شاعر محبت شاہ عبد اللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ

in Tahaffuz, December 2013, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

شاعر محبت وعظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی 1106ھ بمطابق 1689ء میں ہالہ حویلی ضلع حید رآبا د میں پیداہوئے آپ کے والد حبیب اﷲالمعروف شاہ حبیب کے نام سے معروف تھے۔آپ کے آباؤ اجد اد کا تعلق افغانستان کے صوبے ہرات سے تھا جب امیر تیمو ر ہند وستان پر حملہ آور ہونے کیلئے ہرات سے گذراتو شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے جدامجد سید میر علی نے امیر تیمو ر اور اسکے لشکر کی دعوت کا اہتمام کیا اور سپائیوں کی تعداد کے برابر رقم نذر کی ۔امیر تیمو ر ان کی میزبانی سے بہت متاثر ہوا ہند وستان کی فتح کے بعد سید میر علی کے چاروں فرزند وں کوبالترتیب اجمیر ،ملتان ،بکھر ،سہون ،کا حاکم مقر رکیا جبکہ سید میر علی اور ان کے ایک بیٹے سید حیدر شاہ کو اپنے ہمراہ ہرات میں رکھا حید رشاہ کچھ عرصہ بعد والد سید میر علی اور امیر تیمو ر کی اجازت لے کر ہالا سند ھ میں آکر آباد ہو گیا سند ھ کی معروف شخصیت شاہ محمد کی بیٹی سے آپکا نکا ح ہو ا والدکے انتقال کی خبر آنے پر آپ دوبارہ ہرات افغانستان گئے ان کی بیوی حاملہ تھی ایک بیٹے کو جنم دیاجس کا نام داد اکے نام پر میر علی رکھا گیا سید میر علی نے دوشادیا ں کیں ایک ہالا خاندان میں اور دوسری ایک ترک خاتون سے کی دونوں سے صاحب اولاد ہوئے دونوں کے یہاں بیٹے پید اہوئے ہالا خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے بیٹے کا نام سید شرف الدین اور ترک خاتون سے تولد ہونے والے کانام سید احمد رکھا ،شرف الدین کی اولاد شرف پوٹرااور سید احمدکی اولادمیرن پوٹراسے مشہور ہوئی حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تعلق شرف پوٹراخاندان سے ہے آپ کاخاندان ِسادات سے تعلق ہے 23واسطوں سے آپ کا شجرہ نسب حضرت موسیٰ کاظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے آپ کی تعلیم وتربیت سے متعلق واضح معلومات دستیاب نہیں بعض مورخین نے لکھاآپ کو علم لدنی حاصل تھا آپ کی شاعری سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کو قرآن وحدیث کے علوم پرعبور حاصل تھا ،سیروسیاحت اور سفر میں بزرگوںکی کتب اور مثنوی مولاناروم ہمراہ ہوتی تھی آپ کی تعلیم سے متعلق ایک واقعہ کتب میں موجو د ہے آپ کے والدنے آپ کو آخوند نورمحمدبھٹی کے مکتب میں بھیجا استاد نے کہا کہ پڑھوبیٹا الف شاہ صاحب نے دھرایا الف جب استاد نے کہا کہ ’’ب ‘‘شاہ صاحب نے پڑھنے سے انکا ر کردیا اورلفظ ’’ب‘‘ کی ادائیگی سے انکار کردیا استاد نے شاہ حبیب سے شاہ بھٹائی کی شکا یت کی شاہ حبیب جو خو د بھی تصوف کے رمو ز جانتے تھے سمجھ گئے کہ’’ الف‘‘ اﷲکی ذات پر دلالت کر تا ہے اور اس کے بعد تمام حرف ماسواء ہیں جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں اس مو قع پرشاہ حبیب نے کہااس میں کلام نہیں جو تم نے کہا صحیح کہا لیکن ظاہری تعلیم بھی ضروری ہے شاہ عبد اللطیف سلسلہ قادریہ سے منسلک تھے لیکن آپ نے چشتیہ،سہروردیہ اور نقش بندی سلسلوں سے بھی فیض پایا اس کے علاوہ فلسفہ وحدت الوجود سے بھی متاثر تھے آپ اکثر مزارات کی زیا رت پرجاتے جن میں مخدوم نوح،مخدوم بلاول اور اپنے پر دادا شاہ عبد الکریم بلڑی والے ،آپ صوفی شاہ عنایت (جھوک )سے بھی متاثر تھے ان سے ملاقات کیلئے تشریف لے جاتے شاہ عنا یت سلسلہ قادریہ میں مخدوم عبدالملک برہان پوری سے بیعت تھے شاہ عنایت کی شہادت نے شاہ بھٹائی کوبھی متاثر کیا جس کا اظہارآپ کی شاعری میںبھی نظرآتا ہے۔ علاوہ ازیں خطے کے سیاسی حالات ،داخلی ،خارجی ،کمزوریوں ،ایران وافغانستان کی یلغار،مغلیہ حکومت کا زوال پذیر ہونا ان عوامل نے بھی آپ کو متاثر کیا جس کا اظہا ر آپ کے کلام میں نظر آتا ہے ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تزکیہ نفس اور روحانی تکمیل پرزور دیا رنگ اور نسل وطن ومذہب اور قوم سے بالاتر ہوکر انسان دوستی کابلند معیار پیش کیا آپ کے نزدیک فلاح کی صرف ایک صورت ہے کہ انسان اپنی اصل منزل کو پیش نظر رکھے وہ ہے معرفت الٰہی کا حصول ہے انسان کی زندگی اس کیلئے آزمائش ہیں اس کے پا س کچھ بھی تو اپنا نہیں ہے ۔پھر غرور کس بات کا ہے انسانی عظمت کا معیار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ کس قوم وقبیلے سے تعلق رکھتا ہے کون سی زبان بولتا ہے کس نظریئے کا حامل ہے بلکہ اس کی حقیقی بڑائی اس میں ہے کہ وہ دوسروں کے کس قدرکام آتاہے شاہ صاحب کی فکر کامرکز ومحور ہے کہ انسان دوسرے انسان سے محبت کریں ،ایثار ،مروت ،منکسر مزاجی کوپروان چڑھائے شاہ صاحب نے اپنی فکروخیالات کو اشعار کے ذریعے بیان کیا اگرچہ سندھی شاعری کی ابتداء سومرودور کے آغاز (1032/1350)میں ہوئی 711؁ھ میں محمد بن قاسم کی آمد اور عرب حکومت کے قیام سے سندھ کی سرکا ری زبان عربی ہوگئی ،غزنوی اور غوری ادوارمیں فارسی نے سندھ میں ترقی پائی عربی فارسی کے باوجو دسومرو اور سمہ دور میں سندھی زبان کی حوصلہ افزائی کی گئی سندھی زبان کے پہلے شاعر شاہ لطیف اﷲ قادری کو شما رکیا جاتا ہے لیکن جو شہر ت وپذیرائی شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی شاعری کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی آپ کا مشہو ر زمانہ دیوان شاہ جو رسالوجیسے عالمگیر شہرت حاصل ہے دنیا کی بیشتر زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اورہورہے ہیں پی ایچ ڈی (P.H.D)اور ایم فل کے مقالے لکھے گئے اور لکھے جا رہے ہیں شاہ صاحب نے اپنا تمام تر پیغام قرآن ،حدیث اور فکر اولیاء پر مرکوز کیا آپ کا تمام کلام الہا می ارشادات کے گرد گھو متا ہے ۔آپ فرماتے ہیں یہ جو تم اشعار سمجھتے ہویہ دراصل قرآنی آیا ت کی تفسیر ہیں اگر تم ان پر غورفکر کروگے تو رب سے مل  جاؤ گے شاہ صاحب کو سر ،وسماع سے بھی شغف تھا جس پر علماء نے سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا اسے خلاف شرع قراردیا مگر شاہ صاحب اپنے اس عمل پر دلیل دیتے ہیں کہ ایک درخت لوگوں کی فلاح وبہبو د کیلئے ہے لیکن پانی کی قلت کا شکا ر ہے اگر پانی نہ ملے تو وہ سوکھ جائے گا اور بہت بڑا نقصان ہو جا ئے گا بالفرض ماسوا،ایک گند ے تالاب کے اور کہیں پانی دستیاب نہیں اس صورت میں آپ درخت کو سوکھ جانے کو ترجیح دیں گے کہ اسے بچالیا جائے ،سب ہی اس پر متفق تھے کہ گندے پانی سے درخت کو سیراب کریں گے اب شاہ صاحب نے لوگوں کو بتایا کہ ان کا قلب ،محبت ایزدی کا درخت ہے جو سُر سے سیراب ہو تا ہے اگرسُر کی غذا نہ ملے تو سوکھنا شروع ہو جا تا ہے آگے لوگ مزید بحث نہ کرسکے اور چلے گئے ۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سے منسوب ہے کہ ایک مرتبہ آپ شاہ عبد اللطیف بھٹائی سے ملاقات کی خاطر ہالا آئے شاہ صاحب کو اطلا ع ہوئی آپ نے اپنے خدام سے کہاکہ جلدی سے مخدوم صاحب کی آمد سے قبل آلات سُر کو چھپا دوتاکہ ان کی ان پرنظر نہ جائے ،خدام نے حکم کی تکمیل فرمائی دوران ملاقات اچانک سروں کی آوازآنے لگی شاہ صاحب ومخدوم صاحب ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوئے شاہ صاحب نے خدام کی جانب نظر دوڑائی کہ آوازیں کہا ں سے آرہی ہیں، تلاش کیا جائے پر دیکھا کہ آوازیں کمرے سے آرہی ہیں مخدوم صاحب اور شا ہ صاحب کمرے کی جانب بڑھے تو کیا دیکھا کہ جو آلا ت سُر کمرے میں چھپائے گئے تھے وہ ازخود بج رہے تھے جس پر مخدوم صاحب نے سکوت اختیار فرمایا لیکن یہ ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ شاہ صاحب نے سُر و سماع کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ ضرورت کہتے تھے ۔