حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی شخصیت کا اجمالی خاکہ

in Articles, Tahaffuz, June 2011, شخصیات, شیخ الحدیث اسماعیل ضیائی

اسم گرامی: آپ کا نام عبداﷲ، ابوبکر کنیت، عتیق، صدیق لقب ہے

نسب: ابوبکر بن ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعید بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نذاربن معد بن عدنان

آپ کے والد ماجد کی کنیت ابوقحافہ، نام عثمان تھا جبکہ والدہ ماجدہ کی کنیت ام الخیر، نام سلمیٰ ہے اور حضرت سلمیٰ ابو قحافہ عثمان رضی اﷲ عنہ کی چچا زاد تھیں۔

عتیق و صدیق لقب کی وجہ: عتیق کے معنی حسن و جمال و آزادی کے ہیں چونکہ آپ حسین و جمیل تھے۔ اس لئے آپ کا لقب عتیق پڑگیا۔ اس کی وجہ سے کہ آپ بری عادتوں سے عاری تھے اس لئے عتیق کہلائے یا اس کے معنی شریف کے ہیں چونکہ آپ میں شرافت عالیہ پائی جاتی تھیں۔ اس لئے عتیق کہلائے کہ ایک بار آپ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا ’’انت عتیق من النار‘‘ صدیق صدق سے نکلا ہے جس کے معنی سچائی کے ہیں چونکہ آپ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ اس لئے آپ کو صدیق کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے یا اس وجہ سے کہ معراج شریف کی سب سے پہلے آپ نے تصدیق فرمائی۔ اس وقت سے صدیق کہلائے۔

آپ کی اولاد و ازواج: آپ کی چار ازواج تھیں۔ قتیلہ، ام رومان، اسماء بن عمیس اور حبیبہ بنت خارجہ رضی اﷲ عنہن

اولاد: تین لڑکے، تین لڑکیاں… عبدالرحمن، عبداﷲ، محمد، اسمائ، عائشہ اور ام کلثوم رضی اﷲ عنہم

ام رومان کا وصال 6ھ میں ہوا۔ اس کے بعد اسماء بنت عمیس سابقہ اہلیہ جعفر طیار برادر حضرت علی رضی اﷲ عنہ بعد شہادت حضرت جعفر سے 8ھ میں نکاح فرمایا۔

حبیبہ بنت خارجہ سے ان کے بعد نکاح کیا۔ ان کے بطن سے ام کلثوم بعد وصال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پیدا ہوئیں۔ آپ کے وصال کے وقت حبیبہ بنت خارجہ حمل سے تھیں۔

سب سے بڑی صاحبزادی اسماء ہیں جن کو ذات النطاقین کا لقب ملا۔ حضرت اسماء نے بھی بہت تکلیف سے زندگی گزاری۔ ان کا عقد حضرت زبیر بن عوام سے ہوا۔ ان کے صاحبزادے عبداﷲ ہیں جو مہاجرین کی مدینہ شریف آمد کے بعد اول المولد المہاجرین ہیں اورصحابی ہیں۔

عبدالرحمن سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔ جنگ بدر میں قریش مکہ کی جانب سے لڑنے آئے تھے۔ بعد میں اسلام لائے۔ آپ نے اپنے والد حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ آپ دوران جنگ کئی بار میرے زد میں آئے لیکن میں نے نظرانداز کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا غیرت ایمانی دیکھیں! آپ نے فرمایا کہ اگر تو میری زد میں ایک بار بھی آتا تو میں نہ چھوڑتا۔ عبدالرحمن کا 53ھ میں وصال ہوا۔ حضرت عبداﷲ بن ابی بکر غزوہ طائف میں شریک ہوئے اور زخمی ہوگئے اور اسی میں 11ھ کو وصال ہوگیا۔ دو صاحبزادوں سے آپ کا نسب چلا اور حضرت عبداﷲ سے نہ چلا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت کلاب میں جاکر سرکار دوعالمﷺ کے نسب نامہ سے مل جاتا ہے۔

شرف صحابیت: حضرت ابوبکر صدیق ان برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں جن کی چار پشتوں کو صحابیت کا شرف حاصل ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر ان کے والد ماجد حضرت عثمان، عبدالرحمن بن ابوبکر اور ان کے صاحبزادے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے والد ماجد فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور آپ کے وصال کے بعد بھی زندہ رہے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں 14ھ میں وصال فرمایا۔

پیدائش: واقعہ فیل کے دو سال چار ماہ بعد 573ھ میں پیدا ہوئے۔ یعنی رسول مقبولﷺ کی ولادت کے دو سال دو ماہ بعد آپ کی ولادت مکہ شریف میں ہوئی۔ وہیں پرورش پائی اور زندگی کے پچاس سال وہیں گزارے۔ سوائے تجارت کے مکہ شریف سے کبھی باہر نہ نکلے۔

حلیہ مبارک: سیدنا ابوبکر صدیق کا رنگ گورا، بلند پیشانی آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں، بدر چھریرا رخسار اندر کو دبے ہوئے، آپ آنکھیں نیچی رکھا کرتے، آپ کی داڑھی گھنی اور سفید، مہندی لگایا کرتے۔

مرتبہ: آپ زمانہ جاہلیت میں بھی معزز اور قریش کے سرداروں میں تھے۔ آپ بہت بڑے تاجر تھے اور معاشرے میں ذکی، فہم شعار تھے۔ صدق و عفت میں شہرت تھی۔ قبل اعلان نبوت آپ سرکار دوعالمﷺ دوست و بہی خواہ تھے۔ ورقہ بن نوافل اور دیگر راہبوں سے سرکار دوعالمﷺ میں علامت نبوت کا علم حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو پہلے سے ہی ہوگیا تھا۔ اعلان نبوت کے منتظر تھے کہ بعد اعلان فورا ایمان لائیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا جوں ہی نبی معبوث نے اعلان کیا۔ آگے بڑھتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ کسی کی مخالفت کو خاطر میں نہ لائے اور ہر طرح کی تکالیف کو جھیلا ، برداشت کیا۔

کفار قریش کی ایذا رسانی: کفار مسلمان غلاموں کو تو طرح طرح کی ایذا دیا ہی کرتے تھے، مگر چونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی رہی اور بہت سے حضرت صدیق رضی اﷲ عنہ کی تحریک سے بھی اسلام لائے تھے تو قریش نے حضرت صدیق کو بھی تکالیف دینا شروع کردیں تھیں۔

ہجرت حبشہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اورآپ یمن کے راستے سے حبشہ کی جانب روانہ ہوئے۔ برک الغماد پہنچے ہی تھے (یہ مکہ سے یمن کی جانب پانچ دن کی مسافت پر ہے) کہ ابن دغنہ یعنی حارث بن زید قارہ قبیلہ کے سردار سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا … اے ابوبکر! کہاں؟ آپ نے جواب دیا کہ میری قوم مجھے رہنے نہیں دیتی۔ میں چاہتا ہوں کہ وطن چھوڑ کر کہیں الگ عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا، یہ نہیں ہوسکتا۔ تم جیسا نہ نکلے، نہ نکالا جاسکتا ہے، اس کے اصرار پر واپس آئے۔

ابن دغنہ نے سرداران قریش سے بات کی اور آپ دوبارہ مکہ میں رہنے لگے۔ عبادت الٰہی، تلاوت قرآن پاک کیا کرتے، بالآخر اعلانیہ عبادت و تلاوت کی وجہ سے پھر تکالیف شروع ہوگئیں۔

