صنم پرستوں کے بلند بانگ دعوے اور ان کی حقیقت

in Tahaffuz, December 2013, غلام مصطفی نعیمی (دہلی، انڈیا), متفرقا ت

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد رہتے ہیں اور ان میں کچھ افراد ایسے ہیں کہ اپنی اندھی عقیدت میں کھوکر ہوش و خرد سے ایسے عاری ہوئے کہ انہوں نے بندر، چوہا، سور، گائے اور سانپ جیسے جانوروں کو بھی اپنا خدا بنالیا اور سینکڑوں ہزاروں سال سے وہ ان تمام جانوروں کو خدا کی حیثیت سے پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی وجہ سے آج بھی بہت سارے ممالک ‘ کہتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس ملک کے صنم پرست اس بات کو بطور فخر بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں انسان تو انسان پتھر بھی پوجے جاتے ہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا ذہنی معیار کس درجے کا ہے اور انہیں دنیا میں کس مقام پر ہونا چاہئے۔
جب محمد بن قاسم نے 712ء میں ہندوستان کی سرزمین پر اپنی فوجوں کے ساتھ قدم رکھا اور اس کے کچھ عرصے بعد تک مسلم حکمران آتے جاتے رہے، یہاں تک کہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی آمد کے ساتھ اسلام ہندوستان کا مضبوط مذہب بن گیا، جب اسلام کی تہذیب لوگوںپر ظاہر ہوئی تو ہند کے رہنے والوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کرنا شروع کیا جس سے گھبرا کر صنم پرستوں نے اپنے ہم مذہبوں میں یہ لاف گزنی شروع کی کہ ہندو تہذیب دنیا کی سب سے پرانی اور عظیم تہذیب ہے اور ہم نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ ساری دنیا نے ہماری تہذیب سے جینے کا ڈھنگ سیکھا ہے اور ہم نے ہی ساری دنیا کو معاشرتی طرز پر رہنے کا سلیقہ دیا ہے۔
اہل ہنود کے ایسے ہی چند بانگ دعوئوں اور ان کا حقیقت پسندانہ جائزہ اگلی سطروں میں آئے گا۔ پہلے اہل ہنود کے چند اہم دعوے دیکھ لیں جنہیں وہ بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا جائزہ کہ وہ کتنے صحیح، کتنے غلط ہیں۔
اہل ہنود کا دعویٰ ہے کہ ’’ہماری تہذیب دنیا کی سب سے پرانی تہذیب ہے۔ ہمارے اصول اخلاقیات سب سے بہترین اور مضبوط ہیں‘‘
اہل ہنود کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ ’’ہم دنیا میں سب سے زیادہ باصلاحیت اور کچھ بھی کر گزرنے والے افراد ہیں اور ساری دنیا میں ہم اس لئے امتیازی حیثیت کے مالک ہیں کہ ہم ہر طرح کی صورتحال میں کچھ بھی کرسکتے ہیں‘‘
پتھروں کو پوجنے والوںکا تیسرا دعویٰ ہے کہ ’’ہم نے دنیا کو بہت کچھ دیا اور ہماری صلاحیتوں سے دنیا کو کافی کچھ حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں ہم ساری دنیا کے لئے مثل استاذ رہے ہیں‘‘
یہ وہ دعوے ہیں جو بندروں اور چوہوں کو اپنا ’’بھگوان‘‘ ماننے والے بڑے فخر کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ان کے انہیں تین دعوئوں کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔ باقی دیگر دعوئوں کے بارے میں پھر کبھی۔
پہلا دعویٰ
ہماری تہذیب دنیا کی سب سے قدیم تہذیب اور عظیم ہے۔ یہ اہل ہنود کا سب سے بڑا دعویٰ ہے ۔ سب سے پہلے اسی کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ کسی بھی قوم کی تہذیب سمجھنے کے لئے اس قوم کو مذہبی کتابوں اور ان کے مذہبی رہنمائوں کی زندگی کو دیکھنا اور جاننا ضروری ہوتا ہے اسی سے کسی قوم کے صحیح خدوخال سامنے آتے ہیں اور اسی سے سچائی کا پتہ لگتا ہے۔ آیئے سب سے پہلے اہل ہنود کی مذہبی کتابوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کی مذہبی کتابیں کتنی ہیں اور ان میں کیا لکھا ہے۔
اہل ہنود کی مذہبی کتب
اہل ہنود کی مذہبی کتابوں میں سب سے بڑا درجہ ’’ویدوں‘‘ کا ہے جن کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ یہ ’’ایش وانی‘‘ یعنی خدا کا کلام ہے۔ ’’وید‘‘ چار ہیں
1۔رگ وید
2۔ سام وید
3۔ اتھروید
4۔ یجروید
ان چار ویدوں کے علاوہ اپنشد، پران اسمرتیاں وغیرہ کو ان کی مذہبی کتابوں کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی کل تعداد ’’مترمشر‘‘ کے مطابق 57 ہے اور محقق ’’نیل کنڑ‘‘ کے مطابق 97 ہے۔ ایک دوسرے ہندو محقق ’’کملاکر‘‘ نے ان کی تعداد 131 بتائی ہے۔
چار ویدوں کے علاوہ ان کی مشہور کتابیں یہ ہیں، راماین،بھاگوت، پران، بھاگوت گیتا، منواسمرتی، کلکتی پران، مہا بھارت، رام چرت مانس وغیرہ اور ان سب کتابوں میں ویدوں کے بعد سب سے زیادہ قابل عمل اور عظیم کتاب منواسمرتی کو سمجھا جاتا ہے۔ منواسمرتی صنم پرستوں کا سماجی دستور اور زندگی کے لئے رہنما دستور العمل ہے۔ جس میں معاشرے میں رہنے کے طریقے و آڈاب بتائے گئے اور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے راز بھی بتائے گئے ہیں۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ی
خدا کا تصور
جو قوم یہ دعویٰ کرے کہ وہ دنیا کی سب سے قدیم مذہب اور اعلیٰ تہذیب کی حامل ہے، اس قوم میں خدا کے بارے میں اتنے متضاد اقوال ہیں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ ہندو مذہب کے کچھ شارحین خدا کے وجود کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کی تشریح و تفسیر میں بے حد اختلاف ہے، کوئی رام کرشن کو بھگوان (خدا) مانتا ہے۔ کوئی بھارت ماتا کو اپنا معبود قرار دیتا ہے، کوئی زندہ انسانوں کا خون پینے والی ’’کالی دیوی‘‘ کو خدا مانتا ہے۔ کوئی اس ’’کالی دیوی‘‘ سے لڑنے والے اور لڑائی میں ہارنے والے شنکر جس کے گلے میں ہمیشہ سانپ پڑا رہتا ہے، کو خدا مانتا ہے۔ سندھ کے علاقے میں بابو لال بیراگی کو خدا مانا جاتا ہے، مشرقی راجپوتانہ میں سائیں لال داس کو اور یوپی کے علاقوں میں رام و کرشن کے علاوہ کبیر داس جیسے لوگ بھی خدائی کے منصب پر فائز ہیں، کچھ لوگ زیادہ ہی فراخ دل واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے گنیش کی سواری چوہے ہی کو ’’اوتار‘‘ مان لیا اور کچھ لوگ گائے کو اپنا خدا مانتے ہیں۔ ان کی نظر میں گائے ہی ایشور ہے، گائے ہی وید ہے اور گائے ہی گیان ہے (گروجی سمگر درشن 95/2)
اس اقتباس سے اندازہ لگائیں کہ جو قوم خود کو سب سے مہذب اور قدیم تہذیب کا علم برادر بتائے، اس کی ذہنی مفلسی کا یہ عالم ہے کہ وہ آج تک اپنے خدا کے وجود پر ہی متفق نہ ہوسکی، کسی نے انسانوں کو خدا بنایا۔ کسی نے انسانوں کا خون پینے والی کو اور کسی نے جانور ہی اپنا خدا بناکر تسلی کرلی کہ انہیں کو خدا بنالو جب چاہو ان سے بغاوت کردو، یہ کیا بگاڑ لیں گے۔
جب یہ قوم صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اپنے خدا کے وجود پر اتنا اختلاف رکھتی ہے تو ذرا سوچئے کہ یہ سماج و معاشرہ میں رہنے کے لئے اور ایک مثالی زندگ گزارنے کے لئے کیسے اصول و ضوابط رکھتے ہوں گے۔ آیئے ذرا ان کے سماجی دستور پر بھی ایک نگاہ مار لی جائے تاکہ بخوبی اندازہ ہوجائے کہ ان کی تہذیب کتنی مہذب اور اعلیٰہے۔
ہندو سماج کا طبقاتی نظام
ویدک عہد وزمانہ جس میں بقول ہندو ویدوں کا راج تھا اور سارے کام ویدوں کے مطابق ہوتے تھے اور وہ زمانہ عہد زریں کہلاتا تھا۔ اس ویدک عہد میں ہندو سماجمیں طبقاتی نظام رائج تھا۔ اس نظام کی بنیاد اس عقیدے پر تھی کہ ایک طبقہ ’’برہما‘‘ (ہندو عقائد کے مطابق وہ دیوتا جس نے ساری دنیا کو پیدا کیا ہے) کے منہ سے پیدا ہوا ہے، اس لئے اس کا درجہ سب سے بڑا ہے، اس کا کام علم کی خدمت کرنا ہے، تمام تر تعلیمی مناصب و عہدے اسی طبقے کے پاس رہیں گے اور اس کے حقوق سب سے زیادہ ہیں۔ دوسرا طبقہ ’’برہما‘‘ کے بازوئوں سے پیدا ہوا ہے۔ اس لئے اس کا مقام پہلے سے کم ہے اس طبقے کا کام ملک کا نظام چلانا ہے اور اس کے بھی اپنے کچھ حقوق و فرائض ہیں۔ تیسرا طبقہ ’’برہما‘‘ کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اس کا کام تجارت کا ہے اور اس کا مقام و مرتبہ پہلے دونوں طبقوں سے کم ہے۔ چوتھا طبقہ ’’برہما‘‘ کے پیروں سے پیدا ہوا ہے۔ اس طبقے کا کام پہلے تینوں طبقوں کی خدمت کرنا ہے اور اس کے کوئی حقوق و فرائض نہیں ہیں۔ پہلا طبقہ جو منہ سے پیدا ہوا وہ برہمن کہلانا، دوسرا طبقہ راجپوت کہلایا، تیسرا طبقہ ہویشہ یعنی بنئے کے نام سے جانا گیا اور چوتھا طبقہ شودر کہلایا۔ اس شودر کے کوئی اختیار نہیں تھے کوئی حق نہیں تھا، نہ اس طبقے کوپڑھنے کا حق حاصل تھا اور اگر کوئی کوشش بھی کرے تو یہ سنگین جرم مانا جاتا تھا جس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے (رامیشور مشرا گؤماتا ص 13-12 )
ہندو سماج کے چوتھے طبقے شودر کو اچھوت بھی کہاجاتا تھا۔ ان کے مکان گائوں شہر کی آبادیوں کے باہر بنائے جاتے تھے اور ان کو عام لوگوں میں بسنے کی اجازت نہیں تھی، اس کے علاوہ ان کے اوپر یہ بھی ضروری تھا کہ وہ ہمیشہ راستے کے کنارے کنارے چلیں تاکہ کسی برہمن راجپوت یا بنئے کا جسم یا کپڑا کسی اچھوت کے جسم و کپڑے سے نہ لگ جائے، ایسا ہونے پر وہ اپنے آپ کو ناپاک مانتے تھے۔ اس لئے اچھوت لوگ راستے کے کنارے چلتے تھے یا پھر اچھوت اچھوت کہتے ہوئے چلتے تھے تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے اور وہ اپنے آپ کو بچالیں۔ اس کے علاوہ اس طبقے کو عام ہندوئوں کے کنویں سے پانی پینے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ مندر میں جاکر پوجا کرسکتے تھے اور نہ ہی وہ کسی عام ہندو کے ساتھ بیٹھ سکتے تھے۔
یہ ہے اس قوم کا طبقاتی نظام جو خود کو سب سے مہذب و قدیم تہذیب کا حامل بتاتی ہے۔ اسی فرسودہ نظام کا اثر ہے کہ آج بھی ہندوستان کے بہت سارے گائوں میں ’’شودر‘‘ شادی کے دن گھوڑے پر نہیں چڑھ سکتا اور نہ ہی مندر میں گھس کر پوجا وغیرہ کرسکتا ہے۔ ہندوئوں کے اس تعصب و غیر فطری نظام کی مثال اس وقت زیادہ مضبوطی سے ابھری، جب مہاراشٹر کے علاقے میں ’’شیواجی‘‘ نام کے ایک دلت نے طاقت حاصل کرکے اپنی ایک ریاست بنائی تو اپنے راجتلک کے لئے پنڈتوں کو بلایا تو پنڈتوں نے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ اگر ہم نے اسے ہاتھ سے ٹیکہ لگایا تو ہم ناپاک ہوجائیں گے۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ ٹیکہ کوئی برہمن ہی لگا سکتا ہے۔ جب سارے پنڈتوں نے انکار کردیا تو ’’شیواجی‘‘ نے ایک پنڈت کو بنارس سے بلایا۔ وہ پنڈت اس شرط پر ٹیکہ لگانے کو تیار ہوا کہ وہ ٹیکہ تو لگائے گا مگر ہاتھ سے نہیں پیر سے لگائے گا۔ آخرش مجبور ہوکر شیواجی اس پنڈت کے پیر سے اپنے ماتھے پر ٹیکہ لگوانا پڑا تھا۔
غور کریں! ایک حاکم ہے مگر طبقاتی نظام کی وجہ سے کہ وہ شودر تھا، اس لئے حاکم ہونے کے باوجود اسے ہاتھ سے ٹیکہ نہیں لگایا گیا اور ایک حاکم کے اپنے محکوم کے پیر سے ماتھے پر ٹیکہ لگوانے کی ذلت اٹھانا پڑی۔ یہ ہے اہل ہنود کی سب سے قدیم تہذیب جو کھلے عام انسانیت کو ذلیل کرتی ہے۔ رہے ان کے اخلاقیات تو ذرا ان کو بھی دیکھ لیں کہ ان کے یہاں اخلاق کا اعلیٰ معیار کیا ہے؟
اخلاقیات کے نمونے
ہندو مذہب میں چونکہ سب سے بڑا درجہ ویدوں کا ہے، اس لئے ویدوں ہی کے حوالے سے ہندو سماج کے کچھ اخلاقی منظر آپ کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ پڑھئے اور سر دھنئے۔ رگ وید میں لکھا ہے کہ ہندوئوں کے ایک بھگوان ’’اندر دیوتا‘‘ کہتے ہیں کہ ’’عورتوں کے ساتھ کبھی دوستی والا معاملہ نہ رکھنا چاہئے، ان کا دل بے رحم ہوجاتا ہے‘‘ (رگ وید 17-3/8)
ویدوں میں عورت کو جسم فروشی کی اجازت دی گئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ویدک زمانے میں کچھ عورتیں پورے گائوں کی ملکیت مانی جاتی تھیں اور ان سے کوئی بھی مرد خواہش نفسانی پوری کرسکتا تھا۔ ہر شخص کو ان سے تعلق بنانے کی آزادی تھی اور ان عورتوں کو ’’نگرودھو‘‘ یعنی پورے شہر کی بیوی کہا جاتا تھا۔ یہ ہیں ہندو اخلاقیات کے کچھ نمونے اسی پر ہی اکتفا کرتا ہوں ورنہ تو اسیے ایسے واہیات گندے اور نفیس طبیعتوں پر بھاری گزرنے والے واقعات سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ جن کو سن کر جنگل کے جانور بھی شرما جائیں۔
دوسرا دعویٰ
اہل ہنود کا دوسرا دعویٰ ہے کہ ’’ہم دنیا میں سب سے زیادہ باصلاحیت اور کچھ بھی کر گزرنے والے افراد ہیں‘‘ اس دعوے کی حقیقت کتنی ہے اور اہل ہندو کتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ اس کے بارے میں خود انہیں کے گھر سے شہادت لیتے ہیں۔ ہندتوکے مشہور محقق ایڈووکیٹ سریندر لال ساگرکہتے ہیں ’’کچھ نازی ہندو، جھوٹی شان بھگارنے کی نیت سے ویدوں میں سائنس بتاتے ہیں۔ ویدوں میں سائنس بتانے والے ہندوئوں کے علاوہ جرمن، امریکہ، انگلینڈ، روس وغیرہ کے سائنسدانوں نے کبھی نہیں کہا کہ ویدوں میں سائنس ہے۔ یہ سبھی ملک سائنس میں سب سے آگے ہیں۔
ان پاکھنڈی ہندوئوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اگر ویدوں میں سائنس ہے تو انہوں نے سائنس کو کیوں نہیں ڈھونڈ نکالا؟ بھارت تو وہ ملک ہے جہاں سوئی تک نہیں بنی، سوئی سے لے کر ہوائی جہاز، ریل سب غیر ملکی ایجادات ہیں۔ بھارت تو کبھی بیل گاڑی سے آگے نہیں بڑھ پایا جس کا پہیہ بھی چین کی ایجاد ہے۔ ایسی صورت حال میں کون مانے گا کہ ویدوں میں سائنس ہے‘‘ (تقدیم ویدوں میں کیا ہے‘‘ ص 6، مطبوعہ ساگر پرکاش مین پوری)
اہل ہنود کتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور کتنا کر گزرنے والے ہیں، ان کی حقیقت کھل کر آپ کے سامنے آچکی ہے اور شاید اسی لئے دنیا بھر میں اہل ہنود اور ملک ہندوستان کو محض مداریوں کا ملک سمجھا جاتا ہے مگر اہل ہنود ہیں کہ یہی مانتے ہیں کہ ہم بہت سی صلاحیت مند اور قابل ترین افراد ہیں۔ خیر چھوڑئے، اب اگر یہ اسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں تو رہنے دیں۔ بقول غالب…
دل کو بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
تیسرا دعویٰ
مشرکین ہند کا تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ ’’ہم نے دنیا کو بہت کچھ دیااور دنیا نے ہماری صلاحیتوں سے بہت کچھ حاصل کیا اور ایک وقت میں ہم دنیا کے لئے مثل استاد رہے ہیں‘‘
دیکھ رہے ہیں آپ! تعلی کس معیار کی ہے اور کس اعلیٰ درجے کا اعلان ہے۔ ہم نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے، ان لوگوں نے دنیا کو کیا کچھ دیا ہے۔ آیئے ذرا اس کا بھی جائزہ لے لیں۔
اخلاقیات کے باب میں انہوں نے کیا کچھ دنیا کے لئے چھوڑا ہے۔ ذرا دیکھیں۔ منواسمرتی میں لکھا ہے کہ ’’شودر برہمن کی لاش کو بھی نہ چھوئے کیونکہ اس کے چھونے سے برہمن کی لاش بھی ناپاک ہوجاتی ہے ‘‘ (منواسمرتی باب 6)
دوسری جگہ لکھا ہے کہ ’’کھانے اور دعوت میں جو کھانا زمین پر گر جائے یا پتلوں (پیڑ کے پتوں کو سکھا کر کھانا کھانے کے لئے بطور برتن استعمال کرتے ہیں اسی کو ہندو پتل کہتے ہیں) پر چھوٹ جائے تو اسے شودر کو دینا چاہئے‘‘ (منواسمرتی 246/3)
ہندوئوں کے ایک دیوتا ’’وشنو‘‘ جس کے ہاتھ کی انگلی میں ایک لوہے کا چکر گھومتا رہتا ہے۔ اس نے جلندھر کی بیوی بندا کے ساتھ زبا بالجبر کیا (یوم پران اترکھنڈ 3/2) اسی وشنو نے شنکھ چون کی بیوی کی عزت و عصمت تار تار کی (شوپران بدھ کھنڈ باب 48) برہما نے اپنی بیٹی سرسوتی پر زنا کی نیت سے چڑھائی کی (شری مد بھاگوت 12/3) رام نے اپنی بیوی سیتا کو شراب پلائی اور خود نشے میں دھت ہوکر دیگر عورتوں کے ساتھ ناچنے لگے۔ (والمیکی کی راماین)
یہ ہیں اخلاقیات کے وہ نمونے جواہل ہنود نے دنیا کو دیئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ خود کو دنیا کا استاد مانتے ہیں۔ ایسے مخرب اخلاق، حیاء سوز اور انتہائی فحش کارنامے ایک مہذب سماج میں کبھی جگہ نہیں پاسکتے۔ حیرت ہے اہل ہنود ان گندی روایات کی بناء پر خود کو دنیا کا استاد منوانا چاہتے ہیں بالفاظ دیگر وہ خود کو بے حیائی میں استاد کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بے شک میدان بے حیائی کے استاد کامل اور چمپئن ہیں۔ یہی وجہ ہے ہندو راجائوں نے کھجوراہو میں دیواروں پر کچھ مردوں اور عورتوں کی تصویریں بنائی ہیں۔ کہیں ایک مرد تین عورتوں کے ساتھ ہے، تو کہیں ایک عورت تین تین مردوں کے ساتھ اور ایسے ایسے انداز میں دکھایا گیا ہے کہ انسان تو انسان جانور بھی وہ مناظر دیکھ کر شرم سے سر جھکالیں۔ مگر آپ کو حیرت ہوگی ہندو قوم اور ہندوستانی حکومت اسے بے حیائی نہیں بلکہ اپنا فن وراثت سمجھ کر اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتی ہے اور ہر سال اس کے حفاظت پر کروڑوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ جسے شک ہو، وہ آج بھی جاکر دیکھ سکتا ہے۔
یہ تھے اہل ہندو کے بلند وبانگ دعوے اور ان کی حقیقت… امید ہے کہ قارئین کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہوگا اور آئندہ اگر کبھی کسی بت پرست نے یہ دعوے کئے تو فرزندان توحید بخوبی جواب دے سکیںگے۔