شام کی تحریکِ آزادی اور یہودونصاریٰ کی سازشیں

in Tahaffuz, December 2013, ابن حسن قندھاری, متفرقا ت

سرزمین شام سے اسلامی تاریخ کی عظمت ِرفتہ وابستہ ہے، شام (سوریا)جو کبھی اسلامی تہذیب وتمدن کا مرکز ہواکرتاتھا، آج ہزاروں ائمہ ،علمائ،محدثین وفقہاء اورادباء و مفکرین کی یہ سرزمین ماتم کناں ہے، شام وہ سرزمین ہے جہاں بڑے بڑے علماء اور محدثین نے جنم لیا، امام نووی، علامہ شامی، ابن عساکر، حافظ ابن حجر عسقلانی، المقدسی، یاقوت حموی، الحلبی اور الطرطوسی وغیرہ ان میں سے چند نام ہیں،تاریخ میں ایک وقت وہ بھی گزرا ہے جب شام کے دارالحکومت دمشق میں خلیفہ عبدالملک بن مروان کے خلف الرشید خلیفہ ولیدکی حکمرانی تھی،اُسکے دس سالہ دور (85ھ تا 95ھ) میں اسلامی سلطنت کی حدود چین سے فرانس تک پھیلیں،خیال رہے کہ ماضی میں شام( حورات یا حرات) اور انطاکیہ (جنوبی ترکی) اور دریائے فرات سے لے کر غزہ ہاشم کے مغرب میں العریش (مصر) تک اور بحیرہ روم سے جزیرہ نمائے عرب میں جبال طے اور تبوک تک پھیلا ہوا تھا، جس میں آج کے اردن، لبنان اور فلسطین پورے کے پورے شامل تھے،اسی شام میں روضہء رسول میںجسم ِ مبارک ﷺکی کفار سے حفاظت والے مجاہدین اسلام سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ اور فلسطین کو آزاد کرانے والے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے حکومت کی،شام کے شہر حمص میںسیف اللہ سیدنا خالد بن ولیدص، عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ، عبیداللہ بن عمررضی اﷲ عنہ، سیدنا ابودرداء رضی اﷲ عنہ، حضرت بلال حبشی رضی اﷲ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری  رضی اﷲ عنہکے مزارات مقدسہ واقع ہیں، یہیں وہ انطاکیہ ہے جہاں قیصر روم ہرقل نے شکست یرموک کے بعد عالم یاس میں کہا تھا ’’ اے سوریا (شام)! تجھے الوداع کہنے والے کا سلام، جسے امید نہیں کہ وہ کبھی لوٹ کر تیرے یہاں آئے گا۔‘‘
دراصل شام کا دارالحکومت دمشق دنیا کا قدیم ترین دارالحکومت ہے جو ہزارں سال سے مسلسل آباد چلا آ رہا ہے ، دمشق 41ھ سے 132ھ تک دولت اُمویہ کا دارالخلافہ بھی رہا، وہ دمشق جو صدیوں تک اسلام کا دارالخلافہ رہااورجس کے جاہ وجلال سے قیصروکسری لرزہ براندام ہوجایاکرتے تھے، آج وہاں اسلام اجنبی بنادیاگیاہے،گزشتہ دو سال سے شام کی سرزمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے،شام میںانسان نما وحشی درندے ظلم و جبر، قتل و غارت گری اور انسانیت سوزی کی بدترین داستانیں رقم کر رہے ہیں،ظلم وجبر کے بازار گرم کررہے ہیں،جگہ جگہ ننھے منھے بچوں اور عورتوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں،کچھ پرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک80ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں،جبکہ دس لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں،یہ تو گزشتہ دو سالوں کی رپورٹ پر مبنی معلومات ہیں،جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ظلم و ستم کا یہ سلسلہ کئی عشروںسے مسلسل جاری ہے،شام میںبستیوں کی بستیاں ویران ہو گئی ہیں ،ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے۔’’ ہبہ الدباغ کی خود نوشتْ خمس دقائق وحسب‘‘ جس کا اردو ترجمہ’ ’صرف پانچ منٹ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے، دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ شام کے اسلام پسند اہلسنّت عوام پر انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ گزشتہ چالیس سال سے متواتر جاری ہے۔
شام میں موجودہ اضطراب کی جڑیں ماضی سے پیوست ہیں،جب حافظ الاسدنے 1970 میں شام کی بعثی انقلابی حکومت کے سربراہ صلاح جدیداوراورصدرنورالدین الاتاسی کو اقتدارسے ہٹاکرخود حکومت پر قبضہ کرلیااورشام میں ایک بعثی نصیری علوی اقلیت کی حکومت قائم کردی ،خیال رہے کہ ماضی میں فرانسیسی سامراج نے نصیری اقلیت کو علوی کا نام دے کرفوج، پولیس اور انتظامیہ میں بھرتی ہونے کا موقع فراہم کیا تھا، جب مائیکل عفلق عیسائی نے بعث پارٹی (حزب العبث) قائم کی تو نصیری اُس میں پیش پیش تھے ، حزب البعث نے شام میں پنجے گاڑ کر مسلمانوں کی وحدت کوپارہ پارہ کیا اورشام میں 1963ء میں فوجی انقلاب برپا کر کے اقتدار حاصل کر لیا، چنانچہ 1970ء میں علوی وزیر دفاع حافظ الاسد نے بعثی صدر نور الدین العطاشی اور وزیراعظم یوسف زین کا تختہ الٹ کر خود اقتدار سنبھال لیا،اُس نے اپنے وفاداروں کی مدد سے جلد ہی اپنا اقتدار مستحکم کرلیا اور روس کو اپنا قبلہ وکعبہ بنالیا۔
جبکہ حافظ الاسد سے پہلے شام صحیح العقیدہ سنی حکمران اورعوام کا ملک تھا اور یہاں کے قانون کے مطابق سربراہ مملکت کیلئے سنی مسلمان ہونا بھی لازمی تھا،چنانچہ اقتدار پر قابض رہنے کیلئے حافظ الاسد نے خود کو سنی صحیح العقیدہ ظاہر کیا،حالانکہ عقیدے کے لحاظ سے وہ نصیری شیعہ (حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خدا ماننے والا) تھا، ( معاذ اللہ ) برسراقتدار آنے کے بعداُس نے علماء اور عوام کو مخالفت کی یہ سزا دی کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں جن میں 40 ہزار سے زیادہ علماء کرام بھی تھے، شہید کردیئے،اُس نے اِس سے بھی زیادہ عوام اور علماء کو ہجرت پرمجبور کردیا، اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حافظ الاسد نے ایک نام نہاد سیکولر حکومت کی بنیاد رکھی، یہ ایک ایسی حکومت تھی جس میں شیعوں کو تو ہر قسم کی آزادی تھی، مگر کوئی سنی اگر مذہب کی طرف راغب ہو تو اُسے شدید پریشانیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا، حافظ الاسد نے شام میں نئے قوانین متعارف کروائے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ نوجوانوں کیلئے 2 سال تک فوجی خدمت لازمی قرار پائی ،حکومت اور فوج اِس 2سالہ خدمت کے دوران سنی نوجوانوں کو بے دین بنانے کی بھرپور کوشش کرتی ،انہیں نماز کیلئے وقت نہیں دیا جاتا، اگر کوئی نوجوان داڑھی رکھ لے تو اُسے وہابی کے طعنے دیئے جاتے اور اگر کسی طرح یہ معلوم ہوجائے کہ کوئی نوجوان کسی سنی مدرسے سے فارغ ہے یا کسی سنی عالم کا بیٹا ہے تو اُس پر سختی کی انتہا کردی جاتی، یہاں تک کہ نجاست میں لٹایا جاتا جب حکومت سے اِس ظلم کی شکایت کی جاتی، تو جواب ملتا یہ فوج کا اپنا معاملہ ہے، یہی وجہ تھی کہ جب کوئی سنی نوجوان اپنی خدمت مکمل کرکے درست ذہنی و جسمانی حالت میں گھر واپس آجاتا تو گھر والے شکرانے کے طور پر دنبہ وغیرہ ذبح کر تے۔  اسی طرح سرکاری ملازمت میں خواتین حجاب کے مسائل میں سخت مبتلا رہتی تھیں۔ مگر فحاشی کو عام کرنے کی کچھ حکومتی کوششیں کامیاب بھی رہیں اور ان کے کچھ مضر اثرات شامی عوام میں بھی داخل ہوئے اور وہ غیر دانستہ طور پر کبھی کبھار ہوئی گستاخی کر جاتے اور انہیں پتہ بھی نہ ہوتا، اس کے علادہ قرآن میں موجود وہ آیات جن میں یہودو نصاریٰ کا ذکر ہو تا اس میں لفظ نصاریٰ کی تشریح کر نے کی اجازت نہ تھی ۔ یہی حالات چل رہے تھے کہ اسرائیل نے گولان (جولان )کے پہاڑوں پر قبضہ کرلیا یا یوں کہہ دیا جائے کہ شیعہ نصیری حکومت کی طرف سے اسرائیل کو گولان (جولان )کے پہاڑ تحفے میں دیئے گئے تھے۔ کیونکہ اس علاقے کو واپس لینے کے لئے کوئی باقاعدہ جنگ نہیں لڑی گئی، صرف سنی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے دھمکیاں اور جھوٹی اور فرضی جھڑپیں ہوئی۔ حافظ الاسد اور اسرائیل کی دوستی کی یہی وجہ تھی، کہ نہ کبھی اسرائیل نے شام پر حملہ کیا اور نہ شام نے اسرائیل پر۔ جبکہ بظاہر دشمن نظر آنے والے ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتے رہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ آج بھی شامی فوج کے نچلے درجے میں اکثریت اُن سیکولر سنیوں کی ہے،جن کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے، اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کو گالی دینا اُن کے نزدیک معمولی سی  بات ہے،(معاذ اللہ) اور اُن کا دین اُن کا مذہب ،اُن کے اعلیٰ نصیری و شیعہ افسران ہیں ، اِن سیکولر سنیوں کے نزدیک مسلمانوں کو شہید کرنے میں کوئی حرج نہیں، لہٰذا انہیں سنی کہہ کر اِن کی حمایت کرنا انتہائی کم عقلی کی بات ہے۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ شام میں ظلم وستم کا آغاز موجودہ حکمران کے باپ حافظ الاسد نے کیا ، وہ گمراہ علوی نصیری فرقے سے تعلق رکھتا تھا، اُس نے اپنے عہد حکومت میں مغربی کلچر اور اشتراکیت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی،وہ مغربی تہذیب کے دلدل میں سر سے پاؤں تک غرق تھا ،اُس پر مغربی کلچر کے فروغ کا جذبہ اور اشتراکیت کا بھوت اِس قدر سوار تھا کہ اُسے ہر با شرع نمازی ،دیندار مسلم اور پردہ نشیں عورتیں دہشت گرد نظر آتی تھیں، اُس نے اسلام پسندوں کو ٹھکانے لگانے اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے فوج اور انتظامیہ میں علویوں کو بھرتی کیا، جبکہ شام کی غالب اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور اُن میں اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیادیں بہت گہری تھیں، وہ غیر اسلامی کلچر اور اقلیتی غلبہ سے سخت متنفر اور خائف تھے۔
حافظ الاسد کے تیس سالہ دور حکومت میں ظلم وجبر کا بازار گرم رہا، اُس نے کسی سیاسی ومذہبی جماعت کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا ،صرف حکمران حزب البعث واحد سیاسی جماعت تھی، چنانچہ حافظ الاسد ہربار 99.9 فیصد کی اکثریت سے صدر منتخب ہوتا رہا، ایران عراق جنگ (1980 سے 1988ئ) کے دوران اُس نے نصیری شیعہ ہونے کی بناء پر ایران کا بھر پور ساتھ دیا، جب فروری 1982ء میں شام کے شہرحمص کے مسلمان، نصیری مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو حافظ الاسد کی فوج نے وہاں ٹینکوں سے گولہ باری کی اور خون کی ندیاں بہا دیں، حتیٰ کہ جامع مسجدشہدا کے خون سے رنگین ہو گئی، حافظ الاسد کی طرح اُس کابھائی اور شامی انٹیلی جنس کا سربراہ رفعت الاسد بھی اہلسنّت پر ظلم ڈھانے میں بیباک تھا، جب آمر حافظ الاسد جون 2000ء میں مر گیا تو اُس کے بیٹے بشار الاسد نے پیرس سے آ کر حکومت سنبھالی، یوں شام آج بھی ایک ملحد نصیری گروہ کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بنا ہوا ہے اوربیٹا بھی باپ کے نقش قدم پر چل رہا ہے، 2006ء میں لبنان اسرائیل جنگ کے بعد شام میں شیعہ مذہب کو مزید تقویت ملنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے امام بارگاہیں و مدارس قائم ہونے لگے، مزارات و گزرگاہیں جواہل بیت سے منسوب تھیں، شیعوں کے حوالے کی جانے لگیں،ساتھ ہی نصیری حکومت نے یہ ظلم بھی کیا کہ اِن مدارس اور گزرگاہوں کے ساتھ واقع سنیوں کی مساجد کی انتظامیہ کو بھی ہٹا دیا ۔یاغیر فعال کر دیا اور کئی مقامات پر اصل مزارات کے ساتھ خیالی گزر گاہوں کو مزارات بنا کر پیش کیا جانے لگا، شام کے اصل شیعہ جو انتہائی کم تعداد میں ہیں،بشار الاسد کی حکومت نے اُن کی تعداد بڑھانے کیلئے انہیں دنیا کے مختلف ملکوں سے لاکر شام میں آباد ہونے کی سہولت فراہم کی ،جس کی وجہ سے شام کی اصل سنی آبادی محکوم بننے لگی،اُدھرموقع سے فائدہ اٹھا کر اسلام دشمنوں نے اپنے بہترین ہتھیار (سلفی) دہشت گردوں کو بھی عوام میں ضم کرنے کی کوششیںشروع کردیں۔
جب فروری 2011ء میں مصر میں کامیاب انقلاب برپا ہوا تو حسنی مبارک کا تختہ ا قتدار الٹ گیا ، اِس سے ایک ماہ پہلے تیونس کا جلاد زین العابدین بن علی رخصت ہوا تو مارچ میں شام کے عوام بھی بشار الاسد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، نصیری حکومت نے پرامن مظاہرین پرٹینک چڑھا دیئے،اس کے علاوہ شام کی موجودہ تحریک آزادی کا آغاز ــ’’درعا‘‘ سے ہوا، جہاں ایک اسکول کی دیوار پر حکومت کے خلاف خوشخط نعرے لکھے گئے ،جو کوئی کم عمر بچہ نہیں لکھ سکتا تھا مگر شامی انٹیلی جنس کے اہلکار وں نے اسکول کے بچوں کو گرفتار کرلیا، چنانچہ درعا کے تمام قبائلی افراد مسجد عمری کے امام جو کہ درعا کی بڑی شخصیت اور بااثر فرد تھے کی قیادت میں شامی انٹیلی جنس کے دفتر پہنچے، جہاں انہوں نے حکام کو بتایا کہ یہ بچے بے قصور ہیں، انہیں رہا کیا جائے ،جواب میں شامی اہلکاروں نے کہا کہ’’ اب اِن کو بھول جائو اور نئے بچے پیدا کرو اور اگر نہیں کرسکتے تو اپنی بیویوں کو ایک رات کے لئے ہمارے پاس بھیج دو۔‘‘ قبائلیوں کے نزدیک یہ جملے انتہائی بے غیرتی کے مترادف تھے،چنانچہ آپس میں تلخ کلامی ہوئی اور قبائلی یہ کہہ کر وہاں سے واپس لوٹ آئے کہ اب فیصلہ بروز جمعہ مسجد عمری میں ہوگا،مگر جمعہ کے روز شامی افواج نے مسجد پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچااور کئی مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، اِس کاروائی کے بعد لادین فوج یہ سمجھ رہی تھی کہ اب بات دب جائے گئی مگر یہ وہ چنگاری تھی جس نے سارے شام میں آگ لگا دی۔
چنانچہ اِس واقعہ پر ادلب کے قبائل نے بھی درعا قبائل کی حمایت کا اعلان کردیااور شامی عوام نصیری حکومت سے اپنا حق مانگنے لگے،اب وہ آزادی سے کم بات پر آمادہ نہ تھے، اور شامی نصیری حکومت صرف شک کی بنیاد پر سنیوں کا قتل عام شروع کرچکی تھی اسی دوران ایک اور بڑا واقعہ رونما ہوا، جامع رفاعی کے امام شیخ اسامہ الرفاعی مسجد میں خطبہ دے رہے تھے کہ شامی فورسز نے مسجد کو گھیر لیا، شیخ اسامہ الرفاعی نے فوج سے مذاکرات کئے کہ اگر تمہیں مجھ پر کوئی شک ہے تو مجھ سے بات کرلو، عوام کو جانے دو، جس پر بظاہر وہ راضی ہوگئے، مگر شیخ الرفاعی نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ اپنے معتقدین سے فرمایا کہ پہلے میرے بیٹے مسجد سے باہر جائیں گے تاکہ اگر شہادت ہو تو پہلے میرے بیٹوں کی ہو، جیسے ہی تمام نمازی شیخ اسامہ الرفاعی اور ان کے بیٹوں کی سرپرستی میں مسجد سے باہر نکلنے لگے، فورسز نے اُن پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں شیخ اسامہ الرفاعی شدید زخمی ہوئے اور اسی حالت میں انہیں بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا، بعد ازاں شیخ اسامہ الرفاعی کے معتقدین پورے شام سے جمع ہونا شروع ہوگئے جس پر مجبوراً شامی حکومت نے شیخ اسامہ الرفاعی کو ملک بدر کردیا۔ ایک اور واقعہ میں شام سے واپس آنے والے ایک پاکستانی طالبعلم نے اپنے پولیس اہلکار دوست سے سن کر یہ واقعہ بیان کیا کہ ’’ایک پولیس اہلکار (جوکہ بعد میں جیش حرمیں شمولیت اختیار کرچکا تھا) نے بتایا کہ ملک شام کے علاقے (میدان) میں پہلا بم دھماکہ کیا گیا، تو اس کی ذمہ داری جیش حر پر عائد کردی گئی جبکہ اس کو باقاعدہ پہلے سے ہی وہاں سے ہٹنے کا حکم آگیا تھا، مگرہٹنے میں کچھ تاخیر ہوئی جس کے باعث اُس کے کان کے پردے پھٹ گئے اور وہ بیہوش ہو گیا، اس واقعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی اصل ذمہ دار اسدی حکومت ہے۔
مظاہرین جو آزادی کے گیت گا رہے تھے، ظالموں نے انہیں پکڑ کی اُن کی زبانیں گدی سے کھینچ ڈالیں اور انہیں قتل کر کے لاشیں دریا میں پھینک دیں، بشار حکومت کی وحشی پولیس، فوجیوں اور کرائے کے غنڈوں (حزب اللہ کے شیعہ جنگجو) نے حمص میں جسر الثغور، اور گردونواح اور ادلب جو کہ حلب کے ساتھ ہی ہے یا حلب میں داخل ہے میں سینکڑوں عورتوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ اور بے آبروئی کی ہے، درعا، رستن، جسر الثغور، ادلب اور حمص میں توپوں اور سکڈ میزائلوں سے تباہی مچائی ہے، ہزاروں شہری اپنی جانیں بچانے کے لئے ترکی، لبنان اور اردن میں پناہ گزین ہوئے ہیں، حکومت اپنے مسلح مخالفین اور عام شہریوں کے خلاف مارٹر توپیں، طیارہ شکن توپیں، ٹینک اور میزائل سمیت سارے ہتھیار استعمال کر رہی ہے، عوام کے خلاف اِس طرح فوج استعمال کی جا رہی ہے جیسے ملک پر دشمن حملہ آور ہو گیا ہو، سرحدوں کی طرف جانے والے پناہ گزینوں کا پیچھا کر کے اُن پر فائرنگ اور گولہ باری کی جاتی ہے، کئی لوگ زخمی ہو کر گر پڑتے ہیں، یا مارے جاتے ہیں۔حمص کے ایک قصبے تل کلخ میں ایک حاملہ عورت جو اپنے شوہر کے ساتھ پناہ لینے کے لئے لبنانی سرحد کی طرف بھاگ رہی تھی، سکیورٹی فورسز نے اُسے گولی مار کر شہید کر دیا، اُس کا گناہ اِس کے سوا کیا تھا کہ وہ چاہتی تھی بھاگ کر ظالموں سے اپنی جان بچا لے۔! ‘‘
قارئین محترم !اَمر واقعہ یہ ہے کہ اِس وقت شام میں آبادی کا تناسب بھی اـضطراب کا سب سے بڑا ہے،یہاں سنی عرب اور سنی کرد ملک کی کل آبادی کا تقریبا 80 فیصد ہیں، 10سے 12 فیصداسماعیلی ،علوی نصیری ہیں (جن کی عقائد کے لحاظ سے راسخ العقیدہ شیعہ بھی تکفیرکرتے ہیں)جبکہ 3فیصددروزہیں،حافظ الاسدکا تعلق اِسی چھوٹی سی نصیری علوی اقلیت سے ہے، مگرفوجی انقلاب کے بعد یہی چھوٹی سی اقلیت ملک کے سیاہ وسفید کی مالک ہے،تمام اہم وزارتیں اُس کے ہاتھ میں ہیں،فوج پر اُس کا غلبہ ہے ،ملکی معیشت پر یہی قابض ہیں،اِس کے علاوہ پریس آزادنہیں،علماء اوردینی تعلیم پر زبردست قدغن ہے، حافظ الاسد نے اقتدارپر قبضہ کرکے اپنے خلاف اٹھنے والی ہرآواز دبادی ،ہر قلم کو توڑدیااورہر منبرومحراب کو خاموش کردیا،تاریخ اُس کے اِس جرم کو کیسے معاف کر سکتی ہے جب اُس نے 1982 حماہ اورحلب کے اسلام پسندوں پر ہوائی بمباری کرکے ایک دن میں20ہزار سے زائدلوگوں کو مار ڈالا تھا، حافظ الاسد نے جو ظلم وستم کیا، بعد میں اُس کے بیٹے بشارالاسد نے بھی باپ کی روایات کو بر قرار رکھا،اُس نے بھی اسلام پسندوں کے خلاف محاذ کھول دیا اور پھر وہی ہوا جو اکثر ملکوں میں سیاسی پارٹیاں انجام دیتی ہیں ،یعنی فرقہ وارانہ فساد بر پا کر کے اسلام پسندوں کوکچلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
شام میں پورے پورے خاندان دہشت گرد ی کے نام پر زندہ بموں سے اڑائے گئے ہیں، کم وبیش 40ہزار افراد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے گولیوں سے نشانہ بناکر اجتماعی قبروں میں دفن کردیئے گئے،شام کے شہرحماہ کا 72روز تک ٹینکوں ، توپوں اور بھاری اسلحہ سے محاصرہ جاری رہا ،،یہاں تک کہ پورا شہر ویران کر دیا گیا، نصیری فرقہ سے تعلق رکھنے والے بشارالاسد کی پیشہ ور قاتلوں پر فوج ،اب تک ایران، حزب اللہ اور روس کی مدد سے 90ہزار سے زائد سنی مسلمانوں کو شہید کرچکی ہے اور اسرائیل کے خلاف 1974ء سے جنگ بندی پر عمل پیرا ظالم شامی فوج سنی مسلمانوں پر وہ بھیانک مظالم ڈھا رہی ہے کہ کوئی مکان ،کوئی مسجد اُس کی بمباری سے محفوظ نہیں ہے، حافظ الاسد کے زمانہ سے لے کر اب تک تقریبا نصف صدی سے شام میں ایمرجنسی نافذ ہے ،حکومت کے خلاف کسی کو زبان کھولنے کی اجازت نہیں،جمعہ کے خطبہ میں بھی ظالم حکمراں کی ثناخوانی کیلئے علماء کو مجبور کیا جاتا ہے،شام میں آج بھی کوئی فرد میلاد النبی کے جلسہ جلوس عام منعقد نہیں کرسکتاتھا اور مساجد میں کئے جانے والے میلاد کے دوران جشن سے زیادہ حکومت کی ثناء خوانی لازمی تھی،حال یہ ہے کہ اکثر دینی جلسے اور پروگرام لوگ گھروں کے اندرمنعقدکرنے پر مجبورہیں
حقیقت یہ ہے کہ آج شام میں سنی مسلمانوں کے ساتھ ظلم وجبر کی تاریک داستان رقم ہورہی ہے،لیکن اِس کے باوجود سنی حریت پسند اللہ کی مددونصرت کے بھروسے انقلاب اور آزادی کے لئے نصیری شیعہ اور وہابی دہشت گردوں سے برسر پیکار ہیں،مگرامریکہ کا زرخرید میڈیا اِس بات کو صفحہ تاریخ سے غائب کرنے پر تلا ہوا ہے کہ یہ جنگ سنی شامیوں کی جنگ ہے ،بلکہ یہ ثابت کر نے پر تلا ہوا ہے ۔ وہابی دہشت گرد تنظیموں کی جنگ ہے اور وہی شام کے اصل وارث وحقدار ہیں،میڈیااِس مقصد کے حصول کیلئے جیش حر (Free Syrian Army)جو کہ ایک بڑی سنی حریت پسند تنظیم ہے کو وہابی بنا کر پیش کررہا ہے اورمٹھی بھردہشتگرد نتظیم النصرہ(وہابی)اور لواء التوحید کو شام کی سب سے فعال تنظیم بنا کر دکھا رہاہے ،جبکہ قتالِ توحید اور رجال قدسیہ وغیرہ جو کہ بڑی سنی تنظیمات ہیں، کا کہیں ذکر بھی نہیں ملتا،دوسری جانب وہابی دہشت گرد سنی علماء کرام کو شیعت کا حامی ظاہر کر کے شہید کررہے ہیں،لیکن سادہ لوح سنی عوام بشارت الاسد اور اُس کے نجدی اور سعودی حامیوں (وہابی ) پروپیگنڈے کو سمجھنے سے قاصر ہیں ،حالانکہ دونوں کا اصل مقصد صرف اور صرف ایک ہے ،یعنی صرف سنی مسلمانوں کا قتل عام اور شام سے صفایا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیعہ ویسے تو نصیری مذہب کے خلاف ہیں مگر بشارالاسد کو بچانے کے لئے وہ اُس کے ہم رکاب ہیں،چنانچہ اِن حالات میں حریت پسندوں کی نظریں اپنے اکابرین کی طرف اٹھنے لگیں اور وہ سوچنے لگے کہ یہی وقت ہے ،اپنے آپ کو منظم کرکے آزادی حاصل کرنے کا… مگر صد افسوس کہ اکابرین نے وقت کی پکار کو اہمیت دینا مناسب نہ سمجھا ،کچھ نے حکومتی ڈر اور خوف کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلی تو کچھ نے راۂ عزیمت اختیار کرکے مجاہدین کی حمایت کا اعلان کردیا،ابتداء میں کم وبیش ایک سال تک تنِ تنہاں مجاہدین کی یہ جدوجہد جاری رہی،اِس دوران امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھتے رہے کہ بشارالاسد کی حکومت برقرار رہے گی، مگر آزادی کے لئے نکلنے والے حریت پسندوں نے رکنے کا نام ہی نہیں لیا، امریکہ اور اسرائیل یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ سنی اقتدار میں آجاتے ہیں تو سب سے پہلے اسرائیل سے اپنی چھینی گئی زمین واپس لیں گے اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد مزید تیز ہوجائے گی ،خودبشارالاسد بھی اپنا اقتدار بچانے کیلئے بار بار کہتا ہے کہ اگر اُس کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو شام میں اسلام پسند برسر اقتدار آئیں گے، اسی لیے بعض سنی جہادی گروپ کو امریکہ نے بھی دہشت گرد قرار دے دیا ہے،بظاہرشام میں حکومت سازی کے معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان اختلافات ہیں، مگر اسلام پسندوںکا راستہ روکنے کے لیے امریکہ، روس، چین، ایران، حزب اللہ، اسرائیل اور یورپ ،عرب وہابی سب متحد اور متفق ہیں اوراُن کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ فتنہ وہابیت کو شام میں داخل کرادیا جائے،جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جہاں ایک طرف وہابیت انقلاب کی راۂ میں رکاوٹ بن جائے گی،اگر پھر بھی اقتدار انقلابیوں کے ہاتھ میں آ گیاتو امریکہ القاعدہ کا لیبل لگا کر خود امریکہ شام میں بیٹھ جائیگا، دنیا جانتی ہے کہ یہ وہابی عسکری تنظیمیں امریکہ کی ایسی اجرتی قاتل ہیں جن کا اصل مقصد ہی اپنے حواریوں کیلئے راۂ ہموار کرنا ہے۔اسی میں ان کی زندگی اور بقاء ہے۔
اس سلسلے میں ہندوستان میں بنائی گئی تبلیغی جماعت جو کہ بنائی ہی وہابیت کا راستہ ہموار کر نے کیلئے گئی ہے نے اپنی منافقت سے کئی عشروں کی محنت کے بعد وہابیوں کے لئے پہلے ہی راستہ ہموار کیا ہوا تھا ۔ جس میں شام میں خود کو اہل سنت ظاہر کرکے سواد اعظم اہل سنت کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا جاتا اور بریلوی مسلک جو کہ سواد اعظم اہل سنت ہی ہے اس کے خلاف نفرتیں پیدا کی جاتیں اسی طرح وہ اپنا کام مکمل کرچکے تھے۔اور شام کے دور دراز علاقوں میں وہابیوں نے سادہ لوح افراد کو گمراہ کرنا بہت پہلے سے ہی شروع کررکھا تھا۔ مگر شام کا تعلیم یافتہ طبقہ چونکہ وہابیوں کو جانتا تھا، اس لئے شام میں اُس وقت تک وہابیوں کو بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی پھر اس سلسلے میں مصر کے ایک ٹی وی چینل (وصال) نے فتنہ وہابیت کو ہوا دینے میں بھرپور کردار ادا کیا،خصوصا ایک شخص جس کا نام شیخ عدنان عرعور تھا، شام کا ہیرو بنا کر پیش کیا جانے لگا یہ وہ شخص تھا کہ ملک شام کی سیکولر حکومت نے جس کو اپنی غلیظ حرکات کے باعث فوج سے نکال کر ملک بدر کردیا تھا، اور جب سیکولر کسی کو غلیظ کہیں تو بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا غلیظ ہو گا کہا جاتا ہے کہ اس نے البانی (وہابی) کی کچھ کتابیں پڑھیں، مگر مکمل عالم ہی نہیں ہے،اس نے شامی عوام کے دل میں جگہ بنانا شروع کردی۔ وہ کھلے عام ( دین کیلئے نہیں بلکہ اپنے مغربی آقائوں کے کہنے پر) شامی حکومت کی اصلیت بیان کرنے لگا، شیعوں کا رد کرنے لگا اور سنیوں کو مدد کی امید دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہابیوں کو شام میں گھسنے کا موقع مل گیا۔اور موقع کا فائدہ اٹھا کر (النصرہ) ایک اقلیتی وہابی عسکری دہشت گردتنظیم نے اپنی دیگر ہم مذہب دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ملکر دوردراز علاقوں میں موجود چھوٹے مزارات کی بے حرمتی شروع کردی۔ دوسری جانب آہستہ آہستہ سنی علماء کی قیادت کو بھی شہید کرنا شروع کردیا ۔ اور سنی امام کے پیچھے نماز کو ناجائز قرار دینے کے فتوے دینے شروع کر دیئے اور کم علم سنی نوجوانوں کو جہاد کے نام پر گمراہ کرنا شروع کردیا۔ مستند اطلاعات ہیں کہ اب وہابی ہمارے( سنیوں کے) بچوں کو اغوا کرکے اپنے ممالک لے جارہے ہیں۔اور حجاب میں موجود خواتین کے اگر ذرا سے بھی بال نظر آجائیں تو ان پر اتنا تشدد کیا جا تا ہے کہ کچھ کی شہادتیں بھی واقع ہو گئیں ۔
پوری دنیا میں شامی پناہ گزین کیمپوں میں امدادی کام کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد شروع کردیئے، ان کا مقصد ملک شام کی آزادی  دفاع نہیں بلکہ اپنے باطل مذہب کی تبلیغ تھی اور امریکہ کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ تمام وہابی تنظیموں کو شام کی آزادی سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ دہشت گرد زیادہ تر وقت درسِ قرآن کے نام پر آزادی کے لئے نکلے نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ مگر مصر میں محمد مرسی کے شام کے حق میں بیان کے فورا بعد وہابیوں کی تنظیم النور (وہابی) کی طرف سے اخوان المسلمون (سنی العقیدہ) کی کمر پر جو چھرا گھونپا گیا تھا، اس کے اثرات اب شام پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ شامی عوام کو جس تیزی سے فتنہ وہابیت کی طرف دھکیلا، اس واقعہ کے بعد شامی عوام کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں اور وہابیوں کے خلاف بھی محاذ کھلنے لگے ہیں۔
حال ہی میں جیش حر (Free Syrian Army) کے ایک سنی کمانڈرکمال حمامی کو النصرہ (وہابی) والوں نے مذاکرات کے لئے بلایا اور شہید کردیا۔ اس پر شامی عوام میں وہابیوں کے خلاف شدید نفرت کا اضافہ ہوگیا۔ اور وہابیوں کے خلاف بھی علم جہاد بلند ہونا شروع ہوگئے کیونکہ حریت پسند اب جان گئے ہیں کہ  یہ وہی وہابی دہشت گرد ہیں جنھوں نے افغان جنگ کے دوران اپنی عسکری قوت مضبوط کی ،عراق میں تباہی و بربادی پھیلائی اور لیبیا و ٹمبکٹو وغیرہ میں اپنے قدم جمانے کے بعد اب شام کو اپنی تخریبی کاروائیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، شیعوں کو متعہ پر ملعون کرنے والے اِن لوگوں نے ٹی وی چینلوں پر عارضی شادی کے نہ صرف فتوے جاری کئے بلکہ مسلمان خواتین کو شام جانے اور پوری دنیا سے آئے ہوئے فتنہ وہابیت کے پیروکار نام نہاد مجاہدین کی وقتی زوجہ بننے کی ترغیب بھی دی،جہاد النکاح کے نام سے ایک وہابی مولوی شیخ محمد العریفی نے فتویٰ دیکر تمام مجاہدین (وہابی دہشتگرد) کے زنا کو جائز قرار دیا جب کہ ایک اور سلفی شیخ یاسر اجلوانی نے بھی جائز قرار دیا ۔ تیونس کے ایک مفتی نے اس میں دلال ہونے کا بھرپور کردار ادا کیا اور دیگر ممالک کی طرح تیونس سے لڑکیاں بھیجنے کا انتظام کیا، جس پر اس کو ملازمت سے فارغ بھی کردیا گیا ہے مگر اب وہ لڑکیاں حاملہ ہوکر واپس آچکی ہیں۔ اس حوالے سے مختلف آراء ، مختلف واقعات سامنے آئے، مثلا وہاں لڑکیوں کا غلط استعمال ہوا، زنا بالجبر اور والدین کی اجازت کے بغیر لڑکیوں کا وہاں پہنچانا، مگر بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا کام جس کی شریعت میں کوئی مثال ہی نہیں ملتی، وہ کیوں کیا گیا اور گمراہ نام نہاد مجاہدین /دہشت گردوں کے منہ کو یہ زہر کیوں لگایا گیا؟ دراصل وہابی کفار کی پیداوار ہیں اور فحاشی اور بدکاری ان کی نظر میں گناہ نہیں۔ ابھی ان دہشت گردوں کے منہ کو یہ ذائقہ دیا گیا ہے جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں ہے۔ پھر آگے چل کر جس چیز کی مثال مل جاتی ہے، یعنی لونڈیاں بنانا اور متعہ کرنا، جسے انہی خدشات کی بناء پر ممنوع قرارد یاگیا ہے، کے لئے راہ ہموار کی جارہی ہے تاکہ جسے چاہیں اس کے ساتھ زنا کرلیں اور بعد میں جب ان وحشی جانوروں کو کچھ بھی نہ ملے گا تو یہ شام کی بیٹیوں کو بھی لونڈی کی طرح استعمال کریں گے اور پوری دنیا میں یہ گناہ پھیلا دیا جائے گا۔ قصہ مختصر وہابیوں کے اپنے عقائد کے مطابق ’’ولی‘‘ وارث کی اجازت کے بغیر نکاح حرام ہے تو پھر یہ کیسا نکاح ہے جو لڑکیوں کو ان کے گھروں سے بھگوا کر کرایا جارہا ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہابی اِس جنگ کو طول دے کر اپنے مذموم مقاصد اورعیاشیوں کی تکمیل چاہتے تھے،وہابیوں کے اس طرز عمل سے شامی حکومت کو ایک بار پھر تازہ دم ہونے کا موقع مل گیا ،ایک طرف وہابی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں لگ گئے تو دوسری جانب شامی حکومت نے پوری کی پوری سنی تحریک حریت کو وہابی بناکر دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا۔یہ بات ہر سنی کے علم میں ہونی چاہئے کہ شام کے اِس بحران کو اجاگر کرنے میں شیخ ابوالھدی ا لحسینی اور شیخ ابوالھدی الیعقوبی جیسے دیگرسنی علماء کی کوششیں قابل ذکر ہیں، جو مظلوم سنیوں کی آواز پوری دنیا میں پھیلانے میں مصروف عمل ہیں اور شام کی جدوجہد آزادی کیلئے بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔
کچھ اِس قسم کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ یہ وہابی لوگ اپنا زیادہ تر وقت جنگی ماڈلنگ میں گزارتے ہیں، یہ لوگ اپنے ہم خیال چینل والوں کو بلاتے ہیں یا خود مصنوعی جنگ کی شوٹنگ ریکارڈ کراتے (یعنی سامنے کو ئی دشمن نہیں ہو تا ) اور دنیا کو یہ ظاہر کرتے کہ وہ جہادمیں مصروف ہیں،یہ لوگ شوٹنگ کے بعد وہاں سے نکل جاتے ہیں مگر TV پر اِس فرضی جنگ کے نشر ہوتے ہی حکومت اُس جگہ کو خاک میں ملادیتی ہے، جس سے صرف سنیوں کا نقصان ہوتا ہے ،مزید یہ کہ اِن کی اِس تخریبی کاروائیوں کا لیبل’’ جیش حر‘‘ پر لگایا جاتا ہے،اِس ساری صورتحال کا شامی نصیریوں نے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھایا،یہ لوگ صرف اندھا دھند قتل و غارت گری ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ لوگوںکو پکڑا جاتا ہے، انہیں مارا پیٹا جاتا ہے،اُن کے نازک اعضاء کاٹے جاتے ہیں، آنکھیں نکالی جاتی ہیں ، کچھ کو ذبح کیا جاتا ہے اور کچھ کو زندہ جلا بھی دیا جاتا ہے،یہ لوگ ہر جگہ ایک ہی طریقہ واردات استعمال کرتے ہیں،اِن واقعات کی دردناک ویڈیوز سامنے آنے پر مقامی حکومت کے پرجوش حامی اور مشہور مصنف بسام القادی بھی چیخ اٹھا اور اُس نے کہا کہ ’’یہ بے گناہوں کا قتل عام ہورہا ہے۔‘‘
حیرت کی بات ہے جب لیبیا میں معمر قذافی پر حملے کی بات تھی، تب تو وہابی عرب ،امریکہ اور اُس کے حواریوں نے لمحہ بھی ضائع کئے بغیر دہشت گردوں کو اسلحہ اور فضائی مدد فراہم کی ،مگر جب شام کی آزادی کی بات ہو تو امریکہ اور اُس کے حواری عرب ممالک شام میں سنی انقلابیوں کو اسلحہ کی سپلائی روک رکھی ہے،دوسری طرف وہابیوں کو بے دریغ اسلحہ و دولت فراہم کی جارہی ہے، کیونکہ اگر ابھی اسلحہ دے دیا تو وہ سنی مسلمانوں کے پاس پہنچ جائے گا ۔ اِس وقت شام کا حال یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بھوک و پیاس سے مجبور ہوکر بدعقیدگی پر مائل ہورہے ہیں،دوسری جانب شامی حکومت نے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کیلئے خود مزارات کی بے حرمتی شروع کردی ہے،جس کا مقصد دنیا کے صوفی مذہب کے پیروکاروں کو یہ بات باور کرانا ہے کہ مزارات پر حملہ آور انقلابی وہابی ہیں، یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ جو افراد شامی حکومت کو مزارات سے محبت کرنے والا اور اُن کے تقدس کا خیال رکھنے والا سمجھتے ہیں، انہیں ماضی میں شامی حکومت کا وہ سیاہ کارنامہ یاد رکھنا چاہئے، جب بشار حکومت نے دمشق میں واقع اولیائے کرام کے مزارات والے قبرستان ’’المقابر الصوفیا‘‘ کو ترقی کے نام پر تباہ کردیا تھا، اِس مقدس قبرستان کے ایک حصہ کو مسمار کر نے کی کوشش کی گئی تو بار بار مشینری خراب ہو نے کی کرامت ظاہر ہونے کی وجہ سے بشار حکومت کو وہ جگہ چھوڑ کر سڑک پر چورنگی بنانا پڑی ،اِس قبرستان پر ایک ہسپتال ( مرکز تولید ) بنایا گیا، جامعہ دمشق کو وسیع کرنے کے بہانے معتبر قبور پر پلر ڈال کر عمارت بنا دی گئی، جس کے نیچے صوفیاء کرام کی قبریں آج بھی موجودہیں،اِس عمل سے شامی حکومت کی سفاکی واضح ہوجاتی ہے،جبکہ ابن تیمیہ کی پکی قبر جسے شامی حکومت نے سعودی عرب کے کہنے پر چھوڑ دیاجو آج بھی نصیری حکومت کی منافقت کی کھلی عکاسی کرتی ہے، لہٰذا یہ سمجھنا کہ شامی حکومت مزارات کے تقدس کا خیال رکھے گی، محض ایک بے وقوفی اور خام خیالی کے سوا اور کچھ نہیں۔لہذا شامی نصیری حکومت اپنے مفاد کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے۔
گزشتہ دنوں سامنے آنے والا ایک واقعہ جوکہ صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدی رضی اﷲ عنہ کے مزار اور جسم مبارک کی بے حرمتی کا تھا،شواہد بتاتے ہیں کہ شامی حکومت کی طرف سے خود ہی بنالیا گیا، جس کا ایک مستند شامی مسند سنی عالم الشیخ احمد فاضل نے بھی رد کیا اور کہا یہ واقعہ ایسا نہیں ہے جیسے دکھایا جارہا ہے، مگر میڈیا پر قابض شیعوں نے اِس کی بھرپور تشہیر کی،شام سے پاکستان واپس آئے ہوئے ایک طالب علم نے بتایا کہ ُاس نے شیخ احمد فاضل کے شاگردوں سے رابطہ تو انہوں نے بتایا کہ شیخ احمد فاضل نے اِس واقعہ کا رد کیا ہے جو انٹرنیٹ پر دے دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب ہم نے حضرت حجر بن عدی رضی اﷲ عنہ کے مزار کی بے حرمتی کے واقعہ پر تحقیق کی، تو معلوم ہوا کہ جو تصویر میڈیا پر دکھائی گئی اُس میں سر جسم کے ساتھ جڑا ہوا ہے جبکہ حضرت حجر بن عدی رضی اﷲ عنہ کی شہادت گردن کٹنے سے واقع ہوئی تھی۔ ( بحوالہ طبقاتِ ابنِ سعد جلد ۸، صفحہ ۳۳۹، رقم۳۰۳۹، مکتبہ خانجی قاہرہ)اِس لیے یوں لگتا ہے کہ حکومت نے خود ہی مذہبی منافرت پھیلانے کیلئے یہ ڈرامہ رچایا تھا ، چونکہ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ شیعانِ علی کرم اللہ وجہہ میں سے تھے اس لئے اس بات پر قوی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ شیعوں نے ان کے جسم کو انتہائی ادب سے نکالاپھر اپنا کام کیا اور پھر واپس مل جانے کا ڈرامہ کیا ۔ایک اور سانحہ جو سیدہ بی بی زینب رضی اﷲ عنہا کے مزار (جس کے متعلق تین روایات موجود ہیں ایک روایت میں یہ مزار شریف دمشق میں، دوسری کے مطابق مصر ،جبکہ تیسری کے مطابق جنت البقیع میں ہے ) پر راکٹ حملے کا ہے،جس میں اُس مزار کی بھی بے حرمتی ہوئی،مگرواضح رہے کہ بی بی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کا مزار ہر وقت شیعہ ملیشیاء حزب اﷲ کے تربیت یافتہ کمانڈوز کی حفاظت میں رہتے جو کئی کئی کلو میٹر دور تک اس علاقہ پر قابض ہیں ،اور یہاں شامی فوج نے اپنا کنڑول ان کے حوالے کیا ہوا ہے ۔شامی فوج یہاں موجود نہیں ہاں مگر پاس کے ایک علاقے میں شامی نصیر ی فوج اور حریت پسندوں کی لڑائی جاری تھی کہ ایک راکٹ غیر دانستہ طور پر آگرا،سب کچھ جاننے کے باوجودشامی حکومت نے شامی حریت پسندوںکی تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش کو پروان چڑھانے کا موقع ہاتھ سے نا جانے دیا دراصل حکومت کی اِس سازش کا مقصد شیعوں کو مشتعل کرنا تھا، اور نصیری فوج کے گرتے ہو ئے مورال کو بلند کر نا تھا جس کا ردعمل شامی نصیری فوج اور حزب اﷲکے جنگجوئوں نے حمص شہر میں واقع حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مزار و مسجد پر حملہ کی شکل میں سامنے آیا،شواہدسے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اِس مزار کی بے حرمتی نصیری فوج کے باقاعدہ پلان کا حصہ تھی۔
حضرت بی بی سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے مزار کی بے حرمتی کا واقعہ کے ردعمل میں شامی نصیری فوج اور حزب اﷲ شیعہ جنگجوئوں نے شہر حمص میں موجود حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مزار و مسجد پر حملہ کردیا گیا۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ شہر حمص میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی نسل آباد ہے اور وہاں انتہائی سخت سنی العقیدہ ہیں، ۔ حمص کے 100 سے 150 نوجوان خالدی اپنے والد کے شہر کی حفاظت پر مامور تھے اور ان 100 خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بیٹوں نے پوری شامی نصیری فوج کو حمص میں داخل ہونے سے روک رکھا تھا، مگر وہ مزار سے دور شہر کی سرحدوں پر تھے۔ پھر اچانک انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو نظر سے گزری، جس پر عربی نہ جاننے والوں کو گمراہ کرنے کے لئے لکھا ہوا تھا کہ وہابیوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مزار پر بم حملہ کردیا مگر جب عربی جاننے والے کو ساتھ بیٹھا کر ویڈیو چلائی تو آواز آئی، اﷲ اکبر… شامی حکومت نے پھر بم مار دیا۔ صبح سے یہ 20 واں بم مارا گیا ہے۔ اس حوالے سے مقامی افراد سے تصدیق کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ شیعہ انٹیلی جنس اہلکار خود وہابی بن کر آئے، مسجد پر قبضہ کیا، ایک ہفتہ رہے اور باآسانی زندہ سلامت چلے گئے۔ تصاویر اور ویڈیوز سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مسجد میں شامی انٹیلی جنس کے لوگ تھے۔ واضح رہے کہ وہ مسجد میں موجود تھے مزار میں نہیںاسی لئے مسجد پر کوئی بڑا بم نہیں مارا گیا، صرف گولیاں چلائی گئیں جبکہ مسجد کے ساتھ مزار پر بڑے بڑے بم مارے گئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اگر وہ( حریت پسند) سنی خالدی ہوتے تو آخری سانس تک اپنے والد کے مزار کی حفاظت کرتے اور وہاں سے ان کی لاشیں ہی ملتیں اور اگر وہ وہابی ہوتے تو ایک ہفتہ وہاں رہنے کے دوران قبر شریف کی بے حرمتی ضرور کرتے۔ لہذا یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس مزار کی بے حرمتی بھی نصیری فوج نے باقاعدہ پلان کرکے کی۔
پھر پاکستان میں اہل شیعہ طبقہ فکر کی جانب سے ایک افواہ پھیلائی گئی کہ ملک شام میں حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے مزار کی بے حرمتی ہوئی ہے، مگر خبر آنے کے 10 روز بعد جب وہاں کے مقامی سنی عالمِ دین سے رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ مزار محفوظ ہے اور سنی حریت پسندوں کے کنٹرول میں ہے اور یہ تصدیق ملک شام سے آئے ہوئے پاکستانی طالب علم نے کی۔
کچھ عرصہ قبل الثورۃ الصوفیۃ فی سوریۃ پر جاری ہونے والی  ویڈیو دیکھی جس میں ایک مقدس مقام پر قبور پر ہتھوڑے چلائے گئے اب یہ کون ہیں اس کی تصدیق تو بعد میں ہو گی ۔مگر اس میں جو طریقہ دکھایا گیا ہے ۔ وہ افریقی سلفی وہابیوں کا پسندیدہ بے حرمتی کا طریقہ ہے اس لئے اس بے حرمتی کے حوالہ سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہابیوں نے کی ۔اس پوسٹ کے بعد اگلی پوسٹ میں کچھ قبور کی بے حرمتی کی تصاویر تھیں، غالباً یہ وہی قبور ہیں مگر صاحب قبر کا نام پتہ نہ چل سکا، اس تصویر کے ساتھ شیخ السید عبدالعجان الرفاعی کا بیان ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ان لوگ (وہابی / خارجی) کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوجانا ہمارے لئے سعادت ہے۔ تمام ساداتِ کرام، صوفیاء کرام، اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، اﷲ سے راضی اور اﷲ ان سے راضی ہے۔
اے خارجیو! کان کھول کر سن لو، تم جتنے بھی ظلم ڈھالو، لیکن ہمارے دل سے اﷲ والوں کی محبت نہیں نکال سکتے۔
اے شیطانی گروہ! ہم تمہیں تمہارے گندے افکار سے روکتے ہیں۔ ہم انبیائ، اولیائ، کاملین و صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ یہ ہم پر اﷲ کا کرم ہے۔ ہم تم سے اس بے ادبی و گستاخی کے متعلق پوچھنے کا بھرپور حق رکھتے ہیں۔ شیخ کبیر فرماتے ہیں کہ خارجیوں کی حرکات و سکنات ولیوں کو زندگی میں اور بعد ازوصال بھی پریشان کرتی ہیں۔
یوں شام میں شعائر اﷲ کی بے حرمتی کا آغاز جسے نصیری حکومت نے کیا اس کو آگے بڑھانے کا کام خارجیوں نے سنبھال لیا۔
اہلسنّت کو ایک بڑا نقصان امام رمضان بوطی رحمتہ اﷲ علیہ کی شہادت کا بھی برداشت کرنا پڑا،جنھیں نصیری حکومت نے وہابیوں کے سر پر ڈال دیا ہے،جبکہ حضرت رمضان بوطی رحمتہ اﷲ علیہ کی حفاظت کی ذمہ داری خود شامی حکومت پر عائد ہوتی ہے،اس لئے جو کچھ بھی ہوا وہ شامی نصیری حکومت کی مرضی سے ہوااس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد ایمان کا علاقہ حکومت کے کنٹرول میں ہے جہاں وہابی تو کیا سنی حریت پسندوں کی رسائی بھی ممکن نہیں،لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وہابیوں نے خودکش حملہ کیا جس سے رمضان بوطی علیہ الرحمہ شہید ہوگئے،مگر مقامی شامی اِس بات کو سختی سے تردید کرتے ہیں ،اُن کا ماننا ہے کہ رمضان بوطی علیہ الرحمہٰ تک پہنچنا انتہائی مشکل کام تھا،واضح رہے کہ حضرت رمضان بوطی علیہ الرحمہ وہ شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی جوانی کے ایام میں وہابیوں کے امامِ وقت البانی کے انتہائی قابل شاگرد کو مسئلہ شفاعت، وسیلہ اور محمد بن عبدالوہاب نجدی کے مذہب فتنہ وہابیت کے مسئلہ پر مناظرے میں شکست ِفاش دی تھی،حالانکہ اِس مناظرے میں البانی خود بھی شریک تھااور ذلیل و رسوا ہوا۔ وہابیوں اور حضرت رمضان بوطی علیہ الرحمہ کی دشمنی پرانی تھی، اس لئے شامی حکومت نے خود شہید کراکر الزام وہابیوں پر ڈال دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہابیوں کو موقع ملتا تو وہ ضرور یہ کام کرتے، مگر یہ واقعہ وہابیوں نے نہیں کیا۔ شام کے حالات کے حوالے سے شیخ رمضان بوطی علیہ الرحمہ کا موقف سنی مجاہدین سے قدرے مختلف تھا ،رمضان بوطی علیہ الرحمہ اسدی حکومت کیلئے وقت کی نزاکت اور بین الاقوامی سازشوں کو دیکھتے ہوئے نرم گوشہ رکھنے پر مجبور تھے اور یہ کہتے تھے کہ اسدی حکومت کے مقابلے میں وہابیوں سے نقصان زیادہ ہے اس موقف کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ حکومت کے ہاتھوں غیر اعلانیہ نظر بندی کی زندگی گزاررہے تھے وہ اگر یہ حکمت نہ رکھتے تو ابھی تو صرف انہیں شہید کیا گیا ہے دوسری صورت میں مسلمانوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا،اِس موقف کو بنیاد بنا کر وہابیوں نے کچھ کم علم لوگوں کے ساتھ مل کر رمضان بوطی علیہ الرحمہ کی بے انتہا کردار کشی بھی کی مگر افسوس وہابیوں کی یہ خواہش دل میں ہی رہ گئی کہ آپ کی شہادت شامی عوام کے ہاتھوں انتہائی درد ناک ہو کیونکہ دنیا نے دیکھا کہ آپ کی شہادت منبر پر بیٹھ کر قرآن سامنے رکھ کر مسجد ایمان پر ہوئی اور جس شان سے آپ کا جنازہ نکلا وہ پوری دنیا نے دیکھا ، جس طرح سنیوں کی تحریک آزادی کو یرغمال بنانے کی کوششیں جاری ہیں وہ سب جانتے ہیں جہاں ایک طرف شیعہ ،سنی مسلمانوں کو ختم کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہابی(دہشتگرد)سنی علماء کرام کو شہید کر رہے ہیں،رمضان بوطی علیہ الرحمہ کے حوالے سے کچھ اِس قسم کی بھی اطلاعات ملی ہیںکہ شام میں مسلمانوں کے قتل عام کو دیکھ کر حضرت رمضان بوطی علیہ الرحمہ بہت زیادہ کرب میں تھے اور نظر بندی سے نکلنا چاہتے تھے تاکہ شام کی عوام کیلئے کچھ کر سکیں اس سلسلے میں میری شیخ ابولھد ی الیعقوبی سے بات ہوئی شیخ یعقوبی فرماتے ہیں کہ شیخ حضرت رمضان بوطی علیہ الرحمہ نے اپنے ایک قریبی دوست کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا کہ وہ سوریا سے نکلنا چاہتے ہیں مگر اس بات کا حکومت کو پتہ چل گیا۔ یہی وجہ تھی کہ شامی انٹیلی جنس نے آپ کو شہید کر دیا ۔ اگر امام رمضان بوطی علیہ الرحمۃ سنیوں کے ساتھ شامل ہوجاتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے قارئین محترم !اَمر واقعہ یہ ہے کہ شام کے سنی مسلمان بشار الاسد کی ظالم حکومت سے نجات حاصل کرنے کیلئے کوشاں اور مصروف جہاد ہیں،مگر دمشق، حلب، حمص، دِرعا، اِدلِب اور قصیر میں سنی خون کی بہتی ندیاں دیکھ کر بھی مسلم دنیا کی اکثریت صرف اِس وجہ سے اُن کے حق میں آواز اٹھانے سے خائف ہے کہ امریکہ بہادر نہ ناراض ہوجائے،اور اگر محمد مرسی جیسا مخلص مسلمان حمایت کا اعلان کر بھی دے تب یہود و نصاریٰ کو اپنا پلان تباہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر جو ان کا حال ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے سعودی وہابی کس طرح امریکہ کی حمایت کرتے ہیں اس سے کون واقف نہیں؟جبکہ اقوامِ متحدہ کے اپنے اعداد وشمار کہتے ہیں کہ اب تک شام میں 93 ہزار سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں،عالمی ذرائع ابلاغ اِس بات کی بھی تصدیق کرچکے ہیں کہ حزب اللہ اور ایرانی مسلح گروپس شام میںاِس قتل و غارت کے ذمہ دار ہیں، دوسری طرف یہودی و عیسائی خوش ہیں کہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہاہے،اُن کی نسل کشی ہورہی ہے،آج عالمی منظر نامہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ شام کا عراق جیسا حال کر نے کی تیاری مکمل کر چکا ہے،مستقبل میںآدھا شام شیعوں کے پاس ہو گا تو آدھا وہابیوں کے پاس ،اِس وقت مسلم ممالک میں صرف ایک ترکی ہی ہے جو بشار الاسد کے مظالم کا سب سے بڑا مخالف اورواضح طور پر اسلامیان شام کاحامی ہے،مگر عالم اسلام کی بے حسی کے وجہ سے اس کا بھی زیادہ تر فائدہ وہابی اٹھا رہے ہیں  دوسری جانب بشار الاسد کی حمایت نہ ہونے کے برابر ہے،اُسے عالمی تنہائی کا سامنا ہے، ظلم و ستم کی کاروائیوں کے لیے اُسے صرف ایران اور روس سے امداد مل رہی ہے،یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ انقلاب ایران کے بعد ایران میں ہزاروں علماء اہلسنّت کو شہید کیا گیا،، آج یہی صورت حال شام میں ہے، وہاں 1200 سے زائد علماء کو شہید کیاجا چکا ہے،جبکہ ہزاروں علماء کے قریبی ممالک میں پناہ لینے کے باوجود شام اور اردن میں موجود علماء کی غالب اکثریت انقلابی مجاہدین کی حامی ہے۔
21اگست 2013؁ء  میں ملک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کردیا گیا۔ اس سانحہ کو بھی دنیا کے سامنے الجھا دیا گیا ہے۔ ہر بار کی طرح دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے، مگر یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ شہید کون ہورہا ہے؟ ۱۴۲۹ شہادتیں ہو ئیں جن میں 426 بچے تھے اور جو  تمام کی تمام سنی تھے خصوصاََ دین اسلا م کو جو بڑا نقصان ہوا اس میں قابلِ ذکر علاقہ زملکا کے الشیخ حضرت رشاد الشمس رحمۃ اللہ علیہ کی اپنی بیوی بچوں سمیت شہادت ہے حضرت رشاد الشمس رحمۃ اللہ علیہ دین اسلام کا وہ چمکتا ستارہ تھے جنہوں نے اپنی جوانی کے عالم میں دین اور انقلاب کیلئے اتنی بڑی بڑی خدمات و قربانیاں انجام دیں یہ سعادت اللہ کی طرف سے چند منتخب افراد کو ہی ملتی ہے ۔
الجزیرہ پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اب ملک شام میں بچے بھوک سے مرناشروع ہوگئے ہیں اور ان بچوں کو روٹی کی بھیک مانگنا پڑ رہی ہے۔
اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ شام کی تحریک مزاحمت نے آزادی کو شام کے حال اور مستقبل کا مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے، شام کے لوگوں کی عظیم سنی اکثریت مطالبہ کررہی ہے کہ اب انہیں آزادی کے سوا کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے،دوسری جانب بشارالاسد کی اپنی مقبولیت عوام اور فوج میں کم ہو رہی ہے اور فوجیوں کی بڑی تعداد تحریک مزاحمت کا حصہ بن رہی ہے،اگرچہ امریکہ ، یورپ اور خود خطے کے نام نہادمسلم ملکوں نے شام میں جعلی حزب اختلاف کو تخلیق کرنے کی بہت کوشش کی ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مصنوعی حزب اختلاف کی مقبولیت میں اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ،شام میں مجاہدین آزادی کی مزاحمت جاری ہے اور زمینی حقائق ظاہر کررہے ہیں کہ مستقبل میں شام میں قیادت کا خلا صرف اور صرف سنی اسلام پسند ہی پْر کر یں گے اور انہیںآزادی کی منزل سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی ،عین ممکن ہے کہ یہ وہی لوگ ہوں جن کے بارے میں پیغمبرانقلاب ﷺ نے فرمایاہے۔
’’میری اُمت کا ایک گروہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے قتال کرتا رہے گا، ان کو کسی کی ملامت سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، وہ اپنے دشمنوں سے لڑتے رہیں گے، اللہ لوگوں کے دلوں کو ان سے متنفر کر دے گا تاکہ وہ خود ان پر اپنی رحمتیں برسائے، حتیٰ کہ آخری وقت آجائے گا، جیسے کہ سیاہ تاریک رات، وہ لوگ اس سے ڈریں گے تو ان کو ڈھال دے دی جائے گی‘‘، اور نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’وہ اہل شام ہونگے‘‘ پھر نبی کریمﷺ نے اپنی انگلی سے شام کی طرف اشارہ کیا، یہاں تک کہ آپﷺ تھک گئے۔‘‘  (روایت سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ،تاریخِ دمشق، باب ما جاء عن سید المرسلین فی أن أہل دمشق لا یزالون علی الحق ظاہرین، ج۱، ص۲۶۰۔۲۶۱۔ دار الفکر بیروت، تحقیق علی شیری ۔امام بخاری نے تاریخ کبیر میں روایت کیا۔)
( اس مضمون کی تیاری میں80فیصد معلومات شام سے تعلیم حاصل کرنے والے اُن پاکستانی طالب علموں سے لی گئی ہیں جنہوں نے ملک شام میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جو جنگ کے حالات دیکھ کر پاکستان واپس آئے، جبکہ دیگر معلومات علماء کرام ، اخبارات اور کچھ پرنٹ میڈیا سے لی گئی ہیں۔)
خلاصہ کلام
آج ایک بار پھر ہم (سنی مسلمان) اس بحث میں پڑے ہوئے ہیں کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں یا مسواک کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے۔
خدارا! ان مسائل سے نکل کر دشمنان اسلام کی سازشوں پر نظر ڈالیں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ دین اسلام کا نام لیوا اس دنیا میں کوئی نہیں بچے گا۔
جب کوئی کام نہ کرنا ہو تو اس کے لئے دلائل کے انبار لگا دیئے ہیں۔ مسئلہ شام کے حوالے سے بھی ہمارا یہی رویہ ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ صرف علم حاصل کرو، مدرسے بنائو، اسی میں نجات ہے۔ کسی کا موقف ہے کہ نماز پڑھو، اسی میں نجات ہے، کوئی کہتا ہے کہ ہمارے قریب اس مقام پر جہاد ہے، وہاں زیادہ ضرورت ہے (حالانکہ وہاں کے لئے بھی کچھ نہیں کہا ہوتا اور نہ کرنے کا ارادہ ہوتا ہے) کوئی کہتا ہے یہ شیعہ اور وہابیوں کی جنگ ہے، اس سے دور رہنا چاہئے۔ کسی کا موقف ہے کہ بشارالاسد تو سنی ہوگیا تھا۔ اس کے خلاف جنگ کیسی؟ اور کوئی کہتا ہے کہ صاحب جو تحریر آپ نے لکھی ہے، خود اس میںآپ کا موقف درست نہیں۔… جہاد کب فرض ہوتا ہے؟ وغیرہ
لہذا ایک بار پھر تمام دنیا کے سنی صوفی مسلمان میرا موقف سن لیں:
1… ملک شام میں پچھلے 40 سالوں سے سنی مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ اس کی ذمہ داری اسدی حکومت پر آتی ہے۔
2… بشارالاسد کے باپ حافظ الاسد نے بھی توبہ کی تھی مگر اس نے فوج میں نماز پر پابندی، فحاشی اور سنی علماء اور عوام کا قتل عام جاری رکھا تو کیا ہم اس کو اچھا آدمی کہیں گے؟
3… سوا لاکھ سے زیادہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا، لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کرنے والا اپنے ملک میں قرآن کی یہود ونصاریٰ کے الفاظ کی تشریح میں نصاریٰ کی تشریح پر پابندی لگانے والا، خود مزارات کی بے حرمتی کروانے والا کیا مسلمان ہوسکتا ہے؟
4… اور جب ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ پر بیٹھے رہیں گے اور سوئی کی نوک پر فرشتے گنتے رہیں گے تو کیا وہابیوں کے آنے کا مواقع دینے میں ہم برابر کے گناہ گار نہیں؟
5… ایک سال تک سنی اکیلے اپنی آزادی کی جنگ لڑتے رہے، ہم نے مدد کیوں نہیں کی؟
6… شام میں شہید ہونے والے مظلوم صرف اور صرف سنی ہیں مگر ہم مسواک کی لمبائی پر بحث میں مصروف ہیں؟
خدارا! بے حسی ختم کردیں اور دین کے چھٹے رکن (جہاد) کو دوبارہ سے اپنا کر دین مکمل کرلیں۔ اگر نہیں کرسکتے تو خدارا جو عاشق رسولﷺ یہ کام کررہے ہیں، ان کی بھرپور  مدد کریں، جن خاندانوں میں اب کوئی مرد نہیں بچا، ان کی ہر طرح سے  مدد کریں، جن کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، ان کی مدد کریں۔ اگر کچھ نہیں کرسکتے تو شام سے محبت ضرور کریں،خدارا! ان کی مدد کردیں۔
اگر اپنی استطاعت کے مطابق آپ کچھ کرسکتے ہیں اور بے حسی و بزدلی کے باعث خاموشی پر ہی قائم رہیں تو انتظار کریں اس وقت کا جب خدانخواستہ آپ کی اولاد نصیری ختم کردیں گے اور خواتین کو وہابی اپنی لونڈی بنالیں گے۔