ہجرت مدینہ: ابن دغنہ نے آپ کوپناہ دی تھی۔ قریش کی شکایات پر اسے واپس لے لیا۔ اب آپ پر دوبارہ ظلم و ستم شروع ہوگیا تو آپ نے رسول اﷲﷺ سے مدینہ شریف کی ہجرت چاہی۔ آپ نے فرمایا اے ابوبکر جلدی نہ کیجئے، صبر کیجئے۔ کیا عجب کہ اﷲ تعالیٰ کسی اور بندہ کو آپ کے ساتھ کردے اور وہ آپ کے سفر کا ساتھی ہوجائے۔ آپ نے یہ جواب سن کر سفر کا ارادہ ترک کردیا اور مکہ میں رہ کر تکالیف برداشت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سرکار مدینہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہجرت کی اجازت من جانب اﷲ ملی توآپ کے ہمراہی سفر کیا۔ حضرت ابوبکر نے پہلے ہی دو اونٹنیاں تیار کررکھی تھیں۔ ایک اونٹنی سرکار کو پیش کی لیکن سرکار عالمﷺ نے اس کی قیمت دی، سفر شروع کردیا۔ غار ثور میں تین دن قیام کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پور اراستہ آنحضورﷺ کی خدمت کرتے رہے حتی کہ مدینہ پہنچ گئے۔ جہاں رسول اﷲﷺ کا لوگوں اور مدینہ شریف کی بچیوں نے ان اشعار کے ساتھ استقبال کیا۔

طلع البدر علینا… من ثنیات الوداع

وجب الشکر علینا… مادعا ﷲ داع

ایھا المبعوث فینا… جئت بالامر لمطاع

نحن جوار من بنی نجار… یاحبذا محمد من جار

مدینہ شریف پہنچ کر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں رہے اور غزوۂ بدر اسلام کی پہلی جنگ سے لے کر آخری جنگ غزوۂ تبوک تک جنگوں میں شریک رہے۔ 9ھ میں رسول اﷲﷺ نے آپ کو امیر حج بنایا اور خطبہ حج آپ ہی نے پڑھا۔

11ھ پیر 8 جون 632ء کو جہان فانی سے رسول خداﷺ نے پردہ فرمایا۔ اب مہاجر و انصار میں جان نشینی کے مسئلہ پر کچھ اضطراب تھا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کرلی اور تمام مہاجرین اور انصار نے بھی بیعت کرلی۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بروایت حاشیہ بخاری شریف تین روز کے بعد بیت کرلی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نہایت دانش مندی سے الجھن کو سدھارا اور خلیفہ بننے کے بعد طرح طرح کے پیش آمدہ مسائل کو نہایت حسن و خوبی سے نمٹایا اور جو فتنے اٹھے، اس کی سرکوبی کی۔ جمع قرآن کی ابتدائ، بمشورہ خلیفہ دوئم آپ ہی نے کی۔ آپ 13ھ جمادی الاخر میں دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے رحلت سے قبل اکابرین صحابہ کے مشورے کے بعد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔

فضائل و کارنامے: آپ انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل البشر ہیں۔ آپ سے 142 احادیث مروی ہیں۔ آپ کی فضیلت میں بے شمار احادیث مبارکہ وارد ہیں۔ آپ نے دو سال تین ماہ خلافت ادا فرماکر بے شمار عظیم کارنامے انجام دیئے۔ عدل و انصاف آپ کا معمول تھا۔ امت مسلمہ کو عظیم فتنہ و فساد سے نجات دی۔ مانعین زکوٰۃ کا قلع قمع کیا۔ شعائر اسلام کو زندہ کیا۔ جھوٹے مدعیان نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔

1: رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ’’میں ہرخل (دوست) سے بری ہوں، اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، بلاشبہ تمہارے صاحب (یعنی نبی اکرمﷺ) اﷲ تعالیٰ کے خلیل ہیں۔

2: مجھے کسی کے مال نے نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے مال سے نفع دیا۔

3: حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہیں۔ ہر اولین اور آخرین سے سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔ اے علی! جب تک وہ زندہ ہیں کسی کو خبر نہ دینا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے فضائل سے کتب بھری ہوئی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ان کے دامن سے وابستہ رکھے اور ان کے طفیل ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین