امام احمد رضا کا تصور عشق ۔ عالمگیر تحریک، عالمگیر ضرورت

in Tahaffuz, December 2013, ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری, متفرقا ت

جن کے باغ حسن کی بہاروں سے گلشن کونین کی نمود وتازگی ہے، ایسے کثیر الفضائل اور پاکیزہ خصائل کہ زمانے نے ان کی مثال نہ دیکھی، نہ سنی، نہ دیکھے نہ سنے… گلشن میں گلاب تو سب دیکھتے ہیں مگر گلاب میں گلشن جسے دیکھنا ہو وہ محمد عربیﷺ کے چمنستان، صورت و سیرت کی سیر کرے، اسے احساس ہوجائے گا کہ شبستان وجود اسی ایک گلاب کی نکہت بیزی کاصدقہ ہے… اسے حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا فروغ نظریہ حسن اعتقاد کی برکت کہئے کہ انہوں نے محبت و عشق کے لئے اسی سچے سورج اور اچھے گلاب کا انتخاب کیا، جن کی غلامی میں کونین کی بادشاہی پنہاں ہے اور جن کی محبت انسان کو اس معراج کمال سے آشنا کرتی ہے جہاں سے ’’محبت الٰہیہ‘‘ کے سوتے پھوٹتے، چشمے لہراتے ہیں اور ایک معمولی انسان بھی ’’عشق مصطفی‘‘ کے صدقے میں ’’محبوب خدا‘‘ کے تمغے سے سرفراز کردیا جاتا ہے… حضرت رضا بریلوی اسی جان رحمت پر اپنی متاع فکر اور سرمایہ حیات لٹا رہے تھے، کبھی تحریر سے… کبھی تقریر سے… کبھی نثر سے… کبھی نظم سے… کبھی جلوت سے… کبھی خلوت کے مزے لے کر … اور کبھی خلوت میں جلوہ کی انجمن سجا کر… کبھی غلامانہ شان سے آں… کبھی دور، کبھی پاس… کبھی سوز، کبھی ساز… کتنی رنگینی ہے عشق مصطفی میں اور کتنے جلوے ہیں اس بندۂ خدا کے… دیکھئے! دیکھئے! ذرا محبت کا یہ انداز دیکھئے:
سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے
باغ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے
حرماں نصیب ہوں تجھے امید گہہ کہوں
جان مراد و کان تمنا کہوں تجھے
گلزار قدس کا گل رنگیں ادا کہوں
درمان درد، بلبل شیداں کہوں تجھے
تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
لیکن رضاؔ نے ختم سخن اس پہ کردیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے
اس کائنات میں کے پردۂ نگاری سے نامعلوم کتنی عظیم شخصیات نے جلوے دکھائے ہیں۔ اس پھیلی ہوئی زمین پر نامعلوم کیسے کیسے جیالے افراد نے نازک خرامی کی ہے۔ کائنات کی اس وسیع و عریض فضا میں نامعلوم کیسی کیسی ہستیوں کے قوت و فکر عمل نے اجالا کیا ہے۔ تاہم ان میں کتنی شخصیات اور کتنے افراد ہیں جنہیں زمانے نے یاد رکھا ہے یا کائنات کے دامن پر جن کے انمٹ اثرات و نقوش ہیں۔ پردۂ عدم میں چھپ جانے کے بعد بھی ان کی یادوں سے محفل محفل جگ مگا رہی ہو…ان کا نام آتے ہی عقیدتوں کے بوجھ سے پیشانی جھک جاتی ہو… ان کے ذکر و تذکرے سے وادی وادی گونج رہی ہو… جن کی یاد آنکھوں کا نور اور جن کی بات دل کا سکوں بن کر چھا جاتی ہو… جو چھپ کر بھی جلوہ نما ہو… جو جاکر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہو… اگر دفینہ کائنات میں کچھ ایسی ہستیاں ہیں اور یقینا ہیں تو ان کی فہرست میں حضرت رضا بریلوی کا نام بھی روشن اور نمایاں ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جمال الدین اسلم حضرت رضا بریلوی اور مولانا آزاد کے افکار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
’’برصغیر میں نیشنلسٹ آزاد کو تغافل اور اہلسنت کے علمبردار احمد رضا کو بقائے دوام نصیب ہوا‘‘ امام الہند‘‘ کا احترام کیا جاتا ہے ان کی پیروی یا تقلید نہیں کی جاتی… ’’امام اہلسنت‘‘ مولانا احمد رضا خان کی زندگی میں بھی اور بعد وفات بھی لاکھوں کی تعداد میں پیرو ملے… فاضل بریلوی امام اہلسنت بن کر مخصوص ہوگئے‘‘ (۱)
حضرت رضا بریلوی کا یہ فیضان محبت ہے کہ جدھر دیکھئے ادھر ہی ان کے پیغام کے پھریرے لہراتے نظر آرہے ہیں۔ خصوصا برصغیر کی دینی، علمی، روحانی فضا مدرسہ، مسجد، خانقاہ ان کے ذکر و اذکار کے جاں بخش ترانوں سے گونج رہی ہے۔ کل انہوں نے کہا تھا…
کیوں رضاؔ آج گلی سونی ہے
اٹھ مرے دھوم مچانے والے
آج ان کے دیوانوں نے وہ دھومیں مچادی ہیں کہ دروبام جھومنے لگے ہیں۔ تعلیمی، تصنیفی، دعوتی اور اشاعتی اداروں کے ذریعہ ان کی زریں خدمات پروقت کی پڑی ہوئی غبار کی تہوں کو ہٹایا جارہا ہے۔ سورج چمکنے لگا ہے، روشنی پھیلنے لگی ہے۔
یہ ان کا زندہ و تابندہ احساس ہے کہ انہوں نے چراغ عشق بجھنے  نہ دیا، دولت ایمان لٹنے نہ دی۔ ان کے زمانے میں جیسی گستاخی خدا و مصطفی سے لبریز کتابیں مارکیٹ میں آنے لگی تھیں، یہ ان کی غیرت عشق کی آواز اور مجاہدانہ للکار کا اثر ہے کہ بعد کے دور میں یہ سلسلہ ٹوٹا اور حالت یہ ہے کہ آج لوگ بارگاہ رسالت میں بے ادب ہونے سے جھجھکتے ہیں۔ دلوں میں احترام و عقیدت کے بند سوتے پھر سے جاری ہوئے ہیں اور محبت کا ماحول بنا ہے۔ حضرت علامہ عبدالحمید صاحب شیخ الجامعہ حیدرآباد دکن رقم طراز ہیں۔
’’مولانا احمد رضا خاں صاحب سیف الاسلام اور مجاہد اعظم گزرے ہیں، اہلسنت و جماعت کے مسلک و عقائد کا ایک مضبوط قلعہ تھے، آپ کا مسلمانوں پر احسان عظیم یہ ہے کہ ان کے دلوں میں عظمت و احترام رسول کریمﷺ اور اولیائے امت کے ساتھ وابستگی برقرار ہے۔ خود مخالفین پر بھی اس کا اچھا خاصا اثر پڑا اور ان کا گستاخانہ لب و لہجہ درست ہوا‘‘ (۲)
کہنے والے نے بڑی سچی بات کہی ہے کہ امام احمد رضا کا خمیر تین چیزوں کا مرتکب تھا۔ علم، عمل اور عشق۔ کمال علم نے شاہراہ حیات و کائنات کی پیچیدگیاں واضح کیں۔ جلوۂ عمل نے شبستان رضا کی جلوت و خلوت میں امیدوں کا سویرا اور صبح یقین کا اجالا بکھیرا اور کیفیت عشق نے حال وقال محبوب کا وہ لبالب جام عطا کیا کہ رضا کے وجود سے عشق رسول کے شرارے پھوٹنے لگے اور دنیا کی زبان پر ’’عاشق مصطفی‘‘ کا مقدس لقب جاری ہوگیا۔ ان کی ہر ادا عشق مصطفی کا ایک نیا عنوان تھی۔ مختلف انداز و اسلوب میں آپ نے اپنا ’’تصور عشق‘‘ ایسا واضح فرمادیا کہ جو آگے چل کر رہروان کوچۂ محبوب کے لئے مینارۂ نور ثابت ہوا اور اب تو لوگ اسی اجالے میں دیدار محبوب کا سفر کرنے میں فخر بلکہ قبولیت سرکار کی ضمانت سمجھنے لگے ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے۔ حضرت رضا بریلوی نے ایک ایسے ماحول میں ہوش کی آنکھیں کھولی تھیں جہاں رہزن، رہبر کے لباس میں بڑی عیاری سے کام کررہے تھے۔ مومنوں کے دلوں سے عشق مصطفی کی چنگاری بجھا دینے کے لئے نامعلوم کیا گیا ہتھکنڈے آزمائے جارہے تھے، نبوت مصطفی، محبت مصطفی، عظمت مصطفی، معجزات و کمالات مصطفیﷺ جو اصل دین و ایمان اور روح اسلام و قرآن ہیں، چن چن کر بڑی بے رحمی سے ان غنچوں کو مسلا اور کلیوں کچلا جارہا تھا۔ ایسے دلدوز، روح فرسا، المناک ماحول میں حضرت رضا بریلوی ہی تھے جو اس طرح کے ہر حملے کا بڑی پامردی سے دفاع فرما رہے تھے۔ ایک وفادار غلام کی طرح آقا کے دامن عظمت پر چلنے والے ہر تیر کے لئے اپنا سینہ سپر کئے ہوئے تھے اور ایک مخلص جانثار کی طرح ہر وار پر تڑپ تڑپ جاتے تھے۔ غرض کہ آپ کے تمام تر کارناموں کا خلاصہ صرف عظمت رسالت کا تحفظ ہے۔ ان کی کتابوں سے جلوہ عشق لٹاتے چند اقتباس پیش خدمت ہیں جن سے امید ہے کہ محبوں کا دل باغ باغ اور منافقوں کا سینہ داغ داغ ہوجائے گا۔ ملاحظہ فرمایئے! آسمان عشق رضا کے چند کھلتے ہوئے تارے اور گلشن عشق رضا کے چند مہکتے ہوئے پھول سجایئے، ان تاروں سے اپنے دامن دل کو اور معطر کیجئے۔ ان پھولوں سے اپنی حیات و کائنات کو۔
٭… عبادت ان کی کفر اور بے ان کی تعظیم حبط (برباد، ناقابل اعتبار، منہ پر مار دیئے جانے کے قابل) ایمان ان کی محبت و عظمت کا نام ہے (۳)
اسی مفہوم کو آپ نے اشعار میں اس طرح ڈھالا ہے
اﷲ کی سر تابقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان، وہ انسان ہیں، یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
٭… اگر مسلمان ہو تو ماں باپ کی عزت کو اﷲ و رسول کی عزت سے کچھ نسبت نہ مانو گے۔ ماں باپ کی محبت و حمایت کو اﷲ و رسول کی محبت و خدمت کے آگے ناچیز جانو گے۔ تو واجب واجب واجب لاکھ لاکھ واجب سے بڑھ کر واجب کہ ان کے بدگو سے وہ نفرت و دوری و غیظ و جدائی ہوکہ ماں باپ کے دشنام دہندہ کے ساتھ کا ہزاروں حصہ نہ ہو (۴)
اور حدائق بخشش میں فرماتے ہیں:
نور الٰہ کیا ہے محبت حبیب کی
جس دل میں یہ نہ ہو وہ جگہ خوک و خر کی ہے
اور تم پر میرے آقا کی عنایت نہ سہی
منکرو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
٭… بوجہ اطلاق آیات حضور اقدسﷺ کی تعظیم جس طریقے سے کی جائے گی حسن و محمود رہے گی، اور خاص خاص طریقوں کے لئے ثبوت جداگانہ درکار نہ ہوگا۔ نبی کریمﷺ کی تعظیم کے ساتھ جن میں اﷲ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک کرنا نہ ہو ہر طرح امر مستحسن ہے۔ ان کے نزدیک جن کی آنکھوں کو اﷲ تعالیٰ نے نور بخشا ہے (۵)
اور حدائق بخشش میں فرماتے ہیں۔
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
کیجئے چرچا انہی کا صبح و شام
جان کافر پر قیامت کیجئے
٭… ہر نعمت قلیل یا کثیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دنیوی، ظاہری یا باطنی روز اول سے اب تک، اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت تک، آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر، مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جن یا حیوان، بلکہ تمام ماسوائے میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی، اس کی کلی انہی کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے اور کھلے گی۔ انہی کے ہاتھوں پر بٹی، بٹتی ہے اور بٹے گی۔ یہ سر الوجود، واصل الوجود وخلیفۃ اﷲ الاعظم وولی نعمت عالمﷺ ہیں۔ یہ خود فرماتے ہیں ’’انا ابوالقاسم، اﷲ یعطی وانا قاسم‘‘ (میں ابو القاسم ہوں، اﷲ دیتا اور میں تقسیم فرماتا ہوں) (۶)
اسی مفہوم کو حدائق بخشش میں یوں شعر کے قلب میں پیش کرتے ہیں:
بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے صبر کی ہے
لاورب العرش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اﷲ کی
٭… حضورﷺ کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا۔ اب حضورﷺ مزارِپرانوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پرنورﷺ کی طرف توجہ۔ حضور سے توسل، فریاد و استغاثہ طلب شفاعت کہ حضورﷺ اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔ مولانا علی قاری علیہ الرحمہ الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
’’روح النبیﷺ حاضرۃ فی بیوت اہل الاسلام‘‘
(ختم النبوۃ) اور اعتقاد الاحباب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’حضورﷺ نے حضرت نجاشی کی نماز جنازہ ادا فرمائی تو حضرت نجاشی کی میت سامنے نظر آرہی تھی حالانکہ وہ میت حبشہ میں موجود تھی اور حضورﷺ مدینہ منور میں تشریف فرماتے تھے۔ یہ امر آپ کے شاہد کل ہونے پر دلالت کرتا ہے‘‘ (۸)
اسی مفہوم کو اپنے نعتیہ دیوان میں یوں شعر کا لبادہ بخشا ہے:
سر عرش پر ہے تری گزر، دل فرش پر ہے تری نظر
ملکوت وملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ یہ عیاں نہیں
لامکاں تک اجالا ہے جس کا وہ ہے
ہر مکاں کا اجالا ہمارا نبیﷺ
٭… انبیائے کرام کی حیات حقیقی، حسی، دنیاوی ہے۔ ان پرتصدیق وعدۂ الٰہیہ کے لئے محض ایک آن کو موت طاری ہوتی ہے۔ پھر ویسے ہی ان کو حیات عطا فرمادی جاتی ہے۔ اس حیات پر وہی احکام دینیوی ہیں، ان کا ترکہ بانٹنا نہ جائے گا، ان کی ازواج کو نکاح حرام نیز ارواح مطہرات پر عدت نہیں۔ قبور میں نماز پڑھتے، کھاتے پینے ہیں (۸)
اسی مفہوم کو نعت کے قالب میں یوں ڈھالتے ہیں۔
انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات
مثل سابق وہی جسمانی ہے
روح تو سب کی ہے زندہ ان کا
جسم پرنور بھی روحانی ہے
تو زندہ ہے واﷲ، تو زندہ ہے واﷲ
مری چشم عالم سے چھپ جانے والے
٭… وہ بشر ہیں لیکن عالم علوی۔ 7 لاکھ درجہ اشرف و احسن، وہ انسان ہیں مگر ارواح ومالک سے ہزار درجہ الطف۔ وہ خود فرماتے ہیں: ’’لست مثلکم‘‘ میں تم جیسا نہیں (رواح الشیخان) ’’ویروی لست کھیئتکم‘‘ میں تمہاری ہیئت نہیں ویروی ’’ایکم مثلی‘‘ تم میں کون مجھ جیسا ہے؟ آخر علامہ خفاجی کو فرماتے سنا آپ کا بشر ہونا اور نور درخشندہ ہونا منافی نہیں۔ گویا
محمد بشرﷺ لاکا لبشر
بل ہو یاقوت بین الحجر
(قمر التمام فی مفی الظل عن سیدالانام) (۹)
اور حدائق بخشش میں یوں اظہار فرماتے ہیں۔
اﷲ کی سر تابقدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان یہ
تیرے خلق کو حق نے عظیم کہا
تیرے خلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا
تیرے خالق حسن و ادا کی قسم
٭… حضور پرنور سید عالمﷺ بلاشبہ اﷲ عزوجل کے نور ذاتی سے پیدا ہیں۔ حدیث میں وارد ہے:
ان اﷲ تعالیٰ قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ
بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرما دیا (رواہ عبدالرزاق و نحوہ عندالبیہقی)
حدیث میں نورہ آیا ہے۔ فرمایا ہے جس کی ضمیر اﷲ کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے: من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔ علامہ زرقانی رحمہ اﷲ اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں۔ من نورہ ای من نور ذاتہ (صلوٰۃ الصفائ) (۱۰)
اسی عقیدے کو آپ نے اپنے اشعار میں بھی بیان کیا ہے:
وہی نور حق، وہی ظل رب، ہے انہی سے سب، ہے انہی کا سب
نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں
شمع دل مشکوٰۃ تن سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لئے آیا ہے سورہ نور کا
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
سبحان اﷲ! ان منتخب اقتباسات میں سے آپ چاہے جس کو دیکھئے ہر اقتباس اپنی جگہ پر واقعی نور کا ٹکڑا ہے۔ بارگاہ رسالت سے آپ کی وابستگی کتنے عروج پر تھی اس بلندی کا اندازہ لگانے کے لئے تو رضا بریلوی کی نظر اور رضا بریلوی کا دل و دماغ درکار ہے۔  آپ نے نثر و نظم کے ذریعہ الفاظ کے پیکر میں عشق حبیب کا وہ علم بھردیا ہے کہ مفاہیم کے پرت کے پرت کھولتے جایئے، ان کے جذبے کی گہرائی ہاتھ نہیں آنے پاتی اور ناچار یہی کہنا پڑتا ہے کہ ان احساسات و تصورات کی پاکیزگی و رنگارنگی تولی اور ناپی نہیں جاسکتی۔ وہ ادا شناس ادب تھے، اس لئے ان کی تخلیقی قدروں کی پیمائش کے لئے اولین شرط ادا شناس ادب ہونا ہے۔ ماہر رضویات ڈاکٹر محمدمسعود احمد مظہری فرماتے ہیں:
’’رضا بریلوی کا مطالعہ و مشاہدہ بڑا وسیع تھا اس لئے ان کا ذہنی افق وسعتوں کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے۔ ہم ان وسعتوں میں پرواز کرتے ہیں مگر پانہیں سکتے اس کی حدود کو چھو نہیں سکتے۔ ان وسعتوں کے باہر جانا تو بہت دور کی بات ہے، فکروفن کے بھی سماوات ہیں ان کی پہنائیوں کو وہی پاسکتے ہیں جو ادا شناس ادب ہوں‘‘ (۱۱)
اس ادا شناس عشق و ادب نے پون صدی پہلے جو نغمے الاپے تھے، جو پھریرا لہرایا تھا، جو پرچم بلند کیا تھا اور عالم اسلام کو بارگاہ رسولﷺ کی قربت و نسبت کا جو درس دیا تھا، آج زمانے کو اس پیغام کے ہر جزوکل کی ضرورت ہے اس لئے کہ آج عالم دگرگوں ہے، ہولناک صدائیں سنتے سنتے لوگوں کے کان پک گئے ہیں، نفرتوں سے دماغ کھول رہے ہیں، محبت کے چمن لٹ رہے ہیں، بھانت بھانت کی بولی بولی جارہی ہے، نت نئے اور فاسد خیالات سے علم و ادب کی فضاء متعفن ہورہی ہے۔ ایسے میں تو پیغام رضا کی ضرورت اور شدید ہوگئی ہے۔ اس لئے کہ رضا بریلوی کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ رضا بریلوی کا پیغام سکون جان و تسکین قلب کا پیغام ہے۔ رضا بریلوی کا پیغام خوف خدا اور عشق مصطفیﷺ کا پیغام ہے۔ رضا بریلوی کا پیغام فکروشعور کا پیغام ہے۔ رضا بریلوی کا پیغام قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کا عطر نچوڑ ہے۔ ان کے پیغام میں وہ سب کچھ ہے جس کی زمانے کو ضرورت تھی، ہے اور رہے گی۔ ان کے پیغام کی افادیت ہر دور میں اپنوں اور غیروں سے اپنی عظمت کا لوہا تسلیم کرواتی رہے گی۔ اس لئے کہ ان کے پیغام میں افکار شریعت و طریقت کی گونج دور سے ہی کانوں میں رس گھولتی ہے۔ انہوں نے عشق رسالت کی بدولت اس دور زبوں کار، زبوں حال میں دولت ایمان و عشق کی حفاظت فرمائی جس کی ہولناکی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ کیسا عاشق رسول تھا جو ہر مومن کو اپنی ہر تحریک سے عاشق رسول بنانے کا آرزومند تھا۔ پروفیسر محمد مسعود احمد مظہری تحریر فرماتے ہیں۔
’’وہ عاشق رسول تھا اس کے عشق جہاں تاب کے موافق و مخالف سب قائل تھے، وہ ادب آموز حیات تھا۔ وہ نہ ہوتا تو ہماری بے باکیاں، خود فراموشیاں اور گستاخیاں نامعلوم کیا رنگ لاتیں؟ اس کی شدید تنقیدات نے بے راہ روی کے سیلاب کو یکلخت روک دیا اور برصغیر میں ہم اس قابل ہوسکے کہ اپنے ملی تشخص کو برقرار رکھ سکیںاور اپنے دین و دنیا کی حفاظت کرسکیں‘‘ (۱۲)
حضرت رضا بریلوی کی حیات، خدمات و تخلیقات کا خلاصہ صرف تین چیزوں نظر آتی ہیں۔
1… دنیا بھر کی ہر ایک لائق محبت و مستحق تعظیم چیز سے زیادہ اﷲ ورسول کی محبت و تعظیم
2… اﷲ و رسول ہی کی خوشی کے لئے اﷲ و رسول کے دشمنوں سے نفرت و عداوت
3… اﷲ و رسول ہی کی رضا کے لئے اﷲ و رسول کے دوستوں سے دوستی و محبت
آپ اپنی ساری عمر دنیا کو یہی بتاتے رہے کہ جس مسلمان کے دل میں ان تین باتوں میں سے ایک بات بھی کامل نہیں تو اس کا ایمان بھی کامل نہیں۔ الغرض آپ نے مسلمانان عالم کو شان الٰہی کا سچا ادب سکھایا۔ پیارے مصطفیﷺ کی تعظیم و توقیر کا سبق پڑھایا۔ حضرت انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عزت و حرمت کا گن گانا بتایا۔ صحابہ و اہلبیت عظام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی محبت و عقیدت کا درس دیا۔ حضرات اولیاء قدست اسرارہم کے احترام و اکرام کا چراغ روشن کیا۔ محبوبان بارگاہ الٰہی کے دشمنوں سے دورونفور رہنے کا شرعی حکم سنایا۔ آپ کی یہ رباعی آپ کی زندگی کی عکاس ہے۔
نہ مرا وش زتحسیس نہ مرا نیش زطعن
نہ مرا گوش بمدحے نہ مرا ہوش ذمے
منم و کنج خمولی کہ نہ گنجد دروے
جزمن وچند کتابے و دوات و قلمے
حضرت رضا بریلوی کے تصورات عشق و علم کا خلاصہ ان کی تمام تر صفات کا نچوڑ صرف تین چیزیں ہیں۔
1… تصلب فی الدین
2… عشق مصطفیﷺ
3… رد بدعات و منکرات
تمام گوشہ حیات اور اپنے ہر کردار و گفتار میں وہی انداز اختیار کرتے جو دین و ایمان کی روح سے قریب تر ہوتا اور اسلام کے قوانین و فرامین اور اس کی خصوصیات کو ہر قدم پر پیش نظر رکھتے۔ آپ کا ہر فیصلہ دینی فکر و مزاج کی روشنی میں ہوتا۔ اتباع شریعۃ کا اتنا خیال کہ اپنی نشست و برخاست، گفتگو و ملاقات ہر چیز میں مزاج شریعت اور اسلامی آداب کی پابندی کرتے
عشق و محبت رسولﷺ جو آپ کا طرۂ امتیاز تھا، اس کا سارا زمانہ قائل ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مخالفین اور گستاخان رسول کی ایمان سوز عبارتوں پر جو آپ نے شرعی گرفتیں کی ہیں وہ بھی جذبہ عشق رسولﷺ ہی کے تحت۔ اپنے آقاومولیٰ رسول اﷲﷺ کی بارگاہ میں ایسا کوئی جملہ برداشت نہ کرسکے جس سے جناب رسالت مآبﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کا پہلو بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ شائبہ بھی نکلتا ہو۔ وہ سینہ ہی کیا جو عشق رسول کی تپش سے محروم ہو۔ حضرت رضا بریلوی کا یہ حال تھا رسول ہاشمیﷺ کے اسم مبارک پر ایک دو نہیں بلکہ کروڑوں جان قربان کرنے کی تمنا رکھتے تھے۔ عرض کرتے ہیں۔
کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
رد بدعات و منکرات کا جو عظیم الشان کارنامہ آپ نے انجام دیا، اس کی نظیرآپ کے معاصرین میں نہیں ملتی، مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی بہت سی بدعتوں اور اوہام و خرافات کی بیخ دین سے اکھاڑ پھینکنے کی سعی بلیغ کی اور جابجا ان پر نکیر فرمائی اور ان کے مضمرات و نقصانات سے ہر سائل و مستفتی کو باخبر اور ہوشیار کیا۔ آپ کی مطبوعہ کتب و رسائل اور فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے یہ بات محقق ہوجاتی ہے کہ آپ اپنے پورے عہد میں:
1… تبحر علمی
2… وسعت فکر ونظر اور
3… واضح و محکم فیصلہ (قول فیصل) کے لحاظ سے عدیم النظیر ہیں (۱۴)
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری رقم طراز ہیں:
’’امام احمد رضا کی نظر میں جمال مصطفیﷺ ایسا سمایا ہوا ہے کہ نظروں میں کوئی جچتا نہیں۔ ان کے نزدیک ہماری ساری توانائیاں اور ہمارا مرنا جینا سب محمد مصطفیﷺ کے لئے ہے۔ کیا خوب فرمایا ہے۔
دہن میں زباں تمہارے لئے، بدن میں ہے جاں تمہارے لئے
ہم آئے یہاں تمہارے لئے، اٹھے بھی وہاں تمہارے لئے
امام احمد رضا نے دلوں کو عشق مصطفیﷺ کی گرمی سے گرمایا اور اس سلسلے میں امام احمد رضا نے ایک بھرپور تحریک چلائی۔ آج کے دور میں اسی جذبہ عشق کی ضرورت ہے جو کمزوروں کو توانا، مغلوبوں کو غالب، محکوموں کو حاکم اور غلاموں کو بادشاہ بنادیا کرتا ہے (۱۵)
مدت العمر آپ نے عالم اسلام کو یہی پیغام دیا کہ محمد عربیﷺ کے دامن مقدس سے وابستہ ہوکر ہی انسانیت اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کی تعلیمات مبارکہ پر ہی عمل کرکے دنیا کے مصائب و آلام کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور سنت رسول علیہ التحیہ والثناء کی روشنی میں ہی بے قرار انسانیت کو راحت دل اور امن و سکون میسر آسکتا ہے۔ اپنے جذبات و خواہشات، اپنے مفادات و مصالح، اور اپنی جان  ومال کو عظمت رسولﷺ پر قربان کردیا جائے اور رسول اکرمﷺ کی ذات و صفات سے قرب حاصل کرنے کو مقصد حیات تصور کرلیا جائے۔ حضرت رضا بریلوی کا یہ پیغام صرف بریلی کی آواز نہیں، یہ تو عالمگیر آواز اور ہمہ گیر تحریک ہے۔ اس کی آفاقیت اور اجتماعیت بول رہی ہے۔ یہی وہ عالمگیر تحریک ہے جس سے خیالات و تصورات کی دنیا تہہ و بالا ہوئی تھی۔ یہی وہ تحریک ہے جس سے دلوں کے آفاق فتح ہوئے تھے، یہی وہ تحریک ہے جس سے قیصر کسریٰ کی شوکت و سطوت لرزتی تھی۔ یہی وہ تحریک ہے جس نے گردن فرازوں کے سر اپنے قدموں میں جھکا لئے تھے۔ اسی تحریک کو لے کر جب غلامان مصطفیﷺ آگے بڑھے تو انہوں نے زمان و مکان کے نقشے بدل دیئے تھے۔ پھر تو یہ عالم ہوا کہ…
جہاں پہنچے زمیں کو آسماں سے کردیا اونچا
جہاں ٹھہرے در ودیوار کا نقشہ بدل آئے
اپنی عظمت رفتہ کو پانے کے لئے، اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت کی تحصیل کے لئے، اپنے گئے ہوئے باوقار ایام کی بازیابی کے لئے، انگریزی و دیگر اسلام دشمن نظریات کے بندھن میں جکڑے ہوئے ذہن وفکر کی واگزاری کے لئے، اپنے گنوائے ہوئے مقام و منصب کی بحالی کے لئے، دنیا کے امن و سکون کے لئے، فرد کے چین اور جماعت کی راحت کے لئے ملک کی بہتری اور ملت کی برتری کے لئے، دینی فکر و مزاج کی سلامتی و تحفظ کے لئے، افکار و خیالات کی پاکیزگی اور آبیاری کے لئے، معاشرت و معیشت کی فلاح و بہبودی کے لئے، قوم مسلم کی باآبرو اور سرخرو زندگی کے لئے، ایک مسلمان کو صحیح معنی میں مسلمان بنانے اور بنے رہنے کے لئے، اﷲ تعالیٰ کی رضا اور رسولﷺ کی خوشنودی کے لئے حضرت رضا بریلوی کی چلائی ہوئی تحریک کو سینے سے لگانے کی ضرورت ہے اور اپنا بنانے کی ضرورت ہے۔
قومیں عشق ہی سے زندہ رہتی ہیں۔ ملت مسلمہ بھی عشق ہی سے زندہ ہوئی، عشق ہی سے زندہ رہی، عشق ہی سے زندہ رہے گی۔ عشق جتنا محکم ہوگا، زندگی اتنی پائندہ ہوگی۔ احمد رضا محبت کی موت کو ملت کی موت سمجھتا تھا۔ اس لئے اس نے محبت کی خاطر ملک گیر تحریک چلائی۔ دلوں کو مرنے نہ دیا، زندہ رکھا۔ اس کو معلوم تھا کہ عشق و محبت نے صحابہ کو سرفراز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی علم و فن اﷲ اور اس کے رسول کے ذکر سے خالی نہ ہونا چاہئے۔ یہ ایک ایسا انقلابی خیال تھا کہ اگر اس پر عمل کرلیا جاتا تو دل ودماغ اس طرح ویران نہ ہوتے جس طرح آج ویران ہیں۔ دلوں کی اجڑی بستی کی بازآبادکاری کے لئے حضرت رضا بریلوی کا پیغام ہی عالمگیر تحریک اور عالمگیر ضرورت ہے۔
حاصل کلام
شخصیت یونہی نہیں بنتی، اس کے پیچھے کتنے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، کسان بیج زمین میں ڈالتا ہے، زمین اسے اپنا آغوش دیتی ہے، سورج تمازت دیتا ہے، بارش نمی دیتی ہے، تب زمین سے کومل کونپل نکلتی ہے، نازک پودا نکلتا ہے، اب شبنم اس کا چہرہ دھلاتی ہے، نسیم و صبا جھولا جھلاتی ہے، چاندنی اپنا دودھ پلاتی ہے، کسان خوردپودوں سے اس کی حفاظت کرتا ہے، تب کلیاں کھلتی اور پھول مسکراتے ہیں…
حضرت رضا بریلوی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ان کی تعمیر شخصیت کے جو عوامل ہمیں نظر آتے ہیں ان میں کسی نے ان کے دامن حیات پر علم کے گل بوٹے سجائے ہیں، تو کسی نے عمل کی آئینہ بندی کی ہے، ان کی تربیت و اخلاق و افکار کے یہ ظاہری وسائل و ذرائع ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں، لیکن ان کے علم کی سمندر جیسی وسعت، ان کے عمل کی ہمالہ جیسی بلندی و صلابت، ان کے اخلاق و افکار کی پھول جیسی نزاکت و لطافت بول رہی ہے کہ علم ہو یا عمل ہر گلشن کی آبیاری عشق مصطفیﷺ نے کی ہے، ان کی ہر چمک دمک میں مدینہ کی کرن کا اہم رول رہا ہے۔ آفتاب رسالت مدینہ میں جلوہ گر تھا اور اس کی کرن بریلی میں نور برسا رہی تھی۔ چونکہ نوری پاور عالمی پاور ہائوس سے ڈائریکٹ آرہا تھا، اس لئے تجلیات کا دائرہ بھی محدود نہ تھا۔ علم و عمل، فکر نظر، شعور و آگہی، تجربہ و مشاہدہ، اخلاق و عادات، غرض کہ جس شعبہ پر اجالا پڑگیا، چمکتا چلاگیا، ذرہ پر اگر سورج کی کرن پڑ جائے تو اس میں بھی قوت پرواز آجاتی ہے تو پھر جس ہستی پر ماہتاب  نبوت کی کرن پڑجائے اس کی تجلیات اور پرتوفگنی کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ اسے یوں سمجھئے ایک ہوتا ہے مُنّور اور ایک ہوتاہے مُنّوَرِمُنّوَر۔ مُنّوَرِکا فیض یافتہ ہی مُنّوَرِہوتا ہے۔ جب مُنّوَرِسے اکتساب فیض کرکے مُنّوَرِ چمک اٹھتا ہے، تو اب جو اس مُنّوَرِکے قریب آجائے، اس سے منسوب ہوجائے وہ بھی چمک اٹھتا ہے۔ وہ بھی مُنّوَر ہوجاتا ہے۔ افق حجاز سے نبوت کی کرن جگمگائی ’’قد جاء کم من اﷲ نور‘‘ کی نوری شعائیں پھیلیں، میرا نبی مُنّور بن کر نورانی کرن برسا رہا ہے، جماعت در جماعت لوگ آتے جارہے ہیں، صحابیت کے نور سے جگمگاتے جارہے ہیں۔ مُنّوربنتے جارہے ہیں، مُنّورنبی کی صحبت سے صحبت یافتہ صحابی بن کے چمکے، صحابی کا صحؔت یافتہ تابعی بن کے چکا، تابعی کا صحبت یافتہ تبع تابعی بن کے چمکا، علیٰ ہذا القیاس قرناً بعد قرن لوگ چمکتے جارہے ہیں۔ مُنّور بنتے جارہے ہیں۔ وہی کرن بغداد میں چمکی تولوگوں نے غوث اعظم کہا، وہی کرن اجمیر میں چمکی تو لوگوں نے غریب نواز کہا، وہی کرن دلی میں چمکی تو لوگوں نے محبوب الٰہی کہا، وہی کرن بریلی میں چمکی تو دنیا نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کہا۔ اب جو ان سے قریب ہوگیا، وہ بھی چمک گیا، کوئی حجتہ الاسلام بن کے چمکا، کوئی مفتی اعظم بن کے چمکا، کوئی ملک العلماء بن کے چمکا، کوئی صدر الشریعہ بن کے چمکا، کوئی صدرالافاضل بن کے چمکا اور جو ان چمکنے والوں سے قریب ہوگیا، وہ بھی سنورتا جارہا ہے، چمکتا جارہا ہے۔ روشنی ہے کہ پھیلتی جارہی ہے۔ مدنی کرن کا یہ فیضان ہے کہ حضرت رضا بریلوی نے ملک و ملت اور فرد و قوم کی جگمگاہٹ کا اہتمام و انتظام فرمادیا ہے۔ شمع جلا جلا کر آپ نے رکھ دی ہیں، جس کا جی چاہے منور ہوجائے اور جس طرح چاہے منور ہوجائے، جس گوشے کو چاہے مُنّور کردے، زبان و ادب کو روشنی کی ضررت ہے۔ کنزالایمان، فتاوی رضویہ اور حدائق بخشش سے حاصل کرلو، قوم و ملت کو روشنی کی ضرورت ہے، حجۃ الاسلام، مفتی اعظم ہند، ملک العلماء اور صدر الشریعہ کے چراغ سے لے لو، ملالو، ملکی سیاست کو روشنی کی ضرورت ہے۔ اعلام الاعلام اور المحجۃ الموتمنہ سے اکتساب نور کرلو۔ حضرت رضا بریلوی کی شمع مدنی شمع ہے اور اس کا فیضان، فیضان رحمۃ للعالمین کی طرح سب کے لئے عام ہے۔
وہ ایک ذرہ تھے مگر صحر اکی وسعتیں بھی ان کے دامن میں پناہ لیتی تھیں۔ وہ ایک قطرہ تھے مگر سمندر کی تشنہ کامی بھی سیراب ہوا کرتی تھی، وہ ضعیف تھے مگر ناقابل تسخیر چٹان بھی ان سے عزم و استقامت کی بھیک مانگا کرتی تھی۔ وہ تن تنہا تھے مگر اپنی شخصیت میں ایک بڑی جماعت تھی۔ وہ اکیلے تھے مگر سواداعظم تھے، وہ ایک نقطہ تھے مگر جب پھیلے تو اتنا پھیلے کہ اعلیٰ حضرت بن کر دنیا پر چھا گئے مگر جب سمٹے تو اتنا سمٹے کہ مجسم عشق مصطفیﷺ بن گئے۔ سنئے سنئے رضا کے عشق کی یہ آواز…
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
ﷲ الحمد میں دنیا سے مسلماں گیا
حوالہ جات
۱… امام احمد رضا بریلوی اور مولانا آزاد کے افکار۔  ص 19
۲… دبستان رضا، مصنف علامہ یسین اختر مصباحی، ص 119
۳… مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی، از: مولانا غلام مصطفی صاحب مجددی، ص111
۴… تمہید ایمان، از امام احمد رضا ، ص 21
۵… فتاویٰ رضویہ، از امام احمد رضا خاں ص 78
۶… ختم النبوہ، از امام احمد رضا، ص 29
۷… اعتقاد الاحباب، از امام احمد رضا خاں، ص  17
۸… الملفوظ، ج 4، مرتبہ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا قادری، ص 30
۹… مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی، مولانا غلام مصطفی مجددی، ص 100
۱۰… مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی، مولانا غلام مصطفی مجددی، ص 94
۱۱… انتخاب حدائق بخشش از ڈاکٹر مسعود احمد مظہری، ص 13
۱۲… مقدمہ امام احمد رضا اور ردبدعات و منکرات، از: مولانا یٰسین اختر مصباحی، ص 91
۱۳… سوانح اعلیٰ حضرت از مولانا بدر الدین رضوی، ص 136
۱۴… امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات، ازِ: مولانا یٰسین اختر مصباحی، ص 29 تا 32
۱۵… محدث بریلوی، از ڈاکٹر: مسعود احمد مظہری، ص 21-22
٭٭٭