تفسیرسورۃ العلق (قسط 4)
آیت مذکور ’’علم الانسان‘‘ میں انسان سے مراد، ایک قول کے مطابق ہر انسان ہوسکتا ہے، کیونکہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے
واﷲ اخرجکم من بطون امہٰتکم لاتعلمون شیأ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلم تشکرون (النحل 78)
’’اوراﷲ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھ اور دل دیئے کہ (علم سیکھو اور) تم احسان مانو‘‘ (کنزالایمان)
دوسرا قول یہ ہے کہ انسان سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیںکیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں علم، الاسماء (ناموں کا علم) سکھایا (البقرہ: ۳۱)
تیسرا قول یہ ہے کہ انسان سے مراد ہمارے آقا و مولیٰ سیدنا محمد مصطفیﷺ ہیں کیونکہ آپ کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
وانزل اﷲ علیک الکتٰب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲ علیک عظیما (النساء 113)
’’اور اﷲ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری، اور تمہیں (وہ سب کچھ) سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اﷲ کا تم پر بڑا فضل ہے‘‘ (کنزالایمان) (تفسیر قرطبی)
یہ بات قابل غور ہے کہ سورۃ العلق کی آیت 5 میں علم کو قلم کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا حالانکہ اس سے قبل آیت 4 میں قلم کے ذریعے سکھانا مذکور ہے اور قلم سے دیا ہوا تمام علوم لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اب آیت 5 کا مفہوم یہ ہوا کہ انسان کو وہ علم بھی عطا ہوا جو قلم کے ذریعے ملتا ہے اور وہ بھی جو قلم کے علاوہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی، خشک و تر چیز ایسی نہیں جو لوح محفوظ میں تحریر نہ ہو۔
ولا رطب ولا بس الا فی کتب مبین (الانعام 59)
جب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا وعلم اٰدم الاسمآء کلہا
اﷲ نے آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھائے اور پھر فرشتوں سے وہ نام پوچھے تو وہ بتا نہ سکے۔ اگر آدم علیہ السلام کا علم وہی تھا جو لوح محفوظ میں لکھا ہے تو پھر فرشتے جواب کیوں نہ دے سکے۔ معلوم ہوا کہ انسان کو دیا ہوا علم لوح محفوظ میں تحریر علم سے زیادہ ہے۔
بقول امام شرف الدین بوصیری علیہ الرحمہ
فان من جودک الدنیا و ضرتہا
ومن علومک علم اللوح والقلم
’’یارسول اﷲﷺ! دنیا اور آخرت آپ کی سخاوت کاایک حصہ ہیں اور لوح و قلم کا علم آپ کے علوم کا ایک حصہ ہے‘‘ (قصیدہ بردہ شریف)
دنیا اور آخرت کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا ذکر قرآن میں نہ ہو۔ ارشاد ہوا۔
ونزلنا علیک الکتبٰ تبیانا لکل شیء (النحل 89)
’’اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے‘‘ (کنزالایمان)
یعنی تمام علوم اور ماکان و مایکون یعنی جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ آئندہ ہوگا، سب کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا اس میں علم ہے
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کا ارشاد ہے ۔ اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو میں قرآن کریم کے ذریعے اسے تلاش کرلوں گا۔
علوم و معارف کی ایسی جامع کتاب رب تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو سکھائی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الرحمن o علم القرآن
’’رحمان نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا‘‘ (الرحمن 2-1، کنزالایمان)
اور اس شان سے سکھایا کہ
سنقرتک فلا تنسیٰ
’’اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے‘‘ (الاعلیٰ: ۶، کنزالایمان)
جب استاد کامل و اکمل ہے، شاگرد کامل و اکمل ہے اور پڑھائی جانے والی کتاب بھی کامل و اکمل ہے تو پھر یقینا مصطفی کریمﷺ کا مقدس سینہ تمام علوم و معارف کا گنجینہ ہے۔ بالفاظ دیگر جب تمام الہامی علوم اور ساری گزشتہ و آئندہ باتوں کا علم قرآن کریم میں ہے اور قرآن کریم سینۂ مصطفیﷺ میں ہے تو پھر تمام علوم سینۂ مصطفیﷺ میں کیوں نہیں؟ ارشاد باری تعالیٰ ہوا۔
علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا o الا من ارتضیٰ من رسول
’’غیب کا جاننے والا (اﷲ ہے) تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے‘‘ (الجن 27-26، کنزالایمان)
’’سید المرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ مرتضیٰ رسولوں میں سب سے اعلیٰ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضورﷺ کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں کے لئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے‘‘ (تفسیر خزائن العرفان)
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول کریمﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور آپ نے ابتدائے تخلیق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں یہاں تک کہ جنتیوں کے جنت میں جانے اور جہنمیوں کے جہنم میں جانے تک کے تمام حالات و واقعات بیان فرمادیئے۔ جس نے یاد رکھا، یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا، بھلا دیا (صحیح بخاری)
اول الذکر حدیث کے اس حصے پر غور کیجئے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے حضورﷺ کو تین بار اپنے سینے سے لگا کر اس قدر دبایا کہ حضور اکرمﷺ کو مشقت محسوس ہوئی۔ یہ دبانا یقینا رب تعالیٰ کے حکم سے تھا۔ اس کی ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرح نبی کریمﷺ کو ملکوتی صفات کے ساتھ ایک خاص مناسبت حاصل ہوجائے اور آپﷺ کے لئے وحی کا برداشت کرنا آسان ہوجائے۔
آیت 6 تا آیت 8
ارشاد ہوا ’’ہاں ہاں! بے شک آدی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا، بے شک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے‘‘ (کنزالایمان)
سورۃ العلق کی آیت 6 سے آخر تک تمام آیات ابوجہل کے رد میں نازل ہوئیں مگر ان سے وہ تمام انسان مراد ہوسکتے ہیں جن میں مذکورہ علامات پائی جائیں۔
سابقہ آیات میں بتایا گیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو ان باتوں کا علم دیا جنہیں وہ نہیں جانتا تھا۔ اس علم کا تقاضا تو یہ تھا کہ انسان عقل و فہم سے کام لے اور ہدایت کے راستے پر چلے، لیکن انسان مال و دولت اور آسائشوں کی وجہ سے سرکش ہوجاتا ہے اور وہ خود کو اپنے رب سے بے نیاز اور مستغنی سمجھ لیتا ہے۔ دراصل وہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد اپنے رب ہی کے پاس جانا ہے۔
یہاں انسان سے مراد وہ شخص ہے جو کفر اور تکبر میں حد سے گزر گیا (مظہری)
قرآن حکیم میں کئی جگہ اس بات کا ذکر ہے کہ جب انسان خوشحال ہوجاتا ہے تو اسے مال و دولت اور دیگر نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو وہ اس خوشحال کو اپنی تدبیر وذہانت اور علوم و فنون میں مہارت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ اور کہتا ہے…
انما اوتیتہ علی علم عندی (القصص 78)
’’یہ تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے‘‘ (کنزالایمان)
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس انسان میں تکبر اورغرور پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ مال و دولت کی کثرت دیکھ کر دوسروں کو حقیر اور خود کو فرعون و قارون سمجھنے لگتا ہے۔
غیب بتانے والے آقا ومولیٰﷺ نے فرمایا۔ جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اﷲﷺ! ہم میں سے ہر کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا۔ یہ تکبر نہیں، بلکہ حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے (مسلم)
اس صورتحال میں اسے حق بات سمجھائی جائے تو وہ ٹھکرا دیتا ہے اور خالق و مالک کی بندگی چھوڑ کر نفسانی خواہشات کی بندگی میں لگا رہتا ہے۔ اس طرح وہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے۔
’’ہاں ہاں! بے شک آدمی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھلیا، بے شک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے‘‘
اے کم عقل!  تو خود کو سمجھ سے بے نیاز اور غنی سمجھتا ہے حالانکہ اگر تو غور کرے تو صرف مال و دولت اور آشائشوں کے حصول ہی میں نہیں بلکہ اپنی ہر ہر حرکت اور ہر ہر چیز میں تو میرا محتاج ہے (سورۃ الواقعہ کی آیات 58 تا 72 ملاحظہ فرمائیں)
اے ناسمجھ! یہ سرکشی کب تک؟ اگر تو ہزار سال بھی زندہ رہے تو بہرحال تیرا انجام تو موت ہی ہے۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا دنیا میں کوئی بھی منکر نہیں۔ تو جب تم مرو گے تو تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور پھر تمہیں اپنے رب کے پاس اپنی سرکشی و نافرمانی اور اپنے ظلمو تکبر کا حساب دینا پڑے گا۔ ارشاد ربانی ہے
ولا تحسبن اﷲ غافلا عما یعمل الظلمون انما یوخرہم لیوم تشخص فیہ الابصار (ابراہیم 42)
’’اور ہرگز اﷲ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (وہ) انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی‘‘ (کنزالایمان)
رب تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں، بے نیاز ہے، وہ کسی نافرمان کو نہ پکڑے تو اس کی شان بے نیازی مگر جب پکڑلے تو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔
مامن دابۃ الا ہواخذ بنا صیتہا (ہود 56)
’’کوئی چلنے والا نہیں جس کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں نہ ہو‘‘
ان بطش ربک لشدید (البروج 12)
’’بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے‘‘ (کنزالایمان)
ان الی ربک الرجعی کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ مرنے کے بعد بارگاہ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے
اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم کسی مصیبت و مشکل میں پھنس جائو جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو، یا تم کسی آفت کی وجہ سے مفلس و محتاج ہوجائو تو پھر تمہیں اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف آنا ہوگا اور اسی سے فریاد کرنی ہوگی۔ چونکہ ایسا شخص ناشکرا ہوتا ہے اس لئے جب مصیبت ٹل جائے تو پھر وہ اپنے رب سے غافل ہوجاتا ہے ارشاد ہوا۔
واذا مس الانسان الضردعا نالجن بہ او قاعدا او قائما فلما کشفنا عنہ ضرہ مرکان لم یدعنا الی ضرمسہ
’’اور جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، لیٹے اوربیٹھے اور کھڑے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو چل دیتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا (یونس 12، کنزالایمان)
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں