حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’تم ضروراپنے سے پہلے لوگوں کی قدم بقدم پیروی کروگے حتی کہ اگروہ گوہ(چھپکلی کے مشابہ رینگنے والاایک جانور)کے سوراخ میں گھسے ہوں گے توتم بھی اس میں داخل ہوگے۔‘‘عرض کی گئی : ’’یارسول اللہ !کیاان سے یہودونصاریٰ مرادہیں؟‘‘ارشادفرمایا:’’تواورکون ؟‘‘(صحیح بخاری،صحیح مسلم،مشکوۃ )
مطلب یہ کہ تم یہودیوں اورعیسائیوں کے نقال بن جائوگے اوران کے رسم ورواج اورچال ڈھال پسندکروگے،ان کواختیارکروگے ،بالکل ان کے مطابق ہوجائوگے۔دیکھ لیجئے !آج ہماراکیاحال ہے،اس فرمانِ نبوی کوباربارپڑھئے اوراپناحال دیکھئے ۔عیسائی ،یہودی،ہندو،سکھ،پارسی اورمجوسی وغیرہ سب اپنی شکل ،اپنے لباس اوراپنی وضع قطع کوپسندکرتے ہیں مگرمسلمان ہیں کہ عیسائیوں کی نقل میں فناہوئے جارئے ہیں۔سردیسی ہے مگربال انگریزی،منہ دیسی ہے مگرزبان انگریزی اورغذادیسی ہے مگرکھاتے انگریزی طریقے سے ہیں۔حدتویہ ہے کہ اگرعیسائی ایساکام کریں جس میں نفع کوئی نہ ہونری تکلیف ہی ہوتومسلمان ان کی نقالی میں وہ کام ضرورکرتاہے ۔آپ نے دیکھاہوگاکہ سخت سردی ہے مگر’’صاحب بہادر‘‘سرنہیں ڈھکتے ،ننگے سرپھرتے ہیں چاہے بیمار ہی کیوں نہ ہوجائیں اورپھرمنہ سے بھی روتے ہیں اورناک ،آنکھوں سے بھی۔عورتوں کاحال توکیاپوچھناوہ تواب مردوں کے شانہ بہ شانہ نہیں بلکہ ’’لیڈی فرسٹ‘‘  کے خودساختہ اصول پرگامزن ہیں ۔ان حرکتوں میں کیافائدہ ہے؟کچھ نہیں ،سراسرخسران ونقصان اورتکلیف ہی تکلیف ہے۔
دیگرغیراسلامی عادات واطواراوررسومات وتہواروںمیںعیسائیوں کی اندھی تقلیدکی مانندآج مسلمانوں نے محبت کابھی’’ایک دن‘‘مقرر کرلیا ہے جسے ویلنٹائن ڈے(Valentine day)کے نام سے یادکیاجاتاہے۔تقریباً1700سال قبل شروع ہونے والایہ دن خالص رومی عیدہے۔اہل روم کے نزدیک 14فروری کادن چونکہ ’’یونودیوی‘‘ کے نزدیک مقدس تھااور’’یونو‘‘کوعورتوں اورشادی کی دیوی کہاجاتاتھا۔چنانچہ،رومیوں نے اسے عیدکادن ٹھہرالیا۔اس اعتباسے یہ ایک ’’مشرکانہ عید‘‘قرارپائے گی۔پھرغالباً14فروری279عیسوی کوایک حادثہ پیش آیاجس کے سبب عشق لڑانے اورغیرشرعی تعلقات رکھنے والوں نے اسے محبت کادن بنالیا۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس دور کے رومی بادشاہ کلاوڈیوس(claudius)کواپنے دشمن کے خلاف فوجیوں کی ضرورت پڑی مگرلوگ اپنے اہل وعیال بالخصوص بیویوں کی طرف رغبت کی وجہ سے فوج میں بھرتی نہ ہوتے تھے ۔چنانچہ،بادشاہ نے شادی کی رسم ختم کرنے کااعلان کردیا۔مگر(Valentine)نامی ایک عیسائی پادری چھپ کرشادیاں کراتارہا(یاخودشادی کرلی)۔بادشاہ کوخبرہوئی توپادری کوگرفتارکرکے جیل بھیج دیاگیا۔وہاں جیلرکی لڑکی کاپادری سے معاشقہ ہوگیا۔ابھی عشق ناتمام ہی تھاکہ پادری کوسولی پرچڑھادیاگیا۔چونکہ یہ واقعہ 14فروری کوپیش آیاتھا اس لئے ہرسال اس تاریخ کوشادی شدہ اورغیرشادی شدہ جوڑے ’’محبت کادن‘‘مناتے ہیں۔ایک کہانی یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جس وقت رومانیوں میں بت پرستی پائی جاتی تھی اس وقت(Valentine)نامی پوپ کوبت پرستی چھوڑکرعیسائیت اختیارکرنے پرپھانسی دی گئی مگرجب خودرومانیوں نے عیسائیت قبول کرلی توپھرانہوں نے ’’پوپ ویلنٹائن ‘‘کے پانسی کے دن (14فروری)کو ’’شہیدمحبت کادن‘‘قراردے دیا۔
یہ بات درست ہے کہ محبت ایک ایساجذبہ ہے جوانسان کی فطرت میں شامل ۔مختلف چیزیں انسان کومتاثرکرتی ہیں اوروہ ان سے محبت کرنے لگتاہے مگریہ کیسی محبت ہے جس نے بندے کواپنے خالق حقیقی سے دوراوردین سے بیزارکردیاہے…جس نے صحیح اورغلط کی پہچان مٹادی ہے…جس نے ہماری معاشرتی اقدارکی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں…جس نے ایک خوبصورت جذبہ کونفسانی خواہشات کی تکمیل تک محدودکردیاہے…جس نے محبت کو زوجیت کے دائرے سے نکال کرایک غیرفطری دائرے میں داخل کردیاہے۔آج اس’’ محبت کے دن‘‘ کے موقع پرٹی وی ڈراموں،میوزک شوز، لچرافسانوں اورفلموں کے ذریعے نوجوانوں کے جنسی جذبات کونہ صرف مشتعل کیاجاتاہے بلکہ انہیں عشق لڑانے کے نت نئے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں ۔ محبت کے نام پرخوب دادِعیش دی جاتی ہے…جام وسبوچھلکتے ہیں…شراب وشاب اوررقص وموسیقی کی محفلیں جمتی ہیں… نوجوانوں کے دلوں میں جذبات کی آگ بھڑکاکرکسی خاص محبوب کی ضرورت کااحساس دلایاجاتاہے…جنسی آزادی اورلڑکے لڑکیوں کے آزادانہ تعلقات کوفروغ دیا جاتاہے … محبت بھرے پیغامات کاتبادلہ ہوتاہے…رومانی ملاقاتیں کی جاتی ہیں…حتی کہ تعلیمی ادارے جوعلم وادب کے گہوارے ہوتے ہیں اپنے طالب علموں کے لئے ایسی تقریبات منعقدکرنے میں پیچھے نہیں رہتے۔اس دن خصوصیت کے (be my Valentine)کی تحریروالے کارڈزکاتبادلہ ہوتاہے۔خوب شوخ ’’سرخ لباس‘‘ پہناجاتاہے۔ایک دوسرے کوسرخ گلاب،چاکلیٹ اورمٹھائی کاپیکٹ پیش کیاجاتاہے اوربعض توبیش قیمت چیزیں تک تحفے میں دیتے ہیں (یادرہے کہ معاشقہ کرنے والے باہم جوتحائف دیتے ہیں وہ رشوت کے زمرے میں آتے ہیں)۔پہلے پہل محبت کایہ بدنام دن صرف امریکہ ویورپ کی اخلاقی اقدار سے عاری محفلوں اورنائٹ کلبوں ہی میں منایاجاتاتھامگراب توہرجگہ مغرب اور اس کی نام نہاداوربیہودہ تہذیب کی اندھی تقلید کادوردورہ ہے۔اب یہ تماشا ہوٹل کے بندکمروں ہی میں نہیں ہوتا بلکہ عوامی پارکوں،ہرگلی کے نکڑ اورچوراہوں پرنظرآتاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے دن منانے سے برائی اوربے حیائی کوتوفروغ مل سکتاہے لیکن محبت کاسچاجذبہ دلوں میں پیدانہیں ہوسکتا۔یہ صرف نفس کو’’وقتی تسکین‘‘ دینے اورذہنی سکون کے ’’ مصنوعی حل‘‘ کی ایک ناکام کوشش ہے۔باہم اس اظہارِمحبت کے نتیجے میں کوئی سچی محبت حاصل نہیں کرپاتا بلکہ نفسانی خواہش کووقتی تسکین مل جانے کے بعدیہی عاشق ومعشوق آئندہ سال (Valentine day)پرایک ’’نئے ساتھی ‘‘سے یہی اظہارکررہے ہوتے ہیں۔محبت کاحقیقی اظہارعمل کامتقاضی ہے ۔اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت ،ایمان واطاعت سے پہچانی جاتی ہے … والدین سے محبت ان کی خدمت میں پوشیدہ ہے…اولادسے محبت ان کی اعلیٰ تربیت میں پنہاں ہے اورانسانوں سے سچی محبت ہردکھ سکھ میں ان کے کام آنے کامطالبہ کرتی ہے۔پھریہ کیسے ممکن ہے کہ دوافراد کے درمیان محبت کاتعلق صرف ایک دن کے اظہارجیسی ناپائیداربنیادپرقائم ہو۔سچی محبت قربانی اور ایک دوسرے کی خیرخواہی کامطالبہ کرتی ہے۔مگر اس بات کوسمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں۔
آخرکیاوجہ سے کہ بیہودگیوں اور آلودگیوں کاسامان فراہم کرنے والے اس (Valentine day) اورکفارکے دیگرتہواروں کومسلمان اپنائے ہوئے ہیں؟؟؟اس کے جواب میں یہودی مصنف البرٹ میمی(albert memmi)کی کتاب the colonizer & colonizedسے یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے۔وہ لکھتاہے]]چونکہ مغلوب قوم غالب قوم سے ذہنی طورپرمرعوب ہوتی ہے۔اوراس پررشک کرتی ہے اس لئے انہیں اپنے آقائوں کی نقل کرنے میں ذہنی تسکین ملتی ہے کیونکہ انہیں اپنے آقائوں میں قوت اوراقتدارنظرآتاہے [[یقینا ذہنی غلامی انسان کواپنی شناخت،عزت اورغیرت وحمیت جیسی ہرچیزسے عاری کردیتی ہے اورپھروہ ہرکام میں اپنے آقائوں کی اندھی تقلید کرتاہے ۔یادرہے کہ ہم مغرب سے آنے والی ہرچیزکے مخالف نہیں مگرکسی دوسری قوم کے وہ تہوارجن کاتعلق کسی تہذیبی روایت سے ہوانہیں قبول کرتے وقت بڑامحتاط رہناچاہئے کیونکہ تہواراس لئے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد وتصورات انسانی معاشروں کے اندرپیوست ہوجائیں اورجب تہوارایسے ہوں جوبرائیوں اوربے حیائیوں کوبنیادفراہم کریں اورانسان کوانسانیت سے نکال کرحیوانیت میں داخل کردیں توایسے تہواروں کامکمل بائیکاٹ ضروری ۔اپنی بات شاعرمشرق کے اس شعرپرختم کرتاہوں۔
وضع میں تم نصاری ہو توتمدن میں ہنود
یہ مسلمان جنہیں دیکھ کرشرمائیں یہود
محمدآصف اقبال
(جامع مسجدعثمانِ غنی ٹھٹھائی کمپائونڈ،لائٹ ہائوس ،کراچی)
0301-2348956
0333-3202525