ماہ ربیع الاول میں ان ہدایات پر عمل ضروری ہے (اداریہ)

in Tahaffuz, January 2014

محافل میلاد اور ماہ ربیع الاول میں ہر اُس چیز سے بچنا چاہئے جو شریعت سے متصادم ہو لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ محافل میلاد ہی کو بند کردیاجائے بلکہ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ جو باتیں ماہ ربیع الاول اور محافل میلاد میں غیر شرعی نظر آئیں، ان کو ختم کیا جائے اور محافل میلاد کو زیادہ سے زیادہ مقامات پر منعقد کیا جائے جیسا کہ کعبۃ اﷲ میں بتوں کے ہونے کی وجہ سے وہاں پر اﷲ تعالیٰ کی عبادت کو منع نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس برائی (یعنی بتوں) کو دور کردیا گیا لہذا اگر کسی جگہ خلاف شرع بات یا کام نظر آئے تو آپ اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام کریں مثلا:
1… کسی جگہ میوزک کے ذریعے محفل نعت سجائی گئی ہو تو اس کو منع کیا جائے گا اور اگر ایسا کرنا ناممکن یا مشکل ہو تو وہاں سے جانے سے گریز فرمائیں۔
2… اسی طرح عورتوں کا اتنی آواز سے نعت پڑھنا کہ اجنبی مردوں تک آواز پہنچے، یہ منع ہے۔
3… عورتوں کی محفل میلاد ميں عورتوں کا بلا حجاب بن سنور کر مووی بنوانا پھر اسے میڈیا پر چلوانا جسے ہر شخص دیکھے اور سنے، سخت منع ہے۔
4… محافل میلاد کو اتنا طویل کرنا کہ نماز کا وقت ہی جاتا رہے، ناجائز و حرام ہے، ہاں اگر نماز باجماعت کا اہتمام ہو تو کوئی حرج نہیں۔
5… محافل میلاد میں وقت کی پابندی کا خیال رکھا جائے تاکہ لوگ دل جمعی کے ساتھ محفل میں شامل رہیں۔
6… محافل میلاد میں خطاب کے لئے مستند عالم دین کو بلوائيں تاکہ وہ احادیث اور مستند واقعات عوام تک پہنچائیں، نام نہاد اسکالرز کو ہرگز نہ بلوائیں۔
7… محافل میلاد، چراغاں اور نذر و نیاز كيلئے مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر پرچیوں اور بھتوں کے ذریعے چندہ وصول نہ کریں بلکہ احسن طریقے سے لوگوں کو سمجھا کر فنڈ مانگیں جو فنڈ دیں ان سے لے لیں، جو نہ دیں، ان سے كچھ نہ کہیں، خاموشی سے واپس لوٹ آئیں۔
8… ایسے راستے میں محافل میلاد کا انعقاد کرنا جوکہ عوام الناس کی عام آمدورفت کے لئے استعمال ہوتا ہو، وهاں رکاوٹ کھڑی کرکے محافل میلاد کرنا مکروہ تحریمی ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔
9… محافل میلاد میں بلند آواز سے بے دریغ مائک اور سائونڈ سسٹم کا استعمال کرنا کہ اطراف کے گھروں میں بیمار، بچے، بوڑھے اور نوکری پیشہ افراد جن کو صبح کام پر جانا ہوتا ہے، ان کے آرام میں خلل پڑے، اس سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا (اگر محفل کرنی ہے تو آواز کم سے کم رکھیں اور رات گئے تک جاری نہ رکھیں، وقت پر ختم کردیں۔)
10… محافل میلاد میں باوضو اور اچھے لباس کے ساتھ شرکت کریں۔ نعت شریف اور ذکر مصطفیﷺ متوجہ ہوکر سنیں، ہماری توجہ نہ ہو اور ہم اپنے عمل سے بے اعتناہی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہوں، یہ مناسب نہیں۔
11… نذرونیاز کا اہتمام کریں مگر آدھی رقم لٹریچر کی تقسیم پرخرچ کریں یعنی بارہویں والے آقاﷺ کی سیرت پر مبنی رسالے، عید میلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت کے پمفلٹ اور کتابچہ خوب تقسیم کریں تاکہ لوگ علم کی دولت سے بہرہ مند ہوں۔
12… اس مبارک و پرمسرت موقع پر غریب و نادار طلبہ کی امداد کریں، کھانے، کپڑے اور ضروریات زندگی کی تقسیم کا اہتمام کریں۔
13… غریب بستیاں جس میں یتیم، مسکین، بیوہ عورتوں اور محتاجوں کی بڑی تعداد رہتی ہے، ان کی بھرپور مدد کی جائے، تاکہ وہ لوگ بھی اس خوشی میں شامل ہوجائیں۔
14… جلوس میلاد میں غیر شرعی امور سے بالکل اجتناب کریں، سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ نیاز یالنگر پھینکنے سے پرہیز کریں، عزت کے ساتھ شرکاء جلوس کے ہاتھوں میں دیں (خواتین کو ہرگز ہرگز جلوس میںنہ لائیں)
15… جلوس کے گشت کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو جلوس روک کر باجماعت نماز ادا کریں، پھر آگے بڑھیں۔
16… اگر رات شب بیداری کی وجہ سے نماز یا جماعت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو شب بیداری نہ کریں اور نماز باجماعت کا خصوصی خیال رکھیں۔
17… چراغاں دیکھنے کے لئے بھی خواتین کی آمدورفت کو روکا جائے تاکہ تماشا نہ بنے اور لوگ اس کو بنیاد بناکر میلاد منانے والوں پر طعنہ زنی نہ کریں۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں ادب کے ساتھ میلاد منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی جنہیں سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
خدا اہلسنت کو آباد رکھے محمد(ﷺ) کا میلاد ہوتا رہے