’’Fashion‘‘کالفظ سنتے ہی اذہان میں ’’کچھ نیاکرنے یاہونے ‘‘کا تصورابھرتاہے۔آج کے اس آزادمعاشرے میں ’’Same thing‘‘ کے بجائے ’’Most different‘‘اور’’Most unique‘‘ کا رجحان دن بدن ترقی پرہے۔جسے دیکھو نئے جہانوں کامتلاشی ہے۔ بقول شاعر ’’ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں‘‘…فیشن میں چاہے کپڑے اتارنے پڑیں یاجان جوکھوں میں ڈالناپڑے آج کایہ ’’پڑھالکھا‘‘انسان اس کے حصول کی تگ ودومیں دوسروں پر بازی لے جانے کامتمنی ہے۔ایک زمانہ تھاکہ بالوں میں’’فوجی کٹ‘‘ کافیشن عروج پرتھاپھر ’’برگرکٹ ‘‘ آیااورآج’’Spikes‘‘بنائے جاتے ہیں اورمعاملہ یہ ہوگیاہے کہ’’ بال اوپرجارہے ہیں اور پینٹ نیچے آرہی ہے۔‘‘ اگریہ فیشن صرف بال اورلباس کی تراش خراش تک محدودرہتا تو کسی حدتک قابل بردشت تھا مگر اب ترقی کرتے کرتے فیشن نے ہماری اخلاقی اقدار کو بھی پراگندہ کرناشروع کردیاہے ۔جھوٹ جو کہ ایسی اخلاقی برائی ہے جو دنیا کے ہرمذہب میں قابل مذمت وقابل گرفت ہے ، ہماری قوم نے اسے بھی فیشن کے طورپر اختیار کرلیاہے۔اس کی بیسیوں مثالیں ہمیںاپنے اردگرد نظر آئیںگی ،جیسے جھوٹے SMS،لطیفے ،کسی سوال پربلاوجہ غلط بیانی، خریدو فرو خت کے وقت جھوٹ اورجھوٹی قسم وغیرہ ایسے بہت سارے جھوٹ ہمارے روزمرہ کاحصہ بن چکے ہیں۔اس کے علاوہ اس فیشن میں اس قدر ترقی ہوئی ہے کہ اب ’’April fool‘‘کے نام سے ہر سال یکم اپریل کواس کا تہوار بھی منایاجاتاہے اگرچہ تاریخی لحاظ سے اس کی بنیاد جھوٹ کے فیشن پرنہ سہی مگر زیادہ تر یہ تہوار’’Fashionable‘‘ طبقہ ہی مناتاہے۔
’’April fool‘‘کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات ہمارے لئے باعث شرم ہے کہ اس تاریخ کوتو عیسائیوں کی طرف سے ہمارے مسلمان بھائیوں پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے تھے اورانہیں شکست وریخت سے دوچار کیاگیا تھا اورہم ہیںکہ ان کی دیکھادیکھی ان کے رنگ میں رنگتے چلے جارہے ہیں۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ اسپین فتح کرنے کے بعد عیسائی افواج نے وہاں کے مسلمانوں کا بے انتہا خون بہایا ۔ پھر انہوں نے گرفتار مسلمان فرمانروائوں کوان کے خاندان سمیت واپس مراکش بھیجنے کی پیش کش کی اورغرناطہ سے کوئی بیس کلومیڑ دور ایک پہاڑی پر انہیںچھوڑ کر واپس لوٹ گئے ۔ان کوملک بدرکرنے کے بعد حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے تھے کہ کہیںکوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ۔زندہ بچ جانے والے مسلمان اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جابسے اورجان بچانے کی خاطر اپنے گلوں صلیبیں ڈال لیں اورعیسائی نام رکھ لیئے۔ اب بظاہر اسپین میں کوئی بھی مسلمان نہیں رہا تھا مگر عیسائیوں کو اب بھی یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے ، کچھ چھپ کر اور کچھ اپنی شناخت بدل کر زندہ ہیں ۔چنانچہ، مسلمانوں کو منظر عام پر لانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا گیا ۔پورے ملک میں اعلان ہوا کہ’’ یکم اپریل‘‘ کو تما م مسلمان غرناطہ میں اکھٹے ہو جائیں تاکہ انہیں ان ممالک میں بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔مارچ کا پورا مہینے اعلانات ہوتے رہے ۔ الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے۔ جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے ۔مسلمانوں کو ہرطریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہاجائے گا اور اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کوظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے ۔اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور ان کی بڑی خاطر مدارات کی۔ یہ کوئی 500 برس پہلے کا’’یکم اپریل ‘‘ تھاجس دن تمام مسلمانوں کو بحری جہازوں میں سوارکرایاگیا اوردوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلوںمیں جشن منارہے تھے کیونکہ وہ اس منصوبے کے انجام سے باخبر تھے۔جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کہا اور جہاز وہاں سے چل دیئے۔جب جہاز گہرے سمندر میں پہنچے تو حکومتی اہل کاروں نے باردو سے جہاز وں میں سوراخ کردیئے اور خود حفاظتی کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے اوریوں تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سو گئے ۔اس کے بعد اسپین میں جشن منایاگیا کہ ہم نے کس طرح جھوٹ بول کر اپنے دشمنوں کو ’’بے وقوف بنایا‘‘ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن قرارپایا اور اسے ’’First april fool ‘‘(یعنی یکم اپریل کے پہلے بیوقوف) کانام دیاگیا۔(تاریخ اندلس،جلد۲،صفحہ۳۱۲)
یہ ہے اس اپریل فول کی حقیقت اوربے خبر مسلمان اس شرمناک رسم کواپناکرگویاکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی بربادی پر خوشی مناتے ہیں۔پہلے پہل یہ فتح کاعظیم دن تھا اورآگے چل کر عملی مذاق کی صورت اختیارکرگیا…’’انسائیکلوپیڈیا انٹر نیشنل ‘‘کے مطابق مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قراردیاجاتاہے۔اس دن ہرطرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتاہے۔(انسائیکلوپیڈیا انٹر نیشنل ،صفحہ۵۵۷)…اگر اس تناظر(View)میں دیکھاجائے تب بھی فرنگیوں نے توباہم ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے نیز دوسروں کو پریشانی میں مبتلا کرکے خود خوش ہونے کے لئے ’’April fool‘‘ نامی رسم کورواج دیا تھا…کیاایسی لچروبیہودہ رسم جواپنے اندر جھوٹ ،دھوکہ اور ایذارسانی ایسے قبیح افعال کوسموئے ہوئے ہوایک مسلمان کوزیب دیتی ہے؟مگر کیاکریں! عقل آزادہے اورآزادعقل کاکچھ پتا نہیں ہوتا کہ کب گھاس تناول فرمانے نکل پڑے…غورفرمائیے کہ مغرب کی تقلید کی رومیں بے سوچے سمجھے بہہ جانے کا شوق رکھنے والے ’’Fashionable‘‘ طبقے نے اس مذموم رسم کوبڑے چاہ سے قبول کیااورنوبت ایں جارسید کہ اس رسم کے پیش نظر’’First april  ‘‘ کو جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دینا اوربے وقوف بنانا خوبی وکمال تصور کیاجانے لگاہے۔ جو جتنی چالاکی ،مہارت اور صفائی کے ساتھ جھوٹ بول کر دوسرے کو جتنابڑا دھوکہ اور فریب دے وہ اتناہی ’’باکمال‘‘ اور’’April fool‘‘ سے لطف اندوز ہونے والا شمار کیا جاتاہے…بدتہذیبی اور بدمزاجی کی حد یہ ہے کہ اس غیراخلاقی حرکت بلکہ’’ مجموعہ گناہ‘‘ کو مذاق اور’’Fashion‘‘ سے تعبیر کیا جاتاہے جو بجائے خودایک گناہ ہے اوراس سب پر طرہ یہ کہ ’’یہ مہلک رسم نہ جانے کتنے انسانوں کے لئے جانی اور مالی نقصان کاباعث بنتی ہے۔‘‘…یادرہے کہ اس رسم کی ادائیگی تب تک ممکن ہی نہیں جب تک جی بھر کرجھوٹ نہ بولاجائے اورہمارادین فطرت اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتابلکہ اس کا درس تویہ ہے کہ جھوٹ دنیا وآخرت میں ہلاکت ورسوائی کاسبب ہے ۔کوشش کیجئے کہ زند گی میں بالعموم اور یکم اپریل کو بالخصوص جھوٹ سے دوررہیے …اور ہرگزکسی کواس طرح کی جھوٹی خبر نہ دیجئے کہ ’’تمہارافلاں رشتہ دار فوت ہوگیاہے ۔‘‘ یا ’’فلاں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔‘‘وغیرہ ۔ساری گفتگوکاحاصل یہ ہے کہ،
سنت میں عظمت اور فیشن میں نحوست ہے
محمد آصف اقبال
(جامع مسجد عثمانِ غنی ،ٹھٹھائی کمپائونڈ،لائٹ ہائوس کراچی)
Email:asifraza2526@gmail.com
0301-2348956              0333-3202525
0323-2626225    0315-2340440