ایک سخت سرد رات میں خلیفۂ وقت اسلم نامی اپنے خادم خاص کے ساتھ رعایا کی خبرگیری کی خاطر معمول کا گشت کررہے تھے کہ اچانک دور ایک جگہ آگ جلتی دیکھ کر اس طرف چل پڑے ، قریب جاکر دیکھا تو وہ ایک ٹوٹا پھوٹا گھر تھا جہاں ایک خاتون نے چولھے پر ہنڈیا چڑھا رکھی تھی جیسے کھانا پکا رہی ہو اورقریب ہی اس کے بچے رو رہے تھے ۔خلیفہ نے سلام کیا اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی ۔اجازت ملنے پر گھر میں داخل ہوکرپوچھا :تم کون ہواور یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟جواب دیا: اسی شہر کی ہوں اور بچے شدید بھوک کے سبب رو رہے ہیں۔‘‘پھر پوچھا: ہنڈیا میں کیا ہے ؟ عورت جو خلیفہ سے ناواقف تھی ،نے کہا:مجھ غریب کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لئے کچھ نہیں، بس ان کا دل بہلانے کے لیے آگ پرپانی چڑھا رکھا ہے تاکہ کھانا پکنے کے انتظار میں بچے سوجائیں جبکہ امیر المومنین کو ہماری کوئی خبر نہیں، ہم ان کے محکوم ہیں، ان کا حق بنتا ہے کہ ہمارا خیال رکھیں، خیر کوئی بات نہیں یہ وقت توکسی طرح گزر ہی جائے گامگر کل قیامت میں امیر المومنین اور ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ فرمائے گااور آخرت کی پکڑ بہت سخت ہے۔‘‘خلیفہ اس کی بات پر رونے لگے اور اس سے فرمایا:اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، تمہاری مصیبتیں دور فرمائے مگر امیر المومنین کو کیا خبرکہ تم یہاں اس حال میں ہو؟ خاتون نے سوالیہ انداز میں کہا:وہ ہمارا حاکم ہوکر ہم سے غافل ہے؟ اسے معلوم ہی نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟خلیفہ گھر سے باہر آگئے اور خادم کو ساتھ لے کرسیدھے بیت المال پہنچے اور غلے کے گودام سے آٹا،کھجوریں، کچھ رقم اورکھانا پکانے کی ضروری اشیاء جمع کیں اور خادم سے فرمایا:اسلم!یہ میری پیٹھ پر لاد دو۔خادم نے عرض کی:مجھے حکم فرمائیں ،میں اٹھا لیتا ہوں ۔انہوں نے فرمایا:آج دنیا میں تم میرابوجھ اٹھاکر میری تکلیف برداشت کرلوگے مگرکل قیامت میںجب کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی کیا اُس دن بھی تم میرا بوجھ اٹھالوگے ؟یہ سن کر خادم نے سارا سامان خلیفہ کی پیٹھ پرلاد دیا۔وہ سامان لے کر اس خاتون کے گھر پہنچ گئے  پھرخلیفہ نے خود آگ جلائی اور اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کیا۔پھر ایک بڑے پیالے میں ڈال کر اسے ٹھنڈا کیا اوربچوں کو قریب بٹھاکے اپنے ہاتھوں سے کھلایا ۔ پیٹ بھرنے پر بچے خوش ہو گئے،خلیفہ نے بچوں کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیلنا شروع کردیااوروہ کھیلتے کھیلتے سوگئے۔انہوں نے باقی کھانا خاتون کے سپردکیا تو وہ کہنے لگی:’’ تم اتنے شفیق اور رحم دل ہو، اس مصیبت کی گھڑی میں تم نے ہماری مدد کی، میرے روتے ہوئے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کے موتی بکھیرے، میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں؟اللہ عزوجل ہی تمہیں اس کی بہتر جزا عطا فرمائے گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم ہی امیر المومنین بننے کے حق دار ہو۔‘‘خلیفہ نے کہا:تم نے جیسا کہا ایسا با لکل بھی نہیں، میں اور امیر المومنین بننے کا حقدار!یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، ہاں ایک بات ہے اگر تم کبھی  امیرالمومنین کے پاس آؤ گی تو مجھے وہاں ضرور دیکھو گی۔‘‘پھرخلیفہ اپنے خادم سے کہنے لگے :’’ اسلم!بھوک بچوں کو جگا کر رُلارہی تھی۔ انہیں دیکھ کر مجھے اپنے بچے یاد آگئے اور میں نے تہیہ کرلیا کہ جب تک ان بچوں کی بھوک کو شکم سیری ، رونے کو ہنسنے اور غم کو خوشی میں نہ بدل دوں تب تک چین سے نہ بیٹھوں گا اور نہ ہی واپس گھر جاوں گا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔‘‘پھر دونوں واپس اپنے گھر آگئے۔
(کنزالعمال، ج۶، ص۲۸۹،الحدیث:۳۵۹۷۳۔الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۴۵۳)
قارئیں! یہ خلیفہ کوئی اور نہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ٔ راشد امیرالمومنین حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ تھے… غور کیجئے کہ۲۵لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے خلیفہ کی زندگی کے اس ایک واقعہ میںآپ کی سیرت وکردارکے کتنے خوشنما گوشے اپنی خوشبو سے مشام جان کو معطر کر رہے ہیں۔صرف یہ ایک واقعہ آپ کے اخلاق حسنہ،رعایا کی نگہبانی ودیکھ بھال، یتیموں پر شفقت ،غمزدوں کی غم گساری،غریبوں پر رحم،ناداروں کی دلجوئی،بے سہاروں کے ساتھ ہمدردی،عاجزی وانکساری،زہد وتقوی،خشیتِ الہٰی ،اطاعتِ الہٰی ،اتباعِ رسول،احساسِ ذمہ داری،بیت المال سے حق دار کی خیر خواہی،یادِ آخرت وغیرہ صفاتِ عالیہ پر شاہد عدل ہے ۔
نام،نسب ،کنیت،ولادت :
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کا نام نامی اسم گرامی’’ عمر بن خطاب‘‘ ہے،دورجاہلیت اور اسلام دونوں میں آپ کا نام عمر ہی رہا ،عمر کا معنی ہے’’ آباد کرنے ‘‘یا ’’آباد رکھنے والا‘‘۔چونکہ آپ کے سبب اسلام کو آباد ہونا تھا لہٰذا پہلے ہی سے یہ نام عطا کردیا گیا نیزآپ کا عہد خلافت چونکہ اِسلام کی آبادی کا زمانہ ہے اس لحاظ سے بھی آپ اسم بامسمی ہوئے۔(مرآۃ المناجیح، ج۸، ص۳۶۰، ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۷۲ماخوذا)…آپ کا نسب کچھ یوں ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبد اللہ بن قُرْطْ بن رَزَاح بن عدی بن کعب بن لوی قرشی عدوی …نویں پشت میں کعب بن لوی پر جاکر آپ کا نسب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب شریف سے جا ملتا ہے…آپ کی والدہ کا پورانام حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر مخزوم ہے۔(اسد الغابہ،ج۴، ص۱۵۶) …آپ کی کنیت ’’ابو حفص ‘‘ہے اور یہ کنیت میدانِ بدر میں بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئی(مستدرک ، ج۴، ص۲۳۹،الحدیث:۵۰۴۲ ) …آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ یوں آپ کی تاریخ ولادت۵۸۳ عیسوی تقریباً ۴۱سال قبل ہجرت ہے۔(اسد الغابۃ، ج۴، ص۱۵۷)… حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  قبیلہ عدی بن کعب سے تعلق رکھتے تھے ، آپ کے قبیلے والے علم وحکمت و دور اندیشی میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کی کہ سفارت کاری اور عدالت جیسے انتہائی اہم عہدے آپ کے سپرد تھے ۔ (اخبار مکۃ للازرقی، ج۲، ص۲۵۸۔ ریاض النضرۃ، ج۲، ص۳۳۷)
فاروقِ اعظم کے القابات:
(1) فاروق :حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے عرض کی گئی کہ’’ہمیں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ بتائیے‘‘  تو ارشاد فرمایا: حضرت عمر   وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے لقب’’فاروق‘‘ عطا فرمایا کیونکہ آپ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا۔(تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۵۰) …حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی :حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟ انہوں نے ارشادفرمایا:حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔(اسد الغابۃ ج۴، ص۱۶۲)…ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا:’’زمین میں ان کا نام’’ عمر ‘‘اور آسمانوں میں’’ فاروق ‘‘ ہے۔ (ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۷۳)…اور ایک روایت کے مطابق آپ جب اسلام لائے تو بارگاہِ رسالت میں عرض کی :اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے اور پھر تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی توحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ’’فاروق‘‘کا لقب عطا فرمایا۔(تاریخ الخلفائ،ص۹۰)
(2)مُحَدَّث :یہ اس شخص کو کہتے ہیں جسے صحیح اور درست بات کا الہام ہو یعنی باری تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ملے ،وہ جب بھی کچھ کہے تو حق کے موافق ہو ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کوبارگاہِ الہٰی سے یہ مرتبہ وشرف بھی حاصل تھاجیساکہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:پچھلی اُمتوں میں کچھ لوگ مُحَدَّث ہوتے تھے، اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہے تو بے شک وہ عمر بن خطاب ہے۔(صحیح بخاری،ج۲،ص۵۲۷، الحدیث:۳۶۸۹) …محدَّث کے مختلف معانی بیان کرتے ہوئے شارحِ صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی صاحب اطال اللہ عمرہ فرماتے ہیں:مفہوم محدَّث کے بارے میں اہل علم کے متعدد اقوال ملتے ہیں ۔بعض نے کہا محدَّث صاحب ِالہام کو کہتے ہیں ۔تورپشتی نے کہا محدث وہ شخص ہے جس کی رائے صائب اور ظن صادق ہو۔ابو احمد عسکری نے کہا،جس کے قلب پر ملاء اعلیٰ کا فیضان ہو اسے محدَّث کہتے ہیں۔بعض نے کہا جس کی زبان ہمیشہ نطق بالصواب کرتی ہو وہ محدَّث ہے۔ ابن التین نے کہا محدَّث صاحبِ فراست ہوتا ہے ۔حضرت عائشہ نے فرمایا:ملہم بالصواب کو محدَّث کہتے ہیں ۔ابن حجر عسقلانی نے ایک مرفوع روایت سے بتایا محدث کی زبان پر ملائکہ کلام کرتے ہیں ،ملاعلی قاری نے کہا:محدَّث سے مراد وہ شخص ہے جو کثرتِ الہام کے سبب درجہ انبیاء سے واصل ہو۔ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ’’ محدَّث کے قلب ونظر پر ملاء اعلی کا فیضان ہوتا ہے ۔اس کا اجتہاد صحیح اور اس کا کلام صائب اور ربانی تائید سے مؤید ہوتا ہے۔(مقالاتِ سعیدی،۲۰۰)
(3)امیر المومنین : ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے فرمایاکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو تو خلیفہ رسول اللہ کہاجاتا تھا جبکہ مجھے یہ نہیں کہاجاسکتا کیونکہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا خلیفہ ہوں اوراگر یہ کہا جائے ’’خلیفہ خلیفہ رسول اللہ‘‘ تو بات لمبی ہوجائے گی۔اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ  نے کہا : آپ ہمارے امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں تو آپ ہوئے’’ امیر المومنین‘‘۔آپ نے فرمایا:یہ ٹھیک ہے۔(الاستیعاب ، ج۳، ص۲۳۹) جبکہ’’اسدالغابہ ، ج۴، ص۱۸۱‘‘پر مرقوم ہے کہ’’ سب سے پہلے یہ لقب لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہما نے تجویز کیا۔‘‘
مذکورہ القابات کے علاوہ بھی آپ کو ان القابات سے یاد کیا گیا ہے (4)متمم الاربعین(5)اعدل الاصحاب(6)امام العادلین(7)غیظ المنافقین (8)مرادرسول(9)مفتاح الاسلام(10)شہیدالمحراب(11)شیخ الاسلام…اورمجدداعظم سیدی اعلی حضرت امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے یہ القابات بھی استعمال فرمائے:(12)اسلام کی عزت(13)اسلام کی شوکت(14)اسلام کی قوت(15)اسلام کی دولت (16)اسلام کے تاج(17)اسلام کی معراج (18) اسلام اور مسلمانوں کی عزت۔ (فتاویٰ رضویہ، ج۲۲، ص۲۴۳۔۴۰۴، ج۱۰، ص۷۶۷، ج۱۵، ص۵۷۵) … اور امیر اہلسنّت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے رسالے ’’کراماتِ فاروق اعظم ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ،کراچی )میں آپ رضی اللہ عنہ  کے چالیسویںنمبرپراسلام قبول کرنے کی نسبت سے چالیس القابات ذکرکئے ہیں ۔
قرآن کریم اور فاروق اعظم:
قرآن کریم میں بہت سی آیات طیبہ ہیں جو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کے بارے میں نازل ہوئیں اورآپ کی شان وعظمت پر دلالت کرتی ہیں ۔ (1)آپ نے جب اسلام قبول کیا اور اہل حق کی تعداد چالیس ہوگئی تو سورہ انفال کی آیت ۶۴نازل ہوئی۔(معجم کبیر،ج۱۲، ص۴۷،حدیث:۱۲۴۷۰)(2) ازواجِ مطہرات کے متعلق طلاق کی غلط خبر مشہور ہوئی تو آپ نے بارگاہِ رسالت میں رجوع کیا او ر حقیقتِ حال دریافت کرکے مسجد نبوی میں اس کااعلان کردیا تو سورۂ نساء کی آیت نمبر۸۳نازل ہوئی۔(مسلم ،ص۷۸۴، حدیث:۳۰)(3)سورۂ تحریم کی آیت نمبر۴ میں آپ کو ’’صالح المومنین یعنی نیک ایمان والے‘‘کہا گیا۔ (درمنثور، ج۸، ص۲۲۳)(4)ایک کافر نے آپ کے ساتھ بیہودگی کی تو سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۵۳ میں آپ کو صبر ومعاف فرمانے کی تلقین کی گئی۔ (خازن،ج۳،ص۱۷۷)(5)اسی طرح ایک دوسرے موقع پرسورۂ جاثیہ کی آیت نمبر۱۴میں بھی آپ کو درگزرکرنے کا حکم ہوا۔(الکشف والبیان،ج۸،ص۳۵۹) (6)سورۂ سجدہ کی آیت نمبر۱۸ میں آپ کے ایمان کو بیان کیا گیا۔(زادالمسیر،ج۵،ص۱۱۷)(7)جنگ بدر میں آپ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا توسورۂ مجادلہ کی آیت نمبر۲۲ میں آپ کے دشمنانِ خداورسول سے دوستی نہ کرنے کی گواہی دی گئی۔ (خازن،ج۴،ص۲۴۳)(8)سورہ ٔ ال عمران کی آیت نمبر۱۵۹ میں آپ کے مشیر رسول ہونے کا بیان ہے۔(درمنثور،ج۲،ص۳۵۹)(9) آپ نے بارگاہِ رسالت میں آواز کوانتہائی پست رکھ کراس بارگاہِ عرش نشان کاانتہائی ادب کیا تو سورۂ حجرات کی آیت نمبر ۳ نازل ہوئی اور آپ کے باطنی تقوی کو بیان کیا گیا۔(البحر المحیط،ج۸، ص۱۰۶)اس کے علاوہ بھی آیات مقدسہ ہیں جو آپ کے حق میں نازل ہوئیں،تفصیل کے لئے تفاسیر کی طرف مراجعت کیجئے۔
قرآنی آیات اور موافقتِ فاروق اعظم:
قرآن کی بعض آیات طیبہ وہ ہیں جوحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کی رائے کے موافق نازل ہوئیں یعنی آپ نے بارگاہِ رسالت میں کوئی رائے پیش کی تو اسی کے مطابق وموافق قرآنی آیت نازل ہوگئی،جیساکہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا:’’قرآن کریم کے بعض احکام حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کی رائے کے موافق ہیں۔‘‘(سیرۃ حلبیۃ،ج۱،ص۴۷۴)قرآن کریم میں ایسی آیات کی تعدادبقول ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ پندرہ ہے اور امام ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ان کی تعدادسترہ ہے جبکہ علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تتبع کرکے ان کا عدد بیس تک پہنچادیا ہے۔(ماخوذ از مقالاتِ سعیدی، ص۲۰۰)یہاں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:(1)حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی :یارسول اللہ!اگر ہم مقامِ ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیں تو کیسا رہے گا؟تواللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۱۲۵ نازل فرما کر مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانے کا حکم فرمادیا۔(بخاری، ج۱، ص۱۵۸،الحدیث:۴۰۲) (2)آپ نے بارگاہِ نبوت میں عرض کی :آپ کے ہاں نیک وبدہر قسم کے لوگوں کا آناجانا لگا رہتا ہے لہٰذا ازواجِ مطہرات کو پردے کا حکم دیجئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ  کی موافقت میں سورۂ احزاب کی آیت نمبر۶۹ نازل فرمادی۔(بخاری، ج۳، ص۳۰۴،الحدیث:۴۷۹۰) (3)اسیرانِ غزوہ بدر کے متعلق آپ نے رائے دی کہ یہ کفر کے سرغنہ اور سرپرست ہیں ،لہٰذا ان کی گردنیں اڑادی جائیں تو اللہ عزوجل نے اسی کے موافق سورۂ انفال کی آیت نمبر۶۷ نازل فرمائی۔(مسلم، ص۹۷۰، حدیث:۱۷۶۳) (4)تخلیق انسانی کے مراحل پر مشتمل سورہ ٔ مومنون کی آیت ۱۲تا ۱۴ سن کر آپ کے منہ سے نکلا ’’فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ‘‘تو یہی الفاظ نازل ہوگئے اور حضورنبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’اے عمر!اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!یہ آیت تو انہی الفاظ کے ساتھ مکمل ہوئی جوتم نے کہے ۔‘‘ (درمنثور،ج۶،ص۹۲)
احادیث کریمہ اور فاروق اعظم:
بقول امام نووی علیہ الرحمہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  سے ۵۳۹احادیث مبارکہ مروی ہیں (تہذیب الاسمائ،ج۲،ص۳۲۵) اوربخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث شریف ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات یعنی اعمال کا مدار نیتوں پر ہے‘‘(صحیح بخاری، ج۱، ص۵،الحدیث:۱) بھی آپ ہی سے مروی ہے ۔ یہ تو وہ احادیث ہیں جو آپ سے مروی ہیں جبکہ خود آپ کی فضیلت وشان پربے شمار فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں جن میں سے بعض ذکر کئے جاتے ہیں:
(1)…ارشادفرمایا:’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔‘‘(سنن ترمذی ، ج۵، ص۳۸۵، حدیث:۳۸۰۶)
(2)…ارشادفرمایا:’’عمر سے بہتر کسی انسان پر آج تک سورج طلوع نہیں ہوا۔‘‘(سنن ترمذی ، ج۵، ص۳۸۴،الحدیث:۳۷۰۴)
(3)…ارشادفرمایا:’’جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘(الشفا،ج۲،ص۵۴)
(4)…ارشادفرمایا:’’ اللہ عزوجل عمر پر رحم فرمائے کہ وہ حق ہی کہتے ہیں اگرچہ کڑوا ہو۔‘‘(سنن ترمذی ، ج۵، ص۳۹۸،الحدیث:۳۷۳۴)
(5)…ارشادفرمایا:’’اے عمر! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں،میرے بعد حق تمہارے ساتھ ہوگا۔‘‘( ریاض النضرۃ ،ج۲، ص۲۹۸)
(6)…ارشادفرمایا:’’اے عمر !جس راستے پر تم چلتے ہوشیطان اس راستے کو چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری، ج۲، ص۵۲۶، الحدیث:۳۶۸۳)
(7)…ارشادفرمایا:’’جس سے عمر ناراض ہوجائے اس سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوجاتا ہے۔‘‘(جمع الجوامع،ج۱،ص۸۳، الحدیث:۴۳۴)
فاروق اعظم کا عشق رسول:
امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’موافق چیز کی طر ف نفس کے مائل ہونے کومحبت کہتے ہیں اورجب اس میلان میں شدت آجائے تو اسے عشق سے تعبیر کرتے ہیں۔(احیاء العلوم،ج۴،ص۳۰۶۵)…جب ہم عشق کی اس تعریف پر غور کرتے ہیں اور دوسری طرف حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہیں تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ آپ سرتاپا عشق رسول کا نمونہ تھے…وقت کے عظیم خلیفہ کا اینٹوں سے بنا ہواکوئی محل نہیں تھامگر جہاں رہتے تھے ہمہ وقت عشق رسول کے محل میں رہتے تھے،عشق رسول کا غلبہ ہی تھا کہ جب امام الانبیا،خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ظاہری ہواتو آپ رضی اللہ عنہ  تلوار لے کر کھڑے ہوگئے اور کہا:اگر کسی نے یہ کہا کہ’’ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماگئے ہیں ‘‘ تومیں اس کی گردن اڑادوں گا۔(مدارج النبوت،ج۲،ص۴۳۲) آپ ایسے زبردست عاشق رسول تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکو اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب سمجھتے۔(صحیح بخاری، ج۴، ص۲۸۳،الحدیث:۶۶۳۲) حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر آتا تو رونے لگتے۔(جمع الجوامع،ج۱۰،ص۱۶، الحدیث:۳۳)خود کو حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام اور خادم کہتے۔ (مستدرک،ج۱،ص۳۳۲، الرقم:۴۴۵)تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اونچی آواز کے ساتھ بات نہ کرتے۔(البحر المحیط،ج۸، ص۱۰۶)اگر کسی سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذراسی بھی گستاخی محسوس کرتے فوراًجلال میں آجاتے ۔(معجم صغیر،ج۲،ص۹۸،الحدیث:۱۰۴۲) حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند کو اپنی پسند قرار دیتے ۔(صحیح مسلم، ص۱۱۴۹، الحدیث:۲۰۷۰)اتباعِ رسول میں زندگی بھر تکالیف برداشت کرنے کا عہد کررکھا تھا۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج۷، ص۱۳۰، الحدیث:۳۳)سنت رسول پر ہمیشہ ثابت قدم رہے۔(ریاض النضرۃ،ج۱،ص۳۳۸)الغرض حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضور سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق ومحبت میں اپنی مثال آپ تھے ۔
فاروق اعظم وعلی المرتضی کی باہمی محبت:
قرآن کریم کی سورۂ آل عمران ، آیت ۱۰۳اور سورۂ فتح، آیت ۲۹ کے مطابق تمام صحابہ کرام محبت والفت اور باہمی رحم دلی میں بے مثال تھے ۔ اسی لئے حضرت عمرفاروق اور حضرت علی رضی اللہ عنہمابھی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ شیر وشکر رہے…غزوہ خندق کے موقع پر جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے  مشہور جنگجوکافر عمر بن عبد وُدکو جہنم رسید کیا تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  نے فرط مسرط سے ان کا سر چوم لیا۔(کشف الغمہ ،ج۱،ص۲۴۳)…آپ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے :’’ الہٰی ! مجھے اس وقت زندہ نہ رکھناجب کوئی مشکل پیش آئے اور مشکل کشائی کے لئے حضرت علی موجود نہ ہوں۔‘‘(مقالات پیر کرم شاہ، ج۱ ،ص۳۳۳) …دوسری طرف حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیا جذبات تھے ،ملاحظہ کیجئے:…بعد وصال جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کو کفن پہنا دیا گیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ان کے بارے میں فرمایا:مجھے روئے زمین پر اس سے زیادہ محبوب کوئی شے نہیں کہ میں اِن جیسے اعمال لے کر بارگاہِ رب العزت میں حاضرہوں۔(تلخیص الشافی،ص۴۲۸ مطبوعہ نجف اشرف)…ایک موقع پر فرمایا:حضرت ابوبکروحضرت عمر کا کردار نہایت عمدہ تھا اور ان دونوں نے اپنے دورخلافت میں امت میں عدل وانصاف قائم کیا۔(ناسخ التواریخ،ج۳،ص۱۱۶)…ایک بار فرمایا:اللہ تعالیٰ حضرت عمر کے شہروں کو برکت دے۔آپ نے کجی کو درست کیا،بیماری کا علاج ،فتنہ وفساد کو پس پشت ڈالا،سنت نبوی کو قائم کیا۔وہ دنیا سے پاک دامن رخصت ہوئے۔انہوں نے خیر کو پالیااور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وتقویٰ کا حق ادا کردیا۔(نہج البلاغہ،ج۱،ص۴۸۵مطبوعہ مصر،بحوالہ مقالات پیر کرم شاہ،ج۱،ص۳۳۷۔۳۳۹ملخصاً)…یوں ہی ارشادفرمایا:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہکی زبان پر فرشتہ کلام کرتاہے۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ،ج۱،ص۷۷،الرقم:۹۶)
فاروق اعظم اسلاف کی نظر میں:
(1)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بات کرتے تو سچ بو لتے ،فیصلہ کرنے میں عد ل کرتے اوررحم کی اپیل کے وقت رحم کرتے ہیں۔‘‘(موسوعۃ آثار الصحابۃ، ج۱، ص۱۲۷، الرقم:۵۸۲)
(2)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اگر عرب کے تمام قبائل کا علم ایک پلڑے میں اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہکا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تواِن کا پلڑا بھاری ہو گا۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبۃ، ج۷، ص۴۸۳،الرقم:۳۶)
(3)حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ ہی نے فرمایا:’’حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ  کا اسلام ایک فتح اور آپ کی خلافت رحمت تھی۔‘‘(معجم کبیر،ج۹،ص۱۶۵،الحدیث:۸۸۲۰)
(4)حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہما کی محبت سنت ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔‘‘(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، ص۴۲)
(5)حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہماکا ذکر بھلائی کے ساتھ نہ کرے اور ان کی فضیلت نہ پہچانے وہ سنت سے جاہل ہے۔‘‘(تاریخ الخلفائ،۹۶)
فاروق اعظم کے حکمت بھرے اقوال:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے علم وحکمت سے بھرپور متعدد اقوال منقول ہیں ۔چندملاحظہ کیجئے:
(1)مجھے تین باتیں بہت پسند ہیں:(۱)نیکی کا حکم دینا(۲)برائی سے منع کرنا اور(۳)پرانے کپڑے پہننا۔(المنبہات،۲۷)
(2)جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرتا ہے تو وہ اس کی قدرومنزلت بڑھا دیتا ہے۔(احیاء العلوم،ج۳،ص۴۱۹)
(3)مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو مجھے میرے عیب بتائے۔(طبقات کبری، ج۳، ص۲۲۲)
(4)مومن کی عزت اس کا تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔(جامع الاصول، ج۱۱، ص۶۵۴، الرقم: ۹۳۳۸)
(5)گورنروں کو پیغام بھیجا:تمہاراسب سے اہم کام نماز ہے، جس نے اس کی حفاظت کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا۔‘‘(موطاامام مالک،ج۱، ص۳۵، الحدیث:۶)
(6)’’خدا کی قسم! ہمیں دنیا کی لذتوں کی کوئی پرواہ نہیں، ہم اپنی پاکیزہ نعمتیں آخرت کے لیے بچارہے ہیں۔‘‘حضرت سالم بن عبداللہ کہتے ہیں :’’یہی وجہ ہے کہ آپ جو کی روٹی زیتون کے ساتھ تناول فرماتے، پیوند لگے کپڑے پہنتے اور اپنا کام خود کرتے۔‘‘(تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۳۰۰)
(7)…دنیاداروں کے پاس کثرت سے نہ جایا کرو کیونکہ یہ رزق کی تنگدستی کا سبب ہے۔(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، ص۱۷۲)
(8)… عاجزی کے ساتھ علم سیکھو اور سکھاؤاور متکبر عالم نہ بنو کہ تمہارا علم جہالت کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔(شعب الایمان ،ج۲،ص۲۷۸ ،الحدیث:۱۷۸۹)
(9)…جو شخص حکومت حاصل کرنے کی حرص رکھتا ہے وہ اس میں کبھی بھی عدل نہیں کرسکتا۔(سیر اعلام النبلائ،ج۱۰، ص۸۹، الرقم: ۱۹۹۱)
(10)…جو زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت کم ہوجاتی ہے اور جو زیادہ مزاح کرتا ہے لوگوں کے نزدیک حقیر ہوجاتا ہے۔(المنبہات،ص۸۲)
فاروق اعظم کی خلافت وکارنامے :
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت وامامت پر نہ صرف صحابہ وامت مسلمہ کا اجماع ہے۔(شرح نووی،ج۶،ص۲۰۶) بلکہ قرآن وسنت میں اس کے واضح اشارے موجود ہیں ملاحظہ کیجئے سورۂ مائدہ کی آیت ۵۴ کے تحت تفسیر مدارک ،صفحہ۲۹۰ ۔سورۂ نورکی آیت ۵۵ کے تحت تفسیر ابن ابی حاتم،جلد۵،صفحہ ۲۶۲۸۔سورۂ فتح کی آیت ۱۶ کے تحت تفسیر درمنثور،جلد۷،صفحہ۵۲۰اور تفسیر خزائن العرفان از صدرالافاضل نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ نیز احادیث کریمہ کے لئے دیکھئے سنن ترمذی،جلد۵،صفحہ۳۷۴،حدیث نمبر:۳۶۸۲ ۔تاریخ ابن عساکر،جلد۳۰،صفحہ۲۱۸۔ اخبار اصبہان،جلد۲،صفحہ۲۲۷۔ … تاریخ گواہ ہے کہ جس قدر فتوحات اور احکامات شرعیہ کا نفاذ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میںہوا اتنا کسی اور خلیفہ کے زمانے میں نہ ہوا …حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے وقت اِسلامی حکومت کا کل رقبہ تقریباًنو لاکھ ستائیس ہزار مربع میل تھا۔خلافتِ صدیقی میں اس رقبے میں مزید دو لاکھ پچہتر ہزار ایک سو چونسٹھ مربع میل کا اضافہ ہواور سلطنت اسلامیہ کا کل رقبہ بارہ لاکھ دو ہزار ایک سو چونسٹھ مربع میل ہوگیااور پھر خلافتِ فاروقی کی عظیم الشان فتوحات کی بدولت اس رقبہ میں تیرہ لاکھ نو ہزار پانچ سو ایک مربع میل کا اضافہ ہوااور یوں پچیس لاکھ گیارہ ہزار چھ سوپینسٹھ مربع میل زمین آپ کے زیر نگیں آگئی…مزیدتفصیل کے لئے تاریخ الخلفاء وغیرہ کتب تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ہمیشہ امت کی تعمیر اور ملت کے استحکام کی لگن میں رہتے تھے۔ آپ کی فہم وفراست نے اُمت کو ہجری تقویم دی،شراب نوشی پر اسی کوڑے حد مقرر کی ،شورائی نظام ترتیب دیا ،احتساب کے عمل میں مضبوطی وتسلسل کاقیام،علمی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ ،عدل ومساوات کا التزام ، پولیس اور فوج کے محکموں کا قیام،امیر کے لئے بیت المال سے وظیفہ کی ابتداء کی ،اشعار وغیرہ کے ذریعے کسی کی توہین پر تعزیر کا قانون ،رات کو اٹھ کر احوالِ رعایا کی خبر گیری ،تادیب کے لئے درہ کی ایجاد، اطراف مملکت میں قاضیوں کاتقرر،مساجد میں قندیلوں سے روشنی کا انتظام اور ایسے بہت سے کام کئے… علامہ غلام رسول سعیدی مدظلہ رقم طراز ہیں :’’آپ رضی اللہ عنہ کی قدآور اور تاریخ ساز شخصیت کے سامنے ہر فراز نشیب معلوم ہوتا ہے،آپ کی عبقری نگاہ کا یہ عالم تھا کہ مدینہ میں دورانِ خطبہ بھی نہاوند کے امیر لشکر کو ہدایات دیتے رہے گویادشت وجبل کی وسعتیں نگاہ عمر کے سامنے سمٹ جاتی تھیں ، جزیرہ عرب سے لیکر ساحل مکران تک تمام حکام ان کے رعب سے سہمے ہوئے رہتے تھے ،عہد عمر کی تہذیب ،قانون،معیشت،عوام کی خوشحالی اور فتوحات دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ ’’اگر مسلمانوں کو ایک اور عمر مل جاتا تو آج دنیا میں اسلام کے سوا کوئی اور مذہب نہ ہوتا۔‘‘(مقالاتِ سعیدی،۲۰۶ملخصاً)
فاروق اعظم کی کرامات:
اللہ رب العزت نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہکو ظاہری کرامات سے بھی نوازاتھا جس سے آپ کی شخصیت وعظمت مزید نکھرکر سامنے آتی ہے اوربارگاہِ الہٰی میں آپ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے ۔ان کرامات میں سے چندکی طرف یہاں اشارہ کیا جاتاہے  :
(1)آپ رضی اللہ عنہ نے فوت شدہ نوجوان سے اور ایک باراہل بقیع سے گفتگو فرمائی۔(تاریخ ابن عساکر،ج۴۵،ص۴۵۰۔شرح الصدور،ص۲۰۹) (2) مدینہ منورہ میں خطبہ دیتے ہوئے سینکڑوں میل دور اسلامی لشکر کی دستگیری فرمائی۔(مشکوۃ المصابیح،ج۲،ص۴۰۱،الحدیث:۵۹۵۴) (3)خشک دریائے نیل کے نام خط لکھ کراسے جاری فرمادیا۔(تاریخ الخلفائ،ص۱۰۰) (4)مدینے میں شدید زلزلہ آیا آپ نے زمین پر دُرہ مار کر اسے ساکن کردیا۔ (جامع کراماتِ اولیائ،ج۱،ص۱۵۷) (5)زمین نے آپ کے حکم سے جذب شدہ تیل اُگل دیا۔(مراٰۃ المناجیح ،ج۸،ص۳۸۱)(6)…آپ کے رقعہ ڈالنے سے گھروں میں لگی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔(تفسیر کبیر،ج۷،ص۴۳۳)(7) ایک بار کسی پہاڑ سے خطر ناک آگ ظاہر ہوئی ،آپ نے اپنی چادرروانہ کی جسے دیکھ کر آگ ٹھنڈی پڑگئی اور بالکل بجھ گئی۔(ازالۃ الخفائ،ج۴،ص۱۰۹) (8)…ایک عجمی قاصد نے آپ کو اکیلے دیکھ کر قتل کرنا چاہا تو غیب سے دوشیر نمودار ہوگئے۔(تفسیر کبیر،ج۷،ص۴۳۳) (9)…حکم الہٰی سے ایک اعرابی کے دل کی بات جان لی۔(مرقاۃ المفاتیح،ج۱۰،ص۴۱۶)
فاروق اعظم کی شہادت اورتکفین وتدفین:
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آخری حج ۲۳سن ہجری میں کیا اور اسی سال حج سے واپسی کے بعد۲۶ذوالحجۃ الحرام کو انہیں ابولؤلؤ نامی مجوسی غلام نے خنجر کے پے درپے تین وار کرکے شدید زخمی کردیا۔آپ تین دن اسی حالت میں رہے مگرنماز کوئی نہ چھوڑی پھر یکم محرم الحرام کودس سال پانچ مہینے اور اکیس دن مسند خلافت پر متمکن رہنے کے بعد ۶۳ برس کی عمر میں آپ شہید ہوگئے ۔(طبقات کبری،ج۳،ص۲۱۵۔۲۶۲۔۲۷۸)…آپ یہ دعا کیا کرتے تھے:اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یعنی الہٰی !تو مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینے میں مرنانصیب فرما۔(صحیح بخاری ، ج۱،ص۶۲۲،الحدیث:۱۸۹۰)…آپ نے عاجزی وانکساری کرتے ہوئے فرمایا: جب مجھے قبر میں رکھ دو تو میرا گال زمین سے یوں ملا دینا کہ اس کے اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رہے ۔(الزہد للامام احمد،ص۱۴۸،الرقم:۶۳۴) …آپ کو بیری کے پتوں سے پانی گرم کرکے غسل دیا گیااور دوچادروں اور جو قمیص پہن رکھی تھی اس میں کفنایا گیا۔(طبقات کبری،ج۳،ص۲۷۹)…وصیت کے مطابق آپ کی  نمازِ جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہنے چارتکبیروں کے ساتھ پڑھائی ۔(اسد الغابہ،ج۴،ص۱۸۹)اوریکم محرم الحرام کوروضۂ رسول میں دفن ہونے کی سعادت پائی ۔(طبقات کبری،ج۳،۲۷۷)
ہر ذی روح نے پیام اجل کو لبیک کہنا ہے اورہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھناہے…ویسے تو دنیا سے لاکھوں لوگ رخصت ہوئے، کسی پرکچھ لوگوں نے آنسوبہائے توکوئی انتہائی خاموشی کے ساتھ گورستان کا مکین ہو گیا مگر جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو کیا سماں تھا ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تاثرات کیا تھے؟ملاحظہ کیجئے:…آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مہاجرین وانصار نے کہا:اللہ تعالیٰ ہماری عمریں بھی آپ کو لگادے۔(طبقات کبری،ج۳،ص۲۶۵)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کے چہرے سے کفن کا کپڑا ہٹا کر کہا:اللہ تعالیٰ آپ رحم فرمائے ،حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ (طبقات کبری،ج۳،ص۲۸۳)…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم !میرے گمان میں خاردار درخت بھی آپ کے وصال پر غمزدہ ہیں۔ (طبقات کبری،ج۳،ص۲۸۴)…آپ کے وصال کے دن حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا:آج اسلام کمزور ہوگیا۔(معجم کبیر ،ج۲۵،ص۸۶،الرقم:۲۲۱)…حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ کے وصال سے ہر مسلمان کے گھر دینی ودنیاوی نقص داخل ہوگیا۔(طبقات کبری،ج۳،ص۲۸۵)
یہ حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت وحالاتِ زندگی کے صرف چند گوشے ہیں کیونکہ یہ مختصر مضمون تفصیل کا متحمل نہیں ،لہٰذا اختصار سے کام لیتے ہوئے کئی جگہ واقعات کی طرف صرف اشارہ کیا ہے۔آپ کی سیرت کو بیان کرنے کے لئے بلامبالغہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں صفحات درکار ہیں۔بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ’’ وہ ہمیں سیرت فاروقی کوپڑھنے،سمجھنے، اپنانے اور پھیلانے کی توفیق عطافرمائے۔‘‘(اٰمین)امام عشق ومحبت ،پیشوائے اہلسنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان کے ان اشعار پر کلام کا اختتام کرتے ہیں:
فارق حق وباطل امام الھدی……تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سقر……اس خدادوست حضرت پہ لاکھوں سلام
از قلم:
محمد آصف اقبال
(Email:asifraza2526@gmail.com)