تذکرہ سرکارغوث اعظم رضی اﷲ عنہ

اﷲ تعالیٰ کے نیک بندے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے بندوں کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔ اِن کا وجود پوری کائنات کے لئے خیروبرکت ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ہستیاں اﷲ تعالیٰ کے قریب ہوتی ہیں ۔ ان کا مقصد حیات فقط اپنے رب جل جلالہ کو راضی کرنا ہے۔ دنیا کی محبت سے اپنے سینے کو پاک کرکے یہ اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ ہر ایک کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی محبت داخل کرتے ہیں۔
ان کامل ہستیوں میں سے ایک ہستی ہمارے شیخ پیران پیر روشن ضمیر حضرت غوث اعظم دستگیر علیہ الرحمہ کی ذات ہے جسے رب تعالیٰ نے بہت شان و عظمت سے نوازا۔ آپ کا تعارف، آپ کا نسب اور خدمات و کرامات کیا ہیں۔ اس پر مختصر تحریر آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
آپ کا نام: سید عبدالقادر رضی اﷲ عنہ
کنیت: ابو محمد
القابات: محی الدین، محبوب سبحانی، غوث اعظم، غوث الثقلین، پیردستگیر
ولادت: 470ھ میں بغداد شریف کے قریبی قصبے، قصبہ جیلان میں ولادت ہوئی۔
نسب شریف: آپ والد کی نسبت سے حسنی سید ہیں۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ سید عبدالقادر بن ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سید عبداﷲ بن سید یحیی بن سید دائود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداﷲ بن سید موسیٰ جون بن سید عبداﷲ محض بن امام حسن مثنی بن سید امام حسن بن علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہم
والدہ کی جانب سے آپ حسینی سید ہیں۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ سید عبدالقادربن امۃ الجبار بنت سید عبداﷲ موصعی بن سید محمد بن سید جواد بن سید علی رضا بن سید موسیٰ کاظم بن سید جعفر صادق بن سید محمد باقر بن سید زین العابدین بن امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہم۔
بعض لوگ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے سید ہونے پر اعتراض کرتے ہیں لہذا ہم نے ان کی تسلی کے لئے حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا نسب شریف تحریر کردیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حسنی حسینی سید ہیں۔
ولادت کی رات بشارت
سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ کی ولادت کی رات آپ کے والد ماجد نے یہ مشاہدہ فرمایا کہ سرور کائناتﷺ بمع صحابہ کرام اور اولیاء عظام علیہم الرضوان ان کے گھر جلوہ افروز ہیں۔ اور ان الفاظ مبارکہ سے ان کو خطاب فرمایا اور بشارت سے نوازا:
’’یاابا صالح اعطاک اﷲ ابنا وہو ولی و محبوبی و محببوب اﷲ تعالیٰ و سیوکن لہ شان فی الاولیاء والاقطاب کشانی بین الانبیاء و الرسل‘‘
ترجمہ: اے ابو صالح! اﷲ تعالیٰ نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا ہے جو ولی ہے میرا اور اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہے اور عنقریب اس کی اولیاء اﷲ اور اقطاب میں وہ شان ہوگی جو انبیاء و مرسلین میں میری شان ہے (بحوالہ: تفریح الخاطر)
٭ مستجاب الدعوت: سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ مستجاب الدعوات تھے یعنی آپ جو بھی دعا فرماتے، اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف عطا ہوتا۔
٭ نکاح: ایک شخص نے آپ سے پوچھا حضور! آپ نے نکاح کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا۔ بے شک میں نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس سے میرے دوسرے معاملات میں خلل پیداہوگا مگر میرے آقاﷺ نے مجھے حکم دیا۔ اے عبدالقادر! تم نکاح کرلو۔
اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ پھر جب یہ وقت آیا تو اﷲ تعالیٰ نے مجھے چار بیویاں عطا فرمائیں جن میں سے ہر ایک مجھ سے کامل محبت رکھتی ہے (عوارف المعارف)
٭ حلیہ مبارک: ضعیف البدن، میانہ قد، فراغ سینہ، چوڑی داڑھی، دراز گردن، گندمی رنگ، ملے ہوئے ابرو، سیاہ آنکھیں اور بلند آواز (بہجۃ الاسرار)
٭ علمی مقام: سرکار بغداد حضور غوث پاک رضی اﷲ عنہ تیرہ علوم میں تقریر فرماتے۔ تفسیر،  حدیث، فقہ، کلام، اصول، علم نحو، علم الکلام پڑھاتے تھے۔ ایک آیت کے چالیس معنی بیان فرمائے
(بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
٭ راہ خدا جل جلالہ میں تکالیف: سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے راہ خدا میں بڑی بڑی تکالیف اور مصیبتوں کو برداشت کیا۔ اگر وہ پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی پھٹ جاتا (بحوالہ: قلائد الجوائر)
٭ شیاطین سے مقابلہ: شیخ عثمان الصریفنی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ کی زبان سے سنا کہ میں شب و روز بیابانوں اور ویران جنگلوں میں رہا کرتا تھا۔ میرے پاس شیاطین مسلح ہوکر ہیبت ناک شکلوں میں قطار در قطار آتے اور مجھ سے مقابلہ کرتے، مجھ پر آگ پھینکتے مگر میں اپنے دل میں بہت زیادہ ہمت اور طاقت محسوس کرتا اور غیب سے کوئی مجھے پکار کر کہتا۔ اے عبدالقادر! اٹھو… ان کی طرف بڑھو، مقابلہ میں ہم تمہیں ثابت قدم رکھیں گے اور تمہاری مدد کریں گے… پھر جب میں ان کی طرف بڑھتا تو وہ دائیں بائیں یا جدھر سے آتے، اسی طرف بھاگتے جاتے پھر میں لاحول و لاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم پڑھتا۔
٭ پہلا بیان: آپ رضی اﷲ عنہ کا پہلا بیان اجتماع برانیہ میں ماہ شوال 521ھ میں ہوا جس پر ہیبت و رونق چھائی ہوئی تھی۔ اولیاء کرام رحمہم اﷲ اور فرشتوں نے اسے ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ نے لوگوں کو رحمن جل جلالہ کی طرف بلایا تو وہ سب لوگ اطاعت و فرمانبرداری میں جلدی کرتے تھے (بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
٭ آپ رضی اﷲ عنہ کی محفل وعظ میں ستر ستر ہزار افراد ہوتے تھے، دوران وعظ نزدیک والا جیسی آواز سنتا، آخر والا بھی وہی آواز سنتا تھا۔
٭ آپ رضی اﷲ عنہ کی محفل میں انبیاء کرام، ملائکہ، اولیاء اﷲ اور جنات تشریف لاتے۔ حضرت خضر علیہ السلام تو اکثر اوقات حاضرین میں شامل ہوتے (بحوالہ: اخبار الاخیار)
٭ آپ رضی اﷲ عنہ نے 521ھ سے 561ھ تک چالیس سال تک استقامت کے ساتھ وعظ و نصیحت فرمایا (بہجۃ الاسرار)
٭ پندرہ سال تک رات بھر میں ایک قرآن ختم فرماتے۔
٭ ہر روز ایک ہزار نفل ادا فرماتے تھے (تفریح الخاطر)
٭ سخاوت: آپ نے ایک شخص کو مغموم اور افسرہ دیکھ کر پوچھا کیوں پریشان ہو؟ عرض کیا۔ دریائے دجلہ کے پار جانا چاہتا ہوں، کرایہ بھی نہیں۔ اتنے میں ایک عقیدت مند نے آپ کی خدمت میں تیس دینار نذرانہ پیش کیا تو آپ نے وہ تیس دینار اس شخص کو دے کر فرمایا جائو! یہ تیس دینار ملاح کو دے دینا اور کہہ دینا کہ آئندہ کسی غریب کو دریا عبور کرانے پر انکار نہ کرے (اخبار الاخیار)
٭ کیا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ پہلے حنفی تھے؟
سوال: امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا کہ یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھا کہ حضرت امام احمد ابن حنبل رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا مذہب ضعیف ہوا جاتا ہے۔ لہذا تم میرے مذہب میں آجائو۔ میرے مذہب میں آنے سے میرے مذہب کو تقویت ہوجائے گی اس لئے حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حنفی سے حنبلی ہوگئے؟
جواب: امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ غوث پاک رضی اﷲ عنہ ہمیشہ سے حنبلی تھے اور بعد میں عین الشریعہ الکبریٰ تک پہنچ کر منصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا۔ مذہب حنبل کو کمزور ہوتا ہوا دیکھ کر اس کے مطابق فتویٰ دیا کہ حضور محی الدین اور دین متین کے یہ چاروں ستون ہیں، لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتا دیکھا اس کی تقویت فرمائی (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 2، ص 433، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
٭ کیا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ نے ملک الموت سے زنبیل ارواح چھین لی؟
سوال: امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ زنبیل ارواح کی عزرائیل علیہ السلام  سے حضرت پیران پیر نے ناراض اور غصہ میں ہوکر چھین لی تھی؟
جواب: امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ زنبیل ارواح (روحوں کا تھیلا) چھین لینا خرافات جہال سے ہے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام رسل ملائکہ سے ہیں اور رسل ملائکہ اولیاء بشر سے بالاجماع افضل ہیں تو مسلمانوں کو ایسی اباطیل واہیہ سے احتراز لازم ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 28 ، ص 419، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
٭ باطن کے حالات سے باخبر
حضرت شیخ ابو الجونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں غوث پاک رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت میں فاقہ کی حالت میں تھا اور میرے اہل و عیال نے بھی کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ میں نے آپ کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر آپ نے فرمایا۔ اے ابو الجونی! بھوک اﷲ تعالیٰ کے خزانوںمیں سے ایک خزانہ ہے جس کو دوست رکھتا ہے، اس کو عطا کردیتا ہے (بحوالہ: قلائد الجوائر، ص 57)
٭ سمندر طریقت: سیدنا احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ وہ ہیں کہ شریعت کا سمندر ان کے دائیں ہاتھ ہے اور حقیقت کا سمندر ان کے بائیں ہاتھ جس میں سے چاہیں پانی لیں۔ ہمارے اس وقت میں شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ کا کوئی ثانی نہیں (بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
٭ سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی کرامات:
1: امام ابو حفص عمر بن صالح حداوی اپنی اونٹنی بارگاہ غوثیت میں لائے۔ عرض کیا کہ میرا حج کا ارادہ ہے۔ یہ میری ایک ہی سواری ہے جو چل نہیں سکتی۔ آپ نے اونٹنی کو انگلی لگائی اور پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ پہلے میری اونٹنی سب سے پیچھے رہتی تھی۔ اب سب سے آگے چلتی تھی۔
2: حضرت ابوالحسن علی الازجی بیمار ہوئے تو سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے گھر ایک کبوتری اور ایک قمری کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ حضرت ابو الحسن رضی اﷲ عنہ نے عرض کی۔ یہ کبوتری چھ ماہ سے انڈے نہیں دے رہی اور قمری (فاختہ) نومہینے سے بولتی نہیں۔ آپ نے کبوتری کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا۔ اپنے مالک کو فائدہ پہنچائو اور قمری سے فرمایا۔ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ قمری نے اسی دن سے بولنا شروع کردیا اور کبوتری عمر بھر انڈے دیتی رہی (بہجۃ الاسرار)
3: ایک دفعہ دریائے دجلہ میں زوردار سیلاب آگیا۔ دریا کی طغیانی کی شدت کی وجہ سے لوگ پریشان ہوکر سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں آئے۔ آپ نے اپنا عصاء پکڑا ار دریا کی طرف چلے اور دریا کے کنارے پر پہنچ کر اپنا عصاء کو دریا کی اصلی حد پر نصب کردیا اور دریا کو فرمایا کہ بس! یہی تک… آپ کا فرمانا تھا کہ اسی وقت پانی کم ہونا شروع ہوگیا اور آپ کے عصاء تک آگیا (بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
4: ایک دن آپ رضی اﷲ عنہ بیان فرما رہے تھے۔مجلس میں شیخ علی بن ہیتی علیہ الرحمہ بھی تھے۔ آپ کو نیند آئی۔ سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ منبر سے اتر کر آپ کی جانب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔
جو میں خواب میں دیکھ رہا تھا۔ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ وہ بیداری میں دیکھ رہے تھے۔
سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے ارشادات
1۔ توکل کیا ہے؟… آپ فرماتے کہ دل اﷲ تعالیٰ کی طرف لگا رہے اور اس کے غیر سے الگ رہے جن چیزوں پر قدرت حاصل ہے، ان کے پوشیدہ راز کو معرفت کی آنکھ سے جھانکنا اور مذہب معرفت میں دل کے یقین کی حقیقت کا نام اعتقاد ہے کیونکہ وہ لازمی امور ہیں۔ ان میں کوئی اعتراض کرنے والا نقص نہیں نکال سکتا (بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
2۔ شکر کیا ہے؟… آپ نے فرمایا شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے نعمت دینے والے کی نعمت کا اقرار ہو اور اسی طرح عاجزی کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے احسان کو مانے اور سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجز ہے (بحوالہ: بہجۃ الاسرار)
3۔ وجد کیا ہے؟… آپ نے فرمایا۔ روح، اﷲ تعالیٰ کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہوجائے اور اﷲ تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے (بہجۃ الاسرار)
4: خوف کیا ہے؟… آپ نے فرمایا کہ اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔
خوف: یہ گناہ گاروں کو ہوتا ہے۔
رہبہ: یہ عابدین کو ہوتا ہے۔
خشیت: یہ علماء کو ہوتی ہے:
گناہ گار کا خوف عذاب ہے۔ عابد کا خوف عبادت کے ثواب کے ضائع ہونے سے اور عالم کا خوف طاعات میں شرک خفی (ریاکاری) سے ہوتا ہے۔
پھر آپ نے فرمایا عاشقین کا خوف ملاقات کے فوت ہونے سے ہے اور عارفین کا خوف ہیبت و تعظیم سے ہے اور یہ خوف سب سے بڑھ کر ہے کہ کیونکہ یہ کبھی دور نہیں ہوتا اور تمام اقسام کی حاملین جب رحمت و لطف کے مقابل ہوجائیں تو تسکین پاجاتے ہیں (المرجع السابق)
5: سرکار بغداد رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’سالتم اﷲ حاجۃ فاسئلوہ بی‘‘ جب تم اﷲ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو تو میرے وسیلے سے طلب کرو (بحوالہ: بہجۃالاسرار، ص 63)
کیا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ وہابی تھے؟
آپ پچھلے صفحات میں پڑھ چکے کہ سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حنبلی تھے یعنی حضرت امام احمد ابن حنبل رضی اﷲ عنہ کے مقلد تھے، غیر مقلد نہیں تھے۔ جب آپ مقلد تھے تو وہابی کیسے ہوسکتے ہیں؟ وہ اس لئے کہ وہابی غیر مقلد ہوتے ہیں، امام کی تقلید کو حرام کہتے ہیں جبکہ سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ عنہ تقلید کو جائز سمجھتے تھے لہذا ماننا پڑے گا کہ آپ وہابی نہ تھے۔
غوث اعظم رضی اﷲ عنہ حنبلی اور ہم حنفی یہ کیسے؟
ہم غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے مرید ہیں۔ ان کے سلسلہ طریقت میں داخل ہیں مگر ہم ان کے مقلد نہیں ہیں۔ مقلد ہم امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ کے ہیں لہذا مقلد کسی بھی امام کا ہو، وہ مرید غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا ہوسکتا ہے۔
آپ کا وصال: آپ کا وصال 11 ربیع الآخر 561ھ میں اکانوے  برس کی عمر میں بغداد شریف میں ہوا۔ بغداد معلیٰ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔
اﷲ تعالیٰ ہمارے مرشد سلطان اولیاء حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے درجات بلند فرمائے۔ آپ کے مزار پر اپنی رحمت و رضوان کی بارش فرمائے اور ہمیں آپ کے فیض سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثم آمین
سوال: کیا اسلام میں کسی کی یاد
منانے کی کوئی گنجائش ہے
جواب: یہ سوال سائل کی کم علمی کی دلیل ہے۔ اگر وہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے تو کبھی ایسا سوال نہ کرتے۔
اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی یاد منانا جائز بلکہ ثواب ہے۔
القرآن: وذکرہم بایم اﷲ
ترجمہ: اور انہیں اﷲ کے دن یاد دلائو (سورۂ ابراہیم، آیت 5، پارہ 13)
اﷲ تعالیٰ کے دن سے مراد وہ ایام ہیں جن ایام میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام و اکرام کیا، یعنی جس دن کو اہل اﷲ سے نسبت ہوجائے، وہ ’’ایام اﷲ‘‘ بن جاتے ہیں۔
٭ سرور کونینﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
کی یاد منانے کا حکم دیا:
حدیث شریف: کان یوم عاشوراء تعدہ الیہود عیداً، قال النبیﷺ: فصوموہ انتم (بخاری، کتاب الصوم، حدیث 1901، جلد 2، ص 704)
ترجمہ: یوم عاشورہ کو یہود یوم عید شمار کرتے تھے، حضور اکرمﷺ نے (مسلمانوں کو حکم دیتے ہوئے) فرمایا تم ضرور اس دن روزہ رکھا کرو۔
٭ حضرت نوح علیہ السلام کی یاد:
حضرت امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ اس میں یوم عاشورہ منانے کا یہ پہلو بھی بیان ہوا کہ عاشورہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں پر اﷲ تعالیٰ کے فضل و انعام کا دن تھا۔ اس روز وہ بہ حفاظت جودی پہاڑ پر لنگر انداز ہوئے تھے۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت اس دن کو یوم تشکر کے طور پر منانے لگی، اور یہ دن بعد میں آنے والوں کے لئے باعث احترام بن گیا۔
٭ غلاف کعبہ کا دن حضورﷺ نے منایا:
حدیث شریف: کانوایصومون عاشوراء قبل ان یفرض رمضان، وکان یوما تسترفیہ الکعبۃ، فلما فرض اﷲ رمضان، قال رسول اﷲ ﷺ من شاء ان یصومہ فلیصمہہ، ومن شاء ان یترکہ فلیترکہ
(بخاری، کتاب الحج، حدیث 1515، جلد 2، ص 578)
ترجمہ: اہل عرب رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور (اس کی وجہ یہ ہے کہ) اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو ترک کرنا چاہے، وہ ترک کردے۔
امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ درج بالا حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فانہ یفید ان جاہلیۃ کانوا یعظمون الکعبۃ قدیما بالستورویقومون بہا
(فتح الباری، جلد 3، ص 455)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت سے ہی وہ کعبہ پر غلاف چڑھا کر اس کی تعظیم کرتے تھے اور یہ معمول وہ قائم رکھے ہوئے تھے۔
٭ جمعہ کا دن، ولادت آدم علیہ السلام کی یاد:
حدیث شریف: حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ سے فرمایا۔
ان من افضل ایامکم یوم الجمعۃ ، فیہ خلق آدم، وفیہ قبض، وفیہ النفخۃ، وفیہ الصعقۃ فاکثروا علی من الصلاۃ فیہ، فان صلاتکم معروضۃ علی
(ابو دائود،کتاب الصلاۃ، حدیث 1047، جلد اول، ص 275)
ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت ہوئی اور آپ کو لباس بشریت سے سرفراز کیا گیا) اس روز ان کی روح قبض کی گئی اور اسی روز صور پھونکا جائے گا۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
٭ ہر پیر کو روزہ رکھ کر رسول اﷲﷺ اپنی ولادت کی یاد مناتے تھے (مسلم شریف، جلد دوم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلثۃ ایام من کل شہر، حدیث 2646، ص 88، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
٭ بکرے ذبح کرکے رسول پاکﷺ نے اپنا میلاد منایا (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 64)
معلوم ہوا کہ یادگار منانا، اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ایام منانا جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔
گیارہویں شریف علمائے اُمّت کی نظر میں
٭ مرزا مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ کا نظریہ:
ملفوظات مرزا صاحب علیہ الرحمہ میں وہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں جوکہ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی تصنیف کلمات طیبات میں ہے کہ میں نے خواب میں ایک وسیع چبوترہ دیکھا جس میں بہت سے اولیاء حلقہ باندھ کر مراقبہ میں ہیں اوران کے درمیان حضرت خواجہ نقشبند علیہ الرحمہ دو زانو اور حضرت جنید علیہ الرحمہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہیں۔ استغناء ماسواء اﷲ اور کیفیات فنا آپ میں جلوہ نما ہیں۔ پھر یہ سب حضرات کھڑے ہوگئے اور چل دیئے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو ان میں سے کسی نے بتایا کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے جارہے ہیں۔ پس مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ ایک گلیمر پوش ہیں جو سر اور پائوں سے برہنہ ژولیدہ بال ہیں۔ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ نے ان کے ہاتھ کو نہایت عزت اور عظمت کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ خیر التابعین حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہ ہیں پھر ایک حجرہ ظاہر ہوا جب نہایت ہی صاف تھا اور اس پر نور کی بارش ہورہی تھی کہ یہ تمام باکمال بزرگ اس میں داخل ہوگئے۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ایک شخص نے کہا۔ آج غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا عرس ہے۔ عرس پاک کی تقریب پر تشریف لے گئے ہیں (کلمات طیبات فارسی، ص 77، مطبوعہ دہلی ہند)
٭ علامہ فیض عالم بن مُلَّا جیون علیہ الرحمہ
کا نظریہ
عاشورہ کے روز امامین شہیدین امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے لئے کھانا تیار کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی نیاز کا ثواب ان کی روح پرفتوح کو پہنچاتے ہیں اور اسی قسم میں گیارہویں کا کھانا ہے جوکہ غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا عرس مبارک ہے، دیگر مشائخ کا عرس سال کے بعد ہوتا ہے۔ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کا عرس ہر ماہ ہوتا ہے (بحوالہ: وجنیر القراط فارسی،ص 82)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا فتویٰ
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے فتاویٰ کی جلد اول کے صفحہ نمبر 71 پر فرماتے ہیں کہ نیاز کا وہ کھانا جس کا ثواب حضرت امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہم کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ، قل شریف اور درود شریف پڑھا جائے تو وہ کھانا برکت والا ہوجاتا ہے اور اس کا تناول کرنا بہت اچھا ہے۔
(بحوالہ: فتاویٰ عزیزی ، جلد اول، صفحہ 71)
معلوم ہوا کہ ایصال ثواب کرنے سے نہ صرف میت کو ثواب پہنچتا ہے بلکہ اس کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔
گیارہویں شریف صالحین کی نذر میں
1۔ سراج الہند محدث اعظم ہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے روضہ مبارک پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے، نماز عصر کے بعد مغرب تک قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے اردگرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذکر جہر کرتے، اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی، اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی، تقسیم کی جاتی اور نماز عشاء پڑھ کر لوگ رخصت ہوجاتے‘‘ (ملفوظات عزیزی، فارسی، مطبوعہ میرٹھ، یوپی بھارت ص 62)
2: گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں شریف کے متعلق فرماتے ہیں:
آپ  اپنی کتاب ’’ماثبت من السنہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میرے پیرومرشد حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مہاجر مکی علیہ الرحمہ 9 ربیع الآخرکو حضرت غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کو عرس کرتے تھے، بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہور ہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ میں متعارف ہے۔(ماثبت من السنہ از: شاہ عبدالحق محدث دہلوی، عربی، اردو مطبوعہ دہلی ص 167)
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی دوسری کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ امان اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ (المتوفی 997ھ) گیارہ ربیع الآخرکو حضرت غوث اعظم رضی اﷲعنہ کا عرس کرتے تھے۔
(اخبار الاخیار، از: محدث شاہ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمہ ص 498(اردو ترجمہ) مطبوعہ کراچی)
حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مکی علیہ الرحمہ، حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ، حضرت شیخ امان اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ یہ تمام بزرگ دین اسلام کے عالم فاضل تھے اور ان کا شمار صالحین میں ہوتا ہے، ان بزرگوں نے گیارہویں شریف کا ذکر کرکے کسی قسم کا شرک و بدعت کافتویٰ نہیں دیا۔
تمام دلائل و براہین سے معلوم ہوا کہ گیارہویں شریف کا انعقاد کرنا سلف وصالحین کا طریقہ ہے جوکہ باعث اجروثواب ہے۔

گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ’’ماثبت من السنہ‘‘ کے صفحہ نمبر 312 پر لکھتے ہیں کہ
غوث اعظم علیہ الرحمہ کی اولاد و مشائخ عظام مقیم ہند (وپاک) ہر سال غوث اعظم علیہ الرحمہ کا عرس مناتے تھے
(شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب عربی زبان میں ہے جس کا ترجمہ دیوبندی فرقے کے مولوی نے کیا
اور انہی کے ادارے دارالاشاعت کراچی نے شائع کیا

)
گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ’’ماثبت من السنہ‘‘
کے صفحہ نمبر 160,161پر لکھتے ہیں کہ غوث اعظم علیہ الرحمہ کی اولاد و مشائخ عظام مقیم ہند (وپاک)
ہر سال غوث اعظم علیہ الرحمہ کا عرس مناتے تھے
(شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب عربی زبان میں ہے جس کا اردو ترجمہ دیوبندی فرقے
کے مولوی نے کیا اور انہی کے ادارے دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی)

سوال: کیا نذر و نیاز کرنا جائز ہے، کیونکہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر اﷲ کی نذرونیاز کرنا ناجائز ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں؟
اﷲ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا، ان نعمتوں میں سے ایک نعمت حلال اور طیب رزق ہے، جسے رب کریم اپنے بندوں کو محنت کرکے حلال ذرائع سے حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بندے حرام سے بچ کر حلال طیب رزق حاصل کرکے اپنی زندگی گزاریں۔
انہی حلال و طیب رزق میں سے ایک بابرکت چیز نذرونیاز ہے جوکہ رب کریم کی بارگاہ میں پیش کرکے اس کا ثواب نیک و صالح مسلمانوں کو ایصال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس مضمون میں نذرونیاز کی حقیقت اور اسے حرام کہنے والوں کی اصلاح کی جائے گی۔
نذرونیاز کو حرام کہنے والے یہ آیت پیش کرتے ہیں۔
القرآن: انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر اﷲ O  (سورۂ بقرہ، رکوع 5، پارہ 2 ، آیت 173)
ترجمہ: درحقیقت (ہم نے) تم پر حرام کیا مردار اور خون سور کا گوشت اور جس پر اﷲ کے سوا (کسی اور کا نام) پکارا گیا ہو۔
القرآن: حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر ومااہل لغیر اﷲ بہ O (سورۂ مائدہ، رکوع 5، پارہ 6، آیت 3)
ترجمہ: حرام کردیا گیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔
ان آیات میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘
سے کیا مراد ہے:
1۔ تفسیر وسیط علامہ واحدی میں ہے کہ ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کا مطلب ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
2۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنے ترجمان القرآن میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ سے مراد لکھا ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
3۔ تفسیر روح البیان میں علامہ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمہ نے ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ سے مراد یہی لیا ہے کہ جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
4۔ تفسیر بیضاوی پارہ 2 رکوع نمبر 5 میں ہے کہ ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ جانور کے ذبح کے وقت بجائے خدا کے بت کا نام لیا جائے۔
5۔ تفسیر جلالین میں ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ وہ جانور جو غیر اﷲکے نام پر ذبح کیا گیا ہو، بلند آواز سے بتوں کا نام لے کر وہ حرام کیا گیا۔
ان تمام معتبر تفاسیر کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ یہ تمام آیات بتوں کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں، لہذا اسے مسلمانوں پر چسپا کرنا کھلی گمراہی ہے۔
مسلمانوں کا نذرونیاز کرنا
مسلمان اﷲ تعالیٰ کو اپنا خالق و مالک جانتے ہیں اور جانور ذبح کرنے سے پہلے ’’بسم اﷲ اﷲ اکبر‘‘ پڑھ کر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں پھر کھانا پکواکر اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے لہذا اس میں کوئی شک والی بات نہیں بلکہ اچھا اور جائز عمل ہے۔
ایصال ثواب کیلئے بزرگوں کی طرف منسوب کرنا
الحدیث: ترجمہ… سیدنا حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا یارسول اﷲﷺ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے کچھ خیرات اور صدقہ کروں۔ آپﷺ نے فرمایا!ہاں کیجئے، حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا۔ ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ’’پانی پلانا‘‘ تو ابھی تک مدینہ منورہ میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہ ہی کی سبیل ہے (بحوالہ: سنن نسائی جلد دوم، رقم الحدیث3698،ص 577، مطبوعہ فرید بک لاہور)
الحدیث: ترجمہ… محمد بن یحیی، عبدالرزاق ثوری، عبداﷲ بن محمد بن عقیل، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اﷲعنہا اور ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ حضورﷺ جب قربانی کا ارادہ کرتے تو دو مینڈھے خریدتے جو موٹے تازے سینگوں دار کالے اور سیاہ رنگ دار ہوتے۔ ایک اپنی امت کی جانب سے ذبح کرتے جو بھی اﷲ تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور رسول اﷲﷺ کی رسالت کا قائل ہو، اور دوسرا محمدﷺ اور آل محمدﷺ کی جانب سے ذبح فرماتے (بحوالہ: سنن ماجہ جلد دوم، ابواب الاضاحی، باب اضاحی رسول اﷲﷺ، رقم الحدیث 907، ص 263، مطبوعہ فرید بک لاہور)
الحدیث: سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریمﷺ نے ایسا مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی ٹانگیں، پشت اور آنکھیں سیاہ ہوں، اسے پیش کیا گیا تاکہ آپﷺ اس کی قربانی کریں۔ نبی اکرمﷺ نے سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا، اے عائشہ! چھری لائو، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرلو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ آپﷺ نے چھری پکڑی، مینڈھے کو پکڑ کر اسے لٹایا اور پھر اسے ذبح کردیا اور پڑھا بسم اﷲ! (پھر دعا کی) اے اﷲ! محمدﷺ آل محمدﷺ اور محمدﷺ کی امت کی جانب سے اسے قبول کر (سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں) پھر آپﷺ نے اس کی قربانی کردی (بحوالہ مسلم شریف جلد دوم، کتاب الاضاحی، رقم الحدیث 4976، ص 814، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
الحدیث: ترجمہ… حنش کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو عرض گزار ہوا، یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی، اپنی طرف سے قربانی کرنے کی۔ چنانچہ (ارشاد عالی کے تحت) ایک قربانی میں حضورﷺ کی طرف سے پیش کررہا ہوں۔
(بحوالہ: ابو دائود جلد دوم، کتاب الاضحایا، رقم الحدیث 1017، ص 391، مطبوعہ فرید بک لاہور)
فائدہ: ایصال ثواب دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو بزرگان دین کے لئے کیا جاتا ہے، دوسرا عام مسلمانوں کے لئے کیا جائے کہ دعائوں اور ایصال ثواب کے ذریعے ان کی نیکیوں میں اضافہ ہو اور ان کی اخروی زندگی سنور جائے۔ جبکہ بزرگان دین کے لئے ایصال ثواب کرنے کا یہ مقصد نہیں ہوتا بلکہ اس بزرگ سے اپنی نسبت ثابت کرنا زیادہ مقصود ہوتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کی طرح اس بات کے محتاج نہیں ہوتے کہ کوئی دعا اور ایصال ثواب کرکے ان کی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرے۔ نبی کریمﷺ کا حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو قربانی کی وصیت کرنا اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا نبی کریمﷺ کی طرف سے بھی قربانی کیا کرنا ایصال ثواب کی اسی پہلی قسم سے ہے۔ بعض حضرات جن کے دل مقربین بارگاہ الٰہیہ کی کدورت سے بھرے رہتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ بزرگوں کے لئے ایصال ثواب کرنے والے ان کو ’’اربابا من دون اﷲ‘‘ بنائے بیٹھے ہیں۔ ورنہ بزرگوں کو تو ثواب کی ضرورت نہیں اور یہ آئے دن بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ ایصال ثواب کے پردے میں بزرگوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ ایسی ذہنیت رکھنے والے خارجیت زدہ حضرات کو اس حدیث سے سبق حاصل کرنا چاہئے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی وصیت کیوں فرمائی تھی؟
الحدیث: ترجمہ… حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے سینگوں والے مینڈھے کے لئے حکم فرمایا جس کے سینگ سیاہ آنکھیں سیاہ اور جسمانی اعضا سیاہ ہوں۔ پس وہ لایا گیا تو اس کی قربانی دینے لگے۔ فرمایا کہ اے عائشہ! چھری تو لائو، پھر فرمایا کہ اسے پتھر پر تیز کرلینا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا تو مجھ سے لے لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے لگے تو کہا۔ اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اﷲ تعالیٰ! اسے قبول فرما محمدﷺ کی طرف سے آل محمدﷺ کی طرف سے اور امت محمدﷺ کی طرف سے پھر اس کی قربانی پیش کردی (بحوالہ: ابودائود جلد دوم، کتاب الاضحایا، رقم الحدیث 1019، ص 392، مطبوعہ فرید بک لاہور)
فائدہ: نبی کریمﷺ جانور کو ذبح کرتے وقت بھی آل محمدﷺ کی جانب منسوب فرمادیا کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرتے۔ معلوم ہوا کہ جو جانور اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو ثواب میں شریک کرنے یا ایصال ثواب کی غرض سے اﷲ والوں کی جانب منسوب کردینے سے ’’مااہل بہ لغیر اﷲ‘‘ میں شمار نہیں ہوتا۔ جو جانور بزرگوں کی جانب منسوب کیا جائے کہ ان کے لئے ایصال ثواب کرنا ہے اور اسے اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو اسے حرام اور مردار ٹھہرانے والے شریعت مطہرہ پر ظلم کرتے اور بزرگوں سے دشمنی رکھنے کا ثبوت دیتے ہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
الغرض کہ نام نذرونیاز کا ہے مگر درحقیقت ایصال ثواب ہی بنیاد ہے لہذا بدگمان لوگ اپنی بدگمانی دور کریں اور شریعت مطہرہ کو سمجھیں کیونکہ یہی اسلامی عقیدہ ہے۔
ختم قادریہ میں موجود بعض اشعار پر شیطانی وسوسہ
الحمدﷲ! ہمارے کثیر مسلمان اپنے گھروں میں اور مساجد میں ماہانہ ختم قادریہ شریف کا انعقاد کرتے ہیں جس میں درود غوثیہ، سورۂ الم نشرح، سورۂ یٰسین پڑھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ حضورﷺ اور حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کی ذات کو وسیلہ بناکر ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ ختم قادریہ شریف کی برکت سے اﷲ تعالیٰ درد مندوں، بے سہاروں اور دلی مرادیں مانگنے والوں کی بگڑی بنا دیتا ہے۔
ختم قادریہ شریف میں موجود بعض اشعار جن میں حضورﷺ اور حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ ان اشعار کو پڑھتے وقت شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ رسول پاکﷺ اور حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کرنا ناجائز ہے لہذا ہم نے اس کے مخصوص اشعار کا ترجمہ اور جن اشعار کے پڑھنے سے وسوسہ آتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت پیش کی جارہی ہے۔
یارسول اﷲﷺ انظر حالنا
اے اﷲ کے رسول ! ہماری حالت پر توجہ فرمایئے
یاحبیب اﷲ اسمع قالنا
اے اﷲ کے حبیب! ہماری عرض سماعت فرمایئے
اننی فی بحرہم مغرق
بے شک میں غموں (پریشانیوں کے) سمندر میں غرق ہوں
خذیدی سہل لنا اشکالنا
میرا ہاتھ پکڑیں اور ہماری مشکلات کو (باذن خداوندی) آسان فرمادیں۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کے سپہ سالار جلیل القدر صحابی حضرت خالد بن ولید اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضورﷺ کو براہ راست مدد کے لئے پکارا۔ چنانچہ منقول ہے۔
کان شعارہم یومئذ یامحمداہ
یعنی اس دن مسلمانوں کا طریقہ اور شعار حضورﷺ کو مدد کے لئے پکارنا تھا۔ (البدایہ والنہایہ، ج 6، ص 24، مطبوعہ بیروت، لبنان)
یاحبیبﷺ الالٰہ خذ بیدی
اے معبود برحق کے محبوب! میری دستگیری فرمائیں
مالعجزی سواک مستندی
میری کمزوری کا سہارا آپ کے سوا کوئی نہیں
٭ اس درود کو بطور وسیلہ پڑھتے ہوئے یہ تصور رکھیں کہ میں حضور اکرمﷺ کی جالیوں کے روبرو حاضر ہوں اور رسول اﷲﷺ کی نظر خاص کا طلب گار ہوں یقینا اﷲ تعالیٰ رسول اﷲﷺ کی نظر خاص کے ذریعے میری مشکلات کو آسان فرمادے گا۔
یاصدیق یا عمر یا عثمان یاحیدر
اے حضرت ابوبکر صدیق اے حضرت عمر فاروق اے حضرت عثمان غنی اے حیدر کرار
دفع شرکن خیراوریا شبیریا شبر
(اﷲ کی عطا سے) شر دور کریں اور بھلائی لائیں اے شبیر (امام حسین) اے شبر (امام حسن)
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
اذا اضل احدکم شیأ او اراد عوناً وہو بارض لیس بہا انیس فلیقل یاعباداﷲ اعینونی
(طبرانی، مصنف ابن ابی شیبہ، حصن حصین، ص 22)
ترجمہ: جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے یا وہ مدد حاصل کرنا چاہتا ہو اور ایسی جگہ میں ہو جہاں کوئی اس کا مونس و غمخوار نہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کہے
یاعباداﷲ اعینونی
اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو
نوٹ: اگر مدد مانگنا شرک ہوتا تو حضورﷺ اس کی ہرگز تعلیم نہ فرماتے۔ آیئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ادائوں کا حسین تصور قائم کرکے خیر کی خیرات طلب کرتے ہوئے پڑھیں۔ صحابہ علیہم الرضوان کی عظمت کے صدقے اﷲ تعالیٰ ہمیں دونوں جہاں کی خوشیوں سے مالا مال فرمادے۔
یا حضرت سلطان شیخ سید شاہ عبدالقادر جیلانی شیأ ﷲ المدد
اے حضرت بادشاہ شیخ سید عبدالقادر جیلانی اﷲ کے لئے کچھ عطا کیجئے اور مدد فرمایئے۔
صحابہ علیہم الرضوان کے زمانے میں ایک ایسا گروہ تھا جو کثرت سے قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا لیکن شرک کی حقیقت نہ سمجھنے کی بناء پر انہوں نے صحابہ کرام پر شرک کا الزام لگایا۔
حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما اس قوم کو سمجھانے کے لئے تشریف لے گئے۔ قرآن پڑھ کر سنایا مگر اس گروہ کے اکثر افراد نے آپ کی بات سمجھنے سے انکار کردیا۔ آخر کیوں؟
اس عنوان کو تفصیل سے جاننے کے لئے ’’قرآن کریم اور معیار ہدایت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں یا ’’شرک کی حقیقت‘‘ کیسٹ سماعت کریں۔
یاد رکھیں
اﷲ والوں سے مدد طلب کرنا درحقیقت انہیں وسیلہ بنانا ہے
قرآن پاک میں کئی مقامات پر بتوں کی مذمت کی گئی کہ ’’وہ نہ حاجت روا ہیں اور نہ ہی مشکل کشا ہیں‘‘
قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’صالح مومنین مددگار ہیں‘‘ (پارہ 28، سورۃ التحریم آیت 4)
ماہمہ محتاج تو حاجت روا
ہم سب محتاج ہیں اور آپ (اذن الٰہی سے) حاجتوں کو پورا کرنے والے ہیں
المدد یا غوث اعظم سیدا
اے غوث اعظم ! اے سردار! مدد فرمائیں
بخاری شریف حدیث قدسی
اﷲ عزوجل فرماتا ہے! جب میرا بندہ فرائض کی پابندی کے ساتھ نوافل پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے تو
فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ
میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کی شرح میں ہے:
سمع القریب والبعید قدر علی التصرف فی الصعب والسہل والبعید والقریب
یعنی: جب اﷲ تعالیٰ کے جلال کا نور اس کے کان ہوجاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی پکارسن لیتا ہے اور مشکل کو آسان کرنے پر قادر ہوجاتا ہے (تفسیر کبیر، ج 7، ص 436، مطبوعہ داراحیائ، التراث العربی، بیروت)
مشکلات بے عدد داریم ما
ہماری مشکلات بے شمار ہیں اے غوث اعظم
المدد یا غوث اعظم پیرما
(اے) ہمارے پیر! ہماری (باذن اﷲ) مدد فرمائیں
٭ ولی کامل امام نورالدین ابو الحسن علیہ الرحمہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف بہجۃ الاسرار میں حضور غوث پاک رضی اﷲ عنہ کا ارشاد تحریر کرتے ہیں
ومن نادانی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ
ترجمہ: جو کسی مصیبت میں میرا نام پکارے اس کی مصیبت دور کردی جائے گی۔
شارح بخاری علیہ الرحمہ تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابو علی نیشاپوری علیہ الرحمہ سخت ترین پریشانی میں مبتلا ہوئے تو حضورﷺ نے خواب میں بشارت دی کہ
سرالیٰ قبر یحیی بن یحیی واستغفر وسل تقص حاجتک فاصبحت فقعلت ذلک فقصیت حاجتی
ترجمہ: یحیی بن یحیی کی قبر پر حاضری دو اور استغفار کرو اور سوال کرو۔ تمہاری حاجت پوری کی جائے گی تو میں صبح اٹھا ۔ پس میں نے ایسا ہی کیا تو میری حاجت پوری کردی گئی (تہذیب التہذیب جلد 4، ص 398، مطبوعہ بیروت)
یا حضرت شیخ محی الدین مشکل کشا بالخیر
اے حضرت شیخ محی الدین مشکل کشائی فرمانے والے (باذن الٰہی) بھلائی عطا ہو۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے (پ 28، سورۃ التحریم، آیت 4)
فان اﷲ ہو مولٰہ وجبریل وصالح المومنین
ترجمہ: بے شک اﷲ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور صالح مومنین مددگار ہیں۔
غور فرمائیں۔ کیا اﷲ تعالیٰ کی مدد ناکافی ہے؟ جو جبریل امین علیہ السلام اور صالح مومنین کو مددگار کہا گیا؟

قطعاً ایسا نہیں۔ یقینا ذاتی و حقیقی مددگار اﷲ تعالیٰ ہے اور اسی کی عطاء و قدرت سے صالح مومنین مددگار ہیں۔
امداد کن امداد کن ازبند غم آزاد کن
مدد فرمائیں، مدد فرمائیں، غم کی قید سے آزاد کریں
دردین و دنیا شاد کن یا غوث اعظم دستگیر
دین و دنیا میں خوشی عطا کریں۔ اے غوث اعظم مدد فرمانے والے۔
علم مصطفیﷺ کی وسعتیں
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
٭ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مساجد میں دنیا کی باتیں ہوں گی (بیہقی)
٭ (میری امت) اپنے اعمال میں دکھلاوا (ریاکاری) کرے گی (مسند احمد)
٭ وانی واﷲ مااخاف علیکم ان تشکروا بعدی (بخاری ج 2، ص 975)
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ کی قسم! بے شک میرے بعد میری امت شرک میں مبتلا نہیں ہوگی۔
خوش بخت اور سعادت مند شخص وہ ہے جو فرمان مصطفیﷺ پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے شیطانی وسوسوں سے نجات حاصل کرتا ہے اور مسلمانوں کو مشرک (کافر) نہیں سمجھتا۔

Leave a Reply