حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہا

in Articles, Tahaffuz, June 2011, محمد وقاص احمد سعیدی

سید المرسلینﷺ کی خواہر نسبتی ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی بہن صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی دختر نیک اختر ام الخیر سلمی بنت صحر کی پوتی، ام فردۃ، قریبۃ اور ام عام رضی اﷲ عنہن کی بھتیجی (یہ تینں عظیم المرتبت صحابیات ہیں اور تینوں حضرت ابو قحافہ رضی اﷲ عنہ کی صاحبزادیاں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی ہمشیرگان ہیں) حواریٔ رسول اقدس رضی اﷲ عنہ اور لسان رسالت سے جنت کی بشارت پانے والے جلیل القدر صحابی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی رفیقہ حیات، بلند مرتبہ صحابی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما کی والدہ ماجدہ، سفر ہجرت کی رازدان اور زاد سفر تیار کرکے زبان رسالت سے جنت کی خوشخبری حاصل کرنے والی خوش نصیب صحابیہ، خود صحابیہ، بھائی صحابی، دادا صحابی، بیٹا صحابی، بہن ام المومنین، ہر طرف سے سعادت بھری نسبتوں کا ایسا عظیم الشان اعزاز ہے جس میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہا منفرد نظر آتی ہیں۔ آیئے اس بلند پایۂ و بہادر صحابیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے ایمان کو تازہ کریں۔

نام و نسب: آپ رضی اﷲ عنہا کا نام اسماء تھا اور ذات الناطقین لقب والد ماجد حضرت ابوبکر بن ابو قحافہ رضی اﷲ عنہ تھے۔ والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزی تھا۔ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کے نانا قریش کے نامور رئیس تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا آپ رضی اﷲ عنہا کی سوتیلی بہن تھی اور ان سے عمر میں چھوٹی تھی۔ حضرت عبداﷲ بن ابی بکر رضی اﷲ عنہا آپ رضی اﷲ عنہا کے حقیقی بھائی تھے۔

ولادت باسعادت: ہجرت نبویﷺ سے 27 سال پہلے مکہ معظمہ میں پیدائش ہوئیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے گھر میں ان کی پاکیزہ پرورش ہوئی۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں عقل اور سلیقہ مندی عطا کی تھی۔ اس لئے وہ اصلی اور فطری اخلاق سے مزین تھیں۔

قبول اسلام: قبول اسلام میں آپ رضی اﷲ عنہا سابقون اولون میں شمار ہوتی ہیں۔ جب چاروں طرف کفروشرک کی بجلیاں کوند رہی تھی اور صرف سترہ نفوس قدسی ایمان لائے تھے۔ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا بھی نعمت اسلام سے بہرہ یاب ہوگئیں۔

ذات الناطقین لقب کی وجہ: جب رسول کریمﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا قصد فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو نبی کریمﷺ کا رفیق سفر بننے کا شرف حاصل ہوا۔ شب ہجرت کو آپﷺ نے اپنے بستر مبارک پراپنے جانثار حضرت علی کرم اﷲ وجہ کو سلایا۔ دشمنان رسول اﷲﷺ کو اﷲ جل جلالہ نے اندھا کردیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اپنی لخت جگر حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کے ساتھ مل کر سفر کا سامان درست کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت اسماء رضی اﷲ عنہما نبی کریمﷺ کے ارادہ سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ دو تین دن کا کھانا حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا نے تیار کررکھا تھا، اسے اور پانی کو مشکیزہ کو باندھنے کے لئے رسی کی ضرورت ہوئی۔ رسی فی الوقت گھر میں موجود نہ تھی۔ قلت وقت کی وجہ سے حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا نے اپنا نطاق (کمربند) کھول کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے۔ ایک سے کھانے کے برتن کا منہ باندھا اور دوسرے سے مشکیزہ کا منہ باندھا۔ سرور کائناتﷺ آپ رضی اﷲ عنہا کی اس خدمت سے بہت خوش ہوئے اورآپ کو ذات النطاقین کا لقب عطا فرمایا۔ رسول اکرمﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ جب تک غار ثور میں مقیم رہے۔ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا انہیں کھانا پہنچاتی رہیں۔

ہجرت مدینہ منورہ: سرکار دوعالمﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ جب مدینہ منورہ پہنچ گئے اور اطمینان حاصل ہوا تو مستورات کو بلانے کی تجویز پیش ہوئی۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے زید بن حارثہ اور اپنے غلام ابو رافع کو مکہ مکرمہ بھیجا۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے بھی ان کے ہمراہ عبداﷲ بن اریقط رضی اﷲ عنہ کو تین اونٹ دے کر روانہ فرمایا اور اپنے بیٹے عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے کہلا بھیجا کہ اپنی بہنوں (حضرت عائشہ و حضرت اسمائ) اور ماں کو ساتھ لے کر مدینہ آجائو۔ حضرت اسماء جب مقام قبا میں پہنچیں تو عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما کی ولادت ہوئی۔ حضرت اسماء اپنے لخت جگر کو نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لائیں۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کو گود میں لے کر ان کے منہ میں ایک کھجور چبا کر ڈالی اور پھر انہیں دعائے خیروبرکت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہ پہلی ولادت باسعادت ہے جو ہجرت کے روز اسلام میں ہوئی۔

اسلام سے محبت: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا انتہائی راسخ العقیدہ تھیں اور کفار کی سخت دشمن تھیں۔ ایک دفعہ ان کی ماں جو ابھی مشرک تھی، حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا سے کچھ روپیہ مانگنے مدینہ آئیں۔ آپ رضی اﷲ عنہا نے روپیہ دینا تو درکنار، انہیں اپنے گھر ٹھہرانا بھی گوارا نہ کیا البتہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی معرفت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا کہ ’’میری ماں مشرک ہیں، ان سے کیا سلوک کروں‘‘ رحمتہ للعالمینﷺ نے فرمایا ’’اپنی ماں سے صلح رحمی کرو‘‘

شجاعت و بہادری: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کا ہجرت مصطفیﷺ کے دوران غار میں کھچانا پہنچانا ایسا عمل تھا جس کی انجام دہی کے لئے بڑے سے بڑا بہادر بھی درپیش خطرات اور دہشت کے باعث خوف میں مبتلا ہوتا۔ اس کے لئے بڑی جرأت ومضبوطی دل، قوت اعصاب اور پختہ جذبات کی ضرورت تھی لیکن حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کی شجاعت و بہادری فقط اتنی ہی نہیں تھی بلکہ ان کے صبر اور مشقت جھیلنے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں اور رات کے اندھیرے میں کھانے کی اشیاء اٹھائے دشوار گزار اور طویل سفر طے کرکے مشرکین مکہ کی طرف سے حائل خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی نظروں سے بچ کے وہاں پہنچ جاتیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ ک نصرت ان کے ساتھ شامل حال تھی۔

سخاوت: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا بہت زیادہ سخی تھیں۔ اپنے بچوں کو ہمیشہ وعظ و نصیحت کیا کرتی تھیں کہ اپنا مال دوسرے کے کام نکالنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ جمع کرنے کے لئے۔ اگر تم اپنا مال خدا کی مخلوق پر خرچ نہیں کروگے اور بخل سے کام لو گے تو خدا بھی تم کو اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا۔ تم جو کچھ صدقہ کروگے خرچ کروگے دراصل وہی تمہارے لئے ایک اچھا ذخیرہ ہوگا اور وہ ایسا ذخیرہ ہے جو نہ کبھی ختم ہونے والا ہے اور نہ ہی اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہا جب کبھی علیل ہوجاتیں تو تمام غلاموں کو آزاد کردیتی تھیں۔ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ عنہا نے وفات کے وقت زمین کا کچھ حصہ ترکہ میں چھوڑا تھا۔ وہ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کے حصہ میں آیا۔ انہوں نے اس کو ایک لاکھ درہم میں فروخت کرکے اعزاء و اقرباء میں تقسیم کردیا۔ حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ کے مزاج میں سختی تھی۔ اس لئے حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا کہ ’’میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیران کے مال سے کچھ فقراء و مساکین کو دے سکتی ہوں‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’ہاں دے سکتی ہو‘‘

تربیت اولاد: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا تربیت اولاد کی غرض سے اکثروبیشتر اولاد کو وعظ و نصیحت فرماتی رہتی تھیں۔ یہ انہی کی تربیت کا اثر تھا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہا علم و فضل، زہد و تقویٰ، حق گوئی و بے باکی اور شجاعت و بے خوفی کا مثالی پیکر بنے۔ امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ عنہ کی طرح انہوں نے بھی مرتے دم تک یزید کی بیعت نہ کی اور پھر اس کی موت کے بعد اس کے جانشینوں کے مقابلے پر ڈٹے رہے، یہاں تک کہ شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔

فضل و کمال: مدینہ منورہ کے لوگ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کے بہت معتقد تھے اور بڑی عقیدت سے ملتے تھے۔ ان کے تقدس و عظمت کا شہرہ عام تھا۔ ہر شخص دعائے خیر کا طالب رہتا۔ لوگ مصیبت کے وقت خصوصیت سے دعا کراتے تھے۔ جب کبھی کوئی عورت بخار میں مبتلا ہوتی اور وہ دعا کرانے کے لئے آتی تو آپ اس کے سینہ پر پانی چھڑک دیتیں اور فرماتی کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ بخار آتش جہنم کی گرمی ہے۔ اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ آپ رضی اﷲ عنہا خواب کی تعبیر بتانے کی ماہر تھیں۔ منقول ہے کہ حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ خواب کی تعبیر کے بڑے ماہر تھے اور انہوں نے یہ علم حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا سے حاصل کیا تھا اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے۔ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا نے کئی حج ادا کئے۔ پہلا حج آپﷺ کے ساتھ ہی ادا کیا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہا سے تقریبا 56 حدیثیں بھی روایت کی ہیں جو صحیحین میں موجود ہیں جن حضرات نے ان سے روایات کی ہیں ان میں سے بعض کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ عبداﷲ، عروہ، ابن عباس، ابن ابی ملیکہ، وہب بن کیسان اور مسلم معکری رضی اﷲ عنہم۔ آپ بڑی ذی فہم، راسخ الاعتقاد، قلب کی مضبوط، بردبار، صابر و شاکر تھیں۔

جبہ مبارک کی برکت: حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ایک جبہ مبارک حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس تھا۔ جب ان کا وقت وفات قریب آیا تو یہ جبہ مبارک حضرت عائشہ نے حضرت اسماء کے سپرد کیا۔ آپ نے اسے سر آنکھوں پر رکھا اور جب تک زندہ رہیں اپنی جان کے ساتھ رکھا۔ اگر کبھی کوئی علیل ہوتا تو اس بابرکت جبہ کو دھوکر اس کا پانی بیمار کو پلاتیں اس کی برکت سے وہ بیمار شفایاب ہوجاتا۔

جنت کی بشارت: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا سے جنت کی بشارت کی حدیث منقول ہے۔ ہجرت کے مشہور واقعہ میں حضرت اسماء نے اپنے نطاق (کمربند) اور اپنی جان کو نبی کریمﷺ کا خیال رکھنے اور کھانا پہنچانے کی مشقت میں ڈالنے کی جو قربانی دی تھی، اس کے بدلے میں نبی کریمﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا ’’بے شک تمہارے لئے جنت میں دو نطاق (کمربند) ہوں گے‘‘

اولاد: حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا کے بطن مبارک سے پانچ صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔ جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ صاحبزادے عبداﷲ، عروہ، منذر، عاصم اور صاحبزادیاں خدیجۃ الکبری ، ام الحسن اور عائشہ۔

وفات: حضرت اسماء اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتی تھیں کہ جب تک میں عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی لاش نہ دیکھ لو، مجھے موت نہ آئے۔ چنانچہ حضرت عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کو ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنی حیات مستعار کے سو سال پورے کرکے جمادی الاولی 73ھ میں مکہ معظمہ میں انتقال فرمایا۔

پیغام سیرت: حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہا ایک راسخ العقیدہ مسلم خاتون ہونے کے علاوہ اپنی سیرت میں امتیازی اوصاف کی حامل تھیں۔ وہ ایک بلند حوصلہ، متقی، پرہیزگار، صابروشاکر خاتون تھیں۔ اسلام سے محبت و وفاداری اور پیغمبر اسلامﷺ کے لئے ایثار کا پیکر تھیں۔ اولاد کی عمدہ تربیت اور مجاہدانہ کردار اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ کی اعلیٰ سیرت آج کی مسلم خاتون کے لئے پیغام عمل ہے اور ایک صالح اسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے آپ کی سیرت کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔

اﷲ تعالیٰ ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین