر گھر والے بھی مبغوض نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں ’’خود کردہ را علاج نیست‘‘ اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مارنا۔
اسلام نے طلاق کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی ایک اصول اور قانون کے مطابق۔ اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ ساری خرابیاں جو طلاق کے ضمن میں پیدا ہوتی ہیں، ان کا خاتمہ آسان ہو۔
آدمی کے اندر مروت اور ہمدردی کا جذبہ ہو تو ضرور سوچے کہ آخر جو ہماری شریک حیات ہے جس نے اپنا گھر بار، رشتہ ناطہ سب چھوڑ کر شوہر کی ہوکر رہ گئی ہے، وہ بھی ہمدردی و غم گساری کی مستحق ہے۔ اگر طلاق ہی دینا ہے تو ایسا رویہ کیوں نہ اپنایا جائے جس میں طلاق بھی ہوجائے اور ماحول بھی نہ بگڑنے پائے، پھر دونوں یا ایک کو پچھتاوا ہو تو دوبارہ گرہ میں بندھ سکیں اور پھر سے تعلقات ہموار ہوسکیں۔ کتنی عورتوں کو دیکھا جاتا ہے کہ اپنے جوان بچوں کو چھوڑ کر انہیں میکے کی راہ لینی پڑتی ہے اور اگر بچے ناسمجھ ہیں تو ان کی زندگی اور بھی اجیرن ہوکر رہ جاتی ہے۔ گویا طلاق اپنے بچوں پر بھی ظلم ہے، کیونکہ باپ کبھی بھی بچوں کو ماں کا پیار نہیں دے سکتا اور نہ ہی دوسری ماں حقیقی ماں کی طرح بچوں سے محبت کرسکتی ہے۔
اسلام نے بوقت ضرورت مرد کو جو طلاق کی اجازت دی ہے، اس کے شرائط ہیں کہ طہر (پاکی کی حالت) میں ہو اور صرف ایک طلاق ہو، رجعی یا بائن، لیکن غصے میں اور جہالت کی وجہ سے اکثر ہمارے مسلم بھائی ایک ساتھ تین طلاقیں داغ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ طلاق اگرچہ تین بار واقع ہوجاتی لیکن یہ حرکت سراسر خلاف شرع اور گناہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خرابی تو یہی ہے کہ اکثر طلاق دہندہ خود طلاق کے بعد پشیماں و شرمندہ ہوتا ہے اور پھر اپنی اس بیوی کو رکھنے کا ارادہ کرلیتا ہے جس کی وجہ سے حلالہ جیسی گھنائونی شکل سامنے آتی ہے۔ اگر ایک طلاق رجعی دی جاتی تو بیوی کو دوبارہ لوٹانے کا حق باقی رہتا۔ نہ رکھنا چاہتا تو عدت گزار کر بیوی کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرلیتی اور طلاق کا مقصد علیحدگی بھی حاصل ہوجاتا اور اگر ایک طلاق بائن دی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر یا بعد دوبارہ اسی شوہر سے نکاح جائز ہے، جس میں دونوں کی رضامندی بہرحال ضروری ہے۔ البتہ رجعی کی صورت میں عدت کے اندر بغیر بیوی کے مرضی کے بھی رجعت جائز ہے۔ اور اگر عدت گزر گئی رجعت نہیں کیا تو بائن کی طرح صرف دوبارہ نکاح کی ضرورت پڑے گی، حلالہ کی صورت پیش نہیں آئے گی۔ اور اس نکاح میں بھی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔
یہاں یہ غلط فہمی بہت عام ہے بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی اس کا شکار ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ایک طلاق سے کچھ نہیں ہوتا، جب تک تین نہ دی جائے حتی کہ خلع کی صورت میں بھی اکثر تین طلاق کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو قطعاً درست اور جائز نہیں۔ خلع میں ایک ہی طلاق بائن ہوجاتی ہے اور رجعت کی اجازت نہیں رہتی۔ البتہ دونوں راضی ہوں تب بھی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ لوگ غلطی سے یہ سوچتے ہیں کہ ایک طلاق بائن کے بعد شوہر رجوع کرے گا۔ پھر علیحدگی کا مقصد پورا نہ ہوگا۔ یہ سراسر غلط فہمی اور جہالت ہے۔ بائن طلاق کے بعد شوہر کو رجعت کا حق ہی باقی نہیں رہتا۔ اب عدت گزر جائے تو عورت کسی اور سے نکاح کرسکتی ہے۔ ہاں! اسی سابق شوہر سے اگر نکاح کرنے پر اتفاق ہوجائے تو اس میں عدت کی قید نہیں، قبل عدت بھی نکاح ہوسکتا ہے اور بعد عدت بھی اس میں شوہر کو اپنی طرف سے جبر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ نکاح جب بھی ہوگا، دونوں کی رضامندی ہی سے ہوگا۔
خلع کے وقت اکثر پنچائیت کی نوبت آتی ہے، تو دین کے احکام و مسائل کے ناواقف پنچ حضرات بھی پورے اصرار سے تین طلاق دلواتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایسی صورت میں عوررت مرد اور ساتھ ہی پنچائیت  کے تمام شرکاء بھی گناہ گار ہوتے ہیں۔ یہ مفت کا گناہ مول لینا کتنی بڑی بے وقوفی ہے۔ ہر عقل مند کو سوچنا چاہئے اور آئندہ بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
جب ایک طلاق سے عورت علیحدہ ہوجاتی ہے تو پھر تین طلاق کا گناہ سرپر لین چہ معنی دارد؟ اس بات کو عوام الناس کے ذہنوں میں بٹھانا اور عام کرنا ضروری ہے۔ جلسوں، کانفرنسوں اور جمعہ کے بیانات میں بھی اس موضوع پر روشنی ڈالی جانی چاہئے تاکہ اس لعنت کا معاشرے سے خاتمہ ہو۔ غصے میں طلاق ہوتی ہے تو اس میں آدمی سوچتا بھی نہیں اور شرعی مسئلہ بھی نہیں جانتا۔ اس لئے ایسی غلطی اکثر ہوجاتی ہے۔ لیکن پنچائیت میں جبکہ عالی دماغ لوگ تلاش کرکے لائے جاتے ہیں اور جو کچھ طے ہوتا ہے وہ سمجھ بوجھ کر غوروفکر کے بعد ہوتا ہے پھر اس میں تین طلاق پر اصرار کرنابہت ہی عجیب ہے۔ میں سمجھتا ہوں علمائے کرام اور ائمہ مساجد اگر اس موضوع پر صحیح مسئلہ کو بار بار بتاتے رہیں تو عوام ضرور اصلاح کی طرف مائل ہوں گے اور پنچ لوگ تو ضرور ہی سنبھل جائیں گے اور اپنے سروں پر گناہ کا بوجھ لینا چھوڑ دیں گے۔
اسلام نہایت پاکیزہ مذہب ہے اس کا ہر قانون عامۃ المسلمین کی فلاح و صلاح یعنی بھلائی کے لئے ہے، آدمی غلطی خود کرتا ہے، قانون جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا پھر الزام اسلام کو دیتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم لوگ بھی ہمارے یہاں طلاق کی کثرت اور اس کے سبب پائی جانے والی خرابیوںکو دیکھ کر چیں بہ چیں ہوتے ہیں اور اسلام کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ ان کا اس میں کیا قصور کہا جائے جب اسلام کا نام لینے والے خود ہی ابھی نہیں جانتے کہ اس سلسلے میں اسلام کا قانون کیا ہے، دوسرے تو ناواقف محض ہیں وہ اگر اعتراض کریں تو چنداں تعجب نہیں۔