حضرت عبداللہ شاہ غازی علیہ الرحمہ

in Tahaffuz, December 2013, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

حضرت عبد اﷲشاہ غازی 98ھ میں حضرت محمد نفس ذکیہ کے گھر مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپ کاسلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت علی کرم اﷲوجہہ الکریم سے جاملتا ہے ۔آپ حسنی وحسینی سادات میں سے ہے آپ کا شجرہ نسب حسنی میں ابو محمد عبد اﷲالاشتربن سید محمد نفس ذکیہ بن سید محمد عبد اﷲبن سیدنا امام حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سید ناعلی مرتضیٰ کرم اﷲوجہہ الکریم اورماں کی جانب حسینی ہے حضرت سیدہ فاطمہ صغریٰ بنت حضرت امام حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہ کانکاح حضرت امام حسن مثنیٰ سے ہواتھا ۔آپ حضرت امام موسیٰ کاظم سے عمر میں تین سال بڑے اور اما م جعفر صادق سے عمر میں پندرہ سال چھوٹے تھے ،تلوار چلانے اور اونٹ سواری میں آپ کاثانی نہیں تھا اس لئے آپ کو الاشتر یعنی اچھا اونٹ چلانے والا جو کہ آپ کے نام کاجز بن گیا ۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد کے زیر سایہ ہوئی آپ علم حدیث میں مہا رت رکھتے تھے اس لیے آپ کا محدثین میں بھی شمار کیا گیا۔آپ ’’میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہیں ‘‘کے خانوادے کے روشن چراغ تھے آپ میں علم کے جو ہر موجو د تھے آپ علم کی تابانیوں سے عرش تافرش بقعہ نو ر تھے۔آپ کا تابعی ہونا بھی ممکنات میں سے ہے آپ کے زمانے میں کئی صحابہ کرام روئے زمین پر موجود اپنے علم کے نور بکھیر رہے تھے ۔ آپ کی پیدائش کا زمانہ بنو امیہ کی حکومت کا آخری دور تھا بنو امیہ کی 92سالہ حکومت زوال پذیر تھی 92سالہ دور حکومت سادات پرظلم وجبراوربربریت کا سخت دور تھا اموی حکمراں اہل بیت اطہا ر کو اپنی حکمرانی کیلئے ہمیشہ خطرہ سمجھتے تھے ۔ہزاروں سادات شہیدکیے گئے ۔ہزاروں جلا وطن ہزاروں نے اپنے اعلیٰ نسب کو چھپا کر گم نامی کی زندگی گذاری الغرض بنو امیہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد 132ھ میں عبد اﷲبن محمد سفاح پہلا عباسی حکمراں بنا بغدادعباسیوں کا دارالسلطنت بنا۔عبد اﷲبن محمد سفاح کے انتقال کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر عبد اﷲ،المعروف ابو جعفر منصور مسند اقتدار پر بیٹھا منصور نے اپنی حکومت جمانے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی ہیبت بٹھانے کیلئے وہ مظالم کیے جو تاریخ کے خونی اوراق میں کسی سے کم نہیںمنصور نے خصوصیت کے ساتھ سادات پرجومظالم ڈھائے وہ سلاطین عباسیہ کی پیشانی کا بہت بڑا بدنما داغ ہیں ۔138ھ میں حضرت عبداﷲشاہ غازی کے والد حضرت محمد نفس ذکیہ نے نظام رسالت وخلافت راشدہ کی بحالی کیلئے تحریک کا آغازکیا ،جسے تاریخ میںعلوی تحریک کے نام سے جانا جاتاہے حضرت محمدنفس ذکیہ تقویٰ وپرہیز گاری کے لحاظ سے نہایت ممتاز بزرگ شمار ہوتے تھے ۔حجازمقد س وعراق میں ہزاروں عقیدت مند اِن کی آواز پر لبیک کیے ہوئے تھے حضرت امام مالک رحمۃ ُاﷲعلیہ نے آپ کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا ۔14 رمضان المبارک 145ھ میں مدینہ منورہ کے شمال میں جبل سلع کے قریب عباسی فوج کامقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے نفس ذکیہ بہت شجا ع فن حرب کے ماہر قوی وطاقتور تھے ،ایک بڑی فوج سے مقابلہ کیا حضرت محمد نفس ذکیہ نے اپنے بیٹے عبد اﷲالاشتر کوسندھ اور بھائی حضرت سید ابراہیم کوبصرہ کی جانب روانہ کردیا تھا۔بصرہ میں سید ابراہیم کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کی۔ بصرہ میں قیام کے دوران سید ابراہیم نے بڑی قوت حاصل کرلی آپ بصرہ سے کوفہ منتقل ہوگئے ،کوفہ میں ایک لاکھ افراد آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے بڑے بڑے علماء وفقہا نے ان کا ساتھ دیا بالخصوص امام اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمۃ ُاﷲعلیہ نے بھی ان کی حمایت ومالی مدد کی جنگ میں بعض مجبو ریوں کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے جس کا امام اعظم کو آخری وقت تک افسوس رہا ۔حضرت سیدابراہیم کو بھی منصور کے مقابلے میں شکست ہوئی او رسیدابراہیم شہید کردیئے گئے منصور نے جنگ سے فارغ ہوکر ان لوگوں کی خبر لی جنہوں نے ان کے خلاف خروج میں کسی بھی طرح کا تعاون کیاتھا ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا ۔کئی افراد کوقتل اور کئی کو قید وبندکی سزائیں اور کئی کوکوڑے مارے جن میں امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بھی شامل تھے ۔بعدازاں ابو جعفر منصور نے امام اعظم کو قیدمیں زہر دے کر شہید کروادیا ۔حضرت عبد اﷲشاہ غازی کوفہ سے ہوتے ہوئے سندھ میں ایک تاجرکی حیثیت سے پہنچ چکے تھے ۔اُس وقت سندھ میںگورنرعمربن حفص تھا جو سادات سے بڑی عقیدت رکھتا تھا ۔اگرچہ آپ کے والد نے آپکو خلافت علوی کے نقیب کے طور پر سند ھ بھیجا تھا مگر آپ نے اپنی زیادہ توجہ تبلیغ اسلام کی جانب مرکوزرکھی مگرایک دن موقع پاکر آپ کے ایک ساتھی نے گورنرسندھ عمر بن حفص کوسادات کی حکومت کے قیام میں مددکی دعوت دی جسے گورنر نے فوراًقبول کرلی ،کچھ دنوں بعد بغداد سے ایک تاجر بحری جہازکے ذریعے سندھ پہنچا جو اپنے ہمراہ گورنر کی بیوی کاخط گورنر کیلئے لایا تھا ۔جس میں اُس کی بیوی نے لکھا کہ سید محمد نفس ذکیہ اور اُن کے بھائی سید ابراہیم عباسیوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہے گورنروہ خط حضرت عبد اﷲشاہ الاشتر کے پاس لے کر گیا اور اُن سے ان کے والد اور چچا کی شہا دت پر تعزیت وافسوس کا اظہا ر کیا خط وحالات سن کر آپ غمگین ہوئے تو اس موقع پر عمر بن حفص نے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ رنجیدہ نہ ہوںمیں آپ کو یہاں کے ایک ہندوراجہ کے پاس بھیج دیتا ہوجو اگرچہ اپنے ہندو نظریہ پر قائم ہے مگر رسول اﷲﷺاور اُن کی آل کابے حد احترام کرتاہے ۔اور وہ آپ کوبڑے احترام سے رکھے گا اور وہ خو دمختار ہے ۔اس لیے حکمراں اُسے کسی بات پر مجبو ر نہیں کریں گے ،الغرض گورنرسندھ کی مددسے ساحلی ریاست (ممکنہ طور پر ساکروندی کے قریب )جانے کا فیصلہ کیا راجہ نے آپ کو خوش آمدید کہا اور انتہائی عزت واحترام کے ساتھ پیش آیا اورآپ کے مشن میں شریک سفر ہوگیا ۔تقریبا ًچار سال آپ راجہ کے مہمان رہے راجا آپ کے حسن واخلا ق وکردار سے متاثر ہوکر آپ کانیاز مند ہوگیا اور اپنی بیٹی آپ کے عقد میں دے دی جس سے ایک بیٹا پیدا ہواجس کانام محمد ابوالحسن رکھا ۔یہا ںتقریبا ًچار سوافراد مشرف بہ اسلام ہوئے ۔آپ نے اہل سندھ کے اندر دین متین کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انکے معاشی اور معاشرتی حقوق اور سماجی انصاف کیلئے بھی شعور اجاگر کیا ۔
151ہجری میں ابو جعفر منصور کومعلوم ہواکہ عبداﷲشاہ الاشتر سندھ میں مقیم ہیں جس پر منصور کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔وہ حضرت عبد اﷲشاہ غازی کوسندھ میں عباسی حکومت کیلئے خطرہ محسوس کررہا تھا ،اُس نے گورنرعمر بن حفص سے جواب طلبی کی اور ایسے گورنرسندھ سے معزول کرکے افریقہ کاگورنر بناکر افریقہ بھیج دیا اور ہشام بن عمروتغلبی کوسندھ کا نیا گورنر بناکر خصوصی ہدایات کیساتھ بھیجا کہ عبد اﷲشاہ غازی کوگرفتار کرواور راجہ کی طرف سے کسی قسم کی رکاوٹ ہوتو راجہ کو قتل کردیا جائے مگر ہشام بن عمر وجو خود بھی سادات کا احترام کرتا اور اُن سے دلی عقیدت رکھتا تھا اور پھر عبداﷲشاہ الاشتر کی سند ھ میں غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے نئے گورنرہشام بن عمروانہیں گرفتار کرنے میں ترد کاشکار رہا مختلف حیلوں اور بہانوں سے عبداﷲشاہ غازی کی گرفتاری سے متعلق ابو جعفر منصور کو ٹالتا رہا انہی دنوں میں سندھ کے ایک اور علاقے میں بغاوت ہوئی ۔جوکہ عبد اﷲشاہ غازی کے قیام کے قریب کاعلاقہ تھا گورنرہشام بن عمرونے اپنے بھائی سفیع بن عمرکواُس بغاوت کوکچلنے کیلئے بھیجاعبد اﷲشاہ غازی بمعہ مریدوں کے سیروشکار پرنکلے ہوئے تھے سفیع بن عمرولشکریوں کے ہمراہ اس علاقے میں ٹھہراہواتھا دور سے عبداﷲشاہ غازی کی سواریوں سے اُٹھنے والی گرد سے اس کے دل میں خوف پیداہواکہ دشمن کا لشکر آرہا ہے ،سپاہیوں کو حکم دیاکہ لڑائی کیلئے تیا ر ہوجاؤں جب حضرت عبد اﷲشاہ غازی قافلے کے قریب آئے تو لشکریوں نے آپ کو پہچان لیا اور سفیع کوبتایا کہ یہ تو حضرت عبد اﷲشاہ غازی الاشتر ہے اہل بیت کے خاندان سے ہے سابقہ گورنر عمر بن حفص نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور موجودہ گورنرہشام بن عمروبھی ان کے عقیدت مندوں میں سے ہے اور یہاں شکا ر کی غرض سے آتے رہتے ہیں مگر سفیع نے اپنے لوگوں کی باتوں پردھیان نہیں دیا اُس نے حضرت عبد اﷲشاہ غازی سے گرفتاری دینے یا جنگ کیلئے پیغام دیا آپ جنگ کیلئے تیار نہ تھے سفیع جو اہل بیت کے شہزادوں کی تلواربازی کواچھی طرح جانتا تھا ،سفیع نے اپنے لشکر کے ساتھ آپ پرحملہ کردیا،آپ اپنے نوساتھیوں کے ہمراہ تھے دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے آپ نے بڑی جواںمردی کے ساتھ ایک بڑے لشکر کامقابلہ کیا،باوجو د اس کے کہ مقابل ایک فوجی لشکر تھا ،مگر آپ کے مختصر لشکر کے سامنے آنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا مقابل لشکر نے ایک ساتھ آپ پر حملہ کیا آپ زخمی ہوئے شاہی لشکر کے لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے کہ ایک ظالم نے پیچھے سے تلوار کاوار کرکے آپ کو شہید کردیا۔’’اناﷲواناالیہ راجعون ‘‘
قرب وجوار کے لوگوں کوجب آپ کی شہادت کے واقعہ کا علم ہواتو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ادھر سفیع نے اپنے بھائی گورنر ہشام بن عمروکواس کی اطلاع دی گورنر کچھ بول نہیں سکھا کیونکہ یہ عباسی حکمراں ابو جعفر منصور کے حکم کی بجاآوری تھی اس نے اس کی اطلا ع بغداد میں ابو جعفر منصور کودی ۔ادھر آپ کے مریدوں نے آپ کے جسد مبارک کو چھپا کر دور ایک اونچی پہاڑی پر لے گئے اور اسی پہاڑی پر آپ کو سپر دخاک کیا گیا ۔یہ پہاڑی کراچی کے کلفٹن کی پہاڑی ہے اس وقت یہ ایک مچھیروں کی چھوٹی سی بستی ہوا کرتی تھی کئی کئی میل کوئی آبادی نہیں تھی بحری آمدو رفت بھی اُس وقت صرف دیبل موجو دہ بن قاسم پورٹ پر ہواکرتی تھی جو اس وقت بھی کلفٹن سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ کا سر مبارک کو تن سے جد ا کرکے بغداد ابو جعفر منصور کے دربار میں بھیجا گیا۔پھربغداد سے مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں مدفن کیا گیا۔آپ کی شہادت کے بعد ابو جعفر منصور کو یہ خدشہ تھا کہ لوگ آپ کے صاحبزادے محمد ابو الحسن کو آپ کا جا نشین نہ بنالیں جو آپ کے سسر راجہ صاحب کے پاس اپنی والدہ صاحبہ کے ہمراہ مقیم تھا ہشا م بن عمر و نے 151ھ میں ہی راجہ صاحب کی ریاست پر حملہ کردیا خونریز معرکہ آرائی میں راجہ کوقتل اور ریاست پر قبضہ کرلیا گیا آپ کی اہلیہ محترمہ اور بیٹے کوپہلے بغداد پھر مدینہ منورہ بھیجوادیا گیا ۔حضرت عبد اﷲشاہ غازی کا مزار کئی سوسال تک جسے مریدوں نے درختوں کی لکڑیوں وپتوں سے بنا یا ہوا تھا ۔مریدین آپ کی قبر کے قریب ہی رہتے کہ کہیں عباسی (سرکاری) اہلکا ر جسم اطہر کو قبر سے نکال کر بغداد نہ لے جائیں یا نامعلوم مقام پر منتقل نہ کردیں۔ مریدوں کو سب سے زیادہ دقت یہ پیش آتی کہ وہاں پینے کا میٹھا پانی میسر نہیں تھا سمندری زمین پر پہاڑی جہاں میٹھے پانی کا ہونا ناممکن تھا ۔مریدوں کی دعاسے حضرت عبد اﷲشاہ غازی کے صدقے پہاڑی کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔یہ عبد اﷲشاہ غازی کی کرامت ہے۔
اہل بیت رسول آل ابراہیم واسماعیل علیہ السلام ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیارگڑنے سے عرب کے ریگستان میں زم زم کا چشمہ ابل آیا تھا جو آج بھی ہے یہ اﷲتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، جو چاہیں رب سے منوالیں اور رب کی رضا پر راضی رہے۔ چاہے کتنی بڑی آزمائش کیوں نہ آجائے ۔
آپ کا عرس مبارک ہر سال ماہ ذوالحجہ کی 20,21,22تاریخ کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ آپ کی خدمات دینیہ کے پیش نظر اہل سندھ او ر دنیا بھر سے لو گ اپنی عقیدت کے اظہار کے لئے آپ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر شاندار ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