زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

in Tahaffuz, December 2013, متفرقا ت

 اگر اس طرح عامل لوگ بیرون ملک کا سفر کرواتے تو پاکستان میں ینگ ماڈرن نسل نظر ہی نہ آتی…
ان عاملوں کے القابات …ستاروں کی چال کے ماہر، علم نجوم کے بے تاج بادشاہ، کالے اور سفلی عمل کی کاٹ کے
ماہر جناب عامل نجومی فلاں فلاں بنگالی، افریقہ اور یورپ میں شہرت کے بعد اب آپ کے شہر میں…

اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک پارہ نمبر 1 سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 102 میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: ’’او راس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے، لوگوں کوجادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے، جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بے شک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بے شک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بچیں، کسی طرح انہیں علم ہوتا‘‘
آج ہر تیسرے محلے میں نام نہاد روحانی عامل اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں، ان کی چمکتی دمکتی دکانوں میں بہت سے کالے کام دن دہاڑے ہورہے ہیں۔ سادہ لوح لوگوں کی جان، مال، عزت اور ایمان سے کھلم کھلا کھیل رہے ہیں۔ ہر جگہ ان جعلی عاملوں کا کام زوروں پر نظر آرہا ہے اور یہ لوگ مزید اپنے کام کو اشتہارات کے ذریعے پھیلائے جارہے ہیں … جی ہاں یہ عامل لوگ اپنی شہرت کے لئے اخبارات میں بھی اشتہار لگواتے ہیں اور جگہ جگہ دیواروں پر چاکنگ بھی کرواتے ہیں اور مختلف کارڈز بھی چھپواتے ہیں۔ پھر ان کے چیلے یہ کارڈز لے کر سڑک پر سگنل کے پاس کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہی گاڑیاں رکتی ہیں، تو یہ جلدی جلدی ہر گاڑی میں کارڈز اچھال کر پھینک دیتے ہیں۔
واہ! کیا خوب طریقہ اپنایا ہے شہرت کو پھیلانے کا… اس کارڈ پر اﷲ و رسول عزوجل وﷺ کے نام مبارک بھی لکھے ہوتے ہیں، کس قدر بے ادبی اور بے حرمتی ہوتی ہے ان مقدس ناموں کی… مگر ان کم عقلوں اور کم بختوں کے دل ودماغ پر اپنی شہرت کے دائرے کو وسیع کرنے کا ایسا بھوت سوار ہوتا ہے کہ اس بات کا ان کو بالکل بھی احساس نہیں ہوتا…!!
کچھ لوگ اس کارڈ کو گاڑی کے کسی کونے میں دبا دیتے ہیں تاکہ مقدس ناموں کی مزید بے حرمتی نہ ہو اور مسائل میں گھرے ہوئے لوگ اسے پڑھ کر اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ کیونکہ اس پر لکھا ہی کچھ ایساہے… صرف ایک رات کے عمل سے ہر مسئلہ کا حل، شادی میں رکاوٹ، منگنی کا نہ ہونا یا ہوکر ٹوٹ جانا، گھریلو ناچاقی، سنگ دل محبوب آپ کے قدموں میں، شوہر کو راہ راست پر لانا، نوکری کی بندش، کاروبار کی بندش اور بیرون ملک سفر… اب آپ خود سوچیں کہ بیرون ملک سفر یہ بات حیرت والی ہے یا نہیں… ایک ایسا آدمی جس کی جیب میں مہینے بھر کے خرچے کے لئے تو پیسے پورے نہیں اور اوپر سے ٹھہرا انڈر میٹرک… وہ لگے گا عامل بابا کے قدموں سے اور پہنچ جائے گا باہر… اگر اس طرح عامل لوگ بیرون ملک کا سفر کرواتے تو پاکستان میں ینگ ماڈرن نسل نظر ہی نہ آتی… ان عاملوں کے القابات …ستاروں کی چال کے ماہر، علم نجوم کے بے تاج بادشاہ، کالے اور سفلی عمل کی کاٹ کے ماہر جناب عامل نجومی فلاں فلاں بنگالی، افریقہ اور یورپ میں شہرت کے بعد اب آپ کے شہر میں۔
سادہ لوح لوگ اس کارڈ کے چکر میں اپنا پیسہ خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں اور جو غریب ہے وہ قرضے لے لے کر خرچ کرتا ہے، پہلے کی پریشانیاں بھی اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں اور قرضے کے بوجھ تلے دب کر مزید پریشانی بڑھا لیتا ہے۔ یہ نادان لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر اس طرح ہر کام ہوجاتا تو آج ہر جگہ امن و سکون نہ ہوتا… ہر گھر خوشیوں کا گہوارہ نہ بن جاتا… اور اگر ان عاملوں کے عمل میں اتنی تاثیر ہوتی تو لوگوں کے مسائل حل ہوتے نظر آتے… مگر مسائل ہیں کہ بجائے کم ہونے کے دن بدن بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں… کبھی ٹی وی پر بھی پٹی چل رہی ہوتی ہے کہ ایک ہی کال میں گھر بیٹھے اپنے مسئلہ کاحل پائیں، پریشان حال، مسائل میں جکڑا ہوا شخص فورا نمبر نوٹ کرکے جب کال کرتا ہے تو آگے سے جواب ملتا ہے۔ یہ ہمارا ایڈریس نوٹ کرلیں۔ صرف ایک بار ملاقات کریں۔ آپ کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے… بتائے ہوئے ایڈریس پر ذلت و خواری کے بعد پہنچ تو گیا اب آگے سے عامل بابا نے یہ کہہ دیا کہ صرف سات ہزار تم نے دینے ہوں گے، ہم نقش تیار کریں گے۔ وہ تم لے جانا اور ہاں جلدی کرنا کیونکہ انہی تاریخوں میں یہ نقش تیار کیا جاتا ہے… جتنی جلدی پیسے دو گے اتنی جلدی کام ہوجائے گا۔ اس نقش سے تمہاری زندگی کا ہر مسئلہ حل ہوجائے گا… ہائے افسوس ایک تو مسائل میں گھرا ہوا اور اوپر سے بے روزگار گھر کا چولہا جلانے کے لئے پیسے پورے نہیں پڑے، کہاں سے پریشان بندہ سات ہزار لاکر دے گا… اس کا مسئلہ نقش سے حل ہو یا نہ ہو مگر عامل بابا کا سات ہزار سے حل ہوجاتا۔ نہ جانے ان لٹیروں نے کتنوں سے سات سات اور پانچ پانچ ہزار لوٹے ہوں گے۔
ایک اور بات جو قابل غور ہے کہ ان عاملوں کے پاس مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوتی ہے اور یہ عامل بھی عورتوںکی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور عورتوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیتے ہیں۔ ان کے عمل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جب تک عورتوںکو چھوئیں گے نہیں ان کا تعویذ اثر نہیں کرے گا اور یہ بے وقوف عورت جو دوسروں کا گھر برباد کرنے میں لگی ہوئی ہے، کہیں شادی کی بندش کروا رہی ہے اور کہیں اولاد کی بندش اور کہیں کاروبار کی بندش، میاں بیوی میں لڑائی اور جدائی وغیرہ جیسے عمل کروا کر اپنے ہی عزیزوں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں لگی رہتی ہے۔ ہر طرح کی بندشیں رکاوٹیں کروا کر دوسروں کے گھروں کا سکون تباہ و برباد کرنے والی یہ نادان عورتیں صبح ہوتے ہی بڑی چادر کا نقاب لگا کر تاکہ پہچان نہ لے، عامل بابا کے دروازے سے لگ جاتی ہیں اور اپنے آپ کو عقلمند و زیرک سمجھنے والی بعض عقل سے ناپید عورتیں تو ایسی بھی ہیں جو کہ ہندو اور عیسائی بھنگی کے پاس بھی جانے سے گریز نہیں کرتی۔ان کے دروازے تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔
یاد رکھئے کہ ہندو اور عیسائی کے پاس علاج تعویذ کے عمل کے لئے جانا گناہ کبیرہ ہے اور کالا جادو کرنا اور کروانا دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے… دوسروں کی خوشیوں کے قاتل… کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ خوشیاں تو ویسے بھی عارضی ہیں اور دنیا کو تو ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہے… نادان لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دوسروں کو اگر سکھ نہیں دے سکتے تو دکھ بھی نہ دیں۔ کیونکہ خود غرضی کرتے ہیں اور دوسروں کا نقصان چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی اپنی کتاب پرواز خیال میں لکھتے ہیں کہ:
درخت
دھوپ میں کھڑا، سورج کی گرمی میں تپتا ہے
اور لوگ اس کی چھائوں میں آرام کرتے ہیں
پھول!
ہنس ہنس کر لوگوں کا من بہلاتا…
اور جی خوش کرتا
… کبھی وہ پھل میں بدل جاتا ہے… جو جانداروں… کے لئے غذا اور دوا کے کام آتا ہے
درخت!
درختل لگتا ہے، تو فائدہ… بے ثمر کھڑا ہے تو فائدہ، پھل پھول دیتا ہے تو فائدہ… اُکھڑتایاکٹتا… یا مرتا ہے تو فائدہ…
ہمارے فرنیچر بنتے… چولہے جلتے… کھانے پکتے ہیں… کہ درخت کا یہ سارا عمل آس پاس جاری ہے… بالکل بے غرض ہوکر
اے انسانو!
تم نے اپنے آنگن یا حویلی کے پیڑ سے بے غرضی نہ سیکھی؟
گھر سے باہر
اس سانپ سے خود غرضی سیکھ لی… جو اپنے بچوں ہی کوکھا جاتا ہے
یاایھا الانسان افلاتتفکرون
اے انسانو!… ذرا سوچتے کیوں نہیں؟
ایک طرف جعلی عادل سادہ لوح لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف نام نہاد پیر شعبدے بازی دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں… مزید بے چارے ان ڈھونگی پیروں کے شعبدے بازیوں کو کرامات سمجھ رہے ہوتے ہیں… ان سادہ طبیعت عقیدت مندوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ پیر صاحب کتنے بڑے بہروپئے ہیں… ان عیار و مکار پیروں کی راتیں عیاشیوں میں اور دن بدمعاشیوں میں گزرتے ہیں…ان کی نظریں صرف مریدوں کے نذرانوں پر ہوتی ہوں کہ کون کتنے دے رہا ہے… کیونکہ انہی مریدوں کے نذرانوں سے تو نیا بنگلہ، نئی کار اور دیگر نت نئے شوق پورے ہوں گے۔
مرید سادہ تو رو رو کے ہوگیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق
ان بے شرع پیروں کی مریدنیاں جن میں جوان، بوڑھی اور ادھیڑ عمر بھی شامل ہیں، یہ بڑی عقیدت اور جرأت سے اپنے پیر صاحب کے ہاتھوں کو چومتی ہیں پھر پیر صاحب بھی بڑی محبت سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہیں… پیرصاحب کی گپیں سن سن کر مریدنی کا دل زیادہ مچلنے لگتا ہے تو آگے بڑھ کر پائوں چوم کے دبانا شروع کردیئے… اپنے باپ دادا کے ہاتھوں کو چومنا ان کے پائوں دبانا تو بہت دور کی بات، ایسا سوچتے ہوئے بھی ان محترمہ کو شرم آتی ہے… واہ جی کیا بات ہے ان کے شرم و حیاء کی…!!!
کاش کے ان پیر صاحب نے اپنی مریدنیوں کو اپنے عقیدت مندوںکو سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 33 ہی پڑھ کر ترجمہ کے ساتھ سنائی ہوتی۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک پارہ نمبر 22 سورۂ الاحزاب کی آیت نمبر 33 میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو، جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی
اﷲ عزوجل سورۂ الاحزاب کی آیت نمبر 59 میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوںکی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔
اﷲ عزوجل سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 36 میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اﷲ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اﷲ اور اس کے رسول کا وہ بے شک صریح گمراہی بہکا۔
یہ بے شرع پیر جس کو خود شریعت و طریقت کا پتہ نہیں ہے۔ اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کو کیا تعلیم دے گا کیا سکھائے گا۔ اس کو تو عورتوں کی بیعت کی بھی معلومات نہیں۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک پارہ نمبر 28 سورۃ الممتحنہ کی آیت نمبر 12 میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اے نبی! جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اﷲ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمان نہیں کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اﷲ سے ان کی مغفرت چاہو، بے شک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورﷺ سے عورتوں کی بیعت صرف کلام سے ہوئی اور حضورﷺ کا دست مبارک کسی عورت کے ہاتھ سے مس نہ ہوا۔
میرے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا فتویٰ تو یہ ہے کہ:
’’بے شک غیر محرم سے پردہ فرض ہے جس کا اﷲ و رسول نے حکم دیا۔ بے شک پیر مریدنی کا محرم نہیں ہوجاتا۔
ان بے شرع اور بے غیرت پیروں کو بالکل احساس نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے اہل حق علمائ، صوفیائ، صاحبزادے، سجادہ نشین اور سچے کھرے پیر بدنام ہورہے ہیں۔ ان کی نیچ حرکتوں کی وجہ سے بدمذہبوں کو اہل حق کی طرف انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ بدمذہبوں کو تو موقع چاہئے بس… جانتے وہ بھی نہیں کہ
یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں زرتابی قبائوں میں
سحر کا نام لے کر رات کی تعلیم دیتے ہیں
ایک قابل غور پہلو کہ ان جعلی عاملوں اور پیروں میں بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس جانے کے لئے کئی پتلی پتلی، ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے گزر کر جانا پڑتاہے۔ کبھی کسی نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہے۔ اتنے نامی گرامی بابا اور یہ پتلی پتلی گلیاں… اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کبھی چھاپہ پڑ جائے تو ان کو چھپ چھپا کر بھاگنے میں آسانی رہے۔ اور دوسری طرف جو عامل بابا اور پیر صاحب سربازار بیٹھے ہیں… مین چوراہوں پر … انہوں نے اپنی اور اپنے دھندے کی حفاظت کے لئے بھتہ دیا ہوا ہوتا ہے… بھتہ کس کو دیا جاتا ہے… یہ تو آپ بھی جانتے ہوں گے… اسی وجہ سے تو یہ جعلی عامل اور نام نہاد پیر قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ مگر کسی کو نظر نہیں آتا… اور اگر نظر آ بھی جائے تو نظر انداز کردیتے ہیں۔ کوئی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔
اور میں صرف اتنا کہوں گی کہ سچ کہا ڈاکٹر علامہ اقبال نے…
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن